Pages - Menu

Saturday, 29 November 2008

سمندر













سمندر


سمندر دُور تک پھیلی ہوئی اک نیلگوں وُسعت


سمندر زندگی ہے


زندگی کا استعارہ ہے


ہواؤں کو نمی دیتا


سمندر!


ساحلوں کا لمس پیتا


ہزاروں سینکڑوں لعل و گوہر


موتی ، صدف پارے


بچھاتا ساحلوں کی ریت پر


اپنے خزانوں کو لُٹاتا


لکھ داتا


سمندر استعارہ ہے سخاوت کا


2 comments:

  1. بہت خوب ۔ ۔سمندر تو جس روپ میں بھی ہو اپنی جانب ہی کھینچتا ہے

    ReplyDelete
  2. بہت شکریہ وارث اور امید :)

    ReplyDelete