Thursday, 1 April 2010

آج کا سوال!

سب نے سکول کالج میں انگریزی گرامر میں وہ مضمون تو پڑھا ہو گا ' طلباء امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں۔' یا شاید 'لڑکے امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں'۔
آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ کبھی فیل ہوئے؟ ہوئے تو کیوں اور نہیں تو کیوں نہیں؟
نیز امتحان میں نقل کرنے کے بہترین اور آزمودہ طریقے کون سے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کسی پیپر میں نقل کی؟

11 comments:

  • ڈفر says:
    1 April 2010 at 13:23

    میں کبھی فیل نہیں ہوا اور اس کی وجہ میری مسیں :silly
    اور انٹرنیٹ کی دنیا میں آ کر پتا چلا کہ نقل کرنے کے بہترین طریقے زنانہ طریقے ہیں
    اور بہترین میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتین :bgrin

  • جعفر says:
    1 April 2010 at 17:00

    نہ تو جی میں‌کبھی فیل ہوا
    اور نہ کبھی نقل کی
    کروائی البتہ بہت۔۔۔
    کڑیوں کو میں‌کوئی اتنی لفٹ نہیں‌کرواتا
    اس لئے پتہ نہیں‌کہ وہ کیسے نقل کرتی ہیں

  • میرا پاکستان says:
    1 April 2010 at 17:44

    ہم ماسٹرز کرنے جب امریکہ آئے تو پہلے سمیسٹر میں ہمارا دل ہی نہیں لگا اور ہم ڈیپرشن وغیرہ کا شکار ہو گئے۔ تب ہم اس سمیسٹر میں کامیاب نہیں‌ہو پائے مگر اگلے ہی سمیسٹر میں دوستوں کی مدد سے سنبھل گئے اور تب سے چل سو چل۔
    بیس تیس سال پہلے تو نقل پرچی سے ہوتی تھی اور بورڈ کے امتحان میں کسی نے رقم لگائی ہوتی تھی تو وہ پوری کی پوری کتاب ہی ساتھ لے آتا تھا۔ یار دوست پانی یینے یا باتھ روم میں جاتے تو پرچہ آؤٹ کر آتے۔ اس کے بعد کھڑکیوں سے پرچیاں پتھروں کیساتھ کمرہ امتحان میں برسنا شروع ہو جاتیں۔ کچھ لوگ ہاتھوں پر بھی لکھ کر لے آیا کرتے تھے۔
    ہمارے یونیورسٹی کے زمانے میں ایک صاحب سمیسٹر میں صرف چھ دفعہ نوٹ تقسیم کیا کرتے تھے اور ٹیسٹ انہی میں سے ہوا کرتا تھے۔ یار لوگ سارے نوٹ ساتھ لے جایا کرتے اور جس نوٹ سے سوال آتا سارا نوٹ اس کیساتھ لگا دیتے اور اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے۔

  • عبداللہ says:
    1 April 2010 at 18:29

    میعار تعلیم کی تباہی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سارا سال آوارہ گردی اور امتحان میں چھپائی،بندوں کا تو خیر کسی کو خوف ہی نہیں مگر کیا اللہ کا خوف بھی نہیں،جب ہم زندگی کی ابتداءہی بے ایمانی سے کرتے ہیں تو آگے بھی بس یا بے ایمانی تیرا ہی آسرا رہتا ہے،
    جن تعلیمی اداروں میں استاد محنت کرتے اور کرواتے ہیں وہاں نقل کرنے والے طالب علم نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں،
    اگر دوران پریکٹیکل گھبراہٹ میں کچھ بھول جانا اور ساتھ والے کا یاد دلوادینا نقل ہے تو ہاں میں بھی ایک بار یہ جرم کرچکا ہوں، :blush:
    فیل تو کبھی نہیں ہوا الحمد للہ!
    نقل کے طریقے جو سنے اور دیکھے ان میں پھرے بنانا پوری پوری کتابیں لے آنا،اور اب تو سنا ہے موبائل کے ذریعے بھی نقل ہوتی ہے،اور اپنی جگہ دوسروں کو بٹھادینا وغیرہ وغیرہ

  • عبداللہ says:
    1 April 2010 at 19:30

    فرحت اب مسئلے نقل سے باہر نکل کر اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ سنا ہے پوزیشنز بیچی جاتی ہیں،فیل کو پاس کروادیا جاتا ہے پیسے کے زور پر ، استاد اور بورڈ کی ملی بھگت سے یہ مزموم کاروبار جاری ہے،
    اور استاد جھوٹی پی ایچ ڈیز کررہے ہیں! بس نہ پوچھیں کہ ہم نے کس کس چیز کو گھناؤنا کاروبار بنا لیا ہے :blush:

  • پھپھے کٹنی says:
    1 April 2010 at 20:19

    کونسے امتحان ميں اپئير ہو رہی ہيں ايگزامنر سے رابطہ کر ليتے ہيں يا بورڈ ميں دے دلا کر معاملہ طے کر ليتے ہيں نقل خطرناک ہو سکتی ہے

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    1 April 2010 at 21:40

    ہم کيا جانيں کہ نقل کيا ہوتی ہے دو جماعتيں پاس کی اور چل سو چل
    ويسے سُنا ہے کہ نقل پرانے زمانے ميں ہوا کرتی تھی ۔ اب دنيا جديد ہو گئی ہے ۔ نقل کی ضرورت ہی نہيں ۔ عقل جو بہت ہے ۔ بس رقم چاہيئے يا پستول

  • محمدصابر says:
    2 April 2010 at 07:59

    Cheat on a test کو یوٹیوب پر سرچ کر لیں۔بہت سے طریقے مل جائیں گے۔آپ کوئی بھی استعمال کر لیں۔

    http://www.youtube.com/watch?v=tGhOYbPgETQ

  • خرم ابن شبیر says:
    2 April 2010 at 14:30

    کبھی فیل ؟ مجھ سے تو یہ پوچھا جائے کہ کبھی پاس بھی ہوئے :awh
    ہردسمبر ٹیسٹ مین اور ہر کچے امتحان مین فیل ہو جاتا تھا اور پکے امتحان میں سٹار دے کر پاس کر دیا جاتا تھا
    سوائے میٹرک کے امتحان کے علاوہ میں نے کسی بھی امتحان کی تیاری نہیں کی اس لیے فیل ہوتا رہا اور میٹر میں پاس ہو کر سب کو حیران کر دیا پرشان کر دیا لوگ مبارک دینے نہیں پاس ہونے کی وجہ پوچھنے آتے رہے :P بس دسوی کا وہ واحد امتحان تھا جومیں نے محنت سے پاس کیا اور اس میں بھی بڑے بھائی کا ہاتھ تھا اگر وہ چھترول نا کرتے تو یہ نالائق دسوی پاس بھی نا ہوتا :D فیل ہونے کی بہت سے وجوہات تھیں
    ایک جومیں پڑھنا چاہتا تھا وہ نہیں تھا
    دو جب میں کسی ٹیچر سے یا استاد سے سوال کرتا تھا تو مجھے بدتمیز یا یہ سننے کو ملتا تھا کہ استاد تو ہے یا میں
    تین ہم کو ایجوکیشن میں تھے جہاں چھ لڑکے اور 15 لڑکیاں تھیں
    لڑکیاں ٹیچروں کی تعریف کیا کرتی تھیں اور استاد تو تھے ہی لڑکیوں کی طرف :P
    سبق یاد نہیں کلاس سے بارہ
    ہوم ورک نہیں کیا کلاس سے باہر
    استاد سے بدتمیزی کلاس سے بارہ
    یونیفورم نہیں پہنا کلاس سے باہر
    بس صبح بستہ رکھنے کلاس میں جاتے تھے :awh
    سائنس کی ٹیچر نے تو مجھے پڑھانا ہی چھوڑ دیا تھا بس ایک دفعہ سوال کیا تھا کہ مس جی یہ جو تجربہ کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ کر کے بتائیں مطلب پریکٹیکل مس نے تجربہ پریکٹیل کل کیا ان سے نہیں ہوا میں نے کیا تو مجھ سے ہو گیا :D
    انگریزی کی ٹیچر کہتی تھی کلاس میں انگریزی بولا کرو ہمیں اردو نہیں آتی تھی تو انگریزی کیسے بولتے بس پھر کلاس سے باہر چلے جاتے۔
    تمام ٹیچروں نے اور استادوں نے پیپروں سے پہلے لکھ کر دے دیا کہ خرم اور باقی پانچ لڑکے پاس نہیں ہونگے ان کی کوئی گارنٹی نہیں
    ہاں البتہ لڑکیاں پاس ہو جائیں گی اور اچھوں نمبر سے

    اگر میں جھوٹ بولوں تو میں جعفر بھائی کی طرح ہو جاؤں
    21 بچوں میں ایک خرم شہزاد پاس ہوا ایک واجد محمود پاس ہوا
    باقی چار لڑکے ریاضی میں فیل ہو گے
    15 لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نصرت پاس ہوئی جو خود سبق یاد کرتی تھی کسی کو نکل نہٰں کرواتی تھی
    اور ایک شہلہ آپی کامیاب ہوئی جو مجھے پا کہتی تھی
    آپی والا چکر سکول دور سے چلا آ رہا ہے
    بس یہ تھی مختصر سی کہانی فیل ہونے کی

    اس کے بعد کالج میں بھی فیل ہوا یہ الگ کہانی ہے اس میں میری غلطی تھی
    ویسے سکول میں بھی میری غلطی ہی تھی :D

  • خرم ابن شبیر says:
    2 April 2010 at 14:32

    اور ہاں نقل کی تو بات ہی نہیں کی
    اتنی بار فیل ہونے کے باوجود نقل کبھی نہیں کی کسی کے بتانے پر بھی نہیں لکھا بس

  • تانیہ رحمان says:
    2 April 2010 at 21:15

    میں فیل ہونے کے ڈر سے امتحان ہی نہیں دیتی ۔ کیونکہ اس ایک لفظ سے مجھے چڑ ہے ۔ آجک نقل کا سب سے اچھا طریقہ موبائل فون ہیں ۔اور کھلے عام نقل دینے والے پوچھتے ہیں کہ کتنی نقل کرنی ہے اسی حساب سے ہیمں چیزیں بھی چاہیے ۔ میں نے ایک بار نقل کی تھی ۔لیکن وہ پرچی میرے پیچھے بیٹھی لرخی نے اپنی جان چھوڑانے کے لیے میری طرف پھینک دی ۔ لیکن افسوس کہ جو سوال آیا تھا وہ مجھے پہلے سے معلوم تھا۔ :cryin :cryin :cryin

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔