Monday, 17 September 2007

میڈیلین میکین

برطانوی جوڑے جیری میکین اور کیٹ میکین کی تین سالہ بیٹی میڈلین میکین تین مئی 2007 کو پرتگال میں ان کے اپارٹمنٹ سے غائب ہوئی جہاں وہ اپنی چھٹیاں منا رہے تھے۔۔تب سے اب تک میڈلین کی گمشدگی اور اس کی تلاش کے لئے شروع کی گئی مہم بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکی ہے۔ گزشتہ ایک سو سینتیس (137) دنوں سے دینا بھر میں میڈیا اس کیس کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔۔اس دوران کیس نے بہت سے رخ اختیارکئے جس میں سے تازہ ترین میڈلین کے والدین کو شاملِ تفتیش کرنا ہے۔ پرتگال کی پولیس نے دونوں کو اس وقت مشتبہ قرار دیا جب ان کی کرائے پر لی گئی کار میں پولیس کو خون کے نشانات ملے۔ اس بارے میں مزید تفصیل نہیبں بتائی گئی لیکن میکین فیملی کو جو برطانیہ واپس آ چکی ہے، کو پابند کیا گیا ہے کہ پرتگال پولیس ان کو کسی بھی وقت طلب کر سکتی ہے۔۔
اللہ کرے کہ میڈلین زندہ ہو اور اس کے والدین بے قصور ثابت ہوں ورنہ اس رشتے سے بھی اعتبار اٹھنا شروع ہو جائے گا۔۔
میڈلین  کے بارے میں تو جلد ہی کچھ معلوم ہو جائے گا لیکن میں جب بھی اس بارے میں کچھ سنتی یا دیکھتی ہوں تو مجھے ان گنت پاکستانی ماؤں کے ان جگر گوشوں کا خیال آ جاتا ہے جن کو اغواء کرنے والے سرِ عام دندناتے پھرتے ہیں۔۔جن کی فریاد ساری قوم سنتی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں۔۔۔ کیا ان بچوں کی زندگیاں قیمتی نہیں ہیں؟؟یا بے حس حکمرانوں کے دور میں پیدا ہونا ان کا المیہ ہے؟؟

2 comments:

  • بدتمیز says:
    17 September 2007 at 20:41

    سلام
    پولیس کا کہنا تھا کہ اگر والدین اقرار کر لیں‌کہ ان کی غلطی سے بچی ہلاک ہو گئی اور انہوں نے اس کو کہیں چھپا دیا تو سزا میں نرمی کر سکتے ہیں۔ ابھی تک پولیس شواہد نہیں اکٹھے کر سکی۔

  • Virtual Reality says:
    20 September 2007 at 08:03

    بالکل ۔۔پرتگالی پولیس کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے کیٹ کے ہاتھوں حادثاتی طور پر میڈلین کی ہلاکت ہوئی اور پھر انھوں نے اغواء کی کہانی بنا لی۔۔لیکن ابھی تک تو ایسا کچھ ثابت ہوتا نظر نہیں آتا۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔