Monday, 8 December 2008

بھیگی عید


اردو محفل پر شعیب سعید شوبی کا تھریڈ  ’کراچی کی مویشی منڈی‘ دیکھ رہی تھی۔ تصویریں تو بہت ہی اچھی ہیں۔ ان میں سے ایک تو  میں نے اپنے ڈیسک ٹاپ پر لگا لی ہے ۔ شکریہ شوبی برادر۔ :smile




قربانی کے جانور دیکھ کر جو خوشی ہوتی ہے وہ تو اپنی جگہ لیکن ان کی قیمتیں اور وی آئی پی /عوامی جانوروں کی تفریق دیکھ کر پتہ چلتا ہے  کہ ہم لوگ مذہبی تہواروں کے معاملے میں بھی نمود و نمائش اور طبقاتی کلچر کا شکار ہو چکے ہیں۔


ان تصویروں میں مویشی منڈی کے وی آئی پی لاؤنج کی آرائش ایک شادی ہال سے کسی صورت کم نہیں ہے۔ اتنے مہنگے جانور بھی لوگ خریدتے ہی ہوں گے تبھی تو مارکیٹ میں موجود ہیں۔ ایک (آنکھوں دیکھا) واقعہ یاد آ رہا ہے۔ کچھ سال پہلے بقر عید پر ایک صاحب نے شاید ستر ہزار کی ایک گائے خریدی تھی اور عید کا دن آنے تک ان کا معمول تھا کہ شام کو ان کے ڈیرے کی لائٹنگ کی جاتی۔ پھر ڈھما ڈھم ڈھول بجایا جاتا اور رات گئے تک لوگ گائے کی شان دیکھتے آتے۔ یہ بات ہے آج سے پانچ سال پہلے کی۔ معلوم نہیں اب ایسے لوگوں نے کتنے نئے طریقے نکال لئے ہوں گے شو آف کے لئے۔


ایسا لگتا ہے عید بھی صرف امیروں کا تہوار ہی بن کر رہ گئی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ متوسط طبقہ کی اکثریت بھی شاید اب اتنی استطاعت نہ رکھتی ہو کہ قربانی کا جانور خرید سکے۔ جبکہ دوسری طرف ہمارے ہی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو کئی کئی لاکھ کے جانور خرید رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان میں اکثریت صرف دکھلاوے کی شائق ہے، جنہوں کے شاید ہی کبھی قربانی کے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کی ہو۔ ورنہ ظاہری واہ واہ کی طرف توجہ دینے کے بجائے کوئی بلوچستان کے بے گھر و بے آسرا زلزلہ زدگان کی خبر لیتا کہ جو اس سرد ترین موسم میں اپنی حکومت اور اپنے لوگوں کی مدد کے منتظر ہیں۔


ہم لوگ جذبۂ قربانی سے سرشار ہیں۔ مگر  افسوس کہ ہم نے لفظ ‘قربانی‘ کو تو حرزِ جاں بنا لیا ہے لیکن اس کے فلسفے کو بُھلا بیٹھے ہیں یا شاید کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔  ہر ایک کی اپنی تشریح ہے ، اپنا فلسفہ ہے۔



کاش ہم سمجھ سکیں کہ قربانی صرف مہنگے داموں جانور خرید کر اس کے گلے پر چُھری پھیر دینے کا نام نہیں بلکہ وہ جنہیں کم نوازا گیا ہے، ان کا خیال کرنا بھی اس قربانی کا بنیادی جزو ہے۔
کاش وہ بھی کچھ سمجھ سکیں جو اپنے ساتھ ساتھ کئی بے گناہ اور معصوم لوگوں کی جان لے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کے لئے قربان ہونے چلے ہیں۔

عید کی خوشیاں اپنی جگہ لیکن اب کے عید اداس کر دینے والے موسم میں آئی ہے۔ پاکستانی قوم قدرتی اور انسانی دونوں آفات کا شکار ہے۔ بلوچستان کا زلزلہ، کراچی کے حالات اور پشاور میں بم دھماکہ۔۔  پتہ نہیں کبھی ہماری آزمائش ختم ہو گی بھی یا نہیں۔  عجیب سی اداسی ہے اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عید مبارک کہنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ :cry:


عید کے دن دعا کیجئے گا کہ آنے والی عیدیں ہمارے لئے خوشیوں، امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئیں۔ ثمَ آمین

9 comments:

  • بدتمیز says:
    8 December 2008 at 11:31

    واہ کتنے زبردست بیل ہیں

  • ماوراء says:
    8 December 2008 at 19:42

    فرحت عید مبارک۔آپ کی دعا پر آمین۔
    ہم برفانی عید منا رہے ہیں۔۔ صبح صبح اتنی برف پڑ رہی تھی۔ آپ نے بھیگی عید بارش کی وجہ سے ہی لکھا ہے یا کسی اور وجہ سے؟

    اور ساجد نے آپ کو ٹیگ بھی کیا تھا۔

  • محمد وارث says:
    8 December 2008 at 20:50

    آپ نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے فرحت اور یہ ایک انتہائی فکر انگیز بات ہے، ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تفاوت کی زد میں قربانی بھی آ گئی ہے اور آ رہی ہے۔ چور بازاری، کساد بازای اور مہنگائی کا اگر یہی عالم رہا تو قربانی بھی ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو جائے گی، افسوس صد افسوس!

    محمد وارث’s last blog post..اختر شیرانی کی ایک شاہکار نظم - اے عشق کہیں لے چل

  • بوچھی says:
    9 December 2008 at 00:41

    سلام ،، کیسی ہیں آپ ۔؟ بہت شکریہ آپکا ٹیکیسٹ ملا ، :love
    آپکو بھی بہت بہت سی عید مبارک ہو ، :party اور سنائیے۔؟

  • شگفتہ says:
    9 December 2008 at 18:56

    السلام علیکم فرحت ، عید مبارک !

    شگفتہ’s last blog post..ایک تجویز

  • Virtual Reality says:
    13 December 2008 at 19:38

    @بدتمیز: اس تھریڈ میں ساری ہی تصویریں اتنی زبردست تھیں :)

    @ ماوراء: پہلے تو گزشتہ عید مبارک۔ کیسا گزرا عید کا دن؟ مجھے مصروفیت اور فلو نے دوبارہ اس طرف آنے کی مہلت ہی نہیں دی :(
    میں جب یہ پوسٹ لکھ رہی تھی تو بارش ہی ہو رہی تھی۔ اس لئے بھیگی عید ہی لکھ دیا عنوان میں بھی۔
    برفانی عید پر کم از کم برفباری دیکھنے کا مزہ تو آیا ہو گا ناں۔۔یہاں تو سارا دن بارش نے پیچھا نہیں چھوڑا :(
    ابھی ساجد کے ٹیگ کا جواب ہی لکھنے لگی ہوں۔ :)

    @ وارث: یہی افسوس ہے کہ ہم لوگوں نے مذہب کو بھی دنیاداری کے رنگ میں رنگ لیا ہے :( معلوم نہیں یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا۔

    @ بوچھی: بہت شکریہ۔ :) میں ٹھیک ٹھاک۔ الحمد اللہ۔

    @ شگفتہ : وعلیکم السلام اور عید مبارک۔ کیسی ہیں؟

  • امید says:
    16 December 2008 at 00:36

    صحیح کہا آپ نے ۔۔۔۔۔

    دیر سے صحیح پر آپ کو عید بارک

    یہ عید بھیگی بھیگی ہی رہی

  • شعیب سعید شوبی says:
    16 December 2008 at 19:34

    السلام علیکم!
    مجھے آج ہی آپ کے بلاگ کا علم ہوا ورنہ میں اس زبردست پوسٹ پر اپنی رائے عید کے موقع پر ہی دے دیتا۔
    بہرحال آپ نے درست لکھا کہ آج کل بقر عید نمود و نمائش ہی بن کر رہ گئی ہے۔ یہ تمام ’’وی آئی پی‘‘ جانور تو سب سے پہلے منڈی سے خرید لیے جاتے ہیں۔ آخر میں ’’عوامی‘‘ جانور ہی رہ جاتے ہیں۔ مگر ان کی قیمتیں بھی کم نہیں ہوتیں۔ لیکن پھر بھی پوری کی پوری مویشی منڈی چاند رات تک 99 فیصد خالی ہوچکی ہوتی ہے۔ لوگوں کا یہ ’’ذوق و شوق‘‘ اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قربانی کا زیادہ تر گوشت ’’ڈیپ فریزرز‘‘ میں اسٹور ہوتا ہے اور بہت سے لوگوں کے ہاں محرم کی حلیم بھی اسی گوشت سے بنائی جاتی ہے۔

    شعیب سعید شوبی’s last blog post..زندگی سے ڈرتے ہو!

  • Virtual Reality says:
    16 December 2008 at 23:59

    وعلیکم السلام ، بہت شکریہ اور خوش آمدید شوبی! :)
    ویسے جتنی لمبی ہمارے ہاں قربانی کی عید چلتی ہے اس لحاظ سے تو آپ کا تبصرہ ہر گز لیٹ نہیں ہے۔
    مجھے بھی اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی مہنگائی میں بھی لوگوں کی قوتِ خرید ویسی ہی ہے۔ بازاروں میں رش بھی ویسا ہی ہوتا ہے اور جانور بھی بِک جاتے ہیں۔
    معلوم نہیں لوگ کیسے اتنے شوق سے مہینوں گوشت کھاتے رہتے ہیں۔ :quiet:

    @ امید: عید مبارک :flwr
    کبھی کبھار کا بھیگا پن اچھا بھی لگتا ہے لیکن کم از کم عید کا دن تو خوب روشن اور چمکدار ہونا چاہئیے ورنہ مزہ نہیں آتا :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔