Tuesday, 4 March 2008

خوش قسمت کشمیر سنگھ

دو دن سے انصار برنی صاحب کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر اور کشمیر سنگھ کے بارے میں سن سن کر برا حال ہو چکا ہے۔ یہ بات کہنے پر مجھ پہ ‘متعصب‘ اور ‘تنگ نظر‘ ہونے کا الزام بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔۔پھر بھی مجھے انصار برنی سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر نگران وفاقی وزیر ہونے کی حیثیت سے وہ ایک ‘مجرم‘ (جس کا جرم ثابت بھی ہو چکا تھا) کو پھانسی کی سزا سے بچا سکتے ہیں تو ان سینکڑوں بے گناہوں کا کیا قصور ہے جو اپنے ہی وطن میں مصلوب ہیں؟؟ اگر ‘سابقہ جرنیل اور موجودہ محترم صدر صاحب‘ ان کی بات مان کر ایک ‘جاسوس‘ کو معافی دے سکتے ہیں تو ان معصوم بچوں کے لئے سفارش بھی کر دیں جن کی بازیابی کے لئے فریادیں کرتے کرتے ان کے خاندان والوں میں اب رونے کی سکت بھی باقی نہیں ہے۔۔ اور ‘چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری‘ کے بے گناہ بچوں کے لئے بھی سفارش کر دیتے کہ جو مہینوں سے اپنے ہی وطن میں اپنے گھر سے باہر نکلنے اور سکول جانے کے مجاز نہیں ہیں۔
آج شام سے جس طرح ‘کشمیرسنگھ‘ کی رہائی کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ رپورٹ نشر کی جا رہی ہے ۔۔یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی ‘عظیم ہستی‘ کسی بڑے معرکے سے لوٹ رہی ہے۔۔۔ واقعی میڈیا جس کو چاہے ہیرو بنا دے اور جسے چاہے زیرو۔۔۔
مزے کی بات یہ ہے کہ کل سے اس بات کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جا رہا ہے کہ ‘کشمیر سنگھ‘ نے دورانِ قید اسلام قبول کر لیا تھا۔۔ اب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم مسلمانوں کو اپنی تعداد میں اضافہ کرنے کی اتنی فکر کیوں رہتی ہے۔۔۔خود نام کے مسلمان ہوتے ہوئے ہم اپنے آپ کو تو باشرع بنانے کی طرف توجہ نہیں لیکن ‘کشمیر سنگھ‘ اور ‘براک اوبامہ‘ کا تعلق اسلام سے جوڑنے کے لئے ہمیشہ ‘اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگا کر تیار رہتے ہیں۔ (ابھی خبروں میں یہ بتایا گیا کہ ‘کشمیر سنگھ‘ نے رہائی کے بعد گردوارہ جا کر عبادت کی)
مجھے نہ تو کشمیر سنگھ کی رہائی پر اعتراض ہے نہ انصار برنی صاحب کے جذبہء خدمت پر شبہ ۔۔لیکن مجھے میڈیا کے انداز پر قدرے حیرت ہے کہ یہ خبر یقیناً اہم تو ہے لیکن کیا اتنی اہم ہے کہ ‘ہیڈلائن‘ کی حیثیت اختیار کر جائے۔

5 comments:

  • شعیب صفدر says:
    4 March 2008 at 11:52

    مجھےتو کشمیر سنگھ کی رہائی پر اعتراض بھی ہےاور انصار برنی صاحب کے جذبہء خدمت پر شبہ بھی اور مجھے میڈیا کے انداز پر افسوس بھی ہے

  • تانیا رھمان says:
    4 March 2008 at 12:08

    کشمیر آزاد ھو گیا۔ نجی چینل پر خبر پڑھی۔ اور دیکھی بھی۔ پہلے تو خوشی اس بات کی ھوئی کہ سنگھ نے اسلام قبول کیا۔ اور ساتھ میں تھوڑی پریشانی وہ اگر اپنوں میں واپس جائے گا تو کیا ، ایک مسلمان کو اس کی برادری والے قبول کرئیں گے۔ یہ پریشانی بھی دور ھو گیی جب وہ اپنے گورداوہ گے۔یہ حق میڈیا کو کس نے دیا کہ وہ اس غلط خبر کو بار بار نشہر کرتے رہئے ۔اور اس کا ساتھ یوں دیکھایا جا رھا تھا۔ جیسے بہت ہی عظیم ہتی ھو ۔ اس کے اپنے ملک کے لوگوں نے نا انصار برنی اور نا ھی کشمیر کو پوچھا۔ جو ھم سب نے واہگہ بارڈر پر دیکھ لیا۔

  • Virtual Reality says:
    4 March 2008 at 15:39

    شعیب صفدر: آپ نے درست کہا کہ بات تو اعتراض کی ہے جب ایک 'خطرناک مجرم' کو اتنی آسانی سے رہا کر دیا گیا لیکن اپنے ہی ملک میں کیا حالات ہیں۔۔محترم 'برنی' صاحب کا دھیان نہیں جاتا۔۔دور جانے کی کیا ضرورت۔۔کیا 'ڈاکٹر عبدالقدیر خان' کا 'جرم' اتنا سنگین ہے کہ ان پر اپنے ہی دیس میں زمین تنگ کر دی گئی ہے۔جہاں تک انصار برنی 'صاحب' کا تعلق ہے تو آج مجھے اندازہ ہو گیا کہ 'شہرت' اور 'میڈیا کی توجہ' کا نشہ کیا کیا کرواتا ہے۔

    تانیا رحمان: میں تو آج تک اپنے پاکستانی میڈیا کی پالیسی سمجھ نہیں پائی۔۔۔کل سے اس ڈرامے کے آغاز اور آج واہگہ بارڈر پر ڈراپ سین کے بعد مجھے اپنے میڈیا اور برنی صاحب دونوں پر ہنسی بھی آ رہی تھی اور افسوس بھی ہو رہا تھا کہ ہم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔۔قومی اور ذاتی حمیت کہاں چلی گئی؟؟؟

  • ساجداقبال says:
    7 March 2008 at 11:44

    ہمارا میڈیا صرف ندیدوں کا مجموعہ ہے اور کچھ نہیں، جنہیں دوسروں کی نقالی کے سوا کچھ خاص نہیں آتا۔

  • Virtual Reality says:
    7 March 2008 at 12:52

    ندیدوں اور ناعاقبت اندیشوں کا جن کو اس بات کا احساس نہیں ہو رہا کہ وہ عوامی سوچ و اخلاق کو کس بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔