Thursday, 1 August 2013

میری توبہ!



میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ

مجھے معلوم ہے مجرم ہوں میں اور تُو میرا حاکم
جبھی تو آج میری آنکھ میں اشکوں کی ہے رِم جِھم
کوئی بندہ تیرے در پر جو آنسو رول دیتا ہے
میرے مولا درِ توبہ تُو اُس پر کھول دیتا ہے
تُو ضرور سُنے گا میرے دل کی صدا
میری توبہ میری توبہ

تیرے در پر کیوں نہ میں سوال کروں، تُو رحیم بھی ہے کریم بھی ہے
میں تو پست بھی ہوں ، حقیر ہوں ، تُو بلند بھی  ہے تُو عظیم بھی ہے
جو میں جھیل چُکا ہوں وہ بہت ہے سزا
میری توبہ میری توبہ

غم کا مارا ہوں ، بے سہارا ہوں، ہُوں بُرا یا بھلا تمہارا ہوں
میری توبہ میری توبہ

میرے گناہ زیادہ ہیں یا تیری رحمت
کریم تُو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے
میری توبہ میری توبہ

مجھے کر دے معاف اپنے رسولِ پاک (صعلم) کے صدقے
خطائیں بخش دے میری شہِ لولاک (صعلم) کے  صدقے
میرے مالک دہائی ہے تجھے آلِ پیمبر کی
رہا کر دے غموں سے کربلا کی خاک کے صدقے
اندھیروں میں مجھے تابندگی دے دے میرے مولا
نیا مجھ کو شعورِ زندگی دے دے میرے مولا
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ

2 comments:

  • عاطف بٹ says:
    1 August 2013 at 16:39

    کوئی بندہ ترے در پر جو آنسو رول دیتا ہے
    مرے مولا درِ توبہ تُو اُس پر کھول دیتا ہے

    بہت خوبصورت کلام ہے یہ!

  • Baba ji says:
    4 August 2013 at 21:18

    بہت خؤب

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔