Wednesday, 31 December 2014

بس یادیں!!!

بعض اوقات یونہی ایک بے معنی اور غیر متعلقہ بات کتنا کچھ یاد کروا دیتی ہے اور انسان کو یادوں کے اس جھروکے میں لے جاتی ہے جہاں عموماً اسے جھانکنے کی فرصت ہی میسر نہیں ہوتی. ایسا ہی آج میرے ساتھ ہوا. کچھ سوچتے ہوئے ذہن میں 'اف' کا لفظ آیا اور ماضی کے جھروکے سے ایک  خوبصورت یاد چهم سے سامنے آ کهڑی ہوئی.  پانچ سال پہلے یونیورسٹی میں نئے ہم جماعتوں سے متعارف ہوا جا رہا تها. نائجیریا سے آئے ہوئے Uffouma نے اپنا تعارف کروایا تو نئے لہجے اور مختلف نام کی وجہ سے بہت سوں کو نام و تلفظ سمجھنے میں مشکل ہوئی. نہ سمجھنے والوں میں مختلف قومیتوں و ممالک کے لوگ شامل تھے.  Uffouma نے دو تین بار اپنے نام کا تلفظ بتانے کی کوشش کی لیکن کامیابی ندارد. یہ دیکھ کر ہمارے ایک سمسٹر سینئر پاکستانی ہم جماعت کو جوش آیا. وہ اٹھ کر سامنے آئے. ان کے ہاتھ میں موجود فولڈر ایک دم سے ہاتھ سے پھسلا اور ڈھیر سارے کاغذ ، ایک دو کتابیں اور چند اور چیزیں زمین پر بکھر گئیں. بے ساختہ سب کے منہ سے 'اوہ'، 'آہ' کی آوازیں نکلیں. موصوف نے ہاتھ ہوا میں بلند کر کے کہا..'بس یہی تو Uffouma' کا نام ہے. جیسے آپ اچانک کسی غیر متوقع بات پر آپ کے منہ سے اوہ، آہ، آ نکلتا ہے اسے ہماری اردو میں 'اف' بهی کہا جاتا ہے لیکن میرے ملک میں 'اف' کے ساتھ ایک اضافی لفظ بولا جاتا ہے اور وہ ہے 'اماں' . مثال کے طور پر میں گرما گرم کافی کا مگ لیکر کلاس میں آ رہا ہوں اور مگ کا ڈھکن اد کھلا ہونے کی وجہ سے اچانک کافی میرے ہاتھ اور کپڑوں پر گر جاتی ہے تو کافی گرنے کی وجہ سے میں سر پر ہاتھ مارتے ہوئے 'اف' تو کہوں گا ہی لیکن ساتھ ہی ہاتھ جلنے کی تکلیف سے میرے منہ سے 'اماں' بهی نکلے گا. یعنی میں کہوں گا..'اف اماں' " 
اس کے بعد انہوں نے پوچھا: "میں کیا کہوں گا؟" . سب نے یک زبان ہو کر کہا.." اف اماں". اور موصوف نے دو تین بار سب سے یہی کہلوا کر پهر پوچھا .." تو پهر ہمارے نائجیرین  ہم جماعت کا نام کیا ہے بهلا؟" تو ساری جماعت بول پڑی "اوف اماں.... آآآ......اوفاما"  
سو اس ایک لفظ 'اف' نے آج مجھے کتنے خوبصورت لمحات یاد کروا دیے اور طبیعت پر گزشتہ کئی دنوں سے چھائی یژمردگی کو کچھ کم کر دیا.  
سال کے آخری دن ان دنوں اور لوگوں کی یاد شاید مجھے اس لیے بهی آئی ہے کہ ایک عرصے سے اپنی سستی کی وجہ سے میں نے ان اچھے لوگوں کی طرف سے خیر خبر کے لیے آنے والی ای میلز کا جواب نہیں دیا اور اس کوتاہی کے ازالے کے طور پر آج مجھے ان سب کو ان سے پہلے نئے سال کے .
..لیے نیک خواہشات بھیجنی ہیں..
نئے سال کی آمد پر امن، سکون، خوشیوں اور خوشحالی کی دعائیں تمام انسانیت اور اپنے ہموطنوں کے لیے. اللہ تعالیٰ ہمیں آنے والے سال میں سیدھے رستے کو اپنانے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہمیں امن و سکون کی دولت سے مالا مال فرمائیں. آمین. 

مکمل تحریر  »

Tuesday, 2 December 2014

دسمبر آ گیا ہے!!!

صبح دفتر پہنچ کر سامنے میز پر رکھے کیلنڈر پر نظر پڑی تو یکم تاریخ کا صفحہ نظر آیا۔ سائیڈ پر رکھے ریک سے فائل اٹھانے لگی تو اس پر ابھی تیس تاریخ جگمگا رہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ چاچا اس کیلنڈر کا صفحہ پلٹنا بھول گئے ہیں میں نے یکم تاریخ کا صفحہ سامنے کر دیا۔ اور پھر اپنے معمول کے کام شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر کے بعد کسی کام کے لیے فون اٹھایا تو گوگل پلس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ 'تبدیلی آ چکی ہے۔ نئی پوسٹس پوسٹ ہو چکی ہیں۔ ان کو ملاحظہ فرما لو۔ ورنہ بے خبر رہ جاؤ گی۔' اور فی زمانہ بے خبری کا طعنہ اتنا ہی شدید ہوتا ہے جتنا کسی زیادہ پڑھے لکھے خاندان میں ایک معصوم سے نسبتا کم پڑھے لکھے مسکین کو ان پڑھ کا طعنہ ہوتا ہے۔ اس لیے گوگل پلس کا ڈھیروں شکریہ ادا کرتے ہوئے جلدی جلدی خود کو 'باخبر' کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں پہلی پوسٹ ہی بریکنگ نیوز والی ملی۔
  'Last chapter of year started...' 
یہ 'وارننگ'پڑھتے ہی فوراؐ نظر سامنے پڑی ٹیبل ڈائری پر پڑی تو معلوم ہوا کہ آج تو 'دسمبر' کی یکم تاریخ ہے۔ تب معلوم ہوا کہ واقعی 'تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے' یعنی 'دسمبر آ چکا ہے۔' پھر ان  با خبر صاحبِ پوسٹ اور ایک مشہور صاحبِ کلام سے دورانِ گفتگو ان کے بلاگز پر 'دسمبر کی بلاگ توڑ دھمال' کا ذکر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں 'دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا' سننے کی نوبت آ جائے۔ اس لیے میں بھی بطور سند دسمبر کے بارے میں پوسٹ لکھ رہی ہوں۔ اگرچہ زمانہ 24 گھنٹے آگے نکل چکا ہے کیونکہ میں نے سوچا کل تھا اور لکھ آج رہی ہوں۔ لیکن خیر کوئی بات نہیں۔ دیر آید درست آید۔
ہاں تو جی واقعی دسمبر کی ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت ہے۔ دسمبر نہ ہوتا تو سال کبھی ختم ہی نہ ہوتا اور سال ختم نہ ہوتا تو پڑھنے والی اگلی جماعت میں نہ جا سکتے اور لکھنے والے یعنی تنخواہ دار طبقہ جنوری کی تنخواہ نہ لے سکتا۔ دسمبر نہ ہوتا تو سردیوں کی چھٹیاں نہ ہوتیں۔ ویسے تو اب اگر سردیوں کی چھٹیاں نہ بھی ہوا کریں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم تو اب سکول کالج و یونیورسٹی جاتے نہیں۔ اس لیے ہمیں چھٹیوں کا کیا فائدہ بھلا۔ 
دسمبر نہ ہوتا تو ہم قائدِ اعظم کی سالگرہ کب اور کیسے مناتے اور اگر نہ مناتے تو دنیا کے طعنے کون سنتا۔ اب کم از کم ہم ہر سال کے اختتام پر ایک چھٹی کر کے پورا دن قائدِ اعظم کی سالگرہ پورے جوش و خروش کے ساتھ سو کر یا پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھ کر مناتے ہیں۔ یا ٹی وی پر وطن کی محبت میں 'برپا' کیے جانے والے شو دیکھتے ہیں جن میں گانا و بجانا سب کچھ دوسروں سے مستعار لیا ہوتا ہے ۔اور یوں ہم تمام دنیا کو بتاتے ہیں کہ دیکھو ہم اپنے محسنوں کو نہیں بھولے۔
دسمبر نہ ہوتا تو ہم ہر سال 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشیاں کیسے کرتے۔ کم از کم قوم اس مہینے میں مصروف تو رہتی ہے۔ آدھی قوم مشرقی پاکستان و مکتی باہنی کو کوستی ہے اور باقی آدھی مغربی پاکستان کو۔ دنیا کو اب تو ہمارے انصاف پسند اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کے عادی ہونے پر شبہ نہیں ہونا چاہئیے۔ 
 
شکر ہے کہ دسمبر ابھی 'ہے' اس لیے اب نہ ہونے کے خدشات و پریشانیاں ختم کر کے دسمبر کو منانے کے انداز و فیشن کا ذکر ہو جائے۔
یکم دسمبر بلکہ اس سے پہلے سے ہی بقول محمد احمد کے 'گوگل ہر سال عرس پر دھمال ڈالتے قلندر ہر اس جگہ بھیجتا ہے جہاں دسمبر کا بیاں ہوا ہو۔' سو اگر آپ پورا سال بھی بلاگ نہیں لکھتے تو دسمبر میں حتیٰ کہ جون جولائی میں بھی دسمبر کے بارے میں کوئی شعر، نظم، غزل، کہانی، یا صرف دسمبر دسمبر ہوتا ہے سردیوں میں آئے یا گرمیوں میں ہی لکھ دیں۔ آپ کے بلاگ پر یہ بلاگ توڑ ٹریفک کا مہینہ ہو گا۔
خیر اگرچہ ابھی دسمبر آیا ہے اور اس کے جانے میں پورے 29 دن باقی ہیں لیکن ہو گا یہ کہ شروع کے دو چار دن تو سب کو خبر دی جائے گی کہ ''دسمبر آ گیا ہے۔" اور ساتھ ہی دسمبر کی منتیں شروع ہو جائیں گی کہ پلیز نہ جاؤ۔۔اور ان درخواستوں کی شدت دسمبر کے آخری ہفتے میں اپنی  بلندیوں کو چھو رہی ہو گی۔ لیکن یہ 'نہ جانے کی ضد نہ کرو' والی درخواست صاحب ذوق لوگوں کی طرف سے ہو گی ۔ چند میرے جیسے بدذوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پلیز ختم ہو جاؤ۔ نیا مہینہ شروع ہونے دو تا کہ پرس تو کچھ بھاری ہو۔
 مزید یہ ہو گا کہ دسمبر کے بارے میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر شعر پڑھے جائیں گے اور انہیں پڑھنے کا مقصد اچھی شاعری خود پڑھنے سے زیادہ دوسروں کو پڑھوانا ہو گا چنانچہ جہاں کسی شعر و کلام میں دسمبر کا لفظ نظر پڑا فورا کاپی پیسٹ کر کے اسے آگے فارورڈ یا پوسٹ کر دیا جائے گا۔ چاہے بعد میں معلوم ہو کہ یہ تو امسال دمسبر تک بل ادا نہ کرنے والے اشتہاری نادہندگان کی فہرست تھی۔
ہر دسمبر میں عوام کی ایک بڑی تعداد ایک اور سنڈروم کا شکار ہوتی ہے اور وہ ہے 'امجد اسلام امجد' صاحب کے 'آخری چند دن دسمبر کے'میں بیان کیے جانے والے خدشات۔ ہر دسمبر بہت سے لوگ اس غم و تشویش میں گُھلے جاتے ہیں کہ ان کا نام کسی کی ڈائری میں درج دوستوں کی فہرست سے کٹ گیا ہو گا۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم بھی ہوتا ہے کہ اب ڈائری کا زمانہ ہے ہی نہیں۔ لوگ سیدھا سیدھا فون پر نام و نمبر محفوظ کرتے ہیں اور کسی کا نمبر ختم نہیں کرتے کیونکہ جب فون کا پیکج لیا ہو تو پھر فری ٹیکسٹ میسج بھی بھیجنے ہوتے ہیں نا۔ اس خدشے کے شکار لوگوں کو یہ بھی تسلی رکھنی چاہئیے کہ شاید ہی کوئی اتنا پابند ہو کہ ہر سال دسمبر میں اپنی ڈائری کو از سرِ نو مرتب کرتا ہو۔ جس نے نمبر ختم کرنا ہے وہ جنوری سے نومبر میں کسی بھی وقت ایسا کر سکتا ہے اب یہ کوئی ایسا کام تو ہے نہیں کہ کسی خاص مہینے میں کیا جائے۔ اس لیے بیچارے دسمبر کو اس بات کا الزام نہیں دینا چائیے۔

خیر کوئی کتنی ہی درخواست کرتا رہے۔ دسمبر نے جانا ہی ہے اور 31 دسمبر کو چلا ہی جاتا ہے۔ اور رُکے بھی تو کیوں۔۔ہر طرح کی اداسی و پریشانی کا الزام دسمبر کے سر جو منڈھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں کو بالآخر یقین آ جاتا ہے کہ دسمبر جا رہا ہے تو جاتے دسمبر کو 'دسمبر اب کے آؤ تو۔۔۔' کہتے ہوئے ایک طویل فرمائشی فہرست اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ باذوق لوگ تو اس میں بھی بہت خوبصورت و دل نشیں الفاظ استعمال کرتے ہوئے جو درخواستیں کرتے ہیں اس کے لیے مجھے پہلے خود اس کی تشریح سمجھنی پڑے گی پھر یہاں لکھنا ہو گا۔ لیکن ان دنوں فیشن کے مطابق سیاست پر بات کرنا اِن ہے تو میں ایک دو لوگوں کی دسمبر سے درخواستوں کے بارے میں 'وکی لیکس' طرز پر کچھ خبر دیتی ہوں۔
موجودہ حکومت: دسمبر اب کے آؤ تو خان و پی ٹی آئی کو اسلام آباد مت لانا۔
خان صاحب: اؤے دسمبر اب کے آؤ تو نواز شریف کا استعفیٰ ساتھ لانا۔
عوام: دسمبر اب کے آؤ تو گیس کی بندش ختم کروانا۔
اور میں: بھائی لوگو دسمبر کو جانے تو دو۔ جائے گا تو آئے گا نا۔ 
 
 

مکمل تحریر  »

Friday, 14 November 2014

بلا عنوان!!!!!!!

میں اپنے سات سالہ بھتیجے سے: تو پھر سکول اسمبلی میں تقریر بازو لہرا لہرا کر کی؟

بهتیجاموصوف: "کیوں میں نے کوئی انکل طاہر القادری کی طرح تقریر کرنی تھی کیا؟ 

مکمل تحریر  »

Tuesday, 23 September 2014

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم!!!!

کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء

مکمل تحریر  »

Thursday, 14 August 2014

14اگست 14ء





الحمد اللہ۔ آج پاکستان کا 68 واں یومِ آزادی ہے۔ مشکلات ، مصائب، پریشانیوں اور ناکامیوں کے باوجود یہ ملک اور اس کے باسی اپنے وجود کو برقرار بھی رکھ پائے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اوران شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب ہم بھی مثبت ترقی میں بہتوں سے آگے ہوں گے۔ 

ہر سال جب اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے، مجھے وہ دن شدت سے یاد آتے ہیں جب اگست کے شروع میں ابو سب بچوں کے لیے پاکستان کے بیج ، ٹوپیاں اور جھنڈیاں لایا کرتے تھے۔ ہم گھروں اور سکولوں کو جھنڈیوں سے سجاتے تھے۔ ہر گھر پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن پر 14 اگست- 13 دن بعد، 12 دن بعد والا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا تھا اور ہم اپنے اپنے گھروں پر لگی جھنڈیاں شمار کرتے  اور 14 اگست کو صبح صبح سکول کو روانگی ہوتی تھی جہاں قومی ترانے کے بعد نظموں ، ملی نغموں اور تقریریں دل و جاں میں ایک نئی روح پھونکتے تھے۔ گھر واپس آ کر پورے خاندان کے ساتھ ٹی وی پر مارچ پاسٹ دیکھنا اور پھر سارا دن ایسے گزارنا جیسے عید کا سماں ہو۔ اپنے ملک سے محبت اور اس کی اہمیت کا احساس شاید انہی دنوں میں میرے اندر پختہ ہوئے تھے اور میں جہاں بھی گئی ، جہاں بھی رہی یہ محبت میرے ساتھ رہی اور بالآخر مجھے واپس اپنے پاس کھینچ لائی۔
مجھے اب بھی اگست کا مہینہ اسی کیفیت میں لے جاتا ہے۔ اب بھی سڑکوں سے گزرتے جب میں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے گھر و عمارتیں دیکھتی ہوں، رستوں کو روشیوں سے جگمگاتا دیکھتی ہوں تو میرا دل ویسے ہی بچپن کی طرح  پورے جوش سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو چاہتاہے۔  اس خواہش کو میں کسی نہ کسی طریقے سے اب بھی پوراکر لیتی ہوں۔ 
گزشتہ چند برسوں سے 14اگست کے موقع پر پاکستانی اپنے ملک میں جاری دہشت گردی ، سیاسی و لسانی جھگڑوں اور روزمرہ زندگی کی مشکلات سے پریشانی کے باجود اس دن کو امیدوں ، امنگوں و دعاؤں سے بھرپور دن کے طور پر مناتے رہے ہیں لیکن اس سال یہ مہینہ اور یہ دن شدید پریشانی میں گزر رہا ہے۔ بزعمِ خود قوم کے نجات دہندوں، جن کے ساتھ  بھیڑوں کا غول چل پڑے ہیں، نے اس مہینے اور دن کو ایسا بنا دیا ہے جس کے ساتھ  عوام کے لیے تکلیف دہ یادیں جڑی رہیں گی۔ جہاں ہر طرف صرف سبز ہلالی پاکستانی جھنڈا نظر آنا چاہیے تھا، آج وہاں رنگا رنگ گروہوں کے جھنڈے دیکھنے کو ملیں گے۔ جس مہینے میں صرف'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ سننے کو ملنا چاہیے تھا ، نام نہاد انقلابیوں کے نعرے بج رہے ہیں۔ جہاں لوگوں کو  باہر نکل کر یومِ آزادی کی خوشیاں منانی چاہییں تھیں وہاں 'پائیڈ پائیپرز' کے باجوں پر آنکھیں، کان اور دماغ بند کیے ہجوم اپنی اور دوسروں کی زندگی مشکل کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
کاش کوئی ان 'قائدِ اعظم' بننے کے شوقین رہنماؤں سے پوچھے کہ کیا انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی سوچا کہ وہ پاکستانیوں کی ایک واحد مشترکہ خوشی کو کس طرح برباد کرنے جا رہے ہیں۔ کیا انقلاب 14 اگست سے پہلے یا بعد میں نہیں لایا جا سکتا تھا۔ اور کیا وہ ایک قومی دن کو ایک گروہی سیاست کی یادگار نہیں بنا رہے؟
لیکن پوچھے کون؟ ہم جو صرف یہ کر سکتے ہیں کہ جو آواز اونچی کر کے دھمکی آمیز لہجے میں بولنا شروع کرے اسے نجات دہندہ مان کر ایک اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر پوجنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ ہماری آنکھوں پر کولہو کے بیل کی سی عینک چڑھا کر اپنے گرد پھیرے لگانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اللہ میرے ملک کو اور میرے لوگوں کو ایسے عاقبت نااندیش رہنماؤں و حکمرانوں سے بچائیں اور اپنا دماغ اور آنکھیں کُھلی رکھنے کی ہدایت عطا فرمائیں۔ آمین
جیوے پاکستان۔
پاکستان زندہ باد!  

مکمل تحریر  »

Wednesday, 19 March 2014

کتابیں باتیں کرتی ہیں!!!


اس سال اب تک تحفے میں ملنے والی کتابوں کی تعداد 6 ہو گئی۔ 
لوگ مجھے پڑھا پڑھا دیکھنا چاہتے ہیں شاید۔


مکمل تحریر  »

Friday, 10 January 2014

شہیدانِ وطن کے حوصلے!!!

میں سوچتی تھی کہ نئے سال میں اپنے بلاگ پر پہلی پوسٹ کچھ مختلف ہی لکھوں گی۔ اسی سوچنے میں دس دن گزر گئے اور پھر کل شام کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چودھری محمد اسلم کی شہادت کے بعد مجھے لگا کہ شاید اب میں وہ پوسٹ نہیں لکھ سکوں گی۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ میرے ملک کے کتنے ہی لوگ ہر دوسرے روز ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذاتی زندگی میں کسی نہ کسی حوالے سے ہیرو ہوتا ہے، کتنی آنکھوں کا تارہ ہوتا ہے اور کتنوں کی امید کا مرکز ہوتا ہے۔ میں ان کے نام نہیں جانتی لیکن وہ اور ان کے پیچھے رہ جانے والے میری دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ کتنا آسان ہوتا ہے خبر پڑھ کر یا سن کر ایک طرف رکھ دینا اور کتنا مشکل ہوتا ہے اس خاندان کا تصور کرنا جس کا کوئی پیارا ان سے اس طرح بچھڑ جائے کہ اس کا بے جان وجود بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا واپس ملے۔
میری یہ پوسٹ ان سب کے نام جنہوں نے پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ جو اپنا فرض ادا کرنے کی پاداش میں دشمن کا نشانہ بنے یا جنہوں نے ایک عام پاکستانی ہونے کی قیمت ادا کی۔ 
ایس پی سی آئی ڈی بہت سوں کے لئے امن کی علامت تھے اور بہت سوں کے لئے دہشت کا نشان۔ چاہے ان کے فیصلے اور ایکشن کتنے ہی متنازع رہے ہوں  لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ وہ ایک کمٹڈ،  دلیر اور رسک لینے والے افسر تھے۔ اور ہماری فورسز میں ایسے افسروں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔
آج کے روزنامہ ڈان میں ان کے بارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل آیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

میری یہ پوسٹ اس 14 سالہ بچے کے نام بھی ہے جس نے گزشتہ پیر کو ہنگو میں ایک خودکش بمبار کو روک کر اپنے سکول میں موجود دو ہزار بچوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ اعتزاز حسن جو ہنگو آدم زئی میں رہتا اور پڑھتا تھا، کو سکول میں دیر سے پہنچنے پر بطور سزا گیٹ سے باہر نکال دیا گیا۔ اپنے جیسے دیگر بچوں کے ساتھ واپسی کے راستے پر جب ان لوگوں کا سامنا ایک مشکوک خود کش بمبار سے ہوا جس کی جیکٹ کا ایک کونا دیکھ کر انہیں اس کے ارادوں کا اندازہ ہوا تو اس بچے نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے جب اسے پکڑا تو بمبار نے بچے سمیت خود کو دھماکے میں اڑا لیا۔ 

میرے لیے یہ بچہ بھی ہیرو ہے ، وہ ایس پی بھی ہیرو ، آئے روز خودکش دھماکوں کا شکار ہونے والا ایک ایک پاکستانی ہیرو ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور پیچھے رہ جانے والوں کو حوصلے قائم رکھے۔ آمین

شہیدانِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا 

مکمل تحریر  »