Monday, 4 February 2008

زندگی

کتنے ہمدرد ملے، دوست ملے، یار ملے
سب ابھرتے ہوئے سورج کے پرستار ملے
'زندگی تُو ہمیں بازار میں کیوں لے آئی
ہم تو یُوسف بھی نہیں کہ کوئی خریدار ملے'


......................
آج کا دن کیسے گزرے گا، کل گزرے گا کیسے
کل جو پریشانی میں گزرا، وہ بُھولے گا کیسے
کتنے دن ہم اور جئیں گے، کام ہیں کتنے باقی
کتنے دُکھ ہم کاٹ چکے ہیں اور ہیں کتنے باقی
خاص طرح کی سوچ تھی جس میں سیدھی بات گنوائی
چھوٹے چھوٹے واہموں میں ساری عمر بِتائی

2 comments:

  • رجا says:
    13 February 2008 at 01:26

    kahin be kinar se rat-jage , kahin zar nigar se khawab thay!
    Tera kia asool hai zindagi, tujhe kaun iss ka hisab day!
    Yeh jo khawahishon ka parind hai, issey mausamo'n se gharz nahi,
    Yeh urrey ga apni mauj mein , isse aab de ya saraab de

  • Virtual Reality says:
    16 February 2008 at 23:38

    کبھی یوں بھی تیرے روبرو میں نظر ملا کر یہ کہہ سکوں
    میری خواہشوں کا شمار کر، میری حسرتوں کا حساب دے۔۔
    امجد اسلام امجد کی یہ غزل مجھے بھی بہت پسند ہے۔
    کیسی ہو ونڈر لیڈی۔۔اور کہاں ہو؟؟ میں نے ایک دن فون کرنے کی کوشش کی تھی لیکن شاید لائنز بزی تھیں یا کیا مسئلہ تھا۔۔:)

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔