Friday, 21 December 2007

ایک اور سال بیت گیا

کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
وقت اے دوست! بہرحال گزر جاتا ہے
لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

ایک اور سال ختم ہونے کو ہے۔ ابھی تو 2006 شروع ہوا تھا ۔۔۔پتہ بھی نہیں چلا اوراب  دسمبربھی جا رہا ہے۔۔۔سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ وہی حالات،وہی رویے، وہی باتیں۔۔۔ کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے جنرل پرویز مشرف کی وردی سے شیروانی میں تبدیلی۔۔۔آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔



۔۔ اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے
۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
۔۔ اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے :(
۔۔ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔۔خوبی تو ویسے ہی جنسِ ناپید ہے۔محدب عدسے سے بھی ڈھونڈے نہیں ملتی :oops:

مثبت نقطہء نظر سے دیکھوں تو۔۔



۔۔خوش آئند  تبدیلی لوگوں کااپنے حق کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہے۔۔اگرچہ ابھی لمبا سفر  درپیش ہے اور صعوبتیں بے شمار۔۔لیکن سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔۔  :)
۔۔اس سال جانو بچے ’فصیح صاحب ’ (میرے بھتیجے) نے اس دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ امید کی ایک نئی کرن ہم سب کے ہاتھ آ ئی۔ :)
۔۔آج میرا کم از کم دو لٹر خون بڑھا جب اماں نے کہا۔۔’مجھے تمہارے اندر پہلے کی نسبت زیادہ ٹھہراؤ اور تحمل نظر آ رہا ہے۔۔۔’یعنی میری اس سال کی اکلوتی کامیابی  :D

اگرچہ آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا ۔۔سانحہ ء لال مسجد سے لیکر آج جمعہ 21 دسمبربروزِ عید پشاور کی مسجد میں ہونے والے دردناک دھماکے تک۔۔سارا سال ہی پاکستانیوں کی آنکھیں برستی رہیں۔۔لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ سالِ نوکو ہم سب کے لئے مبارک ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔۔۔(آمین)



قمری اور عیسوی دونوں لحاظ سے نیا سال شروع ہونے میں چند دن رہ گئے ہیں۔۔میری طرف سے  آنے والے سال کے لئے نیک خواہشات۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)




اے خدا سالِ نو محبتوں کا سال ہو
محبت و خلوص ہو نفرتوں کے دیس میں
کسی کو کوئی دکھ نہ ملے دوستی کے بھیس میں
خوف و ڈر کے سامنے جراءتوں کی ڈھال ہو
اے خدا سالِ نو محبتوں کا سال ہو

مکمل تحریر  »

عیدالضحیٰ مبارک

 :)  سب کو عیدالضحیٰ مبارک..تھوڑی سی دیر ہو گئی۔۔۔آج تو عید کا دوسرا دن شروع پو گیا۔۔  



 


 


 

مکمل تحریر  »

Monday, 10 December 2007

عورت کہانی: مظلوم مرد؟؟

میری پچھلی تحریر کو بہت سے لوگوں نے 'عورت کی آزادی/مرد سے برابری' یا 'مرد پر بیجا تنقید'  نما تحریک سمجھا۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ان دنوں بلاگرز کی بحث 'مردوں کا عورت کو گھورنا' پر چل رہی ہے۔۔ اپنی گزشتہ تحریر پر بہت سے لوگوں کے تبصروں سے مجھے مختلف قسم کے خیالات اور آراء سے آگاہی ہوئی۔۔۔بحث کیونکہ کافی دلچسپ ہے اس لئے میں پہلے تو اپنے گزشتہ موضوع پر مزید کچھ کہنا چاہوں گی اور پھر اگلی تحریر 'گھورنا کیوں' پر بھی شاید کچھ لکھ سکوں۔۔۔



میں نے جو لکھا اس میں سوائے ناموں کی تبدیلی کے سب کچھ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔ ناپختگی اندازِ بیان کے باعث شاید میری تحریر سے ایسا تاثر ملتا ہےکہ میں ان سارے قصوں میں یا ایسے ہی دیگر قضیوں میں 'عورت' کے کردار کو نظر انداز کر کے سارا الزام 'مرد ' پر رکھ رہی ہوں ۔۔۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔ اگرچہ ان مخصوص واقعات میں اگرچہ میں 90 فیصد سے زیادہ مرد کو قصوروار سمجھتی ہوں کیونکہ ساس بہو کا اختلاف ایک طرف۔۔۔مرد کا اپنی ذمہ داری سے فرار ان مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔۔اور یہی میرا اصل موضوع تھا۔ ایک کو چھوڑ کر باقی تینوں کردار مشرق سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شادی کے بعد بیوی کی 'معاشی' کفالت مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔۔ جسے بہ احسن پورا کرنا اس کا فرض ہے۔۔۔
جہاں تک بات ہے کہ شادی کے بعد مرد بیوی اور ماں کے جھگڑوں میں پس جاتا ہے۔۔۔یقیناً اس میں کافی حد تک قصور عورتوں کا ہے۔۔کہ ماں بیٹے کو تقسیم ہوتا نہیں دیکھ سکتی اور بیوی مکمل طور پر اپنی اجارہ داری چاہتی ہے۔۔لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ۔۔۔اس کی وجہ کیا ہے؟

 woman in a men's world نے درست کہا کہ اس سارے جھگڑے کی بنیاد 'مرد' کا بطورِ شوہر اور بیٹا اپنے کردار میں توازن قائم نہ رکھ پانا ہے۔۔۔ انسان ہمیشہ سے رشتوں کے معاملے میں حساس ثابت ہوا ہے۔۔۔ مرد بھی اپنے تعلق اور رشتے کے بارے میں حساس ہوتا ہے لیکن اس حساسیت کی نوعیت اس لئے مختلف ہوتی ہے کیونکہ شادی کے بعد اس کے لئے توجہ اور محبت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔۔  ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں توجہ دینے والے ایک اور فرد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔اس کے برعکس ماں کو بیٹے کی اپنے لئے توجہ بٹتی نظر آتی ہے اور اس کا ردِعمل توجہ کے نئے مرکز یعنی بہو کے ساتھ اختلاف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔۔۔ بہو کی بات کریں تو وہ ایک پوری دنیا پیچھے چھوڑ کر آتی ہے ایسی صورت میں وہ اس ایک فرد میں اپنے پورے خاندان کا متبادل تلاش کرتی ہے اور اس کا اس معاملے میں حساس ہونا فطری ردِعمل ہے۔۔۔۔ اور ایسی ہی حساسیت مرد بھی دکھاتا ہے ۔۔۔ مردوں کی اکثریت بیوی کا میکے بہت زیادہ آنا جانا بلکہ میکے کا بہت ذکر کرنے سے بھی چڑتے ہیں۔۔۔ اور یہ بعینہ اسی جذبے کا اظہار ہے جو اس تکون میں دونوں عورتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔
سو چونکہ مذہب اور معاشرہ دونوں ہی مرد کو گھریلو زندگی میں 'مرکزی' حیثیت دیتے ہیں۔۔اس لئے ایک سربراہ کی حیثیت سے اس کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی جھگڑے کو سلجھانے کی بجائے خود اس کا فریق بن کر رہ جائے۔۔ بلکہ اس کو مسئلہ سلجھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔۔۔
بہت سے بچوں کی اپنے بہن بھائیوں سے بحث ہوتی ہے کہ والدین ان میں سے کس سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔اور بعض اوقات یہ بحث بہت سنجیدہ رخ بھی اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ایسی صورت میں والدین معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے بچوں کو اپنے الفاظ اور عمل دونوں سے باور کراتے ہیں کہ ان کے لئے سب بچوں کی اہمیت ایک سی ہے اور وہ سب سے ایک سا پیار کرتے ہیں۔۔۔ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ان کے لئے بہت اہم ہے۔۔۔ کچھ ایسی ہی صورتحال مرد کی ہے۔۔۔ جب تک وہ دونوں رشتوں کو متوازن نہیں رکھے گا جھگڑے بڑھتے رہیں گے۔۔۔
جہاں تک بات ہے عورت کی مرد سے برابری تو یہ بحث بہت پرانی بھی ہے اور شاید ہمیشہ جاری رہے گی۔۔۔ ایسی ہی ایک بحث محفل پر  یہاں  بھی ہو چکی ہے اس لئے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی ۔۔
میں مخالفت برائے مخالفت یا تنقید برائے تنقید کی عادی نہیں ہوں اور نہ ہی اس صنف سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ سب کہہ رہی ہوں۔۔۔ میں پھر کہوں گی کہ ایسے جھگڑوں میں دونوں میں سے کوئی بھی فریق زیادہ قصوروار ہو سکتا ہے لیکن کیونکہ قدرت نے اگر مرد کو عورت کا کفیل بنایا ہے تو مسائل کے حل میں اسے  اپنا کردار مثبت طریقے سے ادا کرنا چاہئیے ۔۔یہ کہنا کہ اگر عورت برابری کا مطالبہ یا دعویٰ کرتی ہے تو ایسے مسائل کا سامنا اس کا مقدر ہے۔۔۔ہر گز دانشمندانہ رویہ نہیں ہے۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی کہ اگر کوئی اس موضوع پر لکھے کہ ان کے خیال میں 'عورت کی ' آزادی اور مرد سے برابری' سے کیا مراد ہوتی ہے؟؟؟ اور این جی اوز اور نام نہاد سوشل ورکرز کے علاوہ عام زندگی میں وہ  کتنی ایسی خواتین کو جانتے ہیں جو 'آزادی' اور 'برابری' کی تعریف ان الفاظ میں کرتی ہیں جو مرد حضرات کے خیال میں 'بے جا آزادی اور بے راہ روی' کے عکاس ہیں۔۔

مکمل تحریر  »

Thursday, 6 December 2007

عورت کہانی

مرد اور عورت کو جو کردار قدرت نے ودیعت کئے ہیں وہی ان کی اصل ہیں۔۔دونوں اپنی اپنی جگہ ایکدوسرے سے مختلف اور بہتر ہیں۔۔۔ اور زندگی کا حسن بھی اپنے مخصوص کردار میں رہ کر زندگی گزارنا ہے۔۔۔میں حقوقِ نسواں یا عورت مرد کی برابری کی علمبردار نہیں ہوں۔۔۔ لیکن روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے واقعات مشاہدے میں آتے ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ عورت کو مظلوم طبقہ کہنے والے کچھ غلط نہیں ہیں۔۔۔ کہیں نہ کہیں ناانصافی کا سرا مرد سے جا ملتا ہے۔۔



روزی سے میری پہلی ملاقات  لندن میں ہوئی تھی۔ ایک دن پہلے جب پہلی بار فون پر اس سے بات ہوئی تو اس کی آواز اور بڑوں کے سے انداز میں بات کرنے سے مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی بڑی خاتون ہیں لیکن اگلے ہی دن جب مقررہ جگہ اور وقت پر ایک نازک سی لڑکی میرے پاس آ کھڑی ہوئی تو مجھے انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی۔ روزی کا تعلق انڈیا کی ریاست یو-پی سے ہے۔۔۔ گزشتہ دو سالوں میں میرا روزی کے ساتھ مستقل رابطہ ہے چاہے ہم دونوں یہاں ہوں یا پاکستان/انڈیا میں۔
تین برس بیشتر روزی کی شادی ملائیشیا میں رہنے والے ایک ہندوستانی خاندان میں ہوئی ۔ اور کچھ ہی عرصے بعد مخصوص سسرالی جھگڑوں کا آغاز ہوا۔ اچھا خاصا کاروبار ہونے کے باوجود روزی کی ساس کو لگنے لگا کہ ان کے بیٹے کو کاروبار پھیلانے کے لئے اس رقم کی ضرورت ہے جو روزی کے والدین نے جہیز کے متبادل روزی کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائی تھی۔۔ رقم کاروبار میں لگا دی گئی۔ کچھ عرصے گزرا تو ان لوگوں کو لگا کہ کاروبار میں کچھ خاص فائدہ نہیں ہو رہا چنانچہ مزید رقم لگانی چاہئیے۔۔ جس کے لئے روزی کے والدین اپنی زمین میں سے اس کا حصہ الگ کریں۔ جب کہ روزی کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کو بھی اعتراض تھا کہ ابھی ان کی تین اور بیٹیوں کی تعلیم اور شادیاں باقی ہیں۔۔ چنانچہ اس بار انکار کیا گیا اور یوں روزی کے برے دنوں کا آغاز ہوا۔۔۔ اس سارے جھگڑے میں اس کے شوہر کا کردار خاموش تماشائی کا سا تھا۔۔ جھگڑا بڑھتا گیا اور ایک دن شوہر کی غیر موجودگی میں روزی کو انڈیا کا ٹکٹ ہاتھ میں تھما دیا گیا کہ واپس تب آنا جب تمھارے پاس رقم ہو۔ انڈیا واپس آنے کے بعد کوشش کے باوجود کوئی سمجھوتا نہ ہو سکا ۔۔ اور پھر روزی نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔۔ پچھلے اڑھائی سالوں سے وہ انگلینڈ میں ہے اور چھوٹی موٹی جاب کر کے زندگی گزار رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے قریبی دوستوں میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے جو ہر مشکل وقت میں اس کا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔۔۔ اس سارے عرصے میں اس کا رابطہ اپنے شوہر سے قائم ہے۔۔لیکن اس طرح کہ جب کبھی روزی نے اس کو فون کیا۔۔اس نے بات کر لی۔۔ لیکن ان سالوں میں ایک دفعہ بھی اس شخص نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تمھارا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟
کچھ عرصہ پہلے میں اس سے پوچھا کہ تم وہیں رہتی۔۔اتنی مشکلیں تو نہ دیکھنا پڑتیں۔۔۔ والدین کو چھوڑ کر یہاں کیوں آ گئی ہو؟؟؟جواب میں اس کے چہرے کے چہرے پر ابھرنے والا کرب مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔اس نے کہا۔۔۔"میں کیا کرتی۔۔۔ انڈیا اور پاکستان میں اتنا فرق تو نہیں ہے۔۔تمہیں بھی معلوم ہی ہو گا کہ ہمارے معاشروں میں جب بیٹیاں اجڑ کر والدین کی دہلیز پر آتی ہیں تو پورے خاندان کو کس مشکل سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔ میری وجہ سے میری بہنوں کی زندگی متاثر ہو رہی تھی اور میں اس وقت کا انتظار نہیں کر سکتی تھی جب میری بہنیں مجھے الزام دینے لگیں۔۔۔۔۔۔ میں کیا کرتی۔۔نہ والدین کا گھر میرا۔۔نہ شوہر کا۔۔۔ "

شیلا کا تعلق بھی یو-پی ہی سے ہے لیکن روزی کے برعکس ان کا تعلق نسبتاً کم متمول خاندان سے ہے۔۔۔شیلا دی سے میرا تعارف اپنی بھابھی کے ذریعے برمنگھم میں ہوا تھا جہاں دونوں ایک ایشین سوسائٹی کی ممبرز ہیں۔۔۔ اور یوں جب بھی وہاں جانا ہو میری واحد مصروفیت شیلا سے گپ شپ ہوتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ میری طرف سے صرف شپ ہوتی ہے کیونکہ شیلا دی بلا مبالغہ 200 الفاظ فی منٹ بولتی ہیں۔۔۔جن میں کہیں کوئی فل اسٹاپ یا کومہ نہیں ہوتا۔۔۔ :) اور ایسی ہی گپ شپ میں مجھے ان کی کہانی معلوم ہوئی۔۔۔ شیلا کو یہاں آئے تقریباً چار سال ہو چکے ہیں۔۔۔ انڈیا میں جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر ایک سرکاری محکمے میں کام کرتے تھے۔۔گھر کا نظام چلانے کے لئے شیلا کو بھی ملازمت کرنی پڑی۔۔۔کچھ عرصہ بعد ان کے شوہر نےساری جمع پونجی لگا کر انگلینڈ کا رخ کیا ۔۔کچھ ماہ بعد شیلا بھی یہاں آ گئیں۔۔۔ اور ایک بار پھر ویسے ہی ملازمت شروع کر دی۔۔۔ایک بار پھر ان کے شوہرِ نامدار کو محسوس ہوا کہ امریکہ ان کی منزل ہے۔۔جمع جتھا تو کچھ تھا نہیں سو شیلا نے اپنے والدین کے ذریعے کچھ انڈیا سے کچھ لوگوں سے قرض لیا اور یوں موصوف نے امریکہ کی راہ لی۔۔اور کافی مہینوں کے بعد پہلی بار رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ آتے ہی وہ کسی جرائم پیشہ گروپ کے ہاتھ چڑھ گیا اور انھوں نے سب کچھ لوٹ لیا۔۔۔ مزید کچھ مہینے گزرے اور معلوم ہوا کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔اور کمانا تو درکنار ان کے پاس علاج کے لئے بھی رقم نہیں ہے۔۔۔یوں پچھلے تین سال سے شیلا دی یہاں کام کر رہی ہیں اور بری بھلی اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔۔اگرچہ اب ان کو امریکہ میں اپنے شوہرِ نامدار کو خرچہ نہیں بھیجنا پڑتا لیکن جن یہاں آتے ہوئے اور آنے کے بعد جن لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں ادھار لی تھیں وہ سب شیلا کو ہی واپس کرنی ہیں کہ جو شخص تین سال سے ان کو ایک پائی ذاتی خرچے کے لئے نہیں دے سکا اس سے کچھ کرنے کی توقع فضول ہے۔


اب باری آتی ہے پالین کی۔۔۔ پالا(پالین) کے ساتھ میری دوستی پہلی ہی ملاقات میں پکی ہو گئی تھی۔ حالانکہ وہ مجھ سے اتنی بڑی ہے کہ پاکستان میں ہوتی تو میں ادب کے مارے سلام کرنے سے آگے نہ جاتی لیکن یہاں تو ایسا نہیں ہے۔۔۔پالا سے بھی میں دو سال پہلے ملی تھی جب پہلی بار یہاں آنا ہوا تھا۔۔۔ اپنی باتوں اور سوچ کے انداز سے وہ مجھے کبھی بھی مغربی معاشرے کی نمائندہ نہیں لگی۔۔اور جب ایک بار میں نے اس سے یہ کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا "تمہیں ایسا اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ میری دادی ترکش تھیں۔۔۔اور میرا بچپن ان کے ساتھ ترکی میں ہی گزرا ہے۔۔۔مشرق بھی میری ذات کا حصہ ہے۔۔" پالا کے دو بچے ہیں اور وہ پچھلے سال تک وہ میٹروپولیس میں کام کر رہی تھی۔ اس کا شوہر کوکین لیتا تھا اور الکوحلک تھا۔۔ یہاں پر کہانی فرق ہے۔۔۔بجائے مزید مشکلوں کا شکار ہونے کے پالا نے اس کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیا۔۔۔۔ اور اب وہ اپنے دونوں بچوں کی پرورش کر رہی ہے۔ لیکن اس کے احساسات اور مشکلیں بھی روزی اور شیلا دی جیسی ہی ہیں۔۔


آمنہ میری سہیلی کی کزن ہیں۔۔ ان کے والد اسلام آباد میں ایک اہم سرکاری عہدیدار ہیں۔۔۔تقریباً سات سال پہلے آمنہ کی شادی اپنے کزن سے ہوئی۔۔۔شادی کے بعد ان کےشوہر نے سول سروسز کا امتحان دیا اور ڈی ایم جی میں سیلیکٹ ہو گیا۔۔۔ بیٹے کے اکیڈمی جانے کے بعد آمنہ کے ساس اور سسر کو بیٹے کی شادی جلدی کرنے پر پچھتاوا ہونے لگا۔۔۔ حالانکہ دونوں گھرانوں کا شمار اسلام آباد کے متمول طبقے میں ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی انہیں لگا کہ سول سروسز میں جانے کے بعد ان کے بیٹے کی شادی کسی اعلیٰ بیوروکریٹ خاندان میں ہو سکتی تھی اور اس کے لئے مزید اوپر جانا بہت آسان ہو سکتا تھا۔۔۔یوں حالات خراب ہوتے چلے گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ آمنہ کو سسرال چھوڑ کر والدین کے گھر آنا پڑا۔۔کچھ دنوں بعد شوہر آ کر بیٹی کو ساتھ لے گیا۔۔۔ ڈپریشن کی شکار آمنہ کو والدین نے کچھ عرصہ کے لئے بڑی بہن کے پاس کینیڈا بھیج دیا۔۔جہاں انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا سے گریجویٹ آمنہ کو بہت اچھی نوکری مل گئی اور یوں آہستہ آہستہ اس کی زندگی معمول پر آ گئی لیکن پھر اچانک ان کے مجازی خدا کو نہ جانے کیاخیال آیا اور عین اس وقت جب آمنہ کی امیگریشن مکمل ہونے میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا تھا ان کو واپس آنے کا حکم دیا گیا۔۔۔ بہن کے منع کرنے کے باوجود وہ واپس آ گئیں کہ شاید ان کے شوہر کو زیادتی کا احساس ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ نئی بہو نے سوتیلی بیٹی کی پرورش اور جائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ یوں آمنہ ایک بٹے ہوئے گھر میں زندگی گزار رہی ہیں۔۔


کردار اور جگہ مختلف سہی لیکن چاروں کہانیاں ایک سی ہیں۔۔۔ معاشرہ کوئی بھی ہو۔۔۔ مذہب کچھ بھی ہو۔۔۔ طبقہ کوئی بھی ہو۔۔۔ خسارہ عموماً عورت کے حصے آتا ہے۔۔۔


ایسے جھگڑوں میں دونوں میں سے کوئی بھی فریق مظلوم ہو سکتا ہے۔۔کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے مظلوم ہونے کا تناسب ہمیشہ سے زیادہ ہے۔۔۔ پڑھی لکھی ہے تو اس کی تعلیم کو بھی طعنہ بنا لیا جاتا ہے اور ان پڑھ ہے تو جاہل کا نام دے دیا جاتا ہے۔۔۔معاشرے اور خاندان میں مرد کو اگر افضل درجہ ملا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنے میں ناکام کیوں ثابت ہوتا ہے۔۔۔ یہ افضل درجہ اس کے عورت کی نسبت زیادہ باظرف ہونے کا متقاضی ہے۔۔ عورت ہر حال میں مرد کی ذمہ داری ہے اور اگر مرد اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کرے تو بہت سے جھگڑوں کا وجود آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔۔۔

مکمل تحریر  »