Monday, 15 June 2009

کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

تلاشِ گُم شُدگاں میں نکل چلوں لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

رئیس فروغ

2 comments:

  • محمد احمد says:
    17 June 2009 at 15:40

    واہ !

    بہت اچھا شعر ہے۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    21 June 2009 at 23:44

    بہت شکریہ احمد :smile

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔