Monday, 28 December 2009

نذرِ امام حُسین (رض)

فکرِ انسانی کو دے گی ارتقا کی روشنی

یہ مدینے کی ، نجف کی، کربلا کی روشنی

شمعیں گُل کر دی گئیں بزمِ حُسینی کی مگر

تھی شبِ عاشور میں اہلِ صفا کی روشنی

اس میں ہر نقشِ حق و باطل نظر آتا ہے صاف

کربلا کی روشنی ہے، کربلا کی روشنی

ہر قدم رکھا تصور، روضۂ شبیر کا

ہم نے راہِ کربلا میں ، رہنما کی روشنی

دل میں غم شبیر کا ، آنکھوں میں اشکِ تعزیت

ان عزا خانوں میں ، ہم نے تو سدا کی روشنی

نور چشمِ مصطفیٰ کے روضۂ پُر نُور پر

سب نے کچھ مانگا مگر، ہم نے دعا کی روشنی

شام کی راہوں میں عابد پابجولاں تھے مگر

دُور تک پھیلی ہوئی تھی ، نقشِ پا کی روشنی

مجھ کو تابندہ رکھا سوزِ غمِ شبیر نے

عمر بھر زخمِ محرم نے عطا کی روشنی

تازہ تر رکھا غمِ شبیر اشک و آہ نے

نخلِ ماتم میں رہی آب و ہوا کی روشنی

سننے والوں کو بھی کچھ نورِ سماعت مل سکے

اس لیے ہر منقبت میں ہم نوا کی روشنی

کربلا کی روشنی میں کہہ کے تابش کشھ سلا

ہم نے ایوانِ ادب میں بارہا کی روشنی

 

کلام: تابش دہلوی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔