وقتِ سفر قریب ہے بِستر سمیٹ لُوں
بِکھرا ہُوا حیات کا دفتر سمیٹ لُوں
پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک ذرا رُکو
میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لُوں
غیروں نے جو سُلوک کئے اُن کا کیا گِلہ
پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لُوں
کل جانے کیسے ہونگے کہاں ہونگے گھر کے لوگ
آنکھوں میں ایک بار بھرا گھر سمیٹ لُوں
سیلِ نظر بھی غم کی تمازت سے خُشک ہو
وہ پیاس ہے ملے جو سمندر سمیٹ لُوں
اجمل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ
جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لُوں
بٹیا رانی، اتنی ساری "بلا عنوانیاں" کر کے آپ اپنے قارئیں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہیں۔ کچھ متعلقہ عنوان ضرور دیا کریں مراسلوں کو اسے سے بعد میں بڑی سہولت رہے ہی۔ لائبریر کی منتظم ہو کر آپ ایسی باتوں کا خیال نہیں رکھیں گی پھر بھلا کون رکھے گا؟ بہر کیف انتخاب بہت لاجواب ہے بس "ذرا" سی ٹائپو سرزد ہوئی ہے ایک جگہ۔
ReplyDeleteمعذرت سعود۔ غزل کا عنوان شعر سے لینا نہیں چاہ رہی تھی اعجاز انکل کی ڈانٹ یاد ہے ابھی تک :smile۔ شاعر کا نام بھی معلوم نہیں تو بس یونہی لکھ دیا۔ لیکن اب ذرا سی غلطی بھی ٹھیک کر دی ہے اور عنوان بھی بدل دیا۔ بہت شکریہ :)
ReplyDeleteبہت خوب انتخاب ہے فرحت صاحبہ،
ReplyDeleteخوبصورت غزل ہے پڑھ کر لطف آیا۔ آپ کی اور سعود بھائی کی گفتگو دیکھ کر خیال آ رہا ہے کہ واقعی مطلع کا پہلا مصرع اس غزل کی خوبصورتی کا مکمل عکاس نہیں ہے۔
بہر کیف ایک خوبصورت انتخاب کا شکریہ۔۔۔۔!