کل ھنگو سے گزر کر ٹل یا تھل جانے کا موقع ملا. سفر کا آغاز ڈرتے ڈرتے ھوا لیکن بھت اچھا رھا دن. بھادر، مصیبت ذدھ پھر بھی خوش مزاج لوگ.
ابھی کوھاٹ ھیں لیکن باھر جانے پر پابندی ھے. لیپ ٹاپ نھیں ھے سوچا بڑوں چھوٹوں سب سے دعا کی درخواست کی جاۓ. بشرط خیریت واپسی روداد سفر بھی لکھوں گی.
دعاؤں میں یاد رکھیں.
بلاگ پر خوش آمدید بلال. آپکے تبصرے کا جواب واپسی پر انشاۂاللۂ. ابھی موبائل سے مشکل ھو رھی ھے.
ارے آپ بغير اجازت کہاں پہنچی ہوئی ہيں ؟
ReplyDeleteآپ جانتی نہيں کہ جن لوگوں کی تعريف آپ نے کی ہے اس کے نتيجہ ميں آپ انتہاء پسند اور ہو سکتا ہے دہشتگرد کہلائيں ؟
خِرد کا نام رکھ ديا جنوں ۔ جنوں کا خِرد
جو چاہے اِن کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
اللہ تعالیٰ آپ کے سفر میں آسانیاں پیدا کرے اور آپ کو با حفاظت منزل مقصود پر پہنچائے۔۔۔آمین
ReplyDeleteبلاگ پر خوش آمدید کہنے کا شکریہ۔ ویسے روداد سفر کا انتظار رہے گا۔
السلام علیکم انکل!
ReplyDeleteبس اچانک پروگرام بنا تو بغیر پوچھے بتائے جانا پڑا۔ :) جو بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ اکثریت بہت سادہ دل اور پیارے دل کے مالک لوگوں کی ہے۔ اب چاہے میں جو بھی لیبل ہوں میں نے تو باقاعدہ شرعی لباس اور حلیے والوں کو اپنے خود ساختہ روش خیالوں سے زیادہ بہتر اور عزت دینے والا پایا۔ حالانکہ جس طرح کے حالات میں یہ لوگ رہ رہے ہیں وہاں رویوں کا منفی ہونا بالکل بھی بے جا نہ ہو۔
بہت شکریہ بلال :)
ReplyDeleteرودادِ سفر بھی لکھوں گی انشاءاللہ اگر اس سے پہلے کوئی اور سفر درپیش نہ آ گیا تو۔ :)