Wednesday, 26 November 2008

آساں نہیں زیست کی منزل سے گزرنا

آساں نہیں زیست کی منزل سے گزرنا


اس راہ میں کچھ مرحلے دُشوار بہت ہیں


پُر درد گزر جائیں تو بے کار ہیں صدیاں


لمحے جو سکوں بخش پوں دو چار بہت ہیں

4 comments:

  • محمد وارث says:
    27 November 2008 at 11:05

    بہت خوبصورت قطعہ ہے، لا جواب!

    ایک بات یہ فرحت کہ شاید آپ کا بلاگ 'اردو سیارہ' کا رکن نہیں ہے، پلیز وہاں بھی رجسٹر ہو جائیں، ربط یہ ہے:

    http://www.urduweb.org/planet/

    شکریہ

    محمد وارث’s last blog post..علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل مع اردو ترجمہ

  • Virtual Reality says:
    28 November 2008 at 03:24

    بہت شکریہ وارث۔
    ربط کے لئے بھی بہت بہت شکریہ :) ۔ میں نے اردو سیارہ میں شمولیت کا فارم بھر دیا ہے۔

  • امید says:
    3 December 2008 at 01:05

    لمحے جو سکوں بخش پوں دو چار بہت ہیں

    ذبردست ۔
    ۔بہت دن بعد آپ کے بلاگ کو بہت فرصت سے پڑھا ہے فرحت۔ ۔

  • Virtual Reality says:
    7 December 2008 at 19:58

    بہت شکریہ امید :)
    لیکن آپ ہیں کہاں؟ طبیعت کیسی ہے اب؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔