Wednesday, 12 March 2008

حب الوطنی کو زنگ کیوں لگ گیا؟

حب الوطنی کو زنگ کیوں لگ گیا؟


'فوجی اور سول بیوروکریٹس نے باہم گٹھ جوڑ کر لیا کہ لوگوں کو اپنے معاملات کے انتظام میں شریک نہیں کریں گے۔ اس سے جنم لینے والی مایوسی اور محرومی نے حب الوطنی کے ان جذبات کو زنگ آلود کر دیا جو لوگوں کو جرائم ؐکے ارتکاب اور قانون شکنی کے خلاف نبرد آزما ہونے پر ابھارتے ہیں۔ ملک سے محبت اور اس کے قوانین پر عمل میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ محبت میں کمی واقع ہو جائے تو وہ لاقانونیت پر ابھارنے کا سبب بنتی ہے۔'

' دولت کمانے کا خبط تفریحی میڈیا کو گنوار پن اور فحاشی کی طرف لے گیا۔ میڈیا خصوصاً فلموں، درآمد کردہ فلموں اور مغربی سٹائل میں ڈھالے گئے میوزک، مقامی نیز درآمد کردہ اخبارات، رسائل اور کتابوں نے اخلاقی پابندیوں کو کمزور اور معاشرتی اقدار کو انحطاط پذیر کرنے کی راہ ہموار کی۔ میڈیا اپنی اصلی سمت بھول گیا۔ اس نے اقدار کو تقویت پہنچانے کی بجائے برائیوں کے خلاف معاشرتی فصیلوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔'

'جب حکومتیں اپنے مخالفین سے نمٹنے کے لئے آمرانہ اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے لگیں اور قانون نیز عدالتوں کے ذریعے انصاف ملنا ناممکن ہو جائے تو انصاف سے محرومی قانون کی خلاف ورزی بلکہ اندرونی دہشت گردی کا باعث بن جاتی ہے جو واحد عملی متبادل ہوتا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج اور تحریکیں شروع ہو جاتی ہیں جو تشدد اور دہشت گردی کا موجب بنتی نہیں یہاں تک کہ کود حکومت کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے اقتدار کے احترام پر زد پڑتی ہے۔ وہ جرائم پیشہ لوگوں کےلئے سنہری موقع ہوتا ہے۔ جو سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں خوب ہاتھ رنگتے ہیں۔'

از سردار محمد چوہدری

۔۔۔'جہانِ حیرت؛ ایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس کی خودنوشت' سے اقتباسات ۔۔(باب 48؛ 'اسباب کی دنیا' )

مکمل تحریر  »

Tuesday, 11 March 2008

میرے خدایا میں زندگی کے خواب لکھوں یا عذاب لکھوں؟

ٹیلی ویژن پر ہر طرف خون میں لتھڑے اجسام دکھائے جا رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ ہم کس کس ظلم کے خلاف 'بلیک فلیگ ویک' منائیں؟؟ اور کہیں خاکم بدہن پاکستانی قوم کے لئے یہ دورانیہ سالہا سال پر محیط نہ ہو جائے۔۔
مبارک ہو 'ہر دلعزیز صدرِ مملکت' کو۔۔کل ہی انہوں نے اپنے مخصوص دبنگ لہجے میں 'تڑیاں' لگائیں اور اپنے وجود کو 'ملکی امن و سکون' کے لئے ناگزیر قرار دیا اور آج ہی اس کا ثبوت بھی مل گیا۔۔۔ 'صدر صاحب' پلیز آپ یہ عہدہ مت چھوڑئیے گا۔۔۔پچھلے نو سال سے ملک میں جو مثالی امن و امان تھا۔۔اسے آپ کے جانے کی افواہیں سن کر سازشی عناصر نے تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔

مشرف کریسی پائندہ باد

مکمل تحریر  »

Friday, 7 March 2008

مشرف عدل و انصاف زندہ باد

 


مجھے لگتا ہے مجھے بھی 'جیو' والوں کی طرح 'کشمیر سنگھ اور برنی خدمتِ خلق' فوبیا ہو گیا ہہے کیونکہ میرا دماغ ہر بات کا سرا کہیں نہ کہیں 'کشمیر سنگھ' کیس سے جا ملاتا ہے۔ اب کس قدر بے وقوفی ہے اگر میں یہ سوچتی ہوں کہ 'ڈاکٹر عبدلقدیر خان' کا 'جرم' کشمیر سنگھ پر لگائے گئے 'الزام' سے کم سنگین تھا۔۔۔ کتنی بار خود کو سرزنش کر چکی ہوں کہ 'ڈاکٹر صاحب کا 'جرم' کسی طور قابلِ معافی نہیں ہے۔۔ آخر 'عزت مآب صدر صاحب' نے ان کو 'مجرم' قرار دیا ہے اور ان کی فہم و فراست کی مداح تو ساری دنیا ہے۔ پھر کہاں کشمیر سنگھ جو کہ صرف ایک غیر ملکی جاسوس تھا اور جس نے صرف 4 پاکستانیوں کو زندگی کی پریشانیوں سے دائمی نجات بخشی تھی۔۔۔آخر پاکستانی عوام دوسروں کے ہاتھوں مرنے کے لئے ہی تو وجود میں آئی ہے چاہے وہ اپنے ہوں یا غیر۔۔۔ اور یہ اتنا بڑا جرم تو نہیں تھا کہ کشمیر سنگھ کو معاف نہ کیا جائے۔۔اس کا خاندان اس کے بغیر کیا کرتا۔۔ ڈاکٹر خان کا کیا ہے۔۔۔ساری پاکستانی قوم بھی اگر ان کے لئے پریشان ہے تو کیا ہوا۔۔۔پاکستانی قوم تو اور بھی بہت سی باتوں اور زیادتیوں پر پریشان ہے۔۔۔ایک اور سہی۔۔ ویسے بھی اتنے 'خطرناک مجرم' کو اگر 'معافی' دے دی گئی تو مللک وقوم کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
برنی صاحب کو 'چیف جسٹس' معاملے میں تو سفید جھنڈی دکھا دی گئی ہے اور 'ڈاکٹر عبدالقدیر خان' کے لئے آواز اٹھانا تو ویسے ہی 'حب الوطنی' کے تقاضوں کے عین خلاف ہے۔

مشرف عدل و انصاف زندہ باد

مکمل تحریر  »

سونے پر سہاگہ۔۔۔۔

مبارک ہو 'مشرف' اور 'برنی' صاحبان کو۔۔۔ ان کی 'حب الوطنی' ، 'انسانی ہمدردی' اور 'فہم و فراست' پر 'مہرِ تصدیق' ثبت ہو چکی ہے۔ 'کشمیر سنگھ' کے تازہ بیان کے بعد۔۔کہ 'ہاں میں پاکستان میں جاسوس تھا اور میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے'۔۔۔۔ 'ہپ ہپ ہُرے' پاکستانی میڈیا خصوصاً 'جیو' کے لئے جن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ 'کشمیر سنگھ' کے محلے کے ماشکی سے بھی ٹیلیفونک انٹرویو کر کے 'اُن' کے بارے میں اس کے خیالات پاکستانی قوم کو سناتے۔۔۔ اور اگر مل جاتی 'کشمیر سنگھ' کی پسند کی شادی کی ویڈیو۔۔تو وہ بھی چلا دی جاتی۔۔
وہ کیا کہتے ہیں پنجابی میں۔۔۔ 'اشکے بھئی اشکے'
'ُپاکستان زندہ باد'

مکمل تحریر  »

Tuesday, 4 March 2008

خوش قسمت کشمیر سنگھ

دو دن سے انصار برنی صاحب کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر اور کشمیر سنگھ کے بارے میں سن سن کر برا حال ہو چکا ہے۔ یہ بات کہنے پر مجھ پہ ‘متعصب‘ اور ‘تنگ نظر‘ ہونے کا الزام بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔۔پھر بھی مجھے انصار برنی سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر نگران وفاقی وزیر ہونے کی حیثیت سے وہ ایک ‘مجرم‘ (جس کا جرم ثابت بھی ہو چکا تھا) کو پھانسی کی سزا سے بچا سکتے ہیں تو ان سینکڑوں بے گناہوں کا کیا قصور ہے جو اپنے ہی وطن میں مصلوب ہیں؟؟ اگر ‘سابقہ جرنیل اور موجودہ محترم صدر صاحب‘ ان کی بات مان کر ایک ‘جاسوس‘ کو معافی دے سکتے ہیں تو ان معصوم بچوں کے لئے سفارش بھی کر دیں جن کی بازیابی کے لئے فریادیں کرتے کرتے ان کے خاندان والوں میں اب رونے کی سکت بھی باقی نہیں ہے۔۔ اور ‘چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری‘ کے بے گناہ بچوں کے لئے بھی سفارش کر دیتے کہ جو مہینوں سے اپنے ہی وطن میں اپنے گھر سے باہر نکلنے اور سکول جانے کے مجاز نہیں ہیں۔
آج شام سے جس طرح ‘کشمیرسنگھ‘ کی رہائی کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ رپورٹ نشر کی جا رہی ہے ۔۔یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی ‘عظیم ہستی‘ کسی بڑے معرکے سے لوٹ رہی ہے۔۔۔ واقعی میڈیا جس کو چاہے ہیرو بنا دے اور جسے چاہے زیرو۔۔۔
مزے کی بات یہ ہے کہ کل سے اس بات کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جا رہا ہے کہ ‘کشمیر سنگھ‘ نے دورانِ قید اسلام قبول کر لیا تھا۔۔ اب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمانوں کو اپنی تعداد میں اضافہ کرنے کی اتنی فکر کیوں رہتی ہے۔۔۔خود نام کے مسلمان ہوتے ہوئے ہم اپنے آپ کو تو باشرع بنانے کی طرف توجہ نہیں لیکن ‘کشمیر سنگھ‘ اور ‘براک اوبامہ‘ کا تعلق اسلام سے جوڑنے کے لئے ہمیشہ ‘اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگا کر تیار رہتے ہیں۔ (ابھی خبروں میں یہ بتایا گیا کہ ‘کشمیر سنگھ‘ نے رہائی کے بعد گردوارہ جا کر عبادت کی)
مجھے نہ تو کشمیر سنگھ کی رہائی پر اعتراض ہے نہ انصار برنی صاحب کے جذبہء خدمت پر شبہ ۔۔لیکن مجھے میڈیا کے انداز پر قدرے حیرت ہے کہ یہ خبر یقیناً اہم تو ہے لیکن کیا اتنی اہم ہے کہ ‘ہیڈلائن‘ کی حیثیت اختیار کر جائے۔

مکمل تحریر  »