Wednesday, 1 October 2008

اختتامِ رمضان



ماہِ رمضان ختم ہو گیا اور اتنی جلدی ہوا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد شاید میرا یہ پہلا رمضان تھا جس میں میں بالکل فارغ تھی۔ پڑھائی، اسائنمنٹس، کام وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ روزوں میں باقاعدگی کی عادت تو بچپن سے ہی ہے۔ اس بار اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کا وقت مل گیا۔ سو جی بھر کے وہ سب کام کئے جو مصروفیت پہلے کرنے نہیں دیتی تھی۔ خوب سوئی، کب سے شروع کی ہوئی کتابیں ختم کیں اور سب سے بڑھ کر کتنے سالوں بعد باقاعدگی سے ٹیلی ویژن دیکھا۔ ایسے موقعوں پر اماں پنجابی کا کچھ ایسا ہی محاورہ بولتی ہیں کہ ‘ اَنھے (اندھے) ہو گئے تے سون (سونے کی) دیاں موجاں‘ ۔ نیا کام یہ ہوا کہ زندگی میں پہلی بار سحری خود بنانی پڑی۔ ورنہ تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ برتن لگا دیئے یا سحری کے بعد کچن سمیٹ دیا۔ ہاں افطار میں اماں اور بھابھی کے ساتھ مدد ضرور کرتی تھی۔ لیکن اس بار تو سب کچھ خود کرنا پڑا۔ لوگوں کو تو نانی یاد آتی ہیں لیکن مجھے یہاں بھی امی ہی یاد آئیں :) ۔ جس جس کو پتہ چلتا ہے کہ میں سحری میں پراٹھے بناتی رہی ہوں ، اس کے حیرت کے مارے بیہوش ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے زندگی میں کبھی پراٹھا نہیں بنایا۔

اکثر پاکستان میں ایسا ہوتا تھا کہ لوگ لاؤڈ سپیکر پر چندے کی اپیل کر رہے ہیں اور جب کسی نے کوئی رقم دی تو اس کے نام کے ساتھ اعلان کیا کہ فلاں نے اتنے روپے چندہ دیے ہیں۔ ہم ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی یہاں بھی یہ کام شروع ہے۔ اور اس بار تو حد ہو گئی مشرومنگ والا حساب۔ لاتعداد ادارے میدان میں آ گئے ہیں۔ اور پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک آدھ چینل جس کے قیام کا اصل مقصد ہی اس طرح پیسہ اکٹھا کرنا لگتا ہے ، ان اداروں کے پروگرام چلاتے تھے۔ لیکن اس بار یہاں کے تقریباً تمام پاکستانی چینلز پر یہ کام دھڑلے سے کیا گیا۔ حتیٰ کہ پی ٹی وی گلوبل پر بھی دو دو گھنٹوں کے لائیو پروگرام چلائے گئے جس میں اداکاروں اور گلوکاروں سے چندے کے لیے اپیل کرائی گئی۔ اتنی اپیلیں تو میں نے 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان میں بھی کسی چینل پر نہیں دیکھیں۔ رمضان ختم ہوا، اب ایک بار ذی الحج کے دس دن یہ لوگ پھر دکھائی دیں گے اور پھر پورا سال کوئی خیر خبر نہیں کہ کہاں، کیا اور کتنا کام کیا چیریٹی کا۔

dawn news






یہاں کچھ لوگوں نے آج سعودی عرب کے ساتھ عید منائی۔ جب کہ مون سائٹنگ کے مطابق عید کل بدھ کو بنتی ہے چنانچہ اس بار ہم بھی پاکستان کے ساتھ عید منائیں گے :)۔ میری طرف سے سب کو بہت بہت عید مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلم امہ اور پاکستان کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔


5 comments:

  • شگفتہ says:
    3 October 2008 at 08:22

    واہ ، چوڑیاں ۔ ۔ ۔ فرحت مجھے پوری دکان چاہیے چوڑیوں کی :)

  • شگفتہ says:
    3 October 2008 at 08:31

    اور عید مبارک

    شکر ہے آپ کو فرصت تھی پراٹھے بھی فرصت سے بنائے ہوں گے :)
    مجھے ابھی بھی ٹی وی دیکھنے کا موقع نہیں مل رہا :(

    فرحت یہ چندہ صرف مانگا گیا ہے یا کچھ اپڈیٹ بھی دی گئی ساتھ میں ؟

  • Virtual Reality says:
    9 October 2008 at 06:23

    شگفتہ، آپ نے عید پر کیسی چوڑیاں پہنی تھیں؟ کراچی میں تو اتنی زبردست چوڑیاں ملتی ہیں ناں؟
    بالکل جناب پراٹھے تو بڑی فرصت سے بنائے اور کھائے بھی :) آپ بھی فرصت سے دوستی کر لیں ٹھیک ٹھاک وقت مل جایا کرے گا ٹی وی کے لیے بھی۔ اور شگفتہ! یہی تو رونا ہے کہ پراپر اپڈیٹس نہیں دی جاتیں۔ گول مول باتیں اور پھر جذباتی تقریریں :(

  • شگفتہ says:
    1 November 2008 at 16:59

    فرصت ہی تو دستیاب نہیں ہو رہی فرحت :cry: میرا دل چاہ رہا ہے ان دنوں کم از کم ایک ماہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دوں اور کوئی بھی کام نہ کروں ۔ ۔ ۔ چوڑیاں کراچی میں تو بہت خوبصورت ملتی ہیں بہت شاندار ورائٹی ۔ ۔ ۔ لیکن اس بار امی کے گھر میں نہ ہونے سے جو کچھ تیاری رہ گئی تھی اس میں چوڑیاں بھی شامل تھیں البتہ میری ایک دوست نے تحفہ میں یہ چوڑیاں دی تھیں تو یہی میچ ہو گئیں تھیں عید کے لباس سے سو انھی سے کام چل گیا تھا :) :)

    یہ دیکھیں

    http://picasaweb.google.com/syeda.shaguf/NewAlbum#5261141511663629538

    شگفتہ’s last blog post..آغازِ نو

  • Virtual Reality says:
    3 November 2008 at 01:38

    چھوڑ دیں ناں۔ میری طرح ٹوٹل بریک لیں کچھ دنوں کے لیے شگفتہ! :)

    اور چوڑیاں تو بہت بہت پیاری ہیں۔ آپ کے ڈریس سے میچ بھی ہو گئیں۔ زبردست :)
    کراچی اور حیدر آباد کی چوڑیاں تو وقعی بہت مشہور ہیں۔ میری کزن رہتی ہیں کراچی میں۔ وہ ہر بار اتنی اچھی اچھی چوڑیاں بھیجتی ہیں :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔