Saturday, 24 November 2007

مشرف انکل۔۔بات سنیں!!!

اچھے مشرف انکل۔۔(اچھے کے ساتھ آپ کا نام مزے کا نہیں لگ رہا اس لیے۔۔۔)
صرف مشرف انکل!!

میرا ہمیشہ دل چاہتا تھا کہ میں آپ کو خط لکھوں لیکن پھر اتنے لوگ آپ کے نام خطوط اور وہ بھی کُھلے خطوط لکھنے لگے کہ میں نے یہ خیال ترک کریا لیکن اب پھر گھر، گھر سے باہر، ٹی وی، ریڈیو، اخبار۔۔غرض ہر جگہ آپ سی "مشہور" اور "مقبول" شخصیت کے بارے میں سن سن کر میری وہ خواہش دوبارہ عود آئی ہے۔۔


انکل برا نہیں مانئے گا لیکن جب آپ اچانک جہاز سے اتر کر اقتدار کی کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے تھے تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔۔کیونکہ باوردی لوگ تو اپنی صفوں میں ہردم تیار و ہوشیار کھڑے ہی اچھے لگتے ہیں نا۔۔کرسی پر بیٹھے ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں اور ان میں دفاع ِوطن کی ہمت باقی نہیں رہی۔۔


لیکن پھر بھی میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے ذرا دیر کو ایوانِ اقتدار میں سستانے کے بعد تازہ دم ہو کر انکل دوبارہ اپنی صفوں میں لوٹ جائیں اور قوم کو ایک نڈر اور جری جرنیل(انکل پرویز الٰہی تو آپ کو انہی الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔۔) اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتا ہوا دکھائی دے۔۔لیکن ایسا ہوا نہیں۔۔(معلوم نہیں توقعات اکثر توقعات ہی کیوں رہتی ہیں؟؟)


خیر ۔۔ہاں یاد آیا انکل مجھے آپ سے پوچھنا تھا کہ ستمبر 11 کے بعد آپ نے بش چچا کی بات ایکدم کیوں مان لی؟؟؟ان کی بات تو ان کے گھر والے بھی اتنی جلدی نہیں مانتے۔۔ :daydream


ویسے انکل جب آپ آگرہ گئے تھے تو وہاں تاج محل کی سیر کے دوران آپ کتنے خوش ہونگے ناں۔۔جب آپ صہبا آنٹی کے ساتھ وہاں تصویریں بنوا رہے تھے تو آپ کو دل چاہا تو ہو گا کہ وہ لمحے امر ہو جائیں؟؟؟ ٹیلی ویژن پر براہِ راست آپ کو دیکھتے ہوئے میرا بھی یہی دل چاہ رہا تھا کہ کاش وقت رک جائے اور آپ بھی انہی لمحوں میں رہ جائیں ۔۔۔


انکل آپ کی وردی کے بارے میں اتنی بحث ہوتی رہی لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ قوم کو دکھتا کیوں نہیں کہ آپ وردی میں اتنے سمارٹ لگتے ہیں۔۔ اور آپ بھی بار بار وعدہ کرتے تھے کہ آپ جلدی وردی اتار دیں گے۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید آپ کو "شیروانی" بہت پسند ہے اور آپ ہر وقت ایک ہی یونیفارم پہننے سے اکتا گئے ہیں یہ تو کچھ عرصہ پہلے جب میں نے ایوانِ صدر کی اندورنی تصویریں دیکھیں تو مجھے پتہ چلا کہ آپ کو یہ جگہ کیوں اس قدر پسند ہے۔۔۔مگر انکل میں نے تو سنا ہے کہ ایک فوجی کو نرم و نازک بستر کانٹوں کی طرح چھبتا ہے۔۔(لگتا ہے ایسا صرف نسیم حجازی کے ناولوں کے سپاہیوں کو محسوس ہوتا ہے۔)

انکل جی ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے، جو فوج میں تھے ، نے مجھے بتایا تھا کہ فوج میں ہر ماتحت اپنے افسر کے آرڈر کے جواب میں "یس سر" اور "آل رائٹ سر" کہتا ہے اور وہاں "no, if & but" کی گنجائش نہیں ہوتی۔۔۔اور کوئی افسر "یس" اور "آل رائٹ" کے علاوہ کچھ نہیں سن سکتا۔۔۔ انکل کیا آپ نے پاکستانی قوم کو بھی فوج سمجھ لیا ہے اور اسی لئے بطورِ آرمی چیف آپ پاکستانیوں سے اپنے ہر حکم کے جواب میں "آل رائٹ سر" سننا چاہتے ہیں؟؟؟


انکل پتہ ہے جب آپ سعودی عرب جاتے ہیں نا اور وہاں حرم کے دروازے آپ پر کھول دیے جاتے ہیں تو آپ کا 'پروٹوکول' دیکھ کر مجھے آپ پر کتنا "رشک" آتا ہے۔۔ ایک بات تو بتائیں انکل!!! جب آپ حرم کے اندر دعا مانگ رہے ہوتے ہیں یا حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں تو آپ کو دھیان کس طرف ہوتا ہے؟؟سیکیورٹی، ٹی وی کیمرہ یا دعا کی طرف؟؟؟ آپ ان سب کو کیسے مینج کر لیتے ہیں؟؟؟ آپ گریٹ ہیں انکل۔۔۔


انکل آپ بے نظیر آنٹی کے ساتھ ڈیل فائنل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ دونوں کے خیالات اور دلچسپیاں کتنی ملتی جلتی ہیں۔۔دیکھیں نا۔۔آپ دونوں ہی "انتہا پسندی" کے خلاف ہیں۔۔اور آپ دونوں ہی دوسروں کی مدد کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔۔ بے نظیر آنٹی نے زردرای انکل اور ان کے دوستوں کی مدد کر کے قوم کوکتنا 'فائدہ' پہنچایا اور آپ نے بھی کتنے قابل جرنیلوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد عضو معطل بننے سے بچا لیا اور پتہ ہے انکل تقریباً تمام سول سیکٹرز میں ان جرنیلوں کی موجودگی سے عوام اور فوج میں قربت کا احساس کتنا بڑھ گیا ہے۔۔


آپ نے اچھا کیا انکل کہ افتخار چودھری اور دوسرے انکلز کو گھر بھیج دیا۔۔ویسے بھی پچھلے کتنے مہینوں سے ان لوگوں کو آرام کا ٹھیک موقع نہیں مل رہا تھا۔۔ایسے ہی بیمار ہو جاتے تو۔۔۔۔ لوگوں کو پتہ نہیں سمجھ کیوں نہیں‌ آتی ہے کہ آپ کو دوسروں کی کتنی فکر ہوتی ہے۔۔۔ ویسے بھی اس قدر امن و امان کے حالات میں عدلیہ کا کام ہی کیا رہ جاتا ہے۔۔۔ اور انکل کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ کچھ وکیل اور جج ایسے ہی قانون اور عدلیہ کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ کر 'قانون کے نفاذ' میں مصروف فوج اور پولیس کی توجہ بٹا دیتے ہیں۔


اور آپ کو تو سب کی ہی اتنی فکر رہتی ہے۔۔۔جن لوگوں کو ذرا سا بھی خطرہ ہو آپ اس کو ساری دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر رکھتے ہیں۔۔۔کوئی اور حکمران ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایسی حفاظت کر سکتا تھا کیا۔۔یہ آپ ہی ہیں جنھوں نے گزشتہ کتنے برسوں سے ان کو باوردی گارڈز حکومتی خرچے پر فراہم کئے ہوئے ہیں۔۔۔اور جن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہو آپ تو ان کے لئے اپنے دیرینہ دوست "چچا بش" سے بھی مدد لے لیتے ہیں جیسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔۔۔ان کو کتنی محفوظ جگہ پر آپ نے رکھا ہے کہ اتنے سالوں سے کوئی ان کا سراغ نہیں لگا سکا۔۔ اور آپ بھی تو ایسی کتنی ہی نیکیوں کو منظرِ عام پر لاتے ہی نہیں ہیں۔۔لگتا ہے آپ "نیکی کر دریا میں ڈال کے" کے قائل ہیں۔۔


اچھا انکل آج اتنا ہی لکھ پائی ہوں۔۔۔ایک تو آپ کی "شخصیت اور کارنامے" اتنے ہمہ جہت ہیں کہ ان کے بارے میں آپ سے بات کرتے ہوئے دل ہی نہیں بھرتا۔۔۔ ابھی تو کل بھی مجھے آپ سے اتنی ہی باتیں کرنی ہیں۔۔ شب بخیر انکل۔۔۔ اور ہاں۔۔۔خواب میں "عمران انکل" سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔


 


 


 


 

3 comments:

  • امن says:
    30 November 2007 at 16:48

    سو سوئیٹ :) فرحت آپ نے تو عائشہ صدیقہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔۔۔وہ بھی آج کل ہاتھ دھو کر مشرف کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔۔۔اور مجھے لگتا ہے کہ آپ کے اس خط کا انکل مشرف پر بری طرح اثر ہوا ہے۔۔۔اس لیے تو اب وہ انکل صدرجرنل پرویز مشرف کی جگہ صدرسید پرویز مشرف بن گئے ہیں :) آپ نے پہلے یہ خط کیوں نہیں لکھاااااااااااا؟

  • ساجداقبال says:
    1 December 2007 at 11:35

    ڈھیٹ لوگوں کا خط لکھا جائے تو ردی کی نذر کر دیتے ہیں، اسلئے اپنی توانائی کسی ”اچھے بچے یا بڑے“ کو خط لکھنے میں صرف کریں۔ d:

  • Virtual Reality says:
    6 December 2007 at 23:30

    :) بیہت شکریہ امن۔۔۔ ہاں ناں۔۔۔ مجھے تو یہ افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے اس دن پورا خط کیوں نہ پوسٹ کیا۔۔۔ معلوم ہوتا کہ بشرف انکل اتنے جذباتی ہو جائیں گے تو پورا خط ٹائپ کر دیتی۔۔ہو سکتا ہے۔۔ صدارت بھی چھوڑ دیتے :)

    ۔۔۔سچ کہا ساجد آپ نے۔۔۔۔ ایسے لوگوں کو اثر کہاں ہوتا ہے ۔۔میں نے تو بس ذرا اپنا دل ہلکا کرنے کی کوشش کی تھی۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔