Tuesday, 28 August 2007

ہوا سے باتیں

خیالوں میں گم وہ کھڑکی کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور سامنے پھیلے خوبصورت منظر پر نطریں جمائے اس کی سوچ نجانے کہاں کہاں بھٹکنے لگی۔۔اچانک کھڑکی زور سے بجی اور تیز ہوا کا ایک جھونکا اپنے ساتھ پانی کی بوچھاڑ لئے اند چلا آیا۔۔ہوا نے اس کا چہرہ چُھوتے ہوئے پوچھا۔۔“کیا سوچ رہی ہو؟“۔۔
“سوچ رہی ہوں۔۔انسان نے اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔۔ہواؤں، پانیوں، خلاؤں ہر جگہ تو اس کے قدم پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اس نے کائنات کوتسخیر کر لیا ہے۔۔“
ہوا استہزائیہ انداز میں ہنسی اور گویا ہوئی۔۔“ہاں! کائنات کو مسخر کیے جا رہا ہے اور اس دُھن میں بھول گیا ہے کہ اس سے زیادہ اہم دلوں کو تسخیر کرنا ہے۔۔۔“
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن تیزجھونکے نے جیسے اس کو روک دیا۔۔“ مجھے بتانے دو۔۔ابنِ آدم نے اشرف ولمخلوقات ہونے کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔۔
تم کس انسان کی بات کرتی ہو۔۔وہ جو خود کو اشرف المخلوقات گردانتا ہے مگر خود کو حیوانوں کے درجے سے بھی نیچے گرا دیتا ہے۔۔اپنی حساسیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور سنگدلی کی انتہا کو چُھو لیتا ہے۔۔انصاف کی رٹ لگاتا ہے اور خود ظلم و بربریت کی نت نئی داستانیں رقم کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔“
بے شمار چیخیں اس کی سماعتوں پر جیسے ہتھوڑے برسانے لگیں۔۔ اس نے اس شور سے بچنے کے لئے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔۔
“ابھی تو آغاز ہے اور تم ابھی سے ہی۔۔۔۔“ ہوا نے سرسراتے لہجے میں کہا۔۔۔“ابھی تو میں نے انسان کے قہر و غضب کی وہ داستانیں نہیں سنائیں جو قریہ قریہ گھومتے میری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔۔۔ذرا سونگھو تو سہی۔۔مجھ میں بسی خون کی بساند تمھیں بہت کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔میرا گزر وہاں سے بھی ہوا ہے جہاں خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔۔اپنے ہی اپنوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔۔رنگ،نسل،مذہب،فرقے کو بنیاد بنا کر لاشوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔۔اس دور کا ہر انسان اپنی ذات میں چنگیز و ہلاکو خان بنا جا رہا ہے۔۔یہ ہے تمھاری خلافت؟؟۔۔۔“
ایک چھناکا ہوا اور کھڑکی کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔۔اُسے یوں لگا جیسے کانچ کے یہ ریزے اس کے جسم میں آن چبھے ہوں۔۔

درد سے بےحال ہوتے ہوئے اس نے سُنا۔۔۔ ہوا کہہ رہی تھی۔۔
“ بلند و بانگ دعوے نوعِ بشر کا خاصا ہیں۔۔ہاں وہی دعوے جو وقت کی بہتی لہروں کے سامنے محض ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔۔“ گرد کا ایک بگولہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں جیسے ریت بھرتی چلی گئی۔۔
“ابنِ آدم ہی ہے ناں جو کہتے نہیں تھکتا کہ وہ اپنی وجہ سے کسی کو دُکھی نہیں دیکھ سکتا اور یہ کہتے ہوئے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کتنی آنکھیں اس کے اس جملے پر برس پڑتی ہیں۔۔ صاف گوئی کا دعوٰی کرتا ہے لیکن کتنے ہی دل اس کی حیلہ ساز فطرت کا شکار ہو کر ایسے بکھر بکھر جاتے ہیں۔۔“۔۔۔ امید ویاس کے صحرا میں بھٹکتی ان گنت آنکھیں سوال بن کر اس کے ذہن سے چپک سی گئیں۔
“نہیں۔۔۔بہت کچھ اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔زندگی کی مجبوریاں اسے ایسا بنا دیتی ہیں۔۔۔“ اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔۔
“کون سی مجبوریاں؟؟۔۔یہ خود ساختہ مجبوریاں ہیں۔۔اپنا دوش دوسروں کے سر رکھنا تم انسانوں کا ازلی شیوہ ہے۔۔واہ رے انسان۔۔نکالے گئے جنت سے اپنے کئے پر اور دوش دیا ابلیس کو۔۔دست و گریباں ہوئے خود اور الزام رکھا ابلیس کے سر۔۔اگر تم اتنے ہی کمزور تھے تو کیوں اٹھایا خلافت کا بوجھ؟؟؟۔۔مان لو۔۔انسان نفس کاغلام ہے۔۔مان لو آج کا انسان جھوٹ کی آبیاری کر رہا ہے۔۔مان لو۔۔انسان بلندیوں کی طرف پرواز کے بجائے پستیوں میں گر رہا ہے۔۔مان لو۔۔مان لو۔۔۔۔“
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پیچھے ہٹی۔۔ہوا نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔۔اور کھڑکی کے پٹ زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گئے۔

3 comments:

  • ماوراء says:
    29 August 2007 at 15:21

    السلام علیکم فرحت۔ مجھے آپ کو پڑھنے کا موقع کم ہی ملا ہے۔ کیونکہ آپ واقعی بہت کم بولتی(لکھتی) ہیں۔ لیکن جب آپ بولتی ہیں تو بہت اچھا بولتی ہیں۔پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ آپ نے لکھا ہے۔ آپ تو رائٹر بھی بن سکتی ہیں۔ اتنے اچھے انداز میں آپ نے بیان کیا۔ اور پھر الفاظ کا چناؤ اور بھی زبردست تھا۔ مجھے یقین ہے۔ کہ آپ کو پڑھنے سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

  • راہبر says:
    30 August 2007 at 07:25

    آپ بھی اتنا فلسفیانہ انداز سے سوچتی ہیں؟ ویری گڈ۔ یہ کچھ افسانہ ٹائپ کی تحریر ہے۔۔۔ دل کو چھو جانے والی۔۔۔! اندازِ بیاں بہت خوب ہے۔

  • Virtual Reality says:
    10 September 2007 at 12:57

    ماوراء بہت شکریہ۔۔۔ بس کبھی کبھار ہی کچھ ذہن میں آتا ہے اور اگر میری سستی اجازت دے تو اس کو کہیں لکھ لیتی ہوں ورنہ تو۔۔ہم کہاں کے ماہر تھے :)

    عمار: مجھے مزہ آیا ہپ پڑھ کر کہ' آپ بھی اتنا فلسفیانہ انداز سے سوچتی ہیں؟'۔۔۔آپ کی حیرت بجا ہے۔۔میں ایسی فلاسفی کم کم ہی سوچتی اور بولتی ہوں :)
    آپ کو پسند آئی۔۔بہت شکریہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔