پیر ۲۱ اپریل کو سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بغیر ٹکٹ کے ٹرین میں میں سفر کرتے ہوئے پائے گئے ۔۔۔ جب ٹکٹ چکیر نے ان سے ٹکٹ مانگا تو معلوم ہوا کہ ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچنے کی جلدی میں وہ ٹرین کا ٹکٹ لینا بھول گئے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس ٹکٹ کا کرایہ ادا کرنے کے لیے نقد رقم بھی موجود نہیں تھی کیونکہ ٹکٹ کے ساڑھے چوپیس پاؤنڈز بھی وہ جیب میں رکھنا بھول گئے تھے۔۔۔۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے باڈی گارڈ نے کرایہ ادا کرنے کی پیشکش کی لیکن شاید ٹکٹ انسپکٹر کو بلیئر کی حالت پر رحم آ گیا اور اس نے بلاٹکٹ سفر کرنے کی اجازت دے دی۔ جس پر عام لوگوں نے بعد میں احتجاج بھی کیا۔۔
غریب ٹونی بلیئر ۔۔کیا فاءدہ ہوا اتنے بڑےملک کا وزیرِاعظم رہنے کا۔۔اس سے اچھے تو ہمارے پاکستان میں سابقہ وزیر بلکہ ان وزیروں کے چپڑاسی بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔کس کی مجال ہے جو ان کو کہیں روک ٹوک سکے۔۔۔ ایک دفعہ ایک پولیس والے کو فرض شناسی کا بخار ہوا تھا اور اس نے کسی حکومتی عہدیدار کی غیر سرکاری گاڑی کو کالے شیشے ہونے کی وجہ سے صرف روکا ہی تھا کہ اسے حوالات کی ہوا کھانی پڑی اور بطورَ 'انعام' معطل بھی کیا گیا۔۔۔ یہ ٹکٹ انسپکٹر بھی اگر ہوتا ناں پاکستان میں تو مزہ آ جاتا اس کو بھی۔۔۔
درست فرمایا آپ نے، محترم غلط ملک میں پیدا ہو گئے۔
ReplyDeleteکون ٹکٹ چیکر یا پولیس والا؟
ReplyDeleteمیرا تو یہ بھی کہنا ہے ساجد کہ ہمارے لیڈران بھی غلط ملک میں پیدا ہوئے ہیں ورنہ آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا :(
ReplyDeleteعدنان: ساجد تو کسی ایک کی بات کر رہے تھے۔۔میرا خیال ہے دونوں ہی کو پاکستان کی ہوا کھانی چاہئیے۔