Sunday, 4 March 2012

ہمسفراور بے/ لا انتہا

ٹرن ٹرن ٹرن فون بجا۔
میں: السلام علیکم
میری کزن: وعلیکم السلام۔ عبداللہ کی سالگرہ جمعہ کو مغرب کے بعد ہے۔ سب لوگ وقت پر پہنچ جانا۔'
میں: لیکن سالگرہ تو ہفتہ والے دن بنتی ہے۔'
کزن: ہے تو ہفتے کو ہی۔ لیکن کیونکہ شام کو ہی سب آ سکتے ہیں اور ہفتہ ہی کو ہمسفر کی آخری قسط آ رہی ہے۔ تو بہتر سمجھا جمعہ رکھ لیں۔ ورنہ پھر اتوار کو انتظام کرنا ہو گا۔'
کچھ مزید۔۔۔۔
فون پر ٹیکسٹ میسج کی بیپ آئی۔
"پڑوس کا بچہ: 'انکل! یہ لیں مٹھائی، امی اور باجی نے بھیجی ہے۔'
انکل: 'اللہ مبارک کرے۔ کس خوشی میں بھیجی ہے؟'
بچہ: وہ ہمسفر میں اشعر کو سب سچ پتہ چل گیا۔''
اسی طرز کے کئی پیغامات میرے فون کے ان باکس میں موجود ہیں۔

میری کزن جو اسی سال انٹر میں گئی ہے ، ایک دن مجھے کہنے لگی اگر آپ کے پاس 'وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی' والی غزل ہے تو مجھے ابھی بھیجیں۔ میں اگرچہ حیران ہوئی کہ ہپ ہاپ میوزک کی شوقین کا ذوق ایک دم سے اتنا تندیل کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر فائل ٹرانسفر ہونے کے بعد اس نے غزل چیک کی۔ پھر بہت ناراض انداز میں بولی۔ ' میں نے آپ سے یہ بور غزل نہیں مانگی تھی۔ کیو بی والی غزل کی بات کی تھی۔ ابھی میں اسے اپنی پسندیدہ گلوکارہ عابدہ پروین اور میری، دونوں کی شان میں گستاخی کی سنگین غلطی پر جھاڑ پلانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اس نے پوچھا۔ آپ ہمسفر ڈرامہ نہیں دیکھتیں؟ میرے نفی میں جواب پر اس کی آنکھیں اور منہ بیک وقت اس طرح کھلے :dntelme کہ مجھے وہی صدیوں کا گھسا پٹا مکھی والا جملہ بولنا پڑا۔ خیر اس کے بعد مجھے ڈرامہ کی کہانی سنائی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ میں یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں گی۔
سو ایک ویک اینڈ پر میں بھی دیگر متاثرین کے ساتھ بیٹھ گئی کہ طعنوں سے بچت تو ممکن ہو۔ ہر دفعہ وقفہ ہونے پر ڈرامہ کی پنکھیاں مجھے اس قدر داد طلب نظروں سے دیکھتیں جیسے ڈرامہ انہوں نے ہی بنایا ہو۔ خیر میرے خیال میں (جسے سب نے اتفاقِ رائے سے نامعقول خیال قرار دے دیا)، ڈرامہ کی پروڈکشن واقعی بہت اچھی تھی لیکن کہانی کچھ زیادہ ہی روایتی ہو گئی۔ اور مزید یہ کہ ڈرامہ کا نام ہمسفر کے بجائے 'بے انتہا؛ یا 'لا انتہا' ہونا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جو قسط میں نے دیکھی اس میں خرد مظلومیت کی انتہا پر تھی۔ 45 منٹ کے ڈرامے میں خرد نے آنسوؤں کی ان گنت بالٹیاں، ٹب بلکہ ٹینک بہا دیئے۔ پھر ہیرو یعنی اشعر صاحب انتہا درجے کے بے خبر۔ نہ انہیں اپنی بیگم کے حالات کی خبر ہے اور نہ ہی کزن کے خیالات کی۔ نہ اماں جان اور خالہ جان کی سیاستوں کی خبر ہے۔ حد ہے بھئی۔ اب سارہ کی باری آئی۔ انتہا درجے کی شدت پسندی۔ سو میرے مطابق اس ڈرامہ کا نام ہمسفر تو ہر گز نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اگرچہ اپنے اس اظہارِ خیال کے بعد مجھے بہت سی خونخوار نظروں کا سامنا کرنا پڑا :dont اور آخر میں یہ فیصلہ بھی سننا پڑا کہ آپ آئندہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ نہیں دیکھیں گی۔ جس پر میں تب سے بہت سعادتمندی سے عمل کر رہی ہوں کہ پھر مجھے کسی نے اس بارے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ :cn
تفنن بر طرف میں نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں پی ٹی وی کے سنہری دور کے ڈرامے دیکھے ہیں شاید اسی لئے مجھے اب والے ڈراموں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ڈرامہ کی پروڈکشن مجھے واقعی اچھی لگی۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے کریڈٹ پر ایک کامیاب ڈرامہ آ گیا۔ قرۃ العین بلوچ نے غزل بہت اچھی طرح گائی ہے۔ رائٹر سنا ہے خواتین کے رسالوں کی کافی معروف مصنفہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اکثر لوگ پھر پاکستانی ڈرامہ کی ریواول کی بات کرتے ملتے ہیں۔ اگر اس میں کچھ مقصدیت بھی شامل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی۔ :smile
اب میرے خیال میں شاید رات اس ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہو چکی ہے۔ تو پاکستانی قوم کا یہ جنون بھی ختم ہو جائے گا۔ میں یہ پوسٹ نہ لکھتی لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والا آخری واقعہ نے مجبور کر دیا۔ میری ایک سہیلی کے کالج میں پچھلے ہفتے سٹوڈنٹس الیکشنز ہو رہے تھے۔ اس میں ایک امیدوار کے پوسٹر نے مجھے پھر اس ڈرامہ کی یاد دلا دی۔

اب اس کے بعد مزید کیا لکھا جائے۔ صرف یہ کہ متاثرین ہمسفر کو مبارکباد کہ 'اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے' والا انجام ہوا۔
مجھے بھی مبارکباد کہ اب اگر میں کسی کو ہفتے شام میں ملنے یا فون پر بات کا ارادہ کروں گی تو یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوں گی۔ :party
اور الیکشن امیدوار سے اظہارِ افسوس کہ سنا ہے وہ کل کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ :sadd: لگتا ہے ان کے ووٹرز بھی کنوینس نہیں ہو سکے :humm

مکمل تحریر  »