Thursday, 2 September 2010

نظام سقہ

سوال: اگر آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بننے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
جواب: 1۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان خصوصاً سحری اور افطاری کے اوقات میں۔ مزید برآں دونوں جگہوں پر یو-پی-ایس اور جنریٹر پر پابندی۔
2۔ فضائی دورے کے دوران وزیرِ اعظم صاحب کے سامنے باداموں کے بجائے متاثرینِ سیلاب کو میسر پینے کے پانی کی بوتل کی فراہمی۔
3۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستانی عوامی نمائندوں کو ان کے عوامی حلقوں میں بطور عوام کم از کم ایک ہفتہ گزارنے کی پابندی۔
4۔ پاکستانی ٹی وی نیوز چینلز پر بریکنگ نیوز اور سیاسی ٹاک شوز دکھانے پر مکمل پابندی۔

اور آپ؟

10 comments:

  • عبداللہ says:
    3 September 2010 at 03:08

    اوپر کی تین تجاویز تو قابل قبول ہیں ،
    مگر چوتھی بریکنگ نیوز اور ٹالک شوز پر پابندی والی کسی حد تک قابل قبول ہے،
    ہر نیوز کو بریکنگ نیوز بنانے پر پابندی ہونا چاہیئے مگر سیاسی ٹالک شوز چلنا چاہیئں تاکہ ہمیں اپنے نمائندوں کی اوقات کا پتہ چلتا رہے!!!!!!!!!!!

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    3 September 2010 at 09:57

    آپ يہ سب کچھ صرف مندرجہ ذيل صورت ميں کر سکتی ہيں
    1 ۔ آپ جب چاہيں نظروں سے غائب ہو جائيں جب چاہيں نظر آنے لگيں
    2 ۔ آپ ميں بہت تيز رفتار اڑنے کی صلاحيت ہو تاکہ جب چاہيں جہاں چاہيں فوراً پہنچ جائيں
    3 ۔ آپ ميں اتنی طاقت ہو کہ جو گڑبڑ کر رہا ہو اُسے ايک ہاتھ رسيد کريں تو وہ اس چوٹ کو کبھی نہ بھول پائے

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    3 September 2010 at 09:57

    آپ يہ سب کچھ صرف مندرجہ ذيل صورت ميں کر سکتی ہيں
    1 ۔ آپ جب چاہيں نظروں سے غائب ہو جائيں جب چاہيں نظر آنے لگيں
    2 ۔ آپ ميں بہت تيز رفتار اڑنے کی صالحيت ہو تاکہ جب چاہيں جہاں چاہيں فوراً پہنچ جائيں
    3 ۔ آپ ميں اتنی طاقت ہو کہ جو گڑبڑ کر رہا ہو اُسے ايک ہاتھ رسيد کريں تو وہ اس چوٹ کو کبھی نہ بھول پائے

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    3 September 2010 at 10:37

    آسان حل میں خلیفہ کیوں نہ بن جاوں؟
    سب کی خوب درگت بناوں۔
    :joker :joker :joker

  • محمد احمد says:
    3 September 2010 at 11:56

    بس صرف اتنا کہ

    صدر اور وزیرِ اعظم کے بچے بھی اُن ہی گورنمنٹ اسکولوں میں‌پڑھنے کے پابند ہوں جس میں‌غریب کے بچے پڑھتے ہیں۔

    اُن کا علاج معالجہ بھی اُنہی سرکاری ہسپتالوں تک محدود ہو جو عوام کے لئے ہیں‌۔

    اُن کے تمام تر اکاؤنٹس اندرونِ ملک ہوں اور باہر کچھ نہ ہو۔

  • محمد وارث says:
    3 September 2010 at 15:02

    ع - ایں خیال است و محال است و جنوں

  • کاشف نصیر says:
    3 September 2010 at 16:47

    :dwh

  • اظہرالحق says:
    3 September 2010 at 19:03

    اتنی ساری باتیں یار میں تو وہ ہی کروں گا جو نظام سقہ نے کیا تھا یعنی نوٹوں پر اپنا رُخ زیبا ۔ ۔ ۔ سب نوٹ میرے ۔۔

  • محمدصابر says:
    3 September 2010 at 21:16

    اللہ آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بنائے۔
    ویسے نظام سقہ نے کتنا عرصہ حکمرانی کی؟

  • عبداللہ says:
    27 September 2010 at 03:28

    http://www.express.com.pk/epaper/index.aspx?Issue=NP_LHE&Page=Magazine_Page12&Date=20100918&Pageno=12&View=1

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔