Sunday, 25 September 2011

میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی!

میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم




میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی

میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی

میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی

بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی

مکمل تحریر  »

Sunday, 4 September 2011

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئےمحمود و ایاز

سب کو بہت بہت عید مبارک۔ میری عید آج ختم ہو رہی ہے کیونکہ آج آخری چھٹی تھی۔ کل سے پھر واپس کام کام اور کام :( ۔۔۔ بلاگ سے بہت دنوں سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ حالانکہ اتنا کچھ ہے بولنے اور لکھنے کو۔ لیکن اس وقت تو اپنے انکل گیلانی کی شان میں کچھ کہنا ہے۔ شاہد ہمارے حمکرانوں کے نصیب میں عوام کی بدعائیں اور آہیں سننا ہی رہ گیا ہے اور یہ ان کا من پسند مشغلہ بھی ہے۔ تبھی تو وقتاً فوقتاً وہ عوام کو اس کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ محترم وزیرِ اعظم صاحب نے کیا۔ سوچا ہو گا عوام بور نہ ہو گئے ہوں۔ تو چلو کچھ کرتے ہیں۔ نکل پڑے جمعتہ الوداع کی نماز ادا کرنے۔ اب پبلک کو یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ دیکھو ہم بھی نماز پڑھنے جا رہے ہیں سو اپنے راستے پر ہٹو بچو کا نعرہ لگانے والوں کو مقرر کر دیا۔ پھر وزیرِ اعظم 'لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا' کے مصداق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے جھرمٹ میں جانبِ مسجد روانہ ہوئے۔لوگ ذیرو پوائینٹ سے فیصل مسجد تک پیدل چلتے پہنچے تو معلوم ہوا کہ اندر جانے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انکل گیلانی اینڈ کو مسجد میں جلوہ افروز ہیں۔ اس دوران باقی سب عوام کی جمعے کی نماز مس کو گئی تو کیا ہوا۔ عوام کی زندگیوں سے پہلے بھی تو بہت کچھ مس ہے۔ ان کو کون سا کوئی فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر اچھے موقعے سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق حکمرانوں کو ہوتا ہے تو جمعتہ الوداع کی نماز کا ثواب وہ بھی فیصل مسجد میں بھی تو صرف انہی کو حاصل کرنا ہے۔

اب اس انتہائی 'خاص' طبقے سے ذرا کم لیکن عوام سے خاص طبقے کی ایک اور آنکھوں دیکھی مثال۔ ہفتہ 28 اگست ، 26 رمضان کی بات ہے۔ راولپنڈی سے جی ٹی روڈ کی طرف سفر کرتے ہوئے مندرہ ٹول پلازہ کے پاس پہنچے تو لین میں آگے تین گاڑیاں تھیں۔ جن میں سے سب سے اگلی گاڑی کی نمبر پلیٹ پر سبز رنگ سے ایم این اے لکھا ہوا تھا۔ جب کافی دیر وہ گاڑی ٹول ٹیکس کیبن سے آگے نہیں چلی تو سب کو تشویش ہوئی۔ معلوم ہوا کہ گاڑی والے موصوف اس بنا پر ٹول ٹیکس دینے سے انکاری تھے کہ وہ کسی ایم این اے کے رشتہ دار ہیں۔ ۔ ٹول ٹیکس جمع کرنے والا بھی بضد تھا کہ ٹیکس ادا کرو ورنہ کھڑے رہو اور پچھلی گاڑیاب بھی کھڑی رہیں گی۔ جب اس سارے جھگڑے میں کافی وقت گزر گیا تو اس گاڑی سے پیچھے والی گاڑی سے ایک صاحب اترے اور انہوں نے ان حضرت کے 20 روپے ادا کر دیئے۔ یوں راستہ کُھلا اور ان محترم نے بغیر شرمندہ ہوئے گاڑی سٹارٹ کی۔ پیپسی کا کین (رمضان میں( باہر اُچھالا اور یہ جا وہ جا۔

تیسری مثال خود اپنے لوگوں یعنی عام عوام کی۔ مارکیٹ سے گزرتے ہوئے پھلوں کے سٹال پر چیریز دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ مجھے پاکستان میں گروسری کا اتنا تجربہ نہیں ہے۔ اس لئے انکل سے پوچھا کہ کیا وہ اس میں سے آدھی دیں گے۔ انکل موصوف نے اپنے نماز والی ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے کہا۔ نہیں بیٹا۔ یہ تو پورا ڈبہ ہی بیچتے ہیں۔ بالکل تازہ ہیں اور ڈھائی سو میں ہے۔ مجبوراً لے لیا۔ واپس پہنچ کر جب چیریز دھونے کے لئے ڈبے سے نکالیں تو اوپر والی تہہ تو تازہ تھی۔ نچلی ساری تہیں گلی ہوئی تھیں۔ افسوس ہوا لیکن حیرانگی نہیں کیونکہ تھوڑا بہت دھوکہ کرنا ہم لوگوں کی قومی عادت بن چکا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے لیول پر بے ایمانی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں چاپے عوام ہوں یا خواص۔

مکمل تحریر  »