Monday, 20 July 2009

انشاء جی اُٹھو!

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو

اسد امانت علی پی ٹی وی پروگرام نکھار میں استاد امانت علی خان کی وفات کے بعد 'انشاء جی اٹھو' گاتے ہوئے۔ :-( :cry:



انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

ابنِ انشاء


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابنِ انشاء کی وفات پر قتیل شفائی نے ایک غزل 'یہ کس نے کہا تُم کُوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی' لکھی تھی۔ جسے سلمان علوی نے گایا ہے۔









یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی

:cry: :cry:

9 comments:

  • عابد says:
    21 July 2009 at 06:58

    خوب، جناب!

  • بلوُ says:
    21 July 2009 at 13:14

    بہت اچھے :cn

  • تانیہ رحمان says:
    22 July 2009 at 04:06

    فرحت کیسی ہیں ، انشا جی کے بعد جس نے بھی یہ کلام گایا یا پڑھا وہ دنیا سے کوچ کر گیا انشاجی نے جب لکھا تو وہ دنیا چھوڑ گئے امانت علی خان نے گایا وہ دوسرے جہاں چلا گیا ۔ اسد امانت علی کے گانے کے بعد بری جوانی میں دنیا چھوڑ گئے ۔ سنا تو یہ گیا ہے کہ اب کوئی یہ نہیں پڑھے یا گائے گا ۔ اب اس میں کتنی سچائی ہے یہ تو اللہ کریم جانتا ہے

    تانیہ رحمان, کی تازہ تحریر: کاش یہ ممکن ہو جائے

  • محمد وارث says:
    22 July 2009 at 15:20

    کیا خوبصورت غزل ہے، اور قتیل کی رثائی غزل بھی لاجواب ہے۔
    تانیہ رحمان نے جس طرف اشارہ کیا ہے وہ واقعی سننے میں‌ آیا ہے، کاش یہ غزلیں کوئی 'نصیبو لال پارٹی وغیرہ' کو دے دے گانے کیلیے :)

    محمد وارث, کی تازہ تحریر: نکمّے

  • محمد احمد says:
    29 July 2009 at 14:52

    اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
    جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

    بہت خوبصورت غزل ہے اور جواب بھی۔ اور استاد امانت علی خان صاحب نے گائی بھی اس قدر خوب ہے کہ ہر بار لطف دیتی ہے۔

  • شگفتہ says:
    1 August 2009 at 23:53

    السلام علیکم ، کیا حال فرحت ، م س ن پر ہوں جب تو ٹیکسٹ کریں مجھے کچھ مزید سنوانا ہے آپ کو :smile

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    5 August 2009 at 03:52

    @عابد: شکریہ اور بلاگ پر خوش آمدید :)
    @بلوُ: بہت شکریہ :)
    @تانیہ رحمان: الحمد اللہ۔ :) آپ کیسی ہیں تانیہ؟ میں بھی جب یہ غزل سنتی ہوں تو یہی خیال آتا ہے :-( :cry:
    @محمد وارث: :D آئیڈیا خوب ہے ویسے :)
    @محمد احمد: واقعی۔ سدا بہار غزل ہے۔ بار بار بھی سنو تب بھی انسان بور نہیں ہوتا۔ :)

    @شگفتہ: وعلیکم السلام شگفتہ۔ میں ٹھیک ہوں :) آپ کیسی ہیں؟
    جی انشاءاللہ۔ مجھے یقین ہے اس بار بھی کوئی مزے کی چیز ہو گی :)

  • عبداللہ says:
    10 August 2009 at 11:40

    فرحت آپنے پرانی یادیں تازہ کردیں :sadd:

  • فرحت کیانی نے لکھا :۔
    13 August 2009 at 23:40

    :) یادیں بھی کیا خوب ہوتی ہیں۔ آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں :)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔