Wednesday, 21 December 2011

پریشان قوم!

پچھلے ہفتے کی بات ہے معلوم ہوا طلباء نے انٹر کے نتیجے میں تاخیر کے خلاف مظاہرہ کیا اور راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی عمارت میں توڑپھوڑ کی اور آگ بھی لگائی۔ اسی موضوع پر گفتگو کے دوران میری رائے یہی تھی کہ یقیناً بچے بہت پریشان ہیں اور مایوس بھی لیکن توڑ پھوڑ کرنے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے مسئلہ حل تو نہیں ہو گا۔ بلکہ ایسے نقصان کی قیمت پوری قوم کو ٹیکسوں کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔ ہم ہر مسئلے کا حل تشدد سے نکالنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ تحمل ہماری زندگی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن کل مجھے ایک میٹنگ میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا جہاں سے آنے کے بعد میں بہت کنفیوز ہو چکی ہوں۔ اس میٹنگ میں ماہرینِ تعلیم، کچھ سکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز اور اساتذہ شامل تھے۔ گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور طلباء کی امتحان اور عملی زندگی میں ناکامی پر بات ہو رہی تھی کہ ایک پرنسپل صاحب اپنا تجربہ بیان کرنے لگے۔ ان کے مطابق ان کے سکول کا میٹرک کا نتیجہ بہت خراب رہا اور ایسے بچے بھی فیل ہوئے یا بہت کم نمبروں پر پاس ہوئے جو بہت اچھے اور قابل طلباء میں شامل کئے جاتے تھے۔ چنانچہ پرنسپل صاحب کے کنٹرولرامتحانات(یہ راولپنڈی بورڈ کی بات ہو رہی ہے( سے رابطہ کیا اور پیپرز کی ری-چیکنگ کی بات کی۔ ری-چیکنگ کے دوران کیا کیا باتیں معلوم ہوئیں۔
1۔ اکثر بچوں کی فائل میں ان کے پیپرز کے بجائے کسی اور کے پیپرز لگائے گئے ہیں اور ان پر مارکنگ کی گئی ہے۔ ایک انگریزی میڈیم بچے کی فائل میں ایک اردو میڈیم بچے کا پیپر پڑا ہے اور اس کے نمبر بچے کے رزلٹ کارڈ پر لکھے گئے ہیں جبکہ اسی فائل میں اس بچے کا اپنا پرچہ بھی موجود ہے۔
2۔ اکثر جوابات بغیر چیک کئے کاٹے گئے ہیں اور ان کا کوئی نمبر نہیں لگایا گیا۔ کچھ پیپرز میں پورے کا پورا معروضی یا تفصیلی سوالات والا حصہ کاٹ دیا گیا ہے۔ اور بقول ان پرنسپل صاحب کہ جس انداز سے پرچے پر کراس لگائے گئے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی پرائمری جماعت کے بچے نے پیپر چیک کیا ہے۔ واللہ اعلم

3۔ بہت سے بچوں کی فائلز میں پرچے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ ان کو دو طرح کی چوائس دی گئی ہت۔ ایک یہ کہ ان کے دوسرے پرچوں کو دیکھ کر اوسط نمبر دے دیے جائیں یا پھر وہ دوبارہ امتحان دیں۔

4۔ ٹوٹل کرتے ہوئے کئی جوابات کے نمبر شامل ہی نہیں کئے گئے یہاں تک کہ ایک بچے کے پرچے کے ٹوٹل میں پورے 43 نمبروں کو فرق آیا۔

ایک صاحب نے یہ بات کی تو باقیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ ایک خاتون پرنسپل کے مطابق ان کی ایک بچی کو امتحان میں غیر حاضر دکھا دیا گیا جبکہ وہ اس بچی کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور سنٹر بھی ان کا اپنا سکول ہی تھا۔
زیادہ تر سکولوں میں بچے ان گھروں سے آتے ہیں جو دوبارہ پرچے چیک کروانے کی فیس نہیں دے سکتے۔ ایک پیپر کی فیس 600 روپے ہے جبکہ اس میں دیگر اخراجات ملا کر 1000 روپوں تک خرچہ بن جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی دفتر میں جا کر بھی آپ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں سو بہت سوں کو اگلے دن یا اگلے ہفتے آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ شاید اسی پریشر سے بچنے کے لئے پنڈی بورڈ نے رزلٹ پر نظرِثانی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ایسی صورتحال کے ردِ عمل میں لوگ واقعی کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ کم از کم میں کچھ بھی رائے دینے سے قاصر ہوں کہ کیا کرنا چاہئیے۔ مجھے کل سے یہ سوال بھی پریشان کر رہا ہے کہ ایسے حالات میں بڑے ہونے والے بچے جب عملی زندگی میں آئیں گے تو کیا ایمانداری، خلوص، تحمل اور ذمہ داری ان کے کردار کا حصہ ہو گی؟

8 comments:

  • محمد احمد says:
    21 December 2011 at 14:57

    واقعی بہت خراب صورتِ حال ہے۔ اور معاملات سنورنے کا کوئی بھی امکان نظر نہیں آتا۔

    اللہ ہی رحم کرے۔

  • احمر says:
    21 December 2011 at 16:44

    ایک تقریبا 5 سال پرانی خبر کے مطابق ایک انٹر کے طالب علم کو انگریزی میں فیل کر دیا گیا جو ایک انگریزی اخبار میں آرٹیکل لکھا کرتا تحا اس نے پہلے پرچہ چیک کروایا انہوں نے تصدیق کی کہ پرچہ کے نمبروں کا مجموعہ صحیح ہے-
    میرے علم کے مطابق پرچہ چیک کرنے کا مطلب صرف نمبروں کر ری-ٹوٹلنگ ہوتا ہے، پرجہ کو دوبارہ کسی ممتحن سے چیک نہیں کروایا جاتا ، اور پرچہ طالب علم کو بھی نہیں دکھایا جاتا-

    بہرحال اس نے عدالت میں مقدمہ کر دیا اور پرچہ اور ممتحن جس نے نمبر دیے تھے اسے عدالت میں طلب کرلیا گیا-عدالت میں ان خاتون ممتحن سے سوال جواب کیے تو اندازہ ہوا کہ انہیں انگریزی نہیں آتی، اور انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ نمبر، پرچہ چیک کیے بغیرصرف اندازے سے دیے گیے ہیں -

    انہی واقعات و حالات کی وجہ سے عوام اور اداروں / حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو جو اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سب کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ اس ملک میں سب کام اسے خود ہی انجام دینا ہوگا حکومت اور ادارے نہ صرف اس کے لیے کچھ نہیں کریں گے بلکہ انہیں نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، جس ملک میں مذہبی لوگ مثلا وزیر حج تک کرپشن کر رہے ہوں وہاں عوام کیوں پیچحے رہیں-

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    21 December 2011 at 19:29

    پچھلے چالیس سال کی دوران جو ببول کی قلمیں لگایی گیی ہیں وہ پل کر جوان ہو چکی ہیں . اب کانٹوں کے سوا اور کیا ملے گا ؟

  • احمد عرفان شفقت says:
    22 December 2011 at 10:15

    بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے یہ۔ مصیبت یہ ہے کہ سب ہی کرپٹ اور غیر ذمہ دار ہیں۔ کوئی پوچھنے والا، احتساب کرنے والا اور سزا دینے والا ہے ہی نہیں سرکاری سسٹم میں۔

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    23 December 2011 at 05:17

    پیپرز پرائمری کے بچے نے چیک کئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا تو ہمارے جو اساتذہ ہمارے اسکول میں ہوتے تھے ۔
    وہ ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔
    میں ایف جی بورڈ کے سکول میں پڑھا ہوں۔
    فضل الہی ، مس نرگس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مکمل سکول کا پتہ اور دو چار گواہ بھی دینے کو تیار ہوں)
    فزکس کیمسٹری میتھ ، اردو کے نویں جماعت کے پیپر میں نے اساتذہ کی طرف سے چیک کئے تھے۔
    جی یہ مصروف تھے۔۔ٹیوشن پڑھانے میں۔جاننے والے لڑکے کو اچھے نمبر دئیے جو ناپسند تھا اسے کم ۔
    اور مجھے اور میرے دوست کو کہا گیا تھا کہ نویں پڑھ چکے ہو۔۔نویں کے پیپرز تو چیک کر ہی لو گے۔
    اور مجھے یقین ہے یہ دو حضرات جتنے ترقی کے شوقین تھے۔
    لازمی ترقی کر چکے ہوں گے۔۔۔اور موجاں جی موجاں

  • محمد صابر says:
    23 December 2011 at 16:35

    ان چھ ماہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ مستقبل میں اپنا رنگ دکھائے گا۔ سب سے پہلے بورڈ والوں نے مارکنگ کے لئے باقاعدہ نئے نظام کا اجرا کیا۔ بچوں کو اس نظام کی تربیت ہی نہیں‌دی گئی اور بچوں کو کمپیوٹر میں‌ریکارڈ ڈالنے کے لئے بھی ایک اور پرچہ حل کرنا تھا جس کو حل کرنے میں‌بھی بہت سے بچے ناکام رہے۔ امتحانی سنٹروں‌ پر موجود ممتحن حضرات کو بھی نہیں‌ پتہ تھا کہ اس کو حل کیسے کرنا ہے۔ اس لئے بچوں کے جنرل سائنس کے پیپر میں کیمسٹری کے پیپر کے کوڈز ڈالے اور کمپیوٹر کو بتایا کہ ہم کیمسٹری پڑھتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں‌تھا
    پھر انتظامیہ نے ایک بورڈ کے پرچے دوسرے بورڈ میں چیک کرنے بھیج دیے۔ جس سے آنے جانے میں‌ بہت سے پرچے گم ہو گئے۔
    اور اس نئے نظام میں پرچے چیک کرنے کے بعد کمپیوٹر میں ڈیٹا ڈالنے کے لئے پیپر چیکر بھی ایک پرچہ حل کرتے رہے جسے حل کرنا زیادہ تر کو آتا ہی نہیں‌ تھا۔ اور وہ بھی طالبعلموں والی غلطیاں‌ دہراتے رہے۔
    آخر پر جب رزلٹ لیٹ ہونا شروع ہوئے تو طالبعلموں کے پرچہ جات یا نتائج نہ ملنے پر اوسط نتائج کا کمپیوٹر میں اندراج کیا جاتا رہا۔
    نتیجہ آیا تو بہت سے بچوں کو اس پر اعتراض تھا۔ اور بہت سے بچے خوش بھی تھے۔ کہ پیپر حل کیے بغیر ہی نمبر مل گئے۔
    سب سے پہلے دہم، پھر نہم، پھر بارہویں‌جماعت کے نتائج آئے۔ ان نتائج کے بعد جس جس نے نمبروں‌ میں‌اضافے کی درخواست دی میری اطلاع کے مطابق سب کے نمبرز بڑھا دیئے گئے۔ ابھی تک میں نے 66 نمبرز تک کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
    لیکن گیارہوں‌ کے نتائج کے بعد تو ہنگامے ہی شروع ہو گئے اور وہاں پر بھی ایک سازش کے تحت بچوں کو بورڈ کی عمارتوں‌کے اندر تک رسائی دی گئی اور ان سے وہ سارا مواد تلف کروا دیا گیا جو کسی صورت ناجائز تھا اور مستقبل میں انکوائریوں اور معطلیوں کا سبب بن سکتا تھا۔ لہذا بورڈ ملازمین والوں کو ان ہنگامہ نے نقصان سے زیادہ فائدہ ہی پہنچایا ہے۔
    اس کے بعد گیارہویں جماعت کے تمام طالبعلموں‌کے پرچہ دوبارہ چیک کرنے کے بہانے ان سب کو چپ کروایا گیا اور اپنے لئے مزید عیاشیوں کا بندوبست کیا گیا۔
    دیکھیں‌ابھی یہ دھاندلیاں‌جاری ہیں جب تک عوام سوئے ہوئے ہیں۔

  • نورمحمد says:
    28 December 2011 at 11:13



    افتخار اجمل بھوپال: میں بچے ان گھروں سے آتے ہیں جو دوبا



    متفق

  • نورمحمد says:
    28 December 2011 at 11:15

    توڑ پھوڑ تو کرنا تو ایشائی لوگو ں کی نشانی ہے۔۔۔

    میرے خیال سے 80 سے 90 فی صد ٹیچرس تو ٹیچر بننے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔۔۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔