Sunday, 17 November 2013

میرے شہر کی سڑکوں پر جل رہے ہیں دیے خون کے!

راولپنڈی اور اس کے باسیوں پر گزشتہ دو دنوں سے جو کچھ گزر رہی ہے اس میں مزید اضافہ ان نام نہاد رہنماؤں ، علمائے کرام اور تجزیہ نگاروں کے وہی گھسے پٹے انداز و بیانات کر رہے ہیں۔  ایک طرف ایک صاحب بھڑکیں لگا رہے ہیں کہ میں راولپنڈی کا منتخب نمائندہ ہوں۔ میں یہاں کے ہر شیعہ سنی کو پہچانتا ہوں۔ یہ سب باہر سے منگوائے گئے لوگ ہیں،۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ کاش کوئی ان موصوف کے منہ پر بڑی سی ٹیپ لگا کر ان کو ان کے سامنے ان کی اپنی اتنے سالوں کی کارکردگی اور ان کی عوام سے ہمدردی کے ثبوتوں پر مبنی فلم ہی چلا دے۔ تا کہ کچھ دیر کو ہی سہی ان کو یہ تو احساس ہو کہ سالہا سال سے انہوں نے بھی اپنے حلقے اور اپنے لوگوں کے لئے کیا کچھ کیا ہ یا کل سے اب تک لوگوں کے لئے کیا کیا ہے؟
دوسری طرف ہمارے علمائے کرام ایک کے بعد ایک آ کر اپنے گراں قدر خیالات سے عوام کو فیض یاب کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اس سازش میں بیرونی ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں خود اپنی تعلیمات رواداری اور حوصلے اور برداشت پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور جو کچھ ہوا اس میں سراسر حکومت اور پولیس کی کوتاہی نظر آ رہی ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ کاش کوئی ان سے یہ پوچھ لے کہ وہ جو محرم کے دس دن اور عین 10 محرم کو بھی پورے ملک میں شام تک ملک بھر میں خیر خیریت سے تمام جلوس نکلے بھی اور ختم بھی ہوئے ، اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ اور کوئی ان سے یہ بھی پوچھے کہ اگر سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے تو وہ کیوں عوام کے جتھوں کے جتھے لیکر سڑکوں پر نکلتے ہیں؟ ان کو یہ حق کس نے دیا؟ 
اور یہ میڈیا والے جو ایک معمولی سی بات کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر ساری قوم کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں، جو اپنی مرضی کی بات کو عوام کے ذہنوں میں ڈالنے کے لئے اس قدر مؤثر مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ ہر پاکستانی 'پاکستان آئڈل' بننے کے لئے سڑکوں پر نکل آتا ہے ، کیا انہوں نے کبھی مروت، برداشت ، رواداری اور اخوت پسندی پر کوئی پروگرام چلایا؟ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے اوپر کس قدر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
معلوم نہیں یہ کیسے مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کس نے بنایا ہے؟
میرا اسلام تو مجھے دوسروں کے خیالات و عقائد کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
میرا سلام تو مجھے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے نتیجے کو سامنے رکھنے کی ہدایت کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو میری زبان ، ہاتھ یا عمل سے کسی کو نقصان پہنچے۔
میرا اسلام تو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن یہ کیا ہے کہ ایک مبارک مہینے کا مبارک دن ، 10 محرم الحرام جس کی اہمیت سانحہ کربلا کے علاوہ  بھی اس قدر زیادہ ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اس کا احترام لازم ہے۔ پھر جمعۃ المبارک کا دن۔ سنی ہو شیعہ کیا دونوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اس مہینے میں قتل و غارت گری ممنوع ہے۔ اور اس ممانعت کا احترام تو اسلام سے پہلے بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ خود کو مسلمان کہنے والوں نے اسی ماہ اور اس مبارک دن کیا کیا۔  اس دن جو ہوا اس میں جتنے لوگ مارے گئے ، ان کے تو خاندان اجڑ گئے ، پھر اس کے بعد جن کی املاک کو نقصان پہنچا ، ان کے خاندانوں کے لئے بربادی کا پیغام آ گیا، اور وہ جو دو دن سے دیہاڑی نہیں لگا سکے ، ان کے خاندان بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔  فاقے ہوں گے یا کوئی بیمار گھر میں ایڑیاں رگڑتا رہے گا۔ فرق نہ تو کسی شیخ, خان ، شریف یا چودھری کو پڑے گا ، نہ کسی مفتی و مولانا کو پڑے گا اور نہ ہی کسی میر ، بخاری، لقمان ,شیرازی اور منہاس کو پڑے گا۔ فرق پڑے گا تو عوام کو پڑے گا ۔ اس عوام کو جسے فرقوں اور مسالک کے اختلافات کی الف بے کا بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن وہ بھیڑ چال کا شکار ہو کر ان جلسوں کا حصہ بھی بنتے ہیں اور ان تفرقے بازیوں کا ایندھن بھی۔ تو پھر بھگتیں بیٹھ کر۔ 

1 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    17 November 2013 at 20:09

    جی میں کیوں بھگتوں ؟ اللہ بچائے سدِ باب نہ کیا گیا تو سب بھگتیں گے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔