Tuesday, 12 February 2013

ماں اور بیٹی!

بہت عرصہ پہلے میں نے ایک بلاگ پر یہ پوسٹ پڑھی تھی۔ اسے پڑھ کر مجھے لکھنے والے پر رشک آیا تھا۔ ایسا ہی رشک جو اس وقت آیا کرتا ہے جب آپ  الفاظ کے معاملے میں میرے جیسے غریب ہوں اور کوئی اور اپنے محسوسات کو نہایت خوبصورتی سے الفاظ میں ڈھال دے۔  یہ ایک ماں کا اپنی بیٹی کے نام خط ہے بلکہ میں کہوں گی کہ شاید ہر ماں اور ہر باپ کا اپنی اولاد کے نام خط ہے۔ والدین جن کی محبت بے انت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس محبت کا حق ادا کیا بھی نہیں جا سکتا۔ میں جب یہ خط پڑھتی ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ اپنے والدین سے شدید محبت کے باوجود شاید میں اس محبت اور مشقت کا حق ادا نہیں کر سکتی جو انہوں نے میرے لئے کی۔ شاید والدین کی محبت کو ہم ان کا فرض اور اپنا حق سمجھ کر وصول کرنے کے عادی ہیں اور اس کے جواب میں اپنا فرض اور ان کا حق سمجھنے میں ہمیشہ ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کو تو اپنا حق سمجھ کر دھڑلے سے وصول کر لیتے ہیں لیکن حقوق اللہ کے لئے اپنے فرض کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ 
آج صبح ایک ڈاکیومنٹ ڈھونڈتے ہوئے میں نے دوبارہ یہی خط کھول لیا اور پھر اسی احساس میں گھِر گئی۔ کچھ اور کرنے کو دل نہیں چاہا تو اس خط کو اردو میں لکھنا شروع کر دیا۔ ایسے ہی جیسے میری اماں یہ سب کچھ میرے لئے لکھ رہی ہوں۔ ٹوٹا پھوٹا ترجمہ یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد اپنے لئے ایک یاد دہانی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ اس محبت کا حق پھر بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ 

میری عزیز از جان بیٹی! مجھے امید ہے کہ جس دن تم یہ محسوس کرو کہ میں بوڑھی ہو رہی ہوں تو تم حوصلہ نہیں ہارو گی اور یہ سمجھنے کی کوشش کرو گی کہ میں زندگی کے ایک مشکل دَور سے گزر رہی ہوں۔
اور اگر میں دورانِ گفتگو ایک ہی بات دہرانے لگوں تو مجھے ٹوکنے کی بجائے خندہ پیشانی سے سُنو گی اور وہ وقت یاد کرو گی جب تم چھوٹی تھیں اور میں تمھاری فرمائش پر ہر رات تمھیں ایک ہی کہانی سُناتی رہتی تھی جب تک کہ تم سو نہ جاتیں۔
بٹیا رانی مجھے امید ہے کہ بڑھاپے میں اگر میں کبھی نہانے سے انکار کر دوں تو اُس وقت کی یاد تمھیں مُسکرانے پر مجبور کر دے گی جب تمھیں نہلانے کے لئے مجھے تمھارے پیچھے دوڑنا پڑتا تھا اور تمھارے نت نئے بہانے سُننے پڑتے تھے۔
کبھی ایسا ہو کہ میں نئی چیزوں اور مشینوں کو استعمال کرنے میں ناکام ہو جاؤں تو مجھے ان کو سمجھنے کے لئے کچھ وقت دینا بلکہ ایسے ہی جیسے میں نے اتاولے ہوئے بغیر تمھیں کھانا کھانا ، اپنا خیال رکھنا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا۔
میری بچی! جس دن میں تمھیں بوڑھی لگنے لگوں ، تم حوصلہ مت ہارنا اور پریشان ہونے کے بجائے میرے محسوسات اور تکالیف سمجھنے کی کوشش کرنا۔
اور جب کبھی میں بات کرتے ہوئے موضوعِ گفتگو بُھول جاؤں تو میں امید کرتی ہوں کہ تم یہ یاد کرنے کے لئے مجھے کچھ وقت دو گی کہ ہم کیا بات کر رہے تھے۔ اور مجھے پھر بھی یاد نہ آئےتو تم پریشان نہیں ہو گی  اور نہ ہی مجھ پر غصہ کرو گی۔ اس بات کو کبھی مت بُھلانا کہ میرے لئے تمھارا ساتھ ہمیشہ سب سے اہم رہا ہے۔
میری بیٹی مجھے امید ہے کہ جب میری بوڑھی ٹانگیں تیز چلنے میں میرا ساتھ دینے سے انکار کرنے لگیں تو تم مجھے سہارا دینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے میں نے تمھارا ہاتھ اس وقت پکڑ رکھا تھا جب تم نے پاؤں پاؤں چلنا شروع کیا تھا۔
اور جب میں اس دَور میں داخل ہوں تو اُداس مت ہونا۔ بس میرے ساتھ رہنا اور مجھے سے اس وقت بھی محبت کرنا جب میری زندگی کا چراغ گُل ہونے کو ہو کہ تمھاری توجہ اور وقت کا تحفہ میرے لئے زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گا جس کے لئے میں تمھاری بہت شکر گزار ہوں گی۔
جانِ عزیز ! اس وقت بھی میرے چہرے پر بکھرتی مسکراہٹ اور تمہارے لئے چھلکتا پیار  تمھیں یہ بتائے گا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں۔ اور جب میں اس مشکل وقت سے گزر رہی ہوں تو تم حوصلہ مت ہارنا اور پریشان ہونے کے بجائے میرے محسوسات اور تکالیف سمجھنے کی کوشش کرنا۔

6 comments:

  • Random Thoughts says:
    13 February 2013 at 09:55

    اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش!
    میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

  • محمد احمد says:
    13 February 2013 at 23:44

    خوبصورت تحریر ہے۔

    انگریزی تحریر بھی لاجواب ہے جو آنکھیں بھگونے کے لئے کافی ہے۔ آپ کا ترجمہ بھی خوب ہے۔

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس بات کو سمجھنا ہی بڑی بات ہے۔

    بہت شکریہ ایک اچھی تحریر کے لئے۔

  • Farhat Kayani نے لکھا :۔
    17 February 2013 at 20:56

    بہت شکریہ احمد:) ۔
    اس خط کر پڑھ کر واقعی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض احسن طور پر انجام دینے کی ہمت دیں۔ آمین

  • محمودالحق says:
    20 April 2013 at 03:05

    رشتوں کے باہمی تعلق کی غماز ہے آپ کی تحریر
    خوب لکھا ہے آپ نے ۔ ماں اور بیٹی کا رشتہ
    میں نے اپنے بلاگ در دستک میں باپ اور بیٹے کے رشتے پر بوڑھے کی لاٹھی لکھی تھی جسے پڑھنے والوں نے بہت پسند کیا تھا۔
    http://mahmoodulhaq.blogspot.com/p/blog-page_28.html

  • Abdul Qudoos Rashid says:
    25 June 2013 at 15:04

    بہت خوبصورت تحریر

  • Farhat Kayani نے لکھا :۔
    18 July 2013 at 11:41

    جزاک اللہ محمود الحق بھائی اور عبدالقدوس راشد۔ :)
    محمود الحق بھائی آپ کی تحریر کی تو میں بہت مداح ہوں۔ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔