Sunday, 13 April 2008

ڈاکٹر فاطمہ حسن

 



آنکھوں میں، نہ زلفوں میں، نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش، مرے افکار میں دیکھیں


ملبوس بدن دیکھے ہیں رنگین قبا میں
اب پیرہنِ ذات کو اظہار میں دیکھیں


سو رنگِ مضامین ہیں، جب لکھنے پہ آؤں
گلدستہءمعنی ، مرے اشعار میں دیکھیں


پوری نہ ادھوری ہوں نہ کمتر نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں


رکھے ہیں قدم میں نے بھی تاروں کی زمیں پر
پیچھے ہوں کہاں آپ سے، رفتار میں دیکھیں


منسوب ہیں انسان سے جتنے بھی فضائل
اپنے ہی نہیں میرے بھی اطوار میں دیکھیں


کب چاہا کہ سامانِ تجارت ہمیں سمجھیں
لائے تھے ہمیں آپ ہی بازار میں دیکھیں


اُس قادرِ مطلق نے بنایا ہے ہمیں بھی
تعمیر کی خوبی اس معمار میں دیکھیں

ڈاکٹر فاطمہ حسن

2 comments:

  • محب علوی says:
    14 April 2008 at 15:52

    بہت عمدہ فرحت

    ڈاکٹر صاحبہ پر کچھ روشنی بھی تو ڈالو

  • Virtual Reality says:
    14 April 2008 at 22:24

    بہت شکریہ :)فاطمہ حسن کراچی سے تعلق رکھتی ہیں اور جہاں ےک مجھے علم ہے ان کے دو شعری مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔۔

    اس کے پیالے میں زہر ہے یا شراب
    کیسے معلوم ہو بغیر پیے
    میں نے ماں کا لباس جب پہنا
    تتلیوں نے سب اپنے رنگ دیے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔