Wednesday, 11 September 2013

میرے قائدِ اعظم !

میرے محترم قائدِ اعظم۔۔۔!
آپ سے بات کرنا اس قدر دشوار سا کیوں لگ رہا ہے۔ ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں اور آپ کے کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود میرا سر شرمندگی کے مارے جھکتا ہی جاتا ہے۔ 
ایک وقت تھا جب میں تمام سال اور خصوصاؐ  آپ کی سالگرہ اور برسی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ لہک لہک کر 'یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔۔اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان' گایا کرتی تھی اور کبھی آپ کے تحفے کو ہمیشہ سنبھالے رکھنے کے دعوے یہ کہتے ہوئے کیا کرتی تھی کہ 'اے روحِ قائد! آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔'۔ اور ایسے موقعوں پر میں یہی سمجھتی تھی کہ میرے قائد وہیں سٹیج پر تشریف فرما ہیں اور ہماری باتیں اور وعدے سن کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں لیکن آج میں کچھ کہہ نہیں پا رہی کہ آپ کے چہرے سے چھلکتا غم اور آپ کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی مجھے میری نااہلی اور بے حسی کا احساس دلا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر 'اے قائدِ اعظم! تیرا احسان ہے احسان' کہنا چاہ رہی ہوں لیکن میرے اندر گونجتی ایک آواز یہ کہہ کر کہ 'اگر تم واقعی اسے احسان سمجھتیں تو آج اپنے ہی ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے قائد کی نشانی کو تباہ نہ ہونے دیتیں۔' بہت مشکل سے اس آواز کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر میں 'آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔' کہنے لگتی ہوں تو وہی آواز ایک بار پھر ایک نئے سوال کے ساتھ میرا راستہ روک لیتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ 'پہلے ان تمام وعدوں کا حساب دو جو ہوش سنبھالنے کے بعد روحِ قائد کے ساتھ کئے تھے۔' 
اور جب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 'قائدِ اعظم میں کیسے آپ کو بلکہ آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاؤں کہ میں نے وہ وعدے صدقِ دل سے کئے تھے اور ان کو نبھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ آپ کی میراث کی حفاظت نہ ہو سکی لیکن اس کے لئے میں اکیلی کیا کرتی۔ یہ تو ان ناعاقبت پسند حکمرانوں کی کرنی ہے جس کا نتیجہ ہر طرف پھیلی بے سکونی اور تباہی ہے' توپھر وہی آواز میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔ 'وعدے نبھانے کے لئے 'کوشش' نہیں 'عمل' کی ضرورت ہوتی ہے ، مستقل مزاجی اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہارے جذبے صرف کسی قومی دن پر ہی جاگا کرتے ہیں اور وہ بھی زبان ہلانے کی حد تک۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ان حالات کی ذمہ دار نہیں ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم تو اس قائد سے محبت کی دعویدار ہو جو کہا کرتا تھا کہ قوموں کی تقدیر و تعمیر افراد کے ہاتھ میں ہے اور جب قومی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو تم خود کو صرف ایک اکائی سمجھ کر الگ ہونا چاہتی ہو۔ یاد رکھو وہ 'قائد' بھی ایک فرد ہی تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا لیکن اگر تم یہ سمجھ سکتیں تو آج قائد کے سامنے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتیں'۔

شرمندگی سے میری زبان کُھل نہیں رہی لیکن میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی نااہلی پر معافی مانگ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی نصیحت سننا چاہتی ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود میں آپ کے تحفے کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہوں۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اگر اپنے حصے کا دیا جلا جاؤں گی تو اس کی لَو سے ایک اور دیا ضرور روشن ہو گا۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں آپ کے سامنے شرمندگی سے گردن جھکا کر نہیں بلکہ خوشی سے سر اٹھا کر کھڑی ہوں گی تب مجھے کوئی آواز کچھ کہنے سے نہیں روکے گی۔ 
مجھے یاد آ رہے ہیں آپ کے وہ الفاظ جو آپ نے 1936ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ 
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک عمل سے گزرنا ہو گا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں۔ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ، ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں ، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔" 

 آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔ ہم ایک بار پھر ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جن کا آپ نے اس وقت تذکرہ کیا تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا فرض اور قرض ضرور ادا کرے گا ان شاءاللہ۔ اآئندہ سے وعدے نہیں ہوں گے صرف عمل ہو گا۔

اور اب مجھے لگ رہا ہے آپ مسکرا رہے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے چھ سالہ بھتیجے کی طرح بھرپور جوش اور جذبے سے نعرہ لگاؤں۔

!قائدِاعظم۔۔۔زندہ باد
!پاکستان۔۔۔پائندہ باد 


مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 September 2013

21 ویں صدی کے والدین!


مکمل تحریر  »