Pages - Menu

Wednesday, 26 November 2008

آساں نہیں زیست کی منزل سے گزرنا

آساں نہیں زیست کی منزل سے گزرنا


اس راہ میں کچھ مرحلے دُشوار بہت ہیں


پُر درد گزر جائیں تو بے کار ہیں صدیاں


لمحے جو سکوں بخش پوں دو چار بہت ہیں

4 comments:

  1. بہت خوبصورت قطعہ ہے، لا جواب!

    ایک بات یہ فرحت کہ شاید آپ کا بلاگ 'اردو سیارہ' کا رکن نہیں ہے، پلیز وہاں بھی رجسٹر ہو جائیں، ربط یہ ہے:

    http://www.urduweb.org/planet/

    شکریہ

    محمد وارث’s last blog post..علامہ اقبال کی ایک فارسی غزل مع اردو ترجمہ

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ وارث۔
    ربط کے لئے بھی بہت بہت شکریہ :) ۔ میں نے اردو سیارہ میں شمولیت کا فارم بھر دیا ہے۔

    ReplyDelete
  3. لمحے جو سکوں بخش پوں دو چار بہت ہیں

    ذبردست ۔
    ۔بہت دن بعد آپ کے بلاگ کو بہت فرصت سے پڑھا ہے فرحت۔ ۔

    ReplyDelete
  4. بہت شکریہ امید :)
    لیکن آپ ہیں کہاں؟ طبیعت کیسی ہے اب؟

    ReplyDelete