Friday, 31 October 2008

او دیس سے آنے والے بتا! (عابدہ پروین)

او دیس سے آنے والے بتا! : عابدہ پروین

کلام: اختر شیرانی+ احمد فراز








او دیس سے آنے والے بتا


کس حال میں ہیں یارانِ وطن


وہ باغِ وطن فردوسِ وطن


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں


مستانہ ہوائیں آتی ہیں


کیا اب بھی وہاں کے پربت پر


گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں


کیا اب وہاں کی برکھائیں


ویسی ہی دلوں کو بھاتی ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




وہ شہر جو ہم سے چھُوٹا ہے، وہ شہر ہمارا کیسا ہے


سب لوگ ہمیں پیارے ہیں مگر وہ جان سے پیارا کیسا ہے


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی


سر مست نظارے ہوتے ہیں


کیا اب بھی سہانی راتوں کو


وہ چاند ستارے ہوتے ہیں


ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے


کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




شب بزمِ حریفاں سجتی ہے یا شام ڈھلے سو جاتے ہیں؟


یاروں کی بسر اوقات ہے کیا ہر انجمن آرا کیسا ہے


او دیس سے آنے والے بتا




کیا اب بھی مہکتے مندر سے ناقوس کی آواز آتی ہے


کیا اب بھی مقدس مسجد پر مستانہ اذان تھراتی ہے


کیا اب بھی وہاں کے پنگھٹ پر


پنہاریاں پانی بھرتی ہیں


انگڑائی کا نقشہ بن بن کر


سب ماتھے پہ گاگر دھرتی ہیں


اور اپنے گھر کو جاتے ہوئے


ہنستی ہوئی چہلیں کرتی ہیں


او دیس سے آنے والے بتا




مہران لہو کی دھار ہُوا


بولان بھی کیا گُلنار ہوا


کس رنگ کا ہے دریائے اٹک


راوی کا کنارہ کیسا ہے


اے دیس سے آنے والے مگر تم نے تو نہ اتنا بھی پوچھا


وہ کَوی جسے بن باس ملا، وہ درد کا مارا کیسا ہے



او دیس سے آنے والے بتا



کیا اب بھی کسی کے سینے میں


باقی ہے ہماری چاہ بتا


کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے


اب یاروں میں کوئی آہ! بتا


او دیس سے آنے والے بتا


للہ بتا للہ بتا


او دیس سے آنے والے بتا

مکمل تحریر  »

Thursday, 30 October 2008

زندگی

ساتھ چلنے والے جب


ساتھ چھوڑ جاتے ہیں


http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/11/071109_suicide_timeline.shtml

















وقت تھم نہیں جاتا


کوئی مر نہیں جاتا


کوئی مر بھی جائے تو


زندگی نہیں رُکتی





اکتوبر 2005






راستوں کو چلنا ہے


راستے تو چلتے ہیں


یار دوست ملتے ہیں


زخم ایسے سلتے ہیں


گرد گرد لمحوں میں


عُمر کٹ ہی جاتی ہے


کچھ مُسافروں کو بس


منزلیں نہیں ملتیں!!!









مکمل تحریر  »

Tuesday, 28 October 2008

ذرا پہچانئے!!



Enlarged Image




کل مجھے ایک ای میل میں یہ تصویر ملی ہے۔۔ بھیجنے والی کے مطابق وہ اس میں پچاس سے زیادہ مشہور لوگوں کو پہچان چکی ہے۔ میں نے کوشش کی تو پتہ چلا کہ میں تقریباً 30 کے قریب لوگوں کو پہچانتی ہوں۔ کچھ کے چہرے کہیں دیکھے ہوئے لگتے ہیں لیکن ذہن میں نہیں آ رہا۔مجھے ان میں چارلی چپلین، آئن سٹائن، مہاتما گاندھی، صدام حسین، ملکہ الزبتھ دوئم، مارگریٹ تھیچر، ولادی میر لینن ، بروس لی ، افلاطون، سقراط، ارسطو، بل کلنٹن، ولیم شیکسپیئر، ابراہم لنکن، ایلوس پریسلے، مارلن منرو،سٹالن ، علامہ اقبال (مجھے لگا جیسے یہ اقبال ہی ہیں :blush: )، ماؤزے تنگ، ، انور سادات، ایڈولف ہٹلر، نپولین، چنگیز خان ،  مائیک ٹائی سن  ، پیلے (ساکر پلیئر) ، مدر ٹریسا، نیلسن منڈیلا، دانتے :-s ، ولادی میر پیوٹن، شہزادہ چارلس، بروس لی، یاسر عرفات، فیدل کاسترو، چی گویرا نظر آ رہے ہیں۔ایک چہرہ کم ال سنگ جیسا لگ رہا ہے۔ صدام حسین کے ساتھ والی شخصیت بھی کچھ دیکھی لگ رہی ہے۔ کوئی اور صورت واقف نظر آئی تو لسٹ اپڈیٹ ہوتی جائے گی۔دائیں طرف آخر میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوا بندہ اسامہ بن لادن جیسا دکھ رہا ہے اور اس سے آگے ٹیلی سکوپ اٹھائے جارج بش جیسا

میں تو بہت نالائق ہوں اس لحاظ سے :shy:

مکمل تحریر  »

Wednesday, 22 October 2008

ٹینا فے بطور سارہ پیلن

امریکہ کے صدراتی الیکشن میں میری دلچسپی اتنی ہی ہے جتنی کسی پاکستانی کی ہونی چاہئیے کہ انیس بیس کے فرق سے ہمارے لئے ہر سربراہ کی پالیسیز تقریباً ایک سی ہی ہیں۔ اس کے باوجود صدارتی مہم اور امیدواروں سے متعلق خبریں میں بڑے ذوق و شوق سے سنتی اور دیکھتی ہوں۔ پہلے اس کی وجہ 'The Daily Show with Jon Stewart' تھا اور پھر سارہ پیلن کے میدان میں آنے کے بعد ‘ٹینا فے‘ کا Saturday Night Live ۔۔ کیونکہ ان دونوں پروگرامز میں جس طرح ان کے بیانات اور مہم کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے اگر آپ کو پتہ نہ ہو کہ کس تناظر میں بات ہو رہی ہے تو مزہ نہیں آتا۔ ڈیلی شو میں تو پوری ٹیم کا کام دیکھنے والا ہوتا ہے لیکن Saturday Night Live میں سب سے مزے کا سیگمنٹ وہ ہوتا ہے جہاں ٹینا فے کو سارہ پیلن کے طور پر ایکٹنگ کرنی ہوتی ہے۔ جب جان میکن نے سارہ پیلن کو اپنی نائب صدر کے طور پر نامزد کیا تو اکثر لوگوں نے ٹینا اور سارہ پیلن کی مشابہت کا ذکر کرنا شروع کیا




www.huffingpost.com

اور پھر جب SNL میں ٹینا فے نے سارہ پیلن کو کاپی کرنا شروع کیا تو واقعی اصل اور نقل میں فرق بتانا مشکل ہو جاتا تھا۔



خصوصاً اس ہفتے کا پروگرام تو بہت ہی مزے کا تھاخصوصاً اس ہفتے کا پروگرام تو بہت ہی مزے کا تھا کہ سارہ پیلن بنفسِ نفیس خود پروگرام میں شامل تھیں :D

30 Rock سے SNL تک ٹینا نے ہمیشہ ایک سے بڑھ کر ایک پرفارمنس دی ہے۔ ٹینا فے از سو گڈ۔

یہ پروگرامز دیکھتے ہوئے مجھے اکثر امریکہ میں پاکستانی سفیر ‘حسین حقانی‘ کا خیال آ جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جیو ٹی وی پر شاید ڈاکٹر شاہد مسعود کے کسی پروگرام کا کلپ چلتا تھا جس میں حسین حقانی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے تھے کہ امریکہ یا دوسرے ممالک میں کہیں بھی سیاست دانوں کا اس طرح مذاق نہیں اڑایا جاتا جس طرح پاکستان میں میڈیا کرتا ہے۔ لگتا ہے جیسے انہیں امریکہ میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے کبھی ٹیلیویژن دیکھنے کا موقع نہیں ملا ۔

مکمل تحریر  »

Thursday, 9 October 2008

آگہی

8 اکتوبر 2005 کی اُس صبح میں نے پہلی بار جانا کہ اپنی طرف بڑھتی آنے والی موت کی آہٹ کا احساس کیسا ہوتا ہے!



 

مکمل تحریر  »

Wednesday, 1 October 2008

لطیفہ






حکومتِ پاکستان ایک خاتون کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا سربراہ تو بنا دیتی ہےلیکن بنک سے متعلقہ معاملات میں عورت کو گواہ کے طور پر قبول نہیں کرتی۔ واہ :haha:





تفصیل

مکمل تحریر  »

اختتامِ رمضان



ماہِ رمضان ختم ہو گیا اور اتنی جلدی ہوا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد شاید میرا یہ پہلا رمضان تھا جس میں میں بالکل فارغ تھی۔ پڑھائی، اسائنمنٹس، کام وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ روزوں میں باقاعدگی کی عادت تو بچپن سے ہی ہے۔ اس بار اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کا وقت مل گیا۔ سو جی بھر کے وہ سب کام کئے جو مصروفیت پہلے کرنے نہیں دیتی تھی۔ خوب سوئی، کب سے شروع کی ہوئی کتابیں ختم کیں اور سب سے بڑھ کر کتنے سالوں بعد باقاعدگی سے ٹیلی ویژن دیکھا۔ ایسے موقعوں پر اماں پنجابی کا کچھ ایسا ہی محاورہ بولتی ہیں کہ ‘ اَنھے (اندھے) ہو گئے تے سون (سونے کی) دیاں موجاں‘ ۔ نیا کام یہ ہوا کہ زندگی میں پہلی بار سحری خود بنانی پڑی۔ ورنہ تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ برتن لگا دیئے یا سحری کے بعد کچن سمیٹ دیا۔ ہاں افطار میں اماں اور بھابھی کے ساتھ مدد ضرور کرتی تھی۔ لیکن اس بار تو سب کچھ خود کرنا پڑا۔ لوگوں کو تو نانی یاد آتی ہیں لیکن مجھے یہاں بھی امی ہی یاد آئیں :) ۔ جس جس کو پتہ چلتا ہے کہ میں سحری میں پراٹھے بناتی رہی ہوں ، اس کے حیرت کے مارے بیہوش ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے زندگی میں کبھی پراٹھا نہیں بنایا۔

اکثر پاکستان میں ایسا ہوتا تھا کہ لوگ لاؤڈ سپیکر پر چندے کی اپیل کر رہے ہیں اور جب کسی نے کوئی رقم دی تو اس کے نام کے ساتھ اعلان کیا کہ فلاں نے اتنے روپے چندہ دیے ہیں۔ ہم ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی یہاں بھی یہ کام شروع ہے۔ اور اس بار تو حد ہو گئی مشرومنگ والا حساب۔ لاتعداد ادارے میدان میں آ گئے ہیں۔ اور پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک آدھ چینل جس کے قیام کا اصل مقصد ہی اس طرح پیسہ اکٹھا کرنا لگتا ہے ، ان اداروں کے پروگرام چلاتے تھے۔ لیکن اس بار یہاں کے تقریباً تمام پاکستانی چینلز پر یہ کام دھڑلے سے کیا گیا۔ حتیٰ کہ پی ٹی وی گلوبل پر بھی دو دو گھنٹوں کے لائیو پروگرام چلائے گئے جس میں اداکاروں اور گلوکاروں سے چندے کے لیے اپیل کرائی گئی۔ اتنی اپیلیں تو میں نے 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان میں بھی کسی چینل پر نہیں دیکھیں۔ رمضان ختم ہوا، اب ایک بار ذی الحج کے دس دن یہ لوگ پھر دکھائی دیں گے اور پھر پورا سال کوئی خیر خبر نہیں کہ کہاں، کیا اور کتنا کام کیا چیریٹی کا۔

dawn news






یہاں کچھ لوگوں نے آج سعودی عرب کے ساتھ عید منائی۔ جب کہ مون سائٹنگ کے مطابق عید کل بدھ کو بنتی ہے چنانچہ اس بار ہم بھی پاکستان کے ساتھ عید منائیں گے :)۔ میری طرف سے سب کو بہت بہت عید مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلم امہ اور پاکستان کی مشکلات آسان فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔


مکمل تحریر  »