Saturday, 7 February 2009

ممی کا لیٹر

پیارے children!
تمہارا لیٹر ملا۔ تمہاری condition معلوم ہوئی کہ تم سب OK ہو۔ ہم سب بھی fine ہیں۔
تمہاری progress report بھی receive ہوئی۔ اور تم چاروں کے examination results دیکھے۔ بہت ہی ‌bad condition ہے۔ اردو تم چاروں کی بہت weak ہے۔ تمہیں اس subject میں کافی hard work کی ضرورت ہے۔ because یہ intermediate level تک compulsory کر دی گئی ہے۔ بہرحال تم کو اس کی طرف پھرپور attention دینی پڑے گی۔ اسی لئے میں تم لوگوں کو یہ letter اردو میں لکھ رہی ہوں تا کہ تم اپنی mother tongue سے in touch رہو۔
یہاں کافی cold ہے اسی لئے تمہارے ابو کو fever ہو گیا ہے۔ you know وہ کتنے careless ہیں۔ چار دن تک ان کا temperature کافی high رہا۔ کافی weak ہو گئے ہیں۔ عیادت کے لئے کافی guests آتے ہیں۔ that's why میں کافی tired ہو جاتی ہوں۔
یہ winter ہے۔ اس لئے چھوٹے brother کا خیال رکھنا۔ اُس کو warm شال میں wrap رکھنا کیونکہ وہ by nature کافی weak ہے اور بعض اوقات summer میں بھی cold catch کر لیتا ہے۔
تمہاری sister بہت sensitive ہے۔ میری separation برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر وہ restless محسوس کرے تو ڈاکٹر کو فوراً call کر لینا۔ I hope کہ تم یقینا میرا letter غور سے read کر رہے ہو گے۔
تمہاری بڑی sister ہنزہ valley آنے والی ہیں۔ ان کو remind کرا دینا کہ میرا beauty box ضرور لائیں۔ lip stick ان کو choose کر دینا کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ مجھے کون سی suit کرتی ہے۔ میرے پاس lipstick اب finish ہو چکی ہے اور اس کے بغیر میں بڑا uneasy محسوس کرتی ہوں۔
آج کل ہر morning اور evening بس bore ہی گزرتی ہے۔ کوئی entertainment ہی نہیں ہے۔ servants تین دن کی leave پر گئے ہوئے ہیں اس لئے whole work مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ early in the morning اٹھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ آج بھی پورے ساڑھے نو بجے bed چھوڑ دیا تھا۔
okay اب میں نے اتنا long letter لکھ دیا ہے کہ تم تھکن feel کر رہے ہو گے۔
سب کو میری طرف سے wish کر دینا۔
اور اپنی اردو پر attention دینا۔
فقط!
your ever loving mother


:smile


ہمارے گھر عالمگیرین میگزین آتا تھا۔ جس میں کچھ سال پہلے یہ خط آٹھویں جماعت کے ایک طالبعلم نے لکھا تھا۔ آج ایک پرانی ڈائری کے صفحات پلٹتے ہوئے نظر پڑی تو یہاں لکھ رہی ہوں۔ افسوس کہ میں نے یہ letter اپنے پاس copy کرتے ہوئے writer کا نام note نہیں کیا تھا۔ :blush: :D

21 comments:

  • بوچھی says:
    7 February 2009 at 19:44

    :haha: :haha: :haha: :haha:

    :haha:

  • ماوراء says:
    7 February 2009 at 21:06

    زبردست۔ :bgrin

    ممی کی بھی اردو کافی کمزور لگتی ہے، ان کو بھی اپنی اردو پر توجہ دینا ہو گی۔ ;)

  • فیصل says:
    7 February 2009 at 22:25

    ماورا، ممی کی اردو کمزور نہیں ہے، وہ پاکستانی ٹی وی چینل دیکھتی ہیں اور کچھ اردو بلاگرز کو پڑھتی ہیں ;)

    فیصل, کی تازہ تحریر: اردو بلاگ انگریزی بلاگ

  • زین زیڈ ایف says:
    8 February 2009 at 04:56

    بہت خوب۔ :haha: لاجواب۔
    ----
    ویسے تو ہمارے آس پاس بھی ایسے لوگ کم نہیں۔

    زین زیڈ ایف, کی تازہ تحریر: سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟

  • محب علوی says:
    8 February 2009 at 06:24

    ممی کی انسٹرکشنز کو کیر فولی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    میرا آئیڈیا ہے کہ ضرور ورک کریں گی

    محب علوی, کی تازہ تحریر: Groundhog Day

  • دوست says:
    8 February 2009 at 09:37

    :hehe: :hehe: :hehe:

  • عبدالقدوس says:
    8 February 2009 at 12:51

    چلو ایٹ لیسٹ بچے کو اردو کی کنو ہاو تو ہو جائے گی :P

  • عمر احمد بنگش says:
    9 February 2009 at 02:00

    کمال ہے یار، یہ تو ممی ریٹرنز والی بات ہو گئی،
    :haha:

  • ماوراء says:
    9 February 2009 at 03:21

    فیصل، ہاہاہا۔۔"کچھ اردو بلاگز" :hehe:

    فرحت، پاکستان جانے سے پہلے بتا کر جائیے گا۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    10 February 2009 at 03:07

    بوچھی: :)
    ماوراء: 'ممی' ایسی اردو بھی بول لیں تو بڑی بات ہے :D
    فیصل: :D ۔ کہیں ان بلاگز میں 'دریچہ' بھی تو شامل نہیں :blush:
    زین : اچھی خاصی تعداد میں مل جاتے ہیں ایسے لوگ :)
    محب علوی: :D ورک تو کرنا پڑے گا آخر کو ممی نے اتنا emphasize کیا ہے۔
    دوست: :)
    عبدالقدوس: ایگزیکٹلی۔ مین پرپز بھی تو یہی ہے۔ :D
    عمر احمد بنگش: ویسے یہ ممی ریٹرنز والی ہی بات ہے۔ میرا خیال ہے میں نے یہ خط آج سے 8-10سال پہلے پڑھا تھا۔
    ماوراء: اب تو کچھ دیر ہی رہ گئی ہے ۔ انشاءاللہ۔
    مجھے لگتا ہے اب شاید پاکستان سے ہی آنا ہو سکے گا۔ بشرطِ زندگی اور بجلی :)

  • ماوراء says:
    10 February 2009 at 06:28

    چلیں، پھر ٹھیک ہے۔ امید ہے کہ پاکستان میں اچھا وقت گزرے گا۔

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    11 February 2009 at 16:08

    کافی لیٹیسٹ ماڈل کی ممی ہیں اوئے! ہاہاہا :silly

    آن لائن اخباری رپوٹر, کی تازہ تحریر: Sleep disorder and obesity research

  • شعیب سعید شوبی says:
    12 February 2009 at 23:58

    بہت خوب۔ :haha
    ممی کا لیٹر پڑھ کر ایک قطعہ یاد آگیا جو میں نے ایک اخباری کالم میں پڑھا تھا:

    دودھ کا دودھ، پانی کا پانی
    یہ بات نہ سمجھی میری ڈاٹر

    پھر میں نے آساں کر کے بتلایا
    مِلک کا مِلک ، واٹر کا واٹر

    شعیب سعید شوبی, کی تازہ تحریر: چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

  • محمد وارث says:
    15 February 2009 at 01:31

    "اینگلو-اردو زبان" کی خوبصورت مثال ہے یہ خط، ڈر ہے کہ یہ زبان کہیں اردو کی جگہ نہ لے لے۔
    ایک ذاتی گزارش یہ فرحت کہ پلیز اپنے بلاگ پر میرے بلاگ کا ربط اپڈیٹ کر لیں، نیا ربط یہ ہے
    http://muhammad-waris.blogspot.com/
    شکریہ اور نوازش :)

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: شیخ ابو سعید ابو الخیر کی چند رباعیات

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    15 February 2009 at 21:04

    ماوراء: شکریہ ماوراء! :)
    آن لائن اخباری رپوٹر: اب تو ان سے بھی اگلے ماڈلز آ گئے ہوں گے :D
    شعیب سعید شوبی: :D :D :D زبردست شوبی :)

    محمد وارث: عام بول چال میں تو اکثر یہی زبان مستعمل نظر آتی ہے۔
    شکریہ وارث۔ میں نے آپ کے بلاگ کا ربط اپ ڈیٹ کر لیا ہے۔ تھیم تو بہت ہی اچھا لگ رہا ہے :) ۔ میں نے تبصرہ بھی کیا تھا لیکن بجلی کی مہربانی سے یہ نہیں معلوم کہ موڈریشن کے لئے منتظر ہے یا پوسٹ ہی نہیں ہوا :quiet:

  • محمد وارث says:
    15 February 2009 at 21:45

    نوازش آپ کی فرحت، بہت شکریہ! آپ کا تبصرہ شاید بجلی کی نذر ہو گیا کہ تبصروں‌کی موڈریشن میں استعمال نہیں کر رہا۔

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: عشق دی نویوں نوِیں بہار - بُلّھے شاہ

  • منظور قا ضی says:
    27 February 2009 at 04:18

    اردو کےدوستوں کو سلام اور مبارکباد :
    یہی ممی کا لیٹر عالمی اخبار کے ایک بلاگ کا موضوع بن گیا ہے۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    27 February 2009 at 23:41

    محمد وارث: :) بہت شکریہ۔ :) واپڈا والے خوش رہیں جو اب کی بار میرے تبصروں کو راستے میں ہی گم نہیں ہونے دیا۔
    منظور قا ضی: بہت بہت شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید۔ :)
    ممی کے لیٹر کا عالمی اخبار تک پہنچنا پاکستان کے محکمۂ ڈاک کی مستعدی کی نشانی ہے۔ :D

  • تانیا رحمان says:
    28 February 2009 at 02:34

    فرحت ممی کا کیا کہنا ممی کو اپنے فیشن سے فرصت ملے تو بچوں کو اردو کی طرف متوجہ کریں ۔ ویسے آج کل ایک عجیب سا ایک انداز بن گیا ہے لوگوں کا کہ جب تک انگریزی نا بولیں چین نہیں آتا ، پڑھائی کارعب بھی تو ڈالنا ہے

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    2 March 2009 at 02:38

    ممی جو ہوئیں :D امی ہوتیں تو شاید فیشن کی نسبت بچوں پر دھیان کچھ زیادہ ہوتا۔
    بس انگریزی زبان کا رعب ہی کچھ ایسا ہے ہم لوگوں پر کہ کیا پڑھے لکھے کیا ان پڑھ سب ہی اسی دوڑ میں شامل ہیں :-(

  • [...] فرحت کیانی کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ ‘ممی کا لیٹر‘ لکھی تھی۔ جو اصل میں ملٹری کالج جہلم کے ایک طالبعلم [...]

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔