Saturday, 29 November 2008

سمندر













سمندر


سمندر دُور تک پھیلی ہوئی اک نیلگوں وُسعت


سمندر زندگی ہے


زندگی کا استعارہ ہے


ہواؤں کو نمی دیتا


سمندر!


ساحلوں کا لمس پیتا


ہزاروں سینکڑوں لعل و گوہر


موتی ، صدف پارے


بچھاتا ساحلوں کی ریت پر


اپنے خزانوں کو لُٹاتا


لکھ داتا


سمندر استعارہ ہے سخاوت کا


3 comments:

  • محمد وارث says:
    29 November 2008 at 12:32

    سمندر استعارہ ہے سخاوت کا
    واہ، بہت خوب!

    محمد وارث’s last blog post..اُو اے غالب

  • امید says:
    3 December 2008 at 01:02

    بہت خوب ۔ ۔سمندر تو جس روپ میں بھی ہو اپنی جانب ہی کھینچتا ہے

  • Virtual Reality says:
    7 December 2008 at 19:55

    بہت شکریہ وارث اور امید :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔