Sunday, 25 September 2011

میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی!

میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم




میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی

میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی

میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی

بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی

4 comments:

  • محمد وارث says:
    26 September 2011 at 10:36

    لاجواب

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    28 September 2011 at 17:08

    آپ کے نام سے میل وصول ہوئی تھی ۔
    جاپان کی ایجوکیشن ویلیوز سے متعلقہ معلومات کیلئے۔
    اگر مجھے غلط فہمی ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔
    آجکل مجھے کچھ فرصت ہے اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوتو
    تکلف مت کیجئے گا۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    5 October 2011 at 21:37

    بالکل۔ :)

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    5 October 2011 at 21:40

    نہیں آپ کو ہر گز غلط فہمی نہیں ہوئی ہے۔ میں اصل میں بہت دنوں سے یہاں تھی ہی نہیں اس لئے بتا نہیں پائی کہ کس طرح کا مواد چاہئیے۔ بہت شکریہ آپ نے یاد رکھا اور وقت بھی نکالا۔ میں ابھی آپ کو میل کرتی ہوں تفصیلاً۔
    ایک بار پھر بہت شکریہ :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔