Tuesday, 9 March 2010

اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیئے!

ابھی لائبریری کی دوسری منزل پر بیٹھے مجھے اس عمارت کا ایک حصہ اور اس کے سامنے کی سڑک سنسان و ویران دکھائی دے رہی ہے جہاں گزشتہ شام قیامت کا سماں تھا۔ اس وقت سڑک کنارے پولیس اور فوج کے علاوہ دنیا ٹی وی کی گاڑی کھڑی دکھائی دے رہی ہے جس کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ اور میرے کانوں میں ابھی تک سائرن کی آوازیں اور لڑکیوں کی چیخ و پکار گونج رہی ہے۔ یہ لڑکیوں کا ایک نجی ہاسٹل ہے جہاں راولپنڈی کے مختلف کالجوں اور یونیورٹیوں میں زیرِ تعلیم طالبات رہائش پذیر تھیں۔ جن میں نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد جیسے پڑوسی شہر سے لیکر گلگت ، سکرود جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات شامل ہیں۔ اس عمارت میں گزشتہ سہ پہر اچانک آگ بھڑک آٹھی جس میں ہاسٹل انتظامیہ کے مطابق چھ طالبات جاں بحق ہو گئیں۔ میں اکثر اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے یہی سوچتی تھی کہ نیچے سے اوپر تک grilled اس عمارت جس میں 200 سے زائد طالبات رہ رہی ہیں، کا داخلی دروازہ بھی اس قدر تنگ ہے کہ خدانخواستہ کسی ناگہانی صورتحال میں یہاں سے باہر نکلنا کتنا مشکل ہو گا۔ ایسا سوچنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ہاسٹل جی ایچ کیو سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے اور اسی علاقے میں اس سے پہلے دہشت گردی کے چند واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ کل اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی تھا کہ پہلے ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ایجنسیوں کو پہلے شیشے توڑنے پڑے، پھر لوہے کی جالی کاٹنے کے بعد اتنی جگہ بنائی جا سکی کہ اوپر والی منزل میں محبوس لڑکیوں کو سیڑھیاں لگا کر باہر نکالا جا سکے۔ اس اثنا میں رفاہ میڈیکل کالج کی چھ طالبات کو ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھیں، جلنے اور دم گُھٹنے سے جاں بحق ہو چکی تھیں۔ اب ہو گا یہ کہ ہاسٹل انتظامیہ اور ہمارے حکمران تعزیتی بیان جاری کر کے پھر اپنے آپ میں گم ہو جائیں گے۔ اور کسی کو احساس تک نہیں ہو گا کہ کتنے قابل لوگ اتنی آسانی سے لقمہ اجل بن گئے اور کتنے والدین کی امیدیں مٹی میں مل گئیں۔ میری ایک کولیگ جو پچھلے سال اپنی گریجویشن سے پہلے اسی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی، کے مطابق اس عمارت میں کہیں بھی ہنگامی اخراج کا کوئی ایک راستہ بھی نہیں تھا۔ پوری عمارت میں کہیں بھی کوئی سموک یا فائر الارم نہیں ۔ایک جگہ fire extinguishers نمائشی طور پر آویزاں تھے اور ان کو زنگ لگ چکا تھا۔ عمارت میں بجلی کی وائرنگ اس قدر شکستہ حالت میں تھی کہ تاروں سے سپارکنگ ہونا ایک عام بات تھی۔ بار بار یاد دہانی کے باوجود ہاسٹل انتطامیہ کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ جبکہ کرائے کے نام پر ہر مہینے بھاری بھرکم رقم بٹور لی جاتی ہے۔
اب یہ عمارت سِیل کر دی گئی ہے۔ اس طرف آنے والی سڑک بند کر دی گئی ہے۔ پولیس اور فوج کا سڑک پر پہرہ ظاہر کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگر کسی کو خیال آ جائے تو 'بڑوں' میں سے کوئی ادھر کا دورہ کر لے۔ اگر رحمان ملک انکل کو برطانوی بچے کے اغواء کی ٹینشن نے کچھ مہلت دی تو شاید وہ بھی ادھر کو آ نکلیں۔ کاش کوئی اس انتظامیہ سے یہ بھی پوچھ سکے کہ کیا ان کی عمارت اس معیار پر پوری اترتی تھی جو طلباء کے ہاسٹل کے لئے ضروری ہوتے ہیں؟ اور کاش کوئی مجھے یہ بتا سکے کہ ہمارے ملک میں اداروں کے لئے کوئی ایسا کوڈ موجود ہے بھی یا نہیں جس کے تحت وہ سیفٹی کے اصول و ضوابط کی پابندی کریں؟


6 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    9 March 2010 at 12:48

    جس علاقہ کا آپ نے ذکر کيا ہے يہ راولپنڈی چھاؤنی ہے جہاں سِول انتظاميہ کی نہيں چلتی ۔ ہر چھاؤنيوں ميں ايک سٹيشن کمانڈر ہوتا جو کرنل يا بريگيڑيئر ہوتا ہے ۔وہی چھاؤنی کا بادشاہ ہوتا ہے کہنے کو تو وہاں بھی متعلقہ صوبائی حکومت کے قوانيں چلتے ہيں مگر عملی طور پر يہ استدلال سو فی صد غلط ہے ۔

    پرويز مشرف نے جب پورے ملک ميں شہری حکومتيں قائم کيں تو اسلام آباد اور تمام چھاؤنيوں کو جو اب اَن گِنت ہيں مستثنٰی قرار ديا يعنی وہاں فوج ۔ غلطی ہو گئی ۔ فوج نہيں بلکہ فوجی کی حکومت کو قائم رکھا ۔

    اس سے قبل گکھڑ پلاز ميں آگ لگی تھی تو انکوائری کرنے والوں نے پوری مارکيٹ ميں آنے جانے کے صرف ايک راستہ کو زيادہ نقصان ہونے کا سبب قرار ديا تھا اور صوبائی حکومت نے فوج کے متعلقہ ادارے کو اس سلسلہ ميں لکھا تھا

    ہوسٹل کا واقعہ بتاتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہدائت کو ردی کی ٹوکری ميں پھينک ديا گيا

  • اسماء پيرس says:
    9 March 2010 at 13:38

    ہر کوئی يہی کہتا ہے کہ يہ سب پچھلوں کا کيا دھرا ہے اب ہم کيا کيا درست کريں لوگوں ميں شعور نہيں ہے ورنہ حالات يہاں تک پہنچتے ہی نہيں اب بھی اپنے آپ سے درستگی کا عمل شروع کر کے بارش کا پہلا قطرہ بنا جائے تو چند سالوں ميں کافی بہتری آ سکتی ہے

  • عبداللہ says:
    9 March 2010 at 17:56

    انا للہ وانا الیہ راجعون!
    سچ کہا آپنے،کسی بڑے آدمی کی اولاد تو ایسی جگہ ہوتی نہیں سو یہ سب اسی طرح چلتا رہےگا!
    کیا کریں کیسے کریں اور کون کرے یہ سوال ہم ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے اور پھر سب بھول بھال کر ایک نئے حادثے کا انتظار کرنے لگیں گے اور بس:123
    کہاں کی سول سوسائٹی اور کیسی سول سوسائٹی :huh

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    9 March 2010 at 18:52

    اسماء صاحبہ کی خدمت ميں عرض ہے کہ پچھلوں کی بات نہيں ايک سسٹم کی بات ہے ۔ قبائلي علاقہ کو رياست کے اندر رياست کہہ کر شور مچا "مارو ۔ ختم کر دو"۔ ليکن ہمارے ملک ميں تمام چھاؤنياں الگ رياستيں ہيں جنہيں انگريز نے اپنے مقصد کيلئے قائم کيا تھا اور ہم نے بڑھاتے بڑھاتے کئی گناہ کرنے کے بعد ان کے بھائی ڈی ايچ اے بنانے شروع کر ديئے ہوئے ہيں

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    11 March 2010 at 13:56



    افتخار اجمل بھوپال: جس علاقہ کا آپ نے ذکر کيا ہے يہ راولپنڈی چھاؤنی ہے جہاں سِول انتظاميہ کی نہيں چلتی ۔ ہر چھاؤنيوں ميں ايک سٹيشن کمانڈر ہوتا جو کرنل يا بريگيڑيئر ہوتا ہے ۔وہی چھاؤنی کا بادشاہ ہوتا ہے کہنے کو تو وہاں بھی متعلقہ صوبائی حکومت کے قوانيں چلتے ہيں مگر عملی طور پر يہ استدلال سو فی صد غلط ہے ۔
    پرويز مشرف نے جب پورے ملک ميں شہری حکومتيں قائم کيں تو اسلام آباد اور تمام چھاؤنيوں کو جو اب اَن گِنت ہيں مستثنٰی قرار ديا يعنی وہاں فوج ۔ غلطی ہو گئی ۔ فوج نہيں بلکہ فوجی کی حکومت کو قائم رکھا ۔اس سے قبل گکھڑ پلاز ميں آگ لگی تھی تو انکوائری کرنے والوں نے پوری مارکيٹ ميں آنے جانے کے صرف ايک راستہ کو زيادہ نقصان ہونے کا سبب قرار ديا تھا اور صوبائی حکومت نے فوج کے متعلقہ ادارے کو اس سلسلہ ميں لکھا تھا
    ہوسٹل کا واقعہ بتاتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہدائت کو ردی کی ٹوکری ميں پھينک ديا گيا  


    جی۔ یہ عمارت بھی اصل میں فوجی فاؤنڈیشن والوں کی ہے جس کو ایک سویلین بندے نے لیز پر لیا ہوا تھا۔ فوجیوں کی تو ہر بات نرالی ہے۔ لیکن میری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ کیا پرائیویٹ ہاسٹلز کی کہیں رجسٹریشن نہیں کرائی جاتی اور ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے ایسے ادارے فیڈرل بیورو آف ریوینیو یا ایسے کسی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹر کرانا ضروری ہے اور یہی ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ انہیں طلبا و طالبات کی سہولت اور حفاظت کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر پابند کریں۔ انہی لوگوں کے شاید 5-6 اور بھی ہاسٹلز راولپنڈی/اسلام آباد میں موجود ہیں اور ان کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اور ابھی بھی کسی کو خیال نہیں آیا کہ باقی ہاسٹلز کو دیکھ رک اندازہ لگایا جائے کہ آگ کسی طالبہ کی غلطی سے لگی یا انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے۔ :-(

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    12 March 2010 at 11:35



    اسماء پيرس: ہر کوئی يہی کہتا ہے کہ يہ سب پچھلوں کا کيا دھرا ہے اب ہم کيا کيا درست کريں لوگوں ميں شعور نہيں ہے ورنہ حالات يہاں تک پہنچتے ہی نہيں اب بھی اپنے آپ سے درستگی کا عمل شروع کر کے بارش کا پہلا قطرہ بنا جائے تو چند سالوں ميں کافی بہتری آ سکتی ہے  


    درست کہا اسماء!۔ یہ فلسفہ ہماری سمجھ میں نجانے کب آئے گا :-s




    عبداللہ: انا للہ وانا الیہ راجعون!
    سچ کہا آپنے،کسی بڑے آدمی کی اولاد تو ایسی جگہ ہوتی نہیں سو یہ سب اسی طرح چلتا رہےگا!
    کیا کریں کیسے کریں اور کون کرے یہ سوال ہم ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے اور پھر سب بھول بھال کر ایک نئے حادثے کا انتظار کرنے لگیں گے اور بس:123
    کہاں کی سول سوسائٹی اور کیسی سول سوسائٹی   


    ایسا ہی ہے عبداللہ۔ جن لوگوں سے جوابدہی حاصل کرنی چاہئیے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انکوائری ہی رکوا دی ہے۔ :-(

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔