Friday, 21 November 2008

خفگی نامہ


اگر میں اس مہینے کے شروع میں ‘یہ مہینہ کیسا گزرے گا‘ یا ‘ستاروں کے مطابق‘ قسم کی کوئی پیش گوئی پڑھتی تو مجھے یقین ہے میرے سٹار میں کچھ ایسا لکھا ہوتا۔ ‘یہ مہینہ خفگی سے بھرپور ہو گا۔ قریبی لوگوں کی ناراضگی کا شدید اندیشہ ہے۔ مہینے کے آخر تک حالات میں مزید ابتری کی طرف جا سکتے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور میرے ساتھ بعینہ کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے :quiet:


“تمہارے ماموں کا فون آیا تھا۔ تم نے کتنے دنوں سے ان سے بات نہیں کی؟ ابھی فون کرو اور ویک اینڈ پر ان لوگوں کی طرف چکر لگا لو۔“ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان جملوں پر اکتفا نہیں کیا میری والدہ نے بلکہ ساتھ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ سے بھی تواضع ہوئی۔ :cry:


“تم کہاں غائب ہو۔ نہ کوئی فون، نہ ٹیکسٹ، نہ ای- میل۔ اتنی لاپرواہ تو نہیں تھیں تم، دس دفعہ کال کرو تو ایک بار جواب ملتا ہے۔۔۔۔۔میں تم سے شدید ناراض ہوں۔“ اس قسم کی باتیں مجھے آج کل تواتر سے سننے کو مل رہی ہیں۔ اب تو میں شرمندہ ہو ہو کر بھی تھک گئی ہوں۔ :sh حالانکہ میں باقاعدگی سے سب کی خیر خبر رکھتی ہوں۔ اگر کسی وجہ سے کسی کا فون سن نہ سکوں تو پہلی فرصت میں جواب دیتی ہوں۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے واقعی ایسا ہو رہا ہے۔ وجہ بھی کچھ خاص نہیں سوائے تھوڑی سی مصروفیت کے۔ بہرحال شکر ہے کہ نومبر ختم ہو رہا ہے اور سب کی خفگیاں بھی :)



ان ناراضگیوں کے بارے میں سوچتے سوچتے مجھے احساس ہوا کہ میں خود بھی ان دنوں ہر وقت خفا ہونے کی کوشش میں رہتی ہوں۔روزانہ ہی اتنی باتیں مل جاتی ہیں ناراض ہونے کو۔



صبح جاگو تو موسم دیکھ کر خود بخود موڈ آف ہو جاتا ہے۔ ہر وقت بارش یا گہرے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اور اکثر شام سے پہلے ہی شام ہو جاتی ہے۔ سب کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔


پاکستانی چینلز آن کرو تو بریکنگ نیوز دیکھ کر خفا ہونا پڑتا ہے۔ اچھا خاصا پروگرام چل رہا ہوتا ہے اور کئی بار تو خبروں میں ہی بریکنگ نیوز یا نیوز الرٹ اڑتا ہوا آتا ہے کہیں سے۔۔اور خبر ہوتی ہے ‘وزیرِ اعظم جلسے کے پنڈال میں پہنچ گئے۔ اب وہ سٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ :o ‘


اس خفگی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب اچھا خاصا کام کرتے کرتے موذیلا فائر فاکس کا موڈ آف ہو جاتا ہے اور زرداری انکل کی طرح دھڑلے سے آگے بڑھنے سے انکار ہو جاتا ہے۔ اور میں مسلم لیگ ن کی طرح انتظار ہی کرتی رہ جاتی ہوں۔ جب سے میں نے Kaspersky انسٹال کیا ہے۔ فائر فاکس میں جی میل اور دوسری کچھ سائٹس اتنا مسئلہ کر رہی ہیں۔ بھائی بھی مصروف ہے اور اس بات پر میں پھر خود سے خفا ہو جاتی ہوں کہ میں اتنی نالائق کیوں ہوں۔ کچھ سیکھ لیا ہوتا تو اپنے ہی کام آتا :blush:



اور اب آج کی آخری اور سب سے بڑی ناراضگی اپنے بلاگ سے ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ میرے بلاگ سے Recent Commentsاور Recent Track Backs سب غائب ہو گئے۔ اس کی وجہ بھی میرا ہی کوئی کارنامہ ہو گا شاید۔ اور اب ان کو کیسے واپس لانا ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔ اس لئے یہ ناراضگی بھی میری اپنی طرف ہی ری ڈائریکٹ ہو رہی ہے :-s



میں سوچ رہی ہوں کہ میں وہ گانا ڈھونڈ کر اپنی voice mail میں ریکارڈ کر لوں اور خود بھی سارا دن سنتی رہا کروں۔۔ ‘ کسی بات پر میں کسی سے خفا ہوں۔۔۔میں زندہ ہوں پر زندگی سے خفا ہوں۔ :lashbtng ‘

8 comments:

  • ڈفر says:
    21 November 2008 at 12:21

    ان ساری خفگیوں پر آپکا ریسپانس کیا ہوتا ہے؟
    مجھے تو ہر ہفتے یہی لکھا ملتا ہے کہ اس ہفتے خوشی ملے گی، بات پکی ہو گی، منگنی ، شادی اور پتا نہیں کیا کیا پر ندارد،میرے خیال میں ٹائٹل ہونا چاہئے، یہ ہفتہ ایسا نہیں گزرے گا :dont
    آپکے بلاگ کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انٹرنیٹ ایکسپلورر میں پوسٹ کا ٹیکسٹ بائیں سِرَک جاتا ہے۔ میرے بلاگ تھیم میں ٹریک بیک کا وجٹ ہی نہیں‌۔

  • بدتمیز says:
    21 November 2008 at 13:39

    جو لوگ ناراض ہوں ان سے خود بھی ناراض ہو جانا چاہئے۔ کم از کم میں تو ایسا ہی کرتا ہوں۔ پہلے رج کر لوگ ناراض ہونے کا شوق پورا کر لیں بعد میں دیکھی جائے گی۔
    اسی طرح یہ جو ملنے ملانے والے ہیں، میں تو ان کا بھی صاف کہہ دیتا ہوں کہ آ کر ملیں بھی مجھے نہ کہیں کہ میں نہیں ملا۔ ابھی گھر فون کیا تو ارشاد ہوا فلاں کو فون نہیں کیا۔ میں نے کہا فلاں‌کو کہو فون کرے۔ :bgrin

  • شگفتہ says:
    21 November 2008 at 18:22

    لیں ۔ ۔ ۔ ننھیالی اور ددھیالی رشتوں کا سب حسن شکووں میں ہی تو ہوتا ہے :)

    مجھ سے بھی ہر دوسرا بندہ ناراض :( :) مجھے شروع سے آخر تک یہی خیال رہا کہ کہیں کسی جگہ میرا بھی نام لکھا ہو گا اور ساتھ میں خفگی کی وجہ بھی ۔ ۔ ۔ پر فرحت ، آپ نے تو لکھا ہی نہیں :smile

    شگفتہ’s last blog post..منتخب کلام

  • Virtual Reality says:
    22 November 2008 at 01:54

    @ ڈفر: :D 'یہ ہفتہ ایسا نہیں کرے گا' ۔۔۔ یہ بھی خوب کہا۔
    دوسروں کی خفگی پر میرا رسپانس یہ ہوتا ہے کہ ڈانٹ یا دھمکیاں سن کر میں فوراً فون کر لیتی ہوں یا ٹیکسٹ کر دیتی ہوں۔ اور خفا ہونے والے بچارے اتنے اچھے ہیں کہ اسی کو غنیمت سمجھتے ہوئے فوراً راضی ہو جاتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ old habits never die :D
    جی انٹرنیٹ ایکسپلورر میں بلاگ کو دیکھ کر تو میں خود بھی ڈر جاتی ہوں۔ ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ میں اپنے بلاگ کا نام 'دریچہ' سے بدل کر 'مسائلستان' ٹائپ کا کوئی نام رکھ لوں۔ :(

    یہ widget تو اُس تھیم میں بھی نہیں تھا لیکن بدتمیز نے سیٹ کیا تھا جب تو دکھائی دے رہا تھا۔ خیر۔

  • Virtual Reality says:
    22 November 2008 at 02:34

    @ بدتمیز: سچ میں میرا بھی یہی دل چاہتا ہے کہ میں بھی یوں ہی کروں لیکن اکثر غلطی بھی میری ہی ہوتی ہے کہ لوگ فون کرتے ہیں۔ میں ہی نہیں سن سکتی۔ کبھی مصروفیت اور کبھی موڈ کی وجہ سے :) ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ مجھ جیسے لوگوں کو اتنا سوشل ہونا ہی نہیں چاہئیے ورنہ ایسی حالت ہو جاتی ہے۔

    @ شگفتہ: ٹھیک کہا آپ نے۔ ویسے میرے ننھیالی ددھیالی سب رشتہ دار تو بہت معصوم سے ہیں ۔ اتنے لوونگ۔ میری لاپرواہیاں اپنی جگہ لیکن وہاں سے شکوے کم ہی ہوتے ہیں بلکہ انہی کے لاڈوں نے میری عادتیں بگاڑی ہیں۔ :shy:
    آپ کا نام لکھتے لکھتے رہ گئی کہ کم از کم آپ تو مجھ سے خفا نہیں ہو سکتیں۔ ہے ناں؟
    شازیہ جی کو اتنا لمبا ذپ کیا کل کہ شگفتہ کو بتائیے گا کہ میں روم میں نہیں تھی۔ دیر سے دیکھے آپ کے میسجز :(

  • شگفتہ says:
    23 November 2008 at 10:22

    :)

    نہیں فرحت میں ناراض نہیں بلکہ مجھے پوسٹ میں آخر تک یہ ڈر رہا کہ کہیں آپ یہ لکھیں کہ کچھ لوگوں سے آپ بھی ناراض ہیں اور ان میرا نام اوپر ہی اوپر کہیں ہو
    :blush:

    ویسے فرحت آپ نے تو میرے خفا ہونے کا رستہ ہی بند کر دیا یہ لکھ کر کہ میں خفا نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ اب کیا کروں :qstn :wha

    شگفتہ’s last blog post..منتخب کلام

  • بوچھی says:
    26 November 2008 at 02:28

    :funny :funny

  • Virtual Reality says:
    28 November 2008 at 05:55

    @ شگفتہ! میں صرف اپنے آپ سے ناراض ہوتی ہوں۔ اور ویسے بھی آپ سے ناراض ہونا بہت مشکل ہے :)


    :lashbtng اسے کہتے ہیں دور اندیشی۔ اب آپ مجھ سے خفا نہیں ہو سکتیں :smile

    @ بوچھی: :smile :flwr

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔