بہت دن گزر گئے دریچہ وا کئے۔ جب آپ کے پاس احساسات و خیالات کی تو فراوانی ہو لیکن ساتھ ساتھ الفاظ کا شدید قحط ہو تو شاید ایسا ہی جمود طاری ہو جاتا ہے جیسا کہ دریچہ پر پچھلے کچھ عرصہ سے ہے۔ صورتحال ابھی بھی نہیں بدلی لیکن کوشش ضرور کرنی ہے کہ کچھ نہ کچھ لکھا جا سکے۔ رمضان کا ایک عشرہ اختتام کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں اور رمضان کی اصل روح سمجھنے کی توفیق بھی دیں۔ آمین۔ اس حوالے سے بھی بہت کچھ ذہن میں آ رہا ہے لیکن اتنے عرصے کے بعد بلاگ پر پہلی پوسٹ ہے اس لئے آغاز شکایت اور مایوسی سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس لئے اس پوسٹ کو اگلے کسی دن کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔ :)
زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ اخبار پڑھنے کو موقع مجھے صرف صبح دفتر آتے ہوئے ملتا ہے۔ اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دل چاہتا ہے کہ کوئی خوش آئند اور دلچسپ بات بھی پڑھنے کو ملے تا کہ مشکلات اور حالات پر مبنی خبریں اور تبصرے پڑھنے کے بعد طبیعت پر چھایا تکدرپن کسی حد تک دور ہو جائے۔ اس لئے اخبار کا ایک مخصوص حصہ میں ہمیشہ بچا کر رکھتی ہوں اور جب گاڑی دفتر کی حدود میں داخل ہوتی ہے تو میں وہ حصہ پڑھتی ہوں اور طبیعت دوبارہ سے ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ ڈان نیوز پیپر کے اندرونی صفحات (میٹروپولیٹین) کے نچلے حصے میں جو خصوصاؐ گیمبولز اور بےبی بلیوز پڑھ کر بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
لیکن کل اس سے بھی بڑھ کر ایک دلچسپ خبر پڑھنے کو ملی۔ سوچا بلاگ لکھنے کا آغاز اس خبر سے کیا جائے۔
خبر کے مطابق راولپنڈی میں اینٹی کرپشن ایسٹیبلیشمنٹ کے سپیشل جج نے نرسنگ میں جعلی میٹرک کی ڈگری جمع کروا کر داخلہ لینے والی ایک طالبہ کو جیل جانے کی روایتی سزا دینے کی بجائے اسے ایک سکول میں بغیر تنخواہ کے پڑھانے کی سزا سنائی۔ اب یہ خاتون ایک سرکاری سکول میں دو سال تک ہفتے میں تین دن پڑھانے جایا کریں گی اور سکول کی پرنسپل ان کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گی۔ مجھے یہ سزا دلچسپ بھی لگی اور اچھی بھی کہ شاید اس طرح اس خاتون کو یہ اندازہ ہو کہ پڑھ کر ڈگری حاصل کرنا کتنا ضروری ہے اور دوسرا بچوں کو پڑھاتے ہوئے شاید ان کو بھی اخلاقیات اور قانون پسندی سے کچھ تعارف ہو جائے۔ کئی ممالک میں سزائیں ایسی ہی دی جاتی ہیں خصوصاؐ نوجوانوں کو جہاں وہ سوشل ورک کرتے ہیں۔ بنیادی مقصد ان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ اب اس طالبہ میں کتنی تبدیلی آئے گی اور وہ سزا کس حد مکمل کرے گی یہ تو نہیں معلوم لیکن جج صاحب کا فیصلہ کم از کم مجھے بہت اچھا بھی لگا ہے اور دلچسپ بھی۔ کہ اگر جیل کی سزا ہوتی تو جس طرح ہماری جیلوں کے حالات ہیں وہاں اس لڑکی کی شخصیت میں مزید بگاڑ کے امکانات کافی زیادہ تھے۔ اب اگر اس کے اندر معمولی سی بھی مثبت تبدیلی آ جاتی ہے تو میرے خیال میں یہ بہت بڑی بات ہو گی۔

ترقی اور مثبت سوچ کی طرف ایک اور مثبت قدم
ReplyDeleteبالکل :)
ReplyDeleteتبصرے کے لئے بہت شکریہ فراز :)
سزا تو واقعی بہت دلچسپ ہے اور حقیقتاً اس طرح کی سزاؤں سے بہتر نتائج کے برآمد ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ دراصل، ہمارے ہاں معاشرتی بگاڑ اتنی جہتوں میں پھیلا ہوا ہے کہ اسے سمیٹنے کے لئے بہت زیادہ وقت اور توانائی اور ان دونوں سے بھی بڑھ کر جذبے اور حوصلے کی ضرورت ہے۔
ReplyDeleteمتفق علیہ۔
ReplyDeleteکوئی تو پہلا قطرہ بنے گا نا۔ پھر ان شاءاللہ حالات میں مکمل بہتری آ جائے گی۔
بلاگ پر خوش آمدید عاطف بٹ!
:)
اچھی خبر ہے اور یقینا اس طرح کی دلچسپ سزائیں رواج پا جائیں تو بہت سے لوگوں کو بھلا ہو سکتا ہے ۔
ReplyDeleteعدالت کا زور فقط بیچاری نرسوں پر چل سکتا ہے باقی طاقتور جعلی ڈگری استعمال کر سکتے ہیں کوئی مسئلہ نہیں
ReplyDeleteبہت اچھی خبر ہے۔ سوچ کا مثبت انداز ہی مثبت اقدار کے فروغ کا باعث بنتا ہے، کاش پاکستان میں ایسے لوگ بہت سے ہو جائیں۔
ReplyDeleteبہت شکریہ فرحت۔ میں مصروفیت کی وجہ سے اس طرف آ نہیں پایا تھا، اس لئے آپ کا تبصرہ آج پڑھا۔
ReplyDeleteبارش کے پہلے قطرے والی بات پر میں آپ سے متفق ہوں اور تاریخ ایسے قطروں کے بعد ہونے والی موسلادھار بارشوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے ہاں بالعموم ہر کسی کو اور بالخصوص آپ (اور ہم) جیسے ایک فیصد سے بھی کم مقصدیت پسند پڑھے لکھے لوگوں کو آگے بڑھ کر اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، خواہ وہ کردار آٹے میں نمک کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔
دلچسپ سزا۔اسکو کہتے ہیں تادئیب برائے تعمیر۔
ReplyDeleteمتفق علیہ محب علوی ، محمد احمد ، عاطف بٹ اور درویش خراسانی۔
ReplyDeleteعلی حسن: آپ کی بات بھی کسی حد تک درست ہے۔ لیکن ایک غلط فیصلے ، مجبوری یا لاپرواہی کو ایک اور مثبت فیصلے کے لئے رکاوٹ نہیں بننا چاہئیے۔ کہیں نہ کہیں تو پکڑ ہو رہی ہے نا۔ ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا جب ہر سطح پر جواب طلبی اور تادیبی کاروائی کا نفاذ ہو گا۔