Monday, 10 December 2007

عورت کہانی: مظلوم مرد؟؟

میری پچھلی تحریر کو بہت سے لوگوں نے 'عورت کی آزادی/مرد سے برابری' یا 'مرد پر بیجا تنقید'  نما تحریک سمجھا۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ان دنوں بلاگرز کی بحث 'مردوں کا عورت کو گھورنا' پر چل رہی ہے۔۔ اپنی گزشتہ تحریر پر بہت سے لوگوں کے تبصروں سے مجھے مختلف قسم کے خیالات اور آراء سے آگاہی ہوئی۔۔۔بحث کیونکہ کافی دلچسپ ہے اس لئے میں پہلے تو اپنے گزشتہ موضوع پر مزید کچھ کہنا چاہوں گی اور پھر اگلی تحریر 'گھورنا کیوں' پر بھی شاید کچھ لکھ سکوں۔۔۔



میں نے جو لکھا اس میں سوائے ناموں کی تبدیلی کے سب کچھ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔ ناپختگی اندازِ بیان کے باعث شاید میری تحریر سے ایسا تاثر ملتا ہےکہ میں ان سارے قصوں میں یا ایسے ہی دیگر قضیوں میں 'عورت' کے کردار کو نظر انداز کر کے سارا الزام 'مرد ' پر رکھ رہی ہوں ۔۔۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔ اگرچہ ان مخصوص واقعات میں اگرچہ میں 90 فیصد سے زیادہ مرد کو قصوروار سمجھتی ہوں کیونکہ ساس بہو کا اختلاف ایک طرف۔۔۔مرد کا اپنی ذمہ داری سے فرار ان مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔۔اور یہی میرا اصل موضوع تھا۔ ایک کو چھوڑ کر باقی تینوں کردار مشرق سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شادی کے بعد بیوی کی 'معاشی' کفالت مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔۔ جسے بہ احسن پورا کرنا اس کا فرض ہے۔۔۔
جہاں تک بات ہے کہ شادی کے بعد مرد بیوی اور ماں کے جھگڑوں میں پس جاتا ہے۔۔۔یقیناً اس میں کافی حد تک قصور عورتوں کا ہے۔۔کہ ماں بیٹے کو تقسیم ہوتا نہیں دیکھ سکتی اور بیوی مکمل طور پر اپنی اجارہ داری چاہتی ہے۔۔لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ۔۔۔اس کی وجہ کیا ہے؟

 woman in a men's world نے درست کہا کہ اس سارے جھگڑے کی بنیاد 'مرد' کا بطورِ شوہر اور بیٹا اپنے کردار میں توازن قائم نہ رکھ پانا ہے۔۔۔ انسان ہمیشہ سے رشتوں کے معاملے میں حساس ثابت ہوا ہے۔۔۔ مرد بھی اپنے تعلق اور رشتے کے بارے میں حساس ہوتا ہے لیکن اس حساسیت کی نوعیت اس لئے مختلف ہوتی ہے کیونکہ شادی کے بعد اس کے لئے توجہ اور محبت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔۔  ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں توجہ دینے والے ایک اور فرد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔اس کے برعکس ماں کو بیٹے کی اپنے لئے توجہ بٹتی نظر آتی ہے اور اس کا ردِعمل توجہ کے نئے مرکز یعنی بہو کے ساتھ اختلاف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔۔۔ بہو کی بات کریں تو وہ ایک پوری دنیا پیچھے چھوڑ کر آتی ہے ایسی صورت میں وہ اس ایک فرد میں اپنے پورے خاندان کا متبادل تلاش کرتی ہے اور اس کا اس معاملے میں حساس ہونا فطری ردِعمل ہے۔۔۔۔ اور ایسی ہی حساسیت مرد بھی دکھاتا ہے ۔۔۔ مردوں کی اکثریت بیوی کا میکے بہت زیادہ آنا جانا بلکہ میکے کا بہت ذکر کرنے سے بھی چڑتے ہیں۔۔۔ اور یہ بعینہ اسی جذبے کا اظہار ہے جو اس تکون میں دونوں عورتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔
سو چونکہ مذہب اور معاشرہ دونوں ہی مرد کو گھریلو زندگی میں 'مرکزی' حیثیت دیتے ہیں۔۔اس لئے ایک سربراہ کی حیثیت سے اس کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی جھگڑے کو سلجھانے کی بجائے خود اس کا فریق بن کر رہ جائے۔۔ بلکہ اس کو مسئلہ سلجھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔۔۔
بہت سے بچوں کی اپنے بہن بھائیوں سے بحث ہوتی ہے کہ والدین ان میں سے کس سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔اور بعض اوقات یہ بحث بہت سنجیدہ رخ بھی اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ایسی صورت میں والدین معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے بچوں کو اپنے الفاظ اور عمل دونوں سے باور کراتے ہیں کہ ان کے لئے سب بچوں کی اہمیت ایک سی ہے اور وہ سب سے ایک سا پیار کرتے ہیں۔۔۔ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ان کے لئے بہت اہم ہے۔۔۔ کچھ ایسی ہی صورتحال مرد کی ہے۔۔۔ جب تک وہ دونوں رشتوں کو متوازن نہیں رکھے گا جھگڑے بڑھتے رہیں گے۔۔۔
جہاں تک بات ہے عورت کی مرد سے برابری تو یہ بحث بہت پرانی بھی ہے اور شاید ہمیشہ جاری رہے گی۔۔۔ ایسی ہی ایک بحث محفل پر  یہاں  بھی ہو چکی ہے اس لئے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی ۔۔
میں مخالفت برائے مخالفت یا تنقید برائے تنقید کی عادی نہیں ہوں اور نہ ہی اس صنف سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ سب کہہ رہی ہوں۔۔۔ میں پھر کہوں گی کہ ایسے جھگڑوں میں دونوں میں سے کوئی بھی فریق زیادہ قصوروار ہو سکتا ہے لیکن کیونکہ قدرت نے اگر مرد کو عورت کا کفیل بنایا ہے تو مسائل کے حل میں اسے  اپنا کردار مثبت طریقے سے ادا کرنا چاہئیے ۔۔یہ کہنا کہ اگر عورت برابری کا مطالبہ یا دعویٰ کرتی ہے تو ایسے مسائل کا سامنا اس کا مقدر ہے۔۔۔ہر گز دانشمندانہ رویہ نہیں ہے۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی کہ اگر کوئی اس موضوع پر لکھے کہ ان کے خیال میں 'عورت کی ' آزادی اور مرد سے برابری' سے کیا مراد ہوتی ہے؟؟؟ اور این جی اوز اور نام نہاد سوشل ورکرز کے علاوہ عام زندگی میں وہ  کتنی ایسی خواتین کو جانتے ہیں جو 'آزادی' اور 'برابری' کی تعریف ان الفاظ میں کرتی ہیں جو مرد حضرات کے خیال میں 'بے جا آزادی اور بے راہ روی' کے عکاس ہیں۔۔

4 comments:

  • بوچھی says:
    11 December 2007 at 16:43

    بہت خوب اور بہت سچ لکھا ہے فرحت آپ نے ،۔۔ ۔ بلکل ایسا ہی ہے ،۔۔
    :smile:

  • ساجداقبال says:
    15 December 2007 at 11:52

    میرے لئے اچھی بات کہ آپ نے موضوع شروع کر کے چھوڑا نہیں۔ پچھلی دفعہ میں آپ کا مرکزی نقطہ نہ سمجھ سکا جس کیلیے معذرت۔

  • حمزہ says:
    21 December 2007 at 09:09

    السلامعلیکم فرحت پھھپھو عید مبارک

  • Virtual Reality says:
    21 December 2007 at 20:35

    بوچھی: بہت شکریہ
    ساجد اقبال: بہت شکریہ۔۔۔آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
    وعلیکم السلام ۔۔کیسے ہیں حمزہ صاحب :) آپ کو بھی بہت بہت عید مبارک۔۔۔خوب مزہ آیا عید کے دن؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔