Tuesday, 1 May 2012

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات!

یومِ مئی پر ایک پیغام موصول ہوا۔
'کتنی عجیب بات ہے کہ جو آٹے کی بوری خرید سکتے ہیں وہ اُٹھا نہیں سکتے اور جو اُٹھا سکتے ہیں وہ خرید نہیں سکتے۔'

1 comments:

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    2 May 2012 at 06:47

    زبر دست بات کہی ہے ۔ اسی لئے میں دس کلو گرام آٹا خریدتا ہوں جو میں اُٹھا بھی لیتا ہوں
    اس دن کو جو میں سمجھا ہوں یہ ہے
    یہ دن نہ تو مزدوروں کا ہے اور نہ ہی اسے مزدوروں نے مقرر کیا ۔ یہ دن سرمایہ داروں نے مزدوروں کو بیوقوف بنانے کیلئے شروع کیا مگر مزدوروں کے پاس بیوقوف بننے کیلئے بھی وقت نہیں کیونکہ انہیں اپنا پیٹ بھرنے کیلئے مزدوری کرنا لازم ہے اس دن بھی ۔ کبھی آپ نے مشاہدہ کیا کہ آجکل جو ڈھیروں دن منائے جاتے ہیں ان کا اہتمام کرنے والے اور ان میں شامل ہونے والے کون ہوتے ہیں ؟ سرمایہ دار اور سرمایہ کار جن کے پاس فالتو وقت ہوتا ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔