Friday, 26 July 2013

ہمارا ٹی وی

یہ تحریر بھی گزشتہ دو سالوں سے ڈرافٹس میں پڑی تھی۔ آج پوسٹ کرنے کا وقت مل ہی گیا۔ 

چند دن پہلے میری ممانی اور کزنز ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں۔ میری کزن ٹی وی چینلز براؤز کرنے لگی اور کچھ دیر بعد کچن میں آ کر نہایت تشویش ناک انداز میں پوچھا۔ آپ لوگوں کے ٹی وی پر سٹار پلس نہیں آتا۔ میری بھابھی جان نے فوراً جواب دیا کہ کیوں نہیں آتا۔ آتا ہے اور ہم دیکھتے بھی ہیں۔ انداز ایسا تھا جیسے سٹار پلس نہ دیکھنا شاید بہت ہی شرمندگی کا باعث ہے۔ بہرحال میری کزن نے جب یہ بتایا کہ ابھی تو یہ چینل آپکے لاؤنج والے ٹی وی پر نہیں آ رہا تو میری اماں جان اور بھابھی کی نگاہوں کا زاویے و انداز بدلے اور ان غضب ناک نگاہوں کا فوری نشانہ میں بنی۔ کیونکہ ان کے خیال میں جب ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے تو میں انہیں نہ تو کوئی ڈرامہ دیکھنے دیتی ہوں بلکہ اکثر چینل ڈیلیٹ بھی کر دیتی ہوں اور ان کو پھر سیٹ کرنا پڑتا ہے۔ (حالانکہ یہ ڈیلٹ والا کام میرے بھائی صاحب کرتے ہیں۔ جن کے اپنے ٹی وی پر تمام چینلز آ رہے ہوتے ہیں(
خیر اس بار میں نے کچھ نہیں کیا تھا سٹار پلس ویسے ہی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اپنی ازلی ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے جواباً غیر ملکی چیلنز کے خلاف ایک لمبی تقریر جھاڑی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ ڈرامے ہمارے کلچر سے میل نہیں کھاتے اور جذبہ حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے چینلز دیکھیں وغیرہ وغیرہ۔
اس ساری تقریر کے جواب میں سامعین و حاضرین کے جو ردِ عمل تھا وہ کچھ یوں ہے۔
کزن: (صدمے سے گُم ہوتی آواز میں)۔۔ ان ڈراموں میں بھلا کیا ہے۔ اتنی اچھی تو کہانیاں ہوتی ہے۔ ایک ہی فیملی کے گرد گھومتی ہے۔
میں: جی ہاں۔ بلکہ ایک ہی ہال میں کھڑے کھڑے دس قسطیں گزر جاتی ہیں۔ اور ایک ہی بندہ پوری قسط میں یا بولتا رہتا ہے یا روتا رہتا ہے۔ ایک اور بندہ یا باقیوں کو گھورتا رہتا ہے یا دانت پیس کر اپنے خطرناک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ اور اس بارے میں ساعری دنیا جان جاتی ہے صرف وہ جس کے خلاف سازش کی جا رہی ہوتی ہے سامنے کھڑے ہو کر بھی بے خبر رہتا ہے۔
ممانی: چھوڑو ساری باتیں۔ دعا کرو چینل جلدی واپس آ جائے۔ میں تو پچھلی دو قسطیں نہیں دیکھ سکی۔ سادھنا بیچاری کے ساتھ پتہ نہیں کیا ہوا ہو گا؟ آپا (میری امی سے) اس کی ساس کو دیکھا ہے کتنی ظالم ہے۔
میں (بھابھی سے): اور دیکھیں یہ ڈرامے۔ ممانی اِن ڈائریکٹلی آپ کی ساس کو ظالم ہونے کا مشورہ دے رہی ہیں۔
بھابھی: نہیں سادھنا کے ساتھ واقعی اس ڈرامے میں بہت ظلم ہو رہا ہے۔
میں: یہ سادھنا صاحبہ آخر ہیں کون؟
کزن: ایک ڈرامہ ہے بدھائی۔ اس میں دو کزنز ہوتی ہیں۔ ایک بہت پیاری دوسری ذرا گہری رنگت والی۔ دونوں کی شادی ایک ہی گھر ہوتی ہے۔ دوسری والی پر سسرال والے بہت ظلم کرتے ہیں۔
میں: کہیں یہ وہی ڈرامہ تو نہیں ہے جو آج سے دو سال پہلے جب میں پاکستان آئی ہوئی تھی تو آپ لوگ دیکھتی تھیں؟
بھابھی (انتہائی پُرجوش انداز میں): بالکل وہی ہے۔ میں نے تمھیں کہانی بھی سنائی تھی اس کی۔
میں: جو قوم دو دو سال انتہائی بور ڈرامے اتنے شوق سے دیکھ سکتی ہے وہ واقعی بور قسم کے  
حکمرانوں کو بھی عرصہ دراز تک برداشت کر سکتی ہے۔
 ( صد افسوس کہ میرے اس تاریخی جملے کو ان لوگوں نے صاف نظر انداز کر کے فوری طور پر ماضی کا فراموش شدہ قصہ بنا دیا )۔ 
:( 
ممانی (غصے سے): تم اپنا فلسفہ اپنے پاس رکھا کرو۔اور چینل سیٹ کرو۔  ہمارا ڈرامہ مس ہو رہا ہے۔
میں: لیکن آپ پاکستانی پروگرام کیوں نہیں دیکھتیں۔ ان میں کیا برائی ہے اور سٹار پلس میں کیا اچھائی ہے۔
بھابھی: تو اپنے چینلز پر بھی یہی کچھ چل رہا ہے بلکہ ایسا کچھ چل رہا ہے کہ دیکھنے والا سمجھ نہیں پاتا کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہی ہے اور اگر ہے تو اس میں ہمارا معاشرہ کہاں ہے؟ ہماری روایات کہاں ہیں تو جب ادھر بھی یہی دیکھ رہے ہیں تو دوسرے چینلز دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ 

اس بات پر بہت طویل بحث ہوئی اور آخر میں میں نے سب کو یہی کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ آپ ٹیلی ویژن دیکھنا ہی چھوڑ دیں اور اس وقت کو کہیں اور استعمال کریں۔ جواباؐ مجھے جن نظروں سے گھورا گیا اور جو باتیں سنائی گئیں ان کا ذکر نہ بھی کروں تو سب کو اندازہ ہو گا ہی۔ 
لیکن ان لوگوں کی باتیں کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے زیادہ تر پروگرامز نہ تو ہمارے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی اخلاقی حدود کی قید ہے۔ ڈرامہ دیکھیں یا کوئی اور پروگرام ۔ یا تو آپ دس پندرہ منٹ سے زیادہ ٹیلی ویژن کے سامنے ٹک نہیں سکیں گے یا اگر مستقل مزاجی سے بیٹھے رہے تو استغفر اللہ اور لاحول کا ورد کرتے رہیں گے اور ساتھ ساتھ اپنا خون جلاتے رہیں گے۔ 
ویسے اس بات کا کریڈٹ بھی ان چینلز کے کرتا دھرتا یوں لے سکتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کتنے لوگ توبہ استغفار کرتے ہیں۔ میری تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور عقل سے نوازیں کہ ہم روشن خیالی کے چکر میں جو اپنی ہی جڑیں کھوکھلی کئے جا رہے ہیں ، ہمیں اس کا اندازہ ہو جائے۔

3 comments:

  • Baba ji says:
    27 July 2013 at 13:03

    بالکل ایسا ہی معاملہ میرے گھر پہ بھی ہے گو کہ ہمارے گھر میں ایک ہی خاتون ہیں میری امی اور ان کے ٹی وی میں پہلے تو ایک ہی چینل چلتا تھا (باقی چینلز بھی آتے ہیں لیکن چلتا ایک ہی چینل تھا)
    Color tv پھر اللہ ہدایت دے ترکی والوں کو انہوں نے ایسی یلغار کی کہ اب صرف اردو 1 چلتا ہے اور اس پر پہلے کوئی ممنوع عشق چلتا تھا پھر کوئی بے قصور فاطمہ آگئی اور اب پھر ممنوع عشق شروع ہوگیا ہے اور میری امی بہت خوش ہیں۔۔۔۔۔۔۔مجھے ان ڈراموں کا اس لیئے پتا چلا کہ ہملوگ رات کا کھانا اپنی امی کے کمرے میں کھاتے ہیں

  • عاطف بٹ says:
    29 July 2013 at 02:34

    بہت خوب۔ بالکل صحیح کہا آپ نے۔ میں ٹیلیویژن کو چونکہ وقت، توانائی اور فکری صلاحیتوں کے ضیاع کا وسیلہ سمجھتا ہوں، اس لئے ہمارے گھر میں ٹی وی نام کی چیز پائی ہی نہیں جاتی۔ کوئی معلوماتی پروگرام یا ایسی کوئی اور چیز ہو تو اسے لیپ ٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کرلیتا ہوں یا کسی ویب سائٹ کی مدد سے دیکھ لیتا ہوں۔
    آج کل رمضان نشریات کے نام پر مختلف ٹیلیویژن چینلز نے جو بےحیائی اور اسلام دشمنی کا بازار گرم کررکھا ہے اسے دیکھ کر تو خون کھولتا ہے اور حیرت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو ان پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں یا گھروں میں بیٹھ کر بہت ذوق و شوق سے ایسے پروگرام دیکھتے ہیں۔ اللہ ہی جانے کہ یہ بدتہذیبی کا طوفان کب تھمے گا یا ہمارے لوگ کب ہوش میں آئیں گے۔

  • Farhat Kayani نے لکھا :۔
    13 August 2013 at 11:23

    آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں فراز۔ اب غیرملکی چینلز کی ضرورت ہی کہاں بچی ہے۔ میری امی اور بھابھی بس ایک ڈرامہ دیکھا کرتی تھیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اب وہ بھی نہیں دیکھتیں۔ ورنہ الحمد اللہ ہمارے گھر میں کوئی بھی فضول قسم کا ڈرامہ نہیں دیکھا جات۔ بلکہ اب تو ڈرامہ چینلز بہت کم ٹیون کئے جاتے ہیں۔ شاید ہفتے میں ایک دو مخصوص دن۔
    اور جن ڈراموں کی آپ بات کر رہے ہیں واقعی ان کی تو بھرمار ہو گئی ہے پاکستانی چینلز پر۔ کہانی ہو سکتا ہے اچھی ہی ہوتی ہوں گی لیکن کلچر تو ہم سے مختلف ہے اور وہ لباس، ڈائلاگز اور سینز ہر جگہ پر دکھائی دینا ہے۔

    عاطف بٹ: ویسے ٹی وی کا ہونا کون سا ایسا فائدہ مند ہے۔ دیکھنا نہیں تو بہتر ہے نہ رکھا جائے۔ اور رمضان میں جو کچھ ہمارے چینلز نے کیا ، اس پر تو سب کی طرح مجھے بھی انتہائی افسوس اور غصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے جو ایسے پروگرامز بناتے ہیں اور چینلز کے کرتا دھرتا ہیں اور ہمیں ناظرین کو بھی ہدایت دے جو ان پروگرامز کو دیکھتے ہیں۔ آمین

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔