Wednesday, 17 March 2010

درخواستِ دعا

ویسے تو انسان کو کب دعاؤں کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس وقت مجھے واقعی دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔ :-(

مکمل تحریر  »

Tuesday, 9 March 2010

اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیئے!

ابھی لائبریری کی دوسری منزل پر بیٹھے مجھے اس عمارت کا ایک حصہ اور اس کے سامنے کی سڑک سنسان و ویران دکھائی دے رہی ہے جہاں گزشتہ شام قیامت کا سماں تھا۔ اس وقت سڑک کنارے پولیس اور فوج کے علاوہ دنیا ٹی وی کی گاڑی کھڑی دکھائی دے رہی ہے جس کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ اور میرے کانوں میں ابھی تک سائرن کی آوازیں اور لڑکیوں کی چیخ و پکار گونج رہی ہے۔ یہ لڑکیوں کا ایک نجی ہاسٹل ہے جہاں راولپنڈی کے مختلف کالجوں اور یونیورٹیوں میں زیرِ تعلیم طالبات رہائش پذیر تھیں۔ جن میں نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد جیسے پڑوسی شہر سے لیکر گلگت ، سکرود جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات شامل ہیں۔ اس عمارت میں گزشتہ سہ پہر اچانک آگ بھڑک آٹھی جس میں ہاسٹل انتظامیہ کے مطابق چھ طالبات جاں بحق ہو گئیں۔ میں اکثر اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے یہی سوچتی تھی کہ نیچے سے اوپر تک grilled اس عمارت جس میں 200 سے زائد طالبات رہ رہی ہیں، کا داخلی دروازہ بھی اس قدر تنگ ہے کہ خدانخواستہ کسی ناگہانی صورتحال میں یہاں سے باہر نکلنا کتنا مشکل ہو گا۔ ایسا سوچنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ہاسٹل جی ایچ کیو سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے اور اسی علاقے میں اس سے پہلے دہشت گردی کے چند واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ کل اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی تھا کہ پہلے ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ایجنسیوں کو پہلے شیشے توڑنے پڑے، پھر لوہے کی جالی کاٹنے کے بعد اتنی جگہ بنائی جا سکی کہ اوپر والی منزل میں محبوس لڑکیوں کو سیڑھیاں لگا کر باہر نکالا جا سکے۔ اس اثنا میں رفاہ میڈیکل کالج کی چھ طالبات کو ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھیں، جلنے اور دم گُھٹنے سے جاں بحق ہو چکی تھیں۔ اب ہو گا یہ کہ ہاسٹل انتظامیہ اور ہمارے حکمران تعزیتی بیان جاری کر کے پھر اپنے آپ میں گم ہو جائیں گے۔ اور کسی کو احساس تک نہیں ہو گا کہ کتنے قابل لوگ اتنی آسانی سے لقمہ اجل بن گئے اور کتنے والدین کی امیدیں مٹی میں مل گئیں۔ میری ایک کولیگ جو پچھلے سال اپنی گریجویشن سے پہلے اسی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی، کے مطابق اس عمارت میں کہیں بھی ہنگامی اخراج کا کوئی ایک راستہ بھی نہیں تھا۔ پوری عمارت میں کہیں بھی کوئی سموک یا فائر الارم نہیں ۔ایک جگہ fire extinguishers نمائشی طور پر آویزاں تھے اور ان کو زنگ لگ چکا تھا۔ عمارت میں بجلی کی وائرنگ اس قدر شکستہ حالت میں تھی کہ تاروں سے سپارکنگ ہونا ایک عام بات تھی۔ بار بار یاد دہانی کے باوجود ہاسٹل انتطامیہ کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ جبکہ کرائے کے نام پر ہر مہینے بھاری بھرکم رقم بٹور لی جاتی ہے۔
اب یہ عمارت سِیل کر دی گئی ہے۔ اس طرف آنے والی سڑک بند کر دی گئی ہے۔ پولیس اور فوج کا سڑک پر پہرہ ظاہر کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگر کسی کو خیال آ جائے تو 'بڑوں' میں سے کوئی ادھر کا دورہ کر لے۔ اگر رحمان ملک انکل کو برطانوی بچے کے اغواء کی ٹینشن نے کچھ مہلت دی تو شاید وہ بھی ادھر کو آ نکلیں۔ کاش کوئی اس انتظامیہ سے یہ بھی پوچھ سکے کہ کیا ان کی عمارت اس معیار پر پوری اترتی تھی جو طلباء کے ہاسٹل کے لئے ضروری ہوتے ہیں؟ اور کاش کوئی مجھے یہ بتا سکے کہ ہمارے ملک میں اداروں کے لئے کوئی ایسا کوڈ موجود ہے بھی یا نہیں جس کے تحت وہ سیفٹی کے اصول و ضوابط کی پابندی کریں؟


مکمل تحریر  »