Wednesday, 31 December 2008

لاپرواہ کون؟

دو دن پہلے قاسم راجا  نے برمنگھم اپئرپورٹ  سے اسلام آباد ایئرپورٹ تک سفر کیا اور پھر انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ کیونکہ موصوف جلدی میں اپنے بجائے اپنی بہن کا پاسپورٹ اٹھا کر لے آئے ۔ برمنگھم ایئرپورٹ کے عملہ شاید ان سے بھی زیادہ جلدی میں تھا۔ دو جگہ پاسپورٹ چیک کیا گیا لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا کہ ان کے سامنے کھڑے مسٹر قاسم راجا کے پاسپورٹ پر ’مس‘ کیوں لکھا ہوا ہے :daydream ، نہ ہی تصویر میں کوئی فرق دکھائی دیا۔  بہرحال اسلام آباد ایئرپورٹ والے جلدی میں نہیں تھے اس لئے انہیں یہ فرق نظر آ گیا  :kool اور بیچارے قاسم کو واپس گھر لوٹنا پڑا۔

تفصیل یہاں دیکھیں ۔

پاکستانیوں کی لاپرواہی کا ڈھنڈورا ایسے ہی پیٹا جاتا ہے۔ یہاں تو معاملہ الٹ نکلا۔ :D

12 comments:

  • زین زیڈ ایف says:
    31 December 2008 at 02:19

    :haha :haha :haha
    واقعی یہ تو معاملہ الٹ ہی نکلا۔
    :cn

    زین زیڈ ایف’s last blog post..میرا شہر

  • خاور says:
    31 December 2008 at 02:24

    یورپ کی ایمیگریشن ساری احتیاطیں غیر یورپی پاسپورٹ والوں سے کرتی ہے
    میں نے دیکھا ہے که که اگر اپ کے پاس یورپی پاسپورٹ تو کتنے هی ایمگریشن والے اس کو کھول کر بھی نہیں دیکھیں گے که اب گا هی ہے یا کسی اور کا اٹھا لائے هیں ـ

    خاور’s last blog post..ایک اور سال

  • محب علوی says:
    31 December 2008 at 02:43

    بہت خوب فرحت

    واقعی حد ہے لاپرواہی کی۔

    محب علوی’s last blog post..بش پر جوتا حملہ

  • جہانزیب says:
    31 December 2008 at 03:13

    یہاں‌کئی مس، مسٹر اور مسٹر، مس بن جاتے ہیں، اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لئے سوالات نہ پوچھے گئے ہوں‌ کہ بندہ ہرٹ‌ ہی نہ ہو جائے اور عدالت پہنچ جائے ۔
    یہاں‌ امریکہ میں بھی جنسی قید سے آزاد چیزیں‌متعارف کروانے کی کوششیں‌ ہوتی ہیں‌لیکن میرا خیال ہے امریکہ یورپ سے زیادہ مذہبی ہے، اس لئے ایسی بات فورا ہی اچھال دی جاتی ہے، جیسے کچھ لوگ جنہیں اللہ نے مرد پیدا کیا اور وہ عورتوں‌کا روپ دھار کر یہ کہیں‌کہ مجھے خواتین والا ریسٹ‌ روم ہی استعمال کرنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

    جہانزیب’s last blog post..اِن شا اللہ

  • ڈفر says:
    31 December 2008 at 13:26

    ہا ہا ہا
    کمال بات ہو گئی یہ تو
    پر قصور تو نکلے گا پاکستانی کا
    آپ یہ ذمہ داری انڈین میڈیا کو سونپ کر دیکھیں
    بلکہ سونپنے سے پہلے سارے گیس مار لیں اورلکھ دیں کہ یہ نہیں بنانی سٹوری
    انڈین میڈیا پھر بھی کسی سٹوری کے ساتھ آ جائے گا :D

    ڈفر’s last blog post..نئے سال کا تحفہ

  • آن لائن اخباری رپوٹر says:
    31 December 2008 at 13:42

    ہاہاہا تو ثابت ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی اکیلے نیہں اس لاپرواہی کی دوڑ مہں سب ھمارے ساتھ ہیں۔ :ahaa:

    آن لائن اخباری رپوٹر’s last blog post..Petrol shortage observed in Lahore

  • عبدالقدوس says:
    31 December 2008 at 16:30

    :clap :clap :clap :clap

    کمال ہی ہوگیا

    عبدالقدوس’s last blog post..غزہ حملے

  • شعیب سعید شوبی says:
    31 December 2008 at 23:27

    واہ۔۔۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے!۔۔۔چلیے ہم بھی اب فخر کر سکتے ہیں کہ گورے بھی ہماری نقالی کرتے ہیں! :ahaa:

    شعیب سعید شوبی’s last blog post..چوہے کا بچہ (متحرک نظم)

  • شکاری says:
    1 January 2009 at 01:26

    اب یورپ والے کیا کہتے ہیں۔ بہت خوب

    شکاری’s last blog post..میرا بلاگ اردو ٹیک پر

  • ماوراء says:
    1 January 2009 at 11:15

    کافی دلچسپ خبر ہے۔۔میں نے تو گھر میں سب کو سنائی تھی۔ :bgrin

    لاپرواہ تو لڑکا بھی ہوا اور برمنگھم اپئرپورٹ والے بھی۔ لیکن برمنگھم اپئرپورٹ والے زیادہ لاپرواہ ہیں۔ :bgrin

    ماوراء’s last blog post..نیا ہجری و عیسوی سال مبارک

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    1 January 2009 at 23:35

    @زین :
    یہاں اکثر ایسے مزے کے واقعات ملتے رہتے ہیں :smile

    @خاور:
    آپ نے ٹھیک کہا خاور۔ برق گرتی ہے تو بیچارے غیر یورپی باشندوں پر :D
    @محب علوی:
    ایسی لاپرواہی پاکستان میں ہوتی تو یقین بھی کیا جا سکتا تھا۔
    آپ بہت دنوں بعد نظر آئے :)

    @جہانزیب:
    جی۔ یہاں یہ ٹرینڈ کافی عام ہے۔ ہو سکتا ہے اس وجہ سے بھی زیادہ توجہ نہ دی گئی ہو۔

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    2 January 2009 at 00:33

    @ڈفر:
    قصور ہمیشہ کمزور کا ہی نکلتا ہے۔ پاکستان سے اس طرح کوئی آتا تو ہر روز ایک نئی کہانی سامنے آتی :-s انڈین میڈیا کی اس سلسلے میں مہارت کے تو سب پہلے ہی معترف ہیں :D
    @آن لائن اخباری رپوٹر:
    بلکہ کئی بار یہ دوسرے اس دوڑ میں ہم سے آگے بھی نکل جاتے ہیں :)

    @
    @ماوراء: عبدالقدوس:
    :D
    @شعیب سعید شوبی:
    :)
    @شکاری:
    یورپ والوں کو اس میں بھی پاکستانی عملے کی کوئی غلطی نکال لیں گے :)

    @ماوراء:
    وہی تو۔ لڑکے کی لاپرواہی دیکھیں کہ چلو جلدی میں پاسپورٹ اٹھایا لیکن ایئرپورٹ پر پہنچ کر بھی زحمت نہیں کی کھول کر دیکھنے کی۔ اور ایئرپورٹ والے اس سے بھی زیادہ ماشاءاللہ تھے :D

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔