Saturday, 20 October 2007

ہمارے عوام دوست سیاستدان

خودغرض سیاست دان پاکستانی عوام کو جونک کی طرح چوس رہے ہیں۔۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لیکر اب تک اس طبقے نے سوائے ملک کو لوٹنے کے اور کچھ نہیں کیا۔۔کیا حق پہنچتا ہے ان لوگوں کو سینکڑوں قیمتی جانوں کو اپنی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کا۔ کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی جمہوریت کےلئے نام نہاد جدوجہد کے نام پر۔۔ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن کے جلسے میں ہونے والے دھماکے نے کتنے گھروں کے چراغ گل کر دیے۔ لیکن ہو گا کیا کہ ان لاشوں پر سیاست چمکائی جائے گی۔ ہمارے یہاں سیاست کا مطلب "خودغرضی" اور "بےایمانی" ہے۔  عوام کو باور کرایا جائے گا کہ بی بی ان کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔چند دن گزریں گے اورمرنے والوں کو کوئی یاد بھی نہیں کرے گا ماسوا ان کے جن کے وہ پیارے تھے۔۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ معصوم عوام ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں۔ جو شخص اپنی جان بچانے اور کرپشن کی سزا سے بچنے کے لئے کئی سال خودساختہ جلاوطنی میں گزار دے وہ واقعی صرف عوام کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے  :roll: نہ جانے کیوں پاکستانی سیاست دانوں کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے یہ لطیفہ کیوں یاد آتا ہے۔۔
ایک جہاز ہوا میں ہچکولے کھانے لگا تومسافروں نے خوفزدہ ہو کر چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ اس پر پائلٹ کی آواز مائیک پر سنائی دی۔
وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ " خواتین و حضرات گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ آپ پوری طرح محفوظ ہیں۔اپنا دھیان بٹانے کے لئے کھڑکی سے باہر کا نظارہ کریں۔ آپ کو خوبصورت نیلا سمندر نظر آئے گا اور رنگ برنگی کشتیاں دکھائی دیں گی۔ ان میں لال رنگ کی کشتی پر نظر ڈالیں۔۔۔۔۔ میں اسی کشتی میں سے بول رہا ہوں۔

مکمل تحریر  »

Friday, 12 October 2007

I am Okay

In all the world, there is no one else exactly like me
Everything that comes out of me is authentically me
Because I alone chose it
I own everything about me
My body, my feelings, my mouth, my voice, all my actions
Whether they be to others or to myself
I own my fanatasies
My dreams, my hopes, my fears
I own all my triumphs and
Successes, all my failures and mistakes
Because I own all of
ME
I can become intimately acquainted with me
by so doing
I can love me and be friendly with me in all my parts
I know
There are aspects about myself that puzzle me
and other aspects that I do not know
but as long as I am Friendly and loving to myself
I can courageously
And hopefully look for solutions to the puzzles
And for ways to find out more about me
However I Look and sound, whatever I say and do, and whatever
I think and feel at a given moment in time is authentically
ME
If later some parts of how I sounded, thought and felt turn out to be unfitting
I can discard that which is
Unfitting
keep the rest
and invent something new for that
Which I discarded
I can see, hear, feel, think, say, and do
I have the tools to survive
to be close to others,
to be Productive to make sense and order out of the world of
People and things outside of me
I own me, and
therefore I can engineer me
I am me and
I AM OKAY

مکمل تحریر  »

Thursday, 11 October 2007

عید مبارک

اس دفعہ عید کا موقعہ دو انتہائی پیارے لوگوں کی ابدی جدائی کے دکھ کو سوا کر رہا ہے۔۔ابھی تو لوگ نانا جان کی وفات کا پرسہ دینے آ رہے تھے کہ میری جواں سال کزن جو میری بھابھی کی بہن بھی تھیں کی ناگہانی موت نے جیسے سب کے حواس مختل کر دیے ہیں۔۔لیکن مشیتِ ایزدی کے آگے کس کی چلی ہے۔۔۔موت برحق ہے۔۔ صبر تو آ جاتا ہے۔۔بس یہ ہے کہ جانے والوں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔
بہرحال عید کی نماز پڑھنا اور ایک دوسرے کو عید مبارک تو کہنا ہی ہے۔ کہ زندگی کسی کے جانے پر کب رکی ہے۔۔۔ جب تک سانس ہے دنیا کے کام ایسے ہی چلتے رہتے ہیں۔۔
پچھلی دفعہ یہاں تین عیدیں منائی گئیں تھیں جس کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی کو کافی خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا چنانچہ اس بار متفقہ طور پر یکم رمضان کا فیصلہ کیا گیا اور امید تھی کہ عید بھی ایک ہی دن منائی جائے گی لیکن افسوس کہ اس دفعہ بھی کچھ گڑبڑ ہو گئی۔۔ مڈ لینڈز والوں نے کل عید کا اعلان کر دیا ہے جبکہ لندن اور باقی علاقوں میں ہفتے کو عید منائی جائے گی۔۔ اب مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے گھر والے ایک جگہ اکٹھے تو ہیں نہیں۔۔ چنانچہ ایک دوسرے کو فون کیا جا رہا ہے کہ کیا خیال ہے عید کل ہے یا پرسوں( کم از کم خاندان میں تو ایک عید پر اتفاق ہونا چاہئے ناں):کیونکہ یوکے رویت ہلال کمیٹی کے مطابق آج دنیا بھر میں ایک دو جگہوں کے علاوہ کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہمارے ایک فیملی فرینڈ کا فون آیا (ان کی رہائش بھی مڈ لینڈز میں ہی ہے) ۔۔بیچارے کہنے لگے کیا بتاؤں ہمارے تو اپنے خاندان والے دو عیدیں منا رہے ہیں۔۔ کچھ لوگ کل اور کچھ پرسوں عید منائیں گے۔۔ ویسے اس قضیے کی وجہ سے پاکستان اور یہاں کی عید میں کچھ زیادہ فرق باقی نہیں رہا ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عید امتِ مسلمہ اور پاکستان کے لئے عیدِ سعید ثابت ہو اور رمضان کے بابرکت مہینے میں کی گئی عبادتوں اور دعاؤں کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔۔آمین


مکمل تحریر  »