سمندر
سمندر دُور تک پھیلی ہوئی اک نیلگوں وُسعت
سمندر زندگی ہے
زندگی کا استعارہ ہے
ہواؤں کو نمی دیتا
سمندر!
ساحلوں کا لمس پیتا
ہزاروں سینکڑوں لعل و گوہر
موتی ، صدف پارے
بچھاتا ساحلوں کی ریت پر
اپنے خزانوں کو لُٹاتا
لکھ داتا
سمندر استعارہ ہے سخاوت کا
بہت خوب ۔ ۔سمندر تو جس روپ میں بھی ہو اپنی جانب ہی کھینچتا ہے
بہت شکریہ وارث اور امید :)
بہت خوب ۔ ۔سمندر تو جس روپ میں بھی ہو اپنی جانب ہی کھینچتا ہے
ReplyDeleteبہت شکریہ وارث اور امید :)
ReplyDelete