Tuesday, 26 November 2013

سلام ٹیچر!

پاکستان میں معیارِ تعلیم کی تنزلی کا رونا کوئی نئی بات نہیں۔ آج صبح بھی میں نے یہ خبر پڑھی کہ یونیسکو نے پاکستان کو معیاری تعلیم کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں 120 ممالک میں 113واں نمبر دیا ہے۔ اس خبر میں اگر کچھ مثبت ڈھونڈنا ہو تو وہ یہ ہے کہ ابھی بھی ہم سات ممالک سے بہتر تعلیم دے رہے ہیں :)۔
باقی رہی پریشانی کی بات تو گھوسٹ سکولوں ، جوابدہی کی روایت کا ناپید ہونے،  ہر کسی کو سکول کھولنے کی اجازت دینے اور روایتی سرکاری انداز میں کام کرنے جیسے عناصر اس پریشانی کی وجہ ہیں۔ جس پر بہت بحث اور بات ہوتی رہتی ہے لیکن چونکہ ہم گفتار کے غازی ہیں تو یہ سب کچھ مباحثوں تک ہی محدود رہتا ہے۔

آج کی پوسٹ ہمارے ماشاءاللہ اساتذہ کرام کے بارے میں ہے۔ جب اس شعبے کو اپنانے کا معیار یہ رہ جائے کہ جو کسی اور شعبہ میں کامیاب نہ ہو سکے ، وہ استاد بن جاتا ہے تو معیار کی بات کیسے کی جائے گئ۔ ویک اینڈ کی بات ہے کہ میں اپنے بھتیجے کو جو شہر بلکہ ملک کے ایک بہترین سمجھے جانے والے سکول سسٹم میں زیرِ تعلیم ہیں ، کو کلاس ٹیسٹ کی تیاری کروا رہی تھی۔ اردو کی  کاپی اور کتاب کھول کر ہر صفحے پر مجھے اتنے دھچکے لگے جیسے شہر کی نئی تعمیرشدہ ٹوٹی ہوئی سڑک پر سفر کرتے لگا کرتے ہیں۔ صرف ایک دو مثالیں لکھوں گی۔
سوال: حضرت محمد (ص) کا روضہ مبارک کس ملک میں واقع ہے؟
جواب: آپ (ص) کا روضہ مبارک 'مدینہ منورہ' میں واقع ہے۔
یہ سوال جواب اردو کی استاد نے خود لکھوائے ہیں۔

تخلیقی لکھائی:
میرا دوست
علی میرا دوست ہے۔
یہ میرا ہم جماعت ہے۔
یہ بہت اچھا لڑکا ہے۔
یہ لاہور میں رہتا ہے۔

بندہ پوچھے کہ لکھنے والا بچہ تو اسلام آباد میں پڑھ رہا ہے۔ اور اس کا ہم جماعت دوست لاہور میں رہ رہا ہے۔ یا تو کوئی جادو ہے یا پھر کہیں سکائپ کے ذریعے تو پڑھایا نہیں جاتا۔ 
پھر یہ کہ تخلیقی لکھائی تو بچے کی اپنی کاوش ہوتی ہے۔ ٹیچر خود کیسے لکھوا رہی ہیں اور جب لکھوا رہی ہیں تو کم از کم یہ تو دیکھ لیں کہ کیا لکھوا رہی ہیں۔
یہ تو دو مثالیں ہیں۔ مزید بھی ایسے ایسے شگوفے تھے کہ ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
   
مزید اتفاق یہ  ہوا کہ اگلے ہی دن مجھے ایک آفیسر کی ایک سکول وزٹ کی رپورٹ پڑھنے کو ملی۔ جنہوں نے بچوں کے سپوکن انگلش کمیونیکیشن سکلز پر تبصرہ کچھ ایسا لکھا تھا کہ انہیں ایک جماعت میں بچے اردو پڑھتے ملے۔ انہوں نے جب ایک بچے سے ہوچھا کہ اس سبق میں کیا ہے تو بچے نے پورے سبق کا خلاصہ 'انگریزی' میں بتایا۔ (جو کہ ان آفیسر کے خیال میں بہت خوشی کی بات تھی)۔ سو انہوں نے نہ صرف وہاں اس بچے کو شاباش دی بلکہ واپس آنے کے بعد اس بچے کو اس کی اچھی انگریزی پر بطور انعام ایک عدد کتاب بھی بھیجی۔ 

یہ کسی ایک استاد یا ایک ماہرِ تعلیم یا افسرِ تعلیم کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک پورے شعبے کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ ہمارے اساتذہ اور سکول صرف تعلیم کو ذریعہ آمدن سمجھ رہے ہیں۔ جب تعلیم کاروبار بن جائے تو پھر معیار گرنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اور یہی ہمارا ا المیہ ہے۔  

مکمل تحریر  »

Sunday, 17 November 2013

میرے شہر کی سڑکوں پر جل رہے ہیں دیے خون کے!

راولپنڈی اور اس کے باسیوں پر گزشتہ دو دنوں سے جو کچھ گزر رہی ہے اس میں مزید اضافہ ان نام نہاد رہنماؤں ، علمائے کرام اور تجزیہ نگاروں کے وہی گھسے پٹے انداز و بیانات کر رہے ہیں۔  ایک طرف ایک صاحب بھڑکیں لگا رہے ہیں کہ میں راولپنڈی کا منتخب نمائندہ ہوں۔ میں یہاں کے ہر شیعہ سنی کو پہچانتا ہوں۔ یہ سب باہر سے منگوائے گئے لوگ ہیں،۔ یہ حکومت کی ناکامی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور میرا دل چاہتا ہے کہ کاش کوئی ان موصوف کے منہ پر بڑی سی ٹیپ لگا کر ان کو ان کے سامنے ان کی اپنی اتنے سالوں کی کارکردگی اور ان کی عوام سے ہمدردی کے ثبوتوں پر مبنی فلم ہی چلا دے۔ تا کہ کچھ دیر کو ہی سہی ان کو یہ تو احساس ہو کہ سالہا سال سے انہوں نے بھی اپنے حلقے اور اپنے لوگوں کے لئے کیا کچھ کیا ہ یا کل سے اب تک لوگوں کے لئے کیا کیا ہے؟
دوسری طرف ہمارے علمائے کرام ایک کے بعد ایک آ کر اپنے گراں قدر خیالات سے عوام کو فیض یاب کئے جا رہے ہیں۔ انہیں اس سازش میں بیرونی ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں خود اپنی تعلیمات رواداری اور حوصلے اور برداشت پر مبنی محسوس ہوتی ہیں اور جو کچھ ہوا اس میں سراسر حکومت اور پولیس کی کوتاہی نظر آ رہی ہے۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ کاش کوئی ان سے یہ پوچھ لے کہ وہ جو محرم کے دس دن اور عین 10 محرم کو بھی پورے ملک میں شام تک ملک بھر میں خیر خیریت سے تمام جلوس نکلے بھی اور ختم بھی ہوئے ، اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ اور کوئی ان سے یہ بھی پوچھے کہ اگر سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے تو وہ کیوں عوام کے جتھوں کے جتھے لیکر سڑکوں پر نکلتے ہیں؟ ان کو یہ حق کس نے دیا؟ 
اور یہ میڈیا والے جو ایک معمولی سی بات کو بریکنگ نیوز بنا بنا کر ساری قوم کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں، جو اپنی مرضی کی بات کو عوام کے ذہنوں میں ڈالنے کے لئے اس قدر مؤثر مارکیٹنگ کرتے ہیں کہ ہر پاکستانی 'پاکستان آئڈل' بننے کے لئے سڑکوں پر نکل آتا ہے ، کیا انہوں نے کبھی مروت، برداشت ، رواداری اور اخوت پسندی پر کوئی پروگرام چلایا؟ کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ ان کے اوپر کس قدر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
معلوم نہیں یہ کیسے مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کس نے بنایا ہے؟
میرا اسلام تو مجھے دوسروں کے خیالات و عقائد کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
میرا سلام تو مجھے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے نتیجے کو سامنے رکھنے کی ہدایت کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو میری زبان ، ہاتھ یا عمل سے کسی کو نقصان پہنچے۔
میرا اسلام تو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن یہ کیا ہے کہ ایک مبارک مہینے کا مبارک دن ، 10 محرم الحرام جس کی اہمیت سانحہ کربلا کے علاوہ  بھی اس قدر زیادہ ہے کہ ہر مسلمان کے لئے اس کا احترام لازم ہے۔ پھر جمعۃ المبارک کا دن۔ سنی ہو شیعہ کیا دونوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اس مہینے میں قتل و غارت گری ممنوع ہے۔ اور اس ممانعت کا احترام تو اسلام سے پہلے بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ خود کو مسلمان کہنے والوں نے اسی ماہ اور اس مبارک دن کیا کیا۔  اس دن جو ہوا اس میں جتنے لوگ مارے گئے ، ان کے تو خاندان اجڑ گئے ، پھر اس کے بعد جن کی املاک کو نقصان پہنچا ، ان کے خاندانوں کے لئے بربادی کا پیغام آ گیا، اور وہ جو دو دن سے دیہاڑی نہیں لگا سکے ، ان کے خاندان بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔  فاقے ہوں گے یا کوئی بیمار گھر میں ایڑیاں رگڑتا رہے گا۔ فرق نہ تو کسی شیخ, خان ، شریف یا چودھری کو پڑے گا ، نہ کسی مفتی و مولانا کو پڑے گا اور نہ ہی کسی میر ، بخاری، لقمان ,شیرازی اور منہاس کو پڑے گا۔ فرق پڑے گا تو عوام کو پڑے گا ۔ اس عوام کو جسے فرقوں اور مسالک کے اختلافات کی الف بے کا بھی معلوم نہیں ہوتا لیکن وہ بھیڑ چال کا شکار ہو کر ان جلسوں کا حصہ بھی بنتے ہیں اور ان تفرقے بازیوں کا ایندھن بھی۔ تو پھر بھگتیں بیٹھ کر۔ 

مکمل تحریر  »

Friday, 4 October 2013

منافقت!!!

Felt like re-blogging an old post:
ہم لوگ بڑے بڑے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ملکی حالات سے لیکر بین الاقوامی معاملات کی تجزیہ نگاری میں ہم سے زیادہ کون ماہر ہو گا۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم اپنی ذات اور اس کے منسلک مسائل کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں یا شاید ہمارے پاس اس کا وقت نہیں ہوتا۔۔
'انصاف' کا راگ الاپ الاپ کر ہمارے گلا خشک ہو جاتا ہے لیکن اس رولے میں  یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ کہیں ہماری ذات بھی تو کسی کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بن رہی۔۔کہیں کوئی ایسا مظلوم بھی تو نہیں ہے جو ہمیں ظالم کہتا ہو۔
'احتساب' ہماری دلپسند اصطلاح  ہے ۔۔لیکن اے کاش دوسروں سے پہلے ہم اپنا محاسبہ بھی کر لیں۔۔کہ ہم نے کہاں کہاں اصولوں سے روگردانی کی۔۔کب کب ہمارے لہجے اور عمل میں رعونت در آئی۔۔
  اکثر دوسروں کی 'غلط بیانی' اور 'خود غرضی' کے تمام ثبوت ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ  سوچیں...ہمارے اپنے اندر کس حد تک 'بے غرضی' اور 'سچائی' موجود ہے۔

کہیں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔۔ اوراظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے لفظوں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ہم خود بھی اپنی زبان، عمل اور رویے کی وجہ سے کسی دوسرے کے لئے تکلیف کی وجہ بن رہے ہیں۔

 نجانے قول و فعل کا یہ تضاد ہماری ذات کا ناگزیر حصہ کیوں  ہے؟

مکمل تحریر  »

Wednesday, 11 September 2013

میرے قائدِ اعظم !

میرے محترم قائدِ اعظم۔۔۔!
آپ سے بات کرنا اس قدر دشوار سا کیوں لگ رہا ہے۔ ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں اور آپ کے کچھ بھی نہ کہنے کے باوجود میرا سر شرمندگی کے مارے جھکتا ہی جاتا ہے۔ 
ایک وقت تھا جب میں تمام سال اور خصوصاؐ  آپ کی سالگرہ اور برسی کے موقع پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ لہک لہک کر 'یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔۔اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان' گایا کرتی تھی اور کبھی آپ کے تحفے کو ہمیشہ سنبھالے رکھنے کے دعوے یہ کہتے ہوئے کیا کرتی تھی کہ 'اے روحِ قائد! آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔۔'۔ اور ایسے موقعوں پر میں یہی سمجھتی تھی کہ میرے قائد وہیں سٹیج پر تشریف فرما ہیں اور ہماری باتیں اور وعدے سن کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ آپ میرے سامنے موجود ہیں لیکن آج میں کچھ کہہ نہیں پا رہی کہ آپ کے چہرے سے چھلکتا غم اور آپ کی آنکھوں سے جھانکتی اداسی مجھے میری نااہلی اور بے حسی کا احساس دلا رہی ہے۔ میں ایک بار پھر 'اے قائدِ اعظم! تیرا احسان ہے احسان' کہنا چاہ رہی ہوں لیکن میرے اندر گونجتی ایک آواز یہ کہہ کر کہ 'اگر تم واقعی اسے احسان سمجھتیں تو آج اپنے ہی ملک میں اپنی آنکھوں کے سامنے قائد کی نشانی کو تباہ نہ ہونے دیتیں۔' بہت مشکل سے اس آواز کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر میں 'آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔' کہنے لگتی ہوں تو وہی آواز ایک بار پھر ایک نئے سوال کے ساتھ میرا راستہ روک لیتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ 'پہلے ان تمام وعدوں کا حساب دو جو ہوش سنبھالنے کے بعد روحِ قائد کے ساتھ کئے تھے۔' 
اور جب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ 'قائدِ اعظم میں کیسے آپ کو بلکہ آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاؤں کہ میں نے وہ وعدے صدقِ دل سے کئے تھے اور ان کو نبھانے کی بھی کوشش کی ہے۔ آپ کی میراث کی حفاظت نہ ہو سکی لیکن اس کے لئے میں اکیلی کیا کرتی۔ یہ تو ان ناعاقبت پسند حکمرانوں کی کرنی ہے جس کا نتیجہ ہر طرف پھیلی بے سکونی اور تباہی ہے' توپھر وہی آواز میری بات کاٹتے ہوئے کہتی ہے ۔ 'وعدے نبھانے کے لئے 'کوشش' نہیں 'عمل' کی ضرورت ہوتی ہے ، مستقل مزاجی اور جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہارے جذبے صرف کسی قومی دن پر ہی جاگا کرتے ہیں اور وہ بھی زبان ہلانے کی حد تک۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم ان حالات کی ذمہ دار نہیں ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تم تو اس قائد سے محبت کی دعویدار ہو جو کہا کرتا تھا کہ قوموں کی تقدیر و تعمیر افراد کے ہاتھ میں ہے اور جب قومی ذمہ داری کی بات آتی ہے تو تم خود کو صرف ایک اکائی سمجھ کر الگ ہونا چاہتی ہو۔ یاد رکھو وہ 'قائد' بھی ایک فرد ہی تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا لیکن اگر تم یہ سمجھ سکتیں تو آج قائد کے سامنے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑی ہوتیں'۔

شرمندگی سے میری زبان کُھل نہیں رہی لیکن میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ اپنی نااہلی پر معافی مانگ کر مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی نصیحت سننا چاہتی ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود میں آپ کے تحفے کو دل و جان سے عزیز رکھتی ہوں۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنا چاہتی ہوں اور مجھے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اگر اپنے حصے کا دیا جلا جاؤں گی تو اس کی لَو سے ایک اور دیا ضرور روشن ہو گا۔ اور مجھے امید ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب میں آپ کے سامنے شرمندگی سے گردن جھکا کر نہیں بلکہ خوشی سے سر اٹھا کر کھڑی ہوں گی تب مجھے کوئی آواز کچھ کہنے سے نہیں روکے گی۔ 
مجھے یاد آ رہے ہیں آپ کے وہ الفاظ جو آپ نے 1936ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ 
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک عمل سے گزرنا ہو گا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں۔ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ، ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں ، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔" 

 آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں۔ ہم ایک بار پھر ایک ایسے ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جن کا آپ نے اس وقت تذکرہ کیا تھا لیکن ہم مایوس نہیں ہیں۔ ہم آپ کو اور آپ سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کا فرض اور قرض ضرور ادا کرے گا ان شاءاللہ۔ اآئندہ سے وعدے نہیں ہوں گے صرف عمل ہو گا۔

اور اب مجھے لگ رہا ہے آپ مسکرا رہے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے چھ سالہ بھتیجے کی طرح بھرپور جوش اور جذبے سے نعرہ لگاؤں۔

!قائدِاعظم۔۔۔زندہ باد
!پاکستان۔۔۔پائندہ باد 


مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 September 2013

21 ویں صدی کے والدین!


مکمل تحریر  »

Thursday, 15 August 2013

یومِ آزادی



اگر 1947ء میں اس خطہ کے لوگوں نے قربانیاں دیں تو آج 2013ء میں بھی پاکستانی ویسی ہی قربانی ، اسی عزم و حوصلے کے ساتھ دے رہے ہیں۔ ہم آج بھی اس نظم کی تفسیر ہیں جو شاعر نے قیامِ پاکستان کے لئے کہی تھی۔ 

یہ وہی دن ہے یارو کہ جس روز ہم
ساتھ قائد کے اپنے ملائے قدم
سبز پرچم پہ نظریں جمائے ہوئے
اپنے سینے سے قرآں لگائے ہوئے
مال و زر چھوڑ کر ، بام و در چھوڑ کر
خوں میں ڈوبے ہوئے ہمسفر چھوڑ کر
شہرِ اغیار سے مسکراتے ہوئے
حمد پڑھتے ہوئے نعت گاتے ہوئے
مثلِ بادِ بہاری چلے آئے تھے
آمدِ فصلِ گُل کی خبر لائے تھے
یہ وہ منزل ہے جس کے لئے عمر بھر
کارواں کارواں ، رہ گزر رہ گزر
ایک پوری صدی روز و شب مستقل
اہلِ فکر و نظر اور اربابِ دل
ہاتھ میں ہتھکڑی ، پاؤں میں بیڑیاں
آپ اپنی اٹھائے ہوئے سُولیاں
ہر قدم اِک نیا زخم کھاتے ہوئے
ہر نئے موڑ پر سر کٹاتے ہوئے
تنگ و تاریک راہوں پہ چلتے رہے
فاصلے قربتوں میں بدلتے رہے


 رحمٰن کیانی ----

مکمل تحریر  »

Tuesday, 13 August 2013

اظہارِ تشکر!

آج صبح آج ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک خاتون پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور ڈرامے 'عینک والا جن' میں زکوٹا جن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انٹرویو کر رہی تھیں۔ پہلا ردِعمل تو نوسٹیلجیا کا فوری حملہ تھا کیونکہ میں بھی عینک والا جن کے متاثرین میں شامل رہی ہوں۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم سب بے چینی سے شام 5 بجے کا اتنظار کرتے تھے اور پھر اگلے آدھے گھنٹے کے لئے یہ عالم ہوتا تھا کہ سب لوگ باجماعت بغیر پلک جھپکے ٹیلی ویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور جب ڈرامہ کسی سنسنی خیز لمحے پر پہنچ کر ختم ہوا تو 'اوہ نو' کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی۔ پھر وقت گزرا اور جیسے ہمارا بچپن غائب ہوا ویسے ہی ڈرامہ بھی کہیں ماضی کی دھول میں گم ہو گیا۔ حالانکہ یہ ڈرامہ ایک طویل مدت چلا تھا۔
خیر یادِ ماضی جو ہر گز عذاب نہیں تھی کی آمد کے بعد اگلا احساس منا لاہوری کی باتوں سے چھلکتی مایوسی اور تلخی کا تھا۔ شاید جب آپ کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو انسان ایسی ہی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور تلخی مستقل اس کے لہجے میں شامل ہو جاتی ہے۔ میں نے بہت دن پہلے منا لاہوری کی علالت اور کسمپرسی میں بسر ہونے والی زندگی کے بارے میں کہیں  دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ اور کچھ نہیں تو میں اپنے طور پر اس کردار کا شکریہ ضرور ادا کروں گی جس نے میرے بچپن کی یادوں میں ایک اور سنہرے رنگ کا اضافہ کیا لیکن وہی بات کہ ہم وقتی طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور ہھر دنیاداری کے جھنجھٹ میں الجھ کر بہت سے اہم کام بھول جاتے ہیں۔ 

آج ایک بار پھر میں اسی احساس کا شکار ہوں۔ ہم کتنی آسانی سے اپنے ہیروز  اور ان لوگوں کو جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور خوشیاں لانے کا باعث بنتے ہیں کو فراموش کر دیتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی باری آنے پر ہم بھی فراموش ہو جاتے ہیں۔ میرے بچپن میں ٹیلی ویژن کے تین چینل آیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ، پی ٹی وی ورلڈ اور ایس ٹی این۔ اور پاکستان ٹیلی ویژن کا کردار ان میں سب سے اہم تھا کیونکہ اس نے بڑوں ، چھوٹوں، طلباء ، کسانوں،نوجوانوں، خواتین غرضیکہ ہر فرد کے لئے پروگرام بنائے اور انتہائی تعمیری پروگرام بنائے جن میں مقصدیت بھی تھی اور تفریح بھی۔ جو لوگ اس دور میں بڑے ہوئے ہیں وہ شاید میری اس بات سے اتفاق کریں کہ ہماری تربیت میں ایک بڑا حصہ پی ٹی وی کا بھی ہے چاہے وہ اقرا کی صورت میں درسِ قرآن ہو یا کوئز شوز کی صورت میں معلوماتِ عامہ یا دیس دیس کی کہانیوں کے ذریعے دیگر دنیا کے بارے میں جاننا۔ اخلاقی اقدار کا سبق ہو یا سائنسی معلومات، پی ٹی وی نے میری ہوم سکولنگ کی اور میں اس کے لئے خود کو موجودہ دور کے بچوں کی نسبت بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں جن کے لئے ٹیلی ویژن مثبت کے بجائے منفی تربیت لا رہا ہے اور حالت اب یہ ہے کہ آپ ایک تین سالہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوں تو بھی آپ کا ہاتھ ریموٹ پر ہوتا ہے کہ نجانے کس وقت شرمندگی سے بچنے کے لئے چینل تبدیل کرنا پڑ جائے اور یہ اور بات ہے کہ جو اگلا چینل آئے اس پر اس سے بھی زیادہ شرمندہ کرنے والی چیز چل رہی ہو۔ 

ہمارے ٹی وی پر 125 چینل آتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ 125 تو کیا 25 منٹ بھی مسلسل ٹی وی دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ جس چیز کا مقصد تفریح اور معلومات تھا وہ صرف پریشانی، ٹینشن اور اخلاقی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔ خیر اس وقت میں نے اس پر تو بات نہیں کرنی۔ مجھے تمام نیوز چینلز سے یہ گلہ ہے کہ ان کو کشور کمار کی برسی تو دھوم دھام سے منانی یاد رہ جاتی ہے، اور انہیں غیر ملکی اداکاروں کی سالگرہ کی تاریخیں تو یاد رہتی ہیں ، لیکن اپنے لوگوں سے بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جو خاتون منا لاہوری کا انٹرویو کر رہی تھیں، انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ جس ڈرامے کے بارے میں وہ پروگرام کر رہی ہیں اس کے مرکزی کردار کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جب انہیں معلوم ہوا تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ 

منا لاہوری نے ان کے سوال کے جواب میں کافی تلخ لہجے میں کہا کہ اگر آپ اس ڈرامے کی اتنی بات کر رہی ہیں تو کیا بڑے چینلز بچوں کے لئے ڈرامے نہیں بنا سکتے؟ جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ اداکار جو اپنے دورِ عروج میں ٹی وی، سٹیج اور دیگر تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا اب اسے کوئی چینل کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن سب اس کی کسمپرسی اور مالی حالت پر پروگرامز کرنے کو آگے آگے ہیں۔ بقول منا لاہوری کے اب کبھی کبھار انہیں کسی سکول میں بچوں کے لئے شو کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے لیکن وہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

کل 14 اگست ہے۔ پاکستان کا یومِ آزادی۔ پاکستان جس سے محبت میرے خمیر میں شامل ہے۔ پاکستان جو میرا پہلا اور آخری حوالہ ہے۔ جہاں سب میرے اپنے ہیں اور جس نے مجھے پہچان دی ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں یومِ آزادی اس طرح مناؤں گی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے اس ملک میں رہتے ہوئے مجھے اور مجھ جیسے بہت سوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ان ہیروز کا شکریہ ادا کروں گی جو میرے وطن کی شان ہیں۔ 
میرا پہلا شکریہ منا لاہوری اور ان سب فنکاروں کے لئے جو کسی بھی صورت لوگوں کو خوش کرنے کا باعث بنے، جنہوں نے اپنے کام کے ذریعے مثبت اور اچھی اقدار کا پیغام پھیلایا اور جو ایک جفاکش مزدور کی طرح محنت کر کے کاروبارِ زندگی چلا رہے ہیں۔ 

آج صبح گھر سے نکلتے ہی مجھے شدید بارش نے آن گھیرا۔ موسلا دھار بارش اور دریا کی صورت بہتی سڑکوں سے گزرتے ہوئے میں مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن وہ پولیس اور فوج کے جوان ضرور نظر آ رہے تھے جو صبح سے شام گرمی، سردی، طوفان، بارش ہر موسم میں بھاری بھرکم وردیاں پہنے موسم کی شدت سے بے نیاز اپنی جگہوں پر جمے رہتے ہیں اور ہم ان کو ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے سڑک کے کنارے نصب کھمبوں یا چوک میں لگی ٹریفک کی بتیوں کو جن کا اپنی جگہ پر موجود ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ہم نے یا شاید میں نے کبھی رک کر ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اگر کبھی سگنل بند کر کے ٹریفک ڈائیورٹ کی جا رہی ہو یا غلط جگہ پر گاڑی روکنے پر کوئی مجھے کچھ بتانے کی کوشش کرے تو میں اس پر گویا احسانِ عظیم کرتے ہوئے اس کی ہدایت پر عمل کرتی ہوں۔میرا دوسرا شکریہ ان محفاظوں کے لئے جو تپتے دنوں ، سرد ہواؤں اور برستی بارشوں میں بھی سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں، میری حفاظت اور سہولت کے لئے۔  

اور سب سے آخر میں وہ واقعہ جس نے مجھے کتنے دنوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ عید سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ جوتے خریدنے کے لئے ایک دوکان میں گئے۔ عید کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کافی لوگ خریداری کی مہم پر نکلے نظر آ رہے تھے جس کی وجہ سے سیلزمین بھی کافی مصروف تھے اسی لئے ہمارا مطلوبہ جوتا آنے میں کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران سب سے دلچسپ مشغلہ اردگرد لوگوں کو دیکھنا ہوتا ہے سو میں بھی یہی کام کر رہی تھی۔  ایک صاحب جن کے ساتھ ان کے تین بچے تھے ، اپنے بچوں کے لئے جوتے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو میں بچوں کا اشتیاق دیکھ  رہی تھی لیکن جس بات نے میری توجہ کھینچی وہ یہ کہ جب ان کے بچے کوئی جوتا اٹھا کر اپنے والد کو دکھاتے تو وہ کافی دیر اس جوتے کو دیکھتے رہتے، پھر واپس رکھ دیتے۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے ایک سیلزمین سے جوتے کی قیمت پوچھی جو اس نے جوتے سے ہی دیکھ کر بتا دی۔ اور ان کے کہنے پر کہ اس کی قیمت تو کم نہیں تھی، سیلز مین نے کہا کہ جی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر انہوں نے پھر جوتا رکھ دیا۔ اتنی دیر میں ہم اپنی چیزیں لیکر کاؤنٹر پر بل بنوانے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب وہی جوتا اٹھائے ہوئے کاؤنٹر پر آئے اور دوکان کے مینیجر صاحب سے قیمت پوچھی۔ مینیجر نے جواب میں 430 روپے کہا۔ تو ان صاحب نے کہا کہ جوتے پر قیمت تو 399 روپے درج ہے۔ 430 روپے کی پرچی تو بعد میں لگی ہے حالانکہ آپ کے سٹور پر تو قیمت فکسڈ ہوتی ہے۔ جس ہر مینجر نے کہا کہ نہیں اب آپ کو نئی قیمت ہی دینی پڑے گی۔ پرانی قیمت پچھلے ہفتے تک تھی۔ وہ صاحب واپس پلٹ گئے۔ ہمارے استسفارپر کہ ایسا کیوں ہے، بتایا گیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ خیر ۔۔یہاں تک تو مجھے صرف اچانک قیمتیں بڑھنے اور وہ بھی عید سے کچھ دن پہلے پر اعتراض تھا۔ لیکن اصل جھٹکا تو مجھے اس وقت لگا جب باہر نکلتے ہوئے میں نے ان صاحب بچوں کا ہاتھ پکڑے خالی ہاتھ دوکان سے باہر آتے دیکھا۔ اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ شاید اپنے بچے کو 430 روپے کا جوتا خرید کر دینا بھی ان صاحب کے لئے ناممکن تھا۔ میرے اتنا سوچنے تک وہ صاحب کہیں بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ نہ بھی ہوتے تو میں کیا کرتی۔ کیونکہ اپنے حلیے سے وہ ایسے نہیں لگ رہے تھے کہ ہم جا کر ان کے بچے کو جوتا تحفتاؐ خریدنے کی پیشکش کرتے تو وہ لے لیتے۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو میں بھی کبھی کسی سے کچھ نہ لیتی۔ لیکن اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہمیں خود سے نیچے والے کو دیکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟ تاکہ ہم رحمت ، شکر، صبر اور قناعت کا صحیح مطلب سمجھ سکیں۔ میرا تیسرا شکریہ اس اجنبی خاندان کے لئے جنہوں نے مالی تنگی پر واویلا مچانے کے بجائے اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی۔ اور مجھے ایک ایسا سبق سکھایا جو کتابیں مجھے نہیں سکھا سکیں۔ میں ناشکری نہیں ہوں۔ الحمد اللہ میری خواہشات لامحدود نہیں ہیں۔ لیکن میں شاید اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ڈنڈی مار جاتی ہوں اور شکر ادا نہ کرنا بھی تو ناشکری میں ہی آتا ہے۔ اور یہ احساس بھی مجھے اس چھوٹے سے خاندان نے دلایا جس کے بچے بھی اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر اداس یا پریشان نہیں تھے بلکہ ان کے چہروں پر اس وقت بھی صرف معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔


مکمل تحریر  »

Thursday, 1 August 2013

میری توبہ!



میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ

مجھے معلوم ہے مجرم ہوں میں اور تُو میرا حاکم
جبھی تو آج میری آنکھ میں اشکوں کی ہے رِم جِھم
کوئی بندہ تیرے در پر جو آنسو رول دیتا ہے
میرے مولا درِ توبہ تُو اُس پر کھول دیتا ہے
تُو ضرور سُنے گا میرے دل کی صدا
میری توبہ میری توبہ

تیرے در پر کیوں نہ میں سوال کروں، تُو رحیم بھی ہے کریم بھی ہے
میں تو پست بھی ہوں ، حقیر ہوں ، تُو بلند بھی  ہے تُو عظیم بھی ہے
جو میں جھیل چُکا ہوں وہ بہت ہے سزا
میری توبہ میری توبہ

غم کا مارا ہوں ، بے سہارا ہوں، ہُوں بُرا یا بھلا تمہارا ہوں
میری توبہ میری توبہ

میرے گناہ زیادہ ہیں یا تیری رحمت
کریم تُو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے
میری توبہ میری توبہ

مجھے کر دے معاف اپنے رسولِ پاک (صعلم) کے صدقے
خطائیں بخش دے میری شہِ لولاک (صعلم) کے  صدقے
میرے مالک دہائی ہے تجھے آلِ پیمبر کی
رہا کر دے غموں سے کربلا کی خاک کے صدقے
اندھیروں میں مجھے تابندگی دے دے میرے مولا
نیا مجھ کو شعورِ زندگی دے دے میرے مولا
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ
میری توبہ میری توبہ

مکمل تحریر  »

Monday, 29 July 2013

Monday Blues!!




سوال یہ ہے کہ



مکمل تحریر  »

Friday, 26 July 2013

ہمارا ٹی وی

یہ تحریر بھی گزشتہ دو سالوں سے ڈرافٹس میں پڑی تھی۔ آج پوسٹ کرنے کا وقت مل ہی گیا۔ 

چند دن پہلے میری ممانی اور کزنز ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں۔ میری کزن ٹی وی چینلز براؤز کرنے لگی اور کچھ دیر بعد کچن میں آ کر نہایت تشویش ناک انداز میں پوچھا۔ آپ لوگوں کے ٹی وی پر سٹار پلس نہیں آتا۔ میری بھابھی جان نے فوراً جواب دیا کہ کیوں نہیں آتا۔ آتا ہے اور ہم دیکھتے بھی ہیں۔ انداز ایسا تھا جیسے سٹار پلس نہ دیکھنا شاید بہت ہی شرمندگی کا باعث ہے۔ بہرحال میری کزن نے جب یہ بتایا کہ ابھی تو یہ چینل آپکے لاؤنج والے ٹی وی پر نہیں آ رہا تو میری اماں جان اور بھابھی کی نگاہوں کا زاویے و انداز بدلے اور ان غضب ناک نگاہوں کا فوری نشانہ میں بنی۔ کیونکہ ان کے خیال میں جب ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے تو میں انہیں نہ تو کوئی ڈرامہ دیکھنے دیتی ہوں بلکہ اکثر چینل ڈیلیٹ بھی کر دیتی ہوں اور ان کو پھر سیٹ کرنا پڑتا ہے۔ (حالانکہ یہ ڈیلٹ والا کام میرے بھائی صاحب کرتے ہیں۔ جن کے اپنے ٹی وی پر تمام چینلز آ رہے ہوتے ہیں(
خیر اس بار میں نے کچھ نہیں کیا تھا سٹار پلس ویسے ہی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اپنی ازلی ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے جواباً غیر ملکی چیلنز کے خلاف ایک لمبی تقریر جھاڑی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ ڈرامے ہمارے کلچر سے میل نہیں کھاتے اور جذبہ حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے چینلز دیکھیں وغیرہ وغیرہ۔
اس ساری تقریر کے جواب میں سامعین و حاضرین کے جو ردِ عمل تھا وہ کچھ یوں ہے۔
کزن: (صدمے سے گُم ہوتی آواز میں)۔۔ ان ڈراموں میں بھلا کیا ہے۔ اتنی اچھی تو کہانیاں ہوتی ہے۔ ایک ہی فیملی کے گرد گھومتی ہے۔
میں: جی ہاں۔ بلکہ ایک ہی ہال میں کھڑے کھڑے دس قسطیں گزر جاتی ہیں۔ اور ایک ہی بندہ پوری قسط میں یا بولتا رہتا ہے یا روتا رہتا ہے۔ ایک اور بندہ یا باقیوں کو گھورتا رہتا ہے یا دانت پیس کر اپنے خطرناک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ اور اس بارے میں ساعری دنیا جان جاتی ہے صرف وہ جس کے خلاف سازش کی جا رہی ہوتی ہے سامنے کھڑے ہو کر بھی بے خبر رہتا ہے۔
ممانی: چھوڑو ساری باتیں۔ دعا کرو چینل جلدی واپس آ جائے۔ میں تو پچھلی دو قسطیں نہیں دیکھ سکی۔ سادھنا بیچاری کے ساتھ پتہ نہیں کیا ہوا ہو گا؟ آپا (میری امی سے) اس کی ساس کو دیکھا ہے کتنی ظالم ہے۔
میں (بھابھی سے): اور دیکھیں یہ ڈرامے۔ ممانی اِن ڈائریکٹلی آپ کی ساس کو ظالم ہونے کا مشورہ دے رہی ہیں۔
بھابھی: نہیں سادھنا کے ساتھ واقعی اس ڈرامے میں بہت ظلم ہو رہا ہے۔
میں: یہ سادھنا صاحبہ آخر ہیں کون؟
کزن: ایک ڈرامہ ہے بدھائی۔ اس میں دو کزنز ہوتی ہیں۔ ایک بہت پیاری دوسری ذرا گہری رنگت والی۔ دونوں کی شادی ایک ہی گھر ہوتی ہے۔ دوسری والی پر سسرال والے بہت ظلم کرتے ہیں۔
میں: کہیں یہ وہی ڈرامہ تو نہیں ہے جو آج سے دو سال پہلے جب میں پاکستان آئی ہوئی تھی تو آپ لوگ دیکھتی تھیں؟
بھابھی (انتہائی پُرجوش انداز میں): بالکل وہی ہے۔ میں نے تمھیں کہانی بھی سنائی تھی اس کی۔
میں: جو قوم دو دو سال انتہائی بور ڈرامے اتنے شوق سے دیکھ سکتی ہے وہ واقعی بور قسم کے  
حکمرانوں کو بھی عرصہ دراز تک برداشت کر سکتی ہے۔
 ( صد افسوس کہ میرے اس تاریخی جملے کو ان لوگوں نے صاف نظر انداز کر کے فوری طور پر ماضی کا فراموش شدہ قصہ بنا دیا )۔ 
:( 
ممانی (غصے سے): تم اپنا فلسفہ اپنے پاس رکھا کرو۔اور چینل سیٹ کرو۔  ہمارا ڈرامہ مس ہو رہا ہے۔
میں: لیکن آپ پاکستانی پروگرام کیوں نہیں دیکھتیں۔ ان میں کیا برائی ہے اور سٹار پلس میں کیا اچھائی ہے۔
بھابھی: تو اپنے چینلز پر بھی یہی کچھ چل رہا ہے بلکہ ایسا کچھ چل رہا ہے کہ دیکھنے والا سمجھ نہیں پاتا کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہی ہے اور اگر ہے تو اس میں ہمارا معاشرہ کہاں ہے؟ ہماری روایات کہاں ہیں تو جب ادھر بھی یہی دیکھ رہے ہیں تو دوسرے چینلز دیکھنے میں کیا حرج ہے؟ 

اس بات پر بہت طویل بحث ہوئی اور آخر میں میں نے سب کو یہی کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ آپ ٹیلی ویژن دیکھنا ہی چھوڑ دیں اور اس وقت کو کہیں اور استعمال کریں۔ جواباؐ مجھے جن نظروں سے گھورا گیا اور جو باتیں سنائی گئیں ان کا ذکر نہ بھی کروں تو سب کو اندازہ ہو گا ہی۔ 
لیکن ان لوگوں کی باتیں کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے زیادہ تر پروگرامز نہ تو ہمارے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی اخلاقی حدود کی قید ہے۔ ڈرامہ دیکھیں یا کوئی اور پروگرام ۔ یا تو آپ دس پندرہ منٹ سے زیادہ ٹیلی ویژن کے سامنے ٹک نہیں سکیں گے یا اگر مستقل مزاجی سے بیٹھے رہے تو استغفر اللہ اور لاحول کا ورد کرتے رہیں گے اور ساتھ ساتھ اپنا خون جلاتے رہیں گے۔ 
ویسے اس بات کا کریڈٹ بھی ان چینلز کے کرتا دھرتا یوں لے سکتے ہیں کہ ان کی وجہ سے کتنے لوگ توبہ استغفار کرتے ہیں۔ میری تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور عقل سے نوازیں کہ ہم روشن خیالی کے چکر میں جو اپنی ہی جڑیں کھوکھلی کئے جا رہے ہیں ، ہمیں اس کا اندازہ ہو جائے۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, 24 July 2013

اَج دا دن!

سورج چڑھیا پچ تُوں تے پُورب آن کھلویا
اَج دا دن وی ایویں لنگیا، کوئی وی کم نہ ہویا

۔۔۔منیر نیازی

مکمل تحریر  »

Thursday, 18 July 2013

سلام ٹیچر!!!!

یہ پوسٹ پچھلے کچھ عرصہ سے ڈرافٹس میں پڑی تھی۔ آج پوسٹ کر رہی ہوں کہ آج ہی اپنی یونیورسٹی کی طرف ای میل ملی ہے اور یادوں کا ایک نیا دریچہ کُھل گیا۔

۔ 
کچھ عرصہ پہلے میرے کزن کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور ان دنوں پاکستان میں میرا چھوٹا بھائی 'جیو' کا کردار ادا کرتے ہوئے لمحہ بہ لمحہ خبریں ہم تک پہنچاتا تھا۔ ایک دن اس نے لکھا کہ آج امی اور تائی اماں ہماری ہونے والے بھابھی کو ملنے گیئں تھیں اور واپسی پر دونوں ان کی بہت تعریف کر رہی تھیں۔ اس کے بعد اس نے وہ جملہ لکھا جسے ہم نے متفقہ طور پر 'سنہری الفاظ' تسلیم کر لیا۔ اس نے لکھا' ویسے میری نامعقول رائے میں شادی سے پہلے اور مرنے کے بعد ہر کسی کی تعریفیں ہوتی ہیں۔' اور اب میں سوچتی ہوں کہ واقعی ایسا ہے۔ ہم دوسروں کی اچھائی کا اعتراف کرنے یا ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اکثر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب وہ ہم سے دور ہو جائیں۔ میں بھی ایسی ہی ہوں۔ بہت دنوں سے سوچ رہی تھی کہ ان سب کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے مجھے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا۔ لیکن یہ سوچ شاید سوچ رہتی اگر کل رات مجھے وہ خبر نہ ملتی جس نے مجھے شدید اداس کر دیا ہے۔ استاد کے بارے میں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیں فرش سے عرش تک لے جاتا ہے تو اس میں کچھ مبالغہ نہیں۔ مائیک رڈل  بھی ایک ایسا ہی استاد تھا جس کا شاگرد ہونا ہی بڑی بات اور اچھا شاگرد ہونے کی سند حاصل کر لینا بہت بڑا اعزاز تھا۔ اور یہ اعزاز مجھے حاصل ہوا۔ مائیک سے میں نے اپنے پوسٹ گریجویشن میں ڈیزائن کی کلاس پڑھی۔
یونیورسٹی میں اتفاق سے  میری پہلی کلاس ہی مائیک کے ساتھ ہوئی۔ کلاس شروع ہونے سے کچھ پہلے ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ اور میری کورس لیڈر نے مائیک سے میرا تعارف کروایا تو اس وقت یونیورسٹی میں میرا پہلا دن تھا۔ جب میری کلاسز شروع ہوئیں تو میں پاکستان میں تھی اور میرے برطانیہ واپس پہنچنے تک ہماری کلاسز شروع ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔پہلی کلاس ڈیزائن کی تھی۔ استادِ محترم سے تعارف تو کلاس شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ہو چکا تھا لیکن سب کے آنے کے بعد باضابطہ طور پر نئے آنے والوں سے تعارف کے لئے کہا گیا۔ مجھ سے پہلے ایک نائجیریئن بھائی نے اپنے بارے میں بتایا اور اختتام اس جملے کے ساتھ کیا 'اور میں عیسائی ہوں'۔ اگلی باری میری تھی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور جیسے ہی میں خاموش ہوئی مائیک نے میرے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ 'اور میں دیکھ سکتا ہوں کہ تم مسلمان ہو۔' ان دنوں برطانوی ایم پی جیک سٹرا کا برطانوی مسلم خواتین کے نقاب کے بارے میں متنازعہ بیان پر بہت لے دے ہو رہی تھی۔ مائیک نے بھی اسی حوالے سے مجھ سے یہ بات کہی۔ اب مجھے تو بقول میرے قریبی افراد کے بولنے کا موقع ملنا چاہئیے۔ اللہ دے اور بندہ لے۔ سو میری تقریر شروع ہو گئی حجاب ، اسلام اور جیک سٹرا کے بیان پر۔ اور جب رکی تو مائیک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ شاباش مجھے لگتا ہے تمہیں 'آرگیومنٹ اور کاؤنٹر آرگیومنٹ' کا کانسپٹ کافی حد تک معلوم ہے۔ ڈیزرٹیشن (تھیسس( کرنے میں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ یہ آغاز تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ استادِ محترم اپنے شاگردوں سے کوئی بھی بات بلامقصد نہیں کرتے بلکہ اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طور ان کی کلاس اور مضمون سے ضرور ملتے ہیں۔ ہفتے میں دو دن کلاس اور دو دن ٹیوٹوریلز ہوتے تھے اور اگرچہ ان چار دنوں میں تین تین گھنٹے کی کلاس کے بعد ہم سب کے سر درد کی شدت سے پھٹ رہے ہوتے تھے لیکن اب میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ جتنا میں نے ان کلاسز میں سیکھا شاید ہی کسی اور جگہ سے سیکھا ہو۔ پہلے دن ہونے والی بحث سے مجھے یوں لگا تھا جیسے میرے لئے یہ کلاس اٹینڈ کرنا سب سے مشکل ہو گا لیکن پھر یوں ہوا کہ آخری سٹودںٹس-فیکلٹی میٹنگ میں اعتراف کر رہی تھی کہ مائیک رڈل نے مجھے بات کو پرکھنا اور اپنا نقطہ نظر بہتر طریقے سے پیش کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ اور یہ اللہ کے کرم کے بعد مائیک ہی کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا کہ میری ہر اسائنمنٹ اور کام بہترین ہوتا گیا۔ میں شاید اپنے استاد کا اس طرح شکریہ نہیں ادا کر پائی جیسا کہ کرنے کا حق تھا۔ اور اب تو شاید کبھی بھی نہیں کر سکوں گی۔ لیکن جو کچھ میں نے سیکھا اور اب اسے اپنی عملی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا رہی ہوں وہ بھی شاید شکریہ اور احسانمندی کی ایک قسم ہے۔ مائیک ایک دہریہ بھی تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ایک دہریے کے لئے کیا دعا کرنی چاہئیے لیکن وہ میرا استاد بھی تھا۔ ایک ایسا استاد جس نے نظریاتی و مذہبی اختلاف ہونے کے باوجود مجھے بہترین طریقے سے پڑھایا اور سکھایا۔ تھینک یو مائیک۔ 
۔  I owe a lot of my success to your input. How could I possibly thank you enough!!!!

مکمل تحریر  »

واپسی!!!!

بہت دن گزر گئے دریچہ وا کئے۔ جب آپ کے پاس احساسات و خیالات کی تو فراوانی ہو لیکن ساتھ ساتھ الفاظ کا شدید قحط ہو تو شاید ایسا ہی جمود طاری ہو جاتا ہے جیسا کہ دریچہ پر پچھلے کچھ عرصہ سے ہے۔ صورتحال ابھی بھی نہیں بدلی لیکن کوشش ضرور کرنی ہے کہ کچھ نہ کچھ لکھا جا سکے۔ رمضان کا ایک عشرہ اختتام کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں اور رمضان کی اصل روح سمجھنے کی توفیق بھی دیں۔ آمین۔ اس حوالے سے بھی بہت کچھ ذہن میں آ رہا ہے لیکن اتنے عرصے کے بعد بلاگ پر پہلی پوسٹ ہے اس لئے آغاز شکایت اور مایوسی سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس لئے اس پوسٹ کو اگلے کسی دن کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔ :)

زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ اخبار پڑھنے کو موقع مجھے صرف صبح دفتر آتے ہوئے ملتا ہے۔ اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دل چاہتا ہے کہ کوئی خوش آئند اور دلچسپ بات بھی پڑھنے کو ملے تا کہ مشکلات اور حالات پر مبنی خبریں اور تبصرے پڑھنے کے بعد طبیعت پر چھایا تکدرپن  کسی حد تک دور ہو جائے۔ اس لئے اخبار کا ایک مخصوص حصہ میں ہمیشہ بچا کر رکھتی ہوں اور جب گاڑی دفتر کی حدود میں داخل ہوتی ہے تو میں وہ حصہ پڑھتی ہوں اور طبیعت دوبارہ سے ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ ڈان نیوز پیپر کے اندرونی صفحات (میٹروپولیٹین) کے نچلے حصے میں جو خصوصاؐ گیمبولز اور بےبی بلیوز پڑھ کر بے اختیار چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
لیکن کل اس سے بھی بڑھ کر ایک دلچسپ خبر پڑھنے کو ملی۔ سوچا بلاگ لکھنے کا آغاز اس خبر سے کیا جائے۔

خبر کے مطابق راولپنڈی میں اینٹی کرپشن ایسٹیبلیشمنٹ کے سپیشل جج نے نرسنگ میں جعلی میٹرک کی ڈگری جمع کروا کر داخلہ لینے والی ایک  طالبہ کو جیل جانے کی روایتی سزا دینے کی بجائے اسے ایک سکول میں بغیر تنخواہ کے پڑھانے کی سزا سنائی۔ اب یہ خاتون ایک سرکاری سکول میں دو سال تک ہفتے میں تین دن پڑھانے جایا کریں گی اور سکول کی پرنسپل ان کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گی۔ مجھے یہ سزا دلچسپ بھی لگی اور اچھی بھی کہ شاید اس طرح اس خاتون کو یہ اندازہ ہو کہ پڑھ کر ڈگری حاصل کرنا کتنا ضروری ہے اور دوسرا بچوں کو پڑھاتے ہوئے شاید ان کو بھی اخلاقیات اور قانون پسندی سے کچھ تعارف ہو جائے۔ کئی ممالک میں سزائیں ایسی ہی دی جاتی ہیں خصوصاؐ نوجوانوں کو جہاں وہ سوشل ورک کرتے ہیں۔ بنیادی مقصد ان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ اب اس طالبہ میں کتنی تبدیلی آئے گی اور وہ سزا کس حد مکمل کرے گی یہ تو نہیں معلوم لیکن جج صاحب کا فیصلہ کم از کم مجھے بہت اچھا بھی لگا ہے اور دلچسپ بھی۔ کہ اگر جیل کی سزا ہوتی تو جس طرح ہماری جیلوں کے حالات ہیں وہاں اس لڑکی کی شخصیت میں مزید بگاڑ کے امکانات کافی زیادہ تھے۔ اب اگر اس کے اندر معمولی سی بھی مثبت تبدیلی آ جاتی ہے تو میرے خیال میں یہ بہت بڑی بات ہو گی۔ 




مکمل تحریر  »

Tuesday, 12 February 2013

ماں اور بیٹی!

بہت عرصہ پہلے میں نے ایک بلاگ پر یہ پوسٹ پڑھی تھی۔ اسے پڑھ کر مجھے لکھنے والے پر رشک آیا تھا۔ ایسا ہی رشک جو اس وقت آیا کرتا ہے جب آپ  الفاظ کے معاملے میں میرے جیسے غریب ہوں اور کوئی اور اپنے محسوسات کو نہایت خوبصورتی سے الفاظ میں ڈھال دے۔  یہ ایک ماں کا اپنی بیٹی کے نام خط ہے بلکہ میں کہوں گی کہ شاید ہر ماں اور ہر باپ کا اپنی اولاد کے نام خط ہے۔ والدین جن کی محبت بے انت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس محبت کا حق ادا کیا بھی نہیں جا سکتا۔ میں جب یہ خط پڑھتی ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ اپنے والدین سے شدید محبت کے باوجود شاید میں اس محبت اور مشقت کا حق ادا نہیں کر سکتی جو انہوں نے میرے لئے کی۔ شاید والدین کی محبت کو ہم ان کا فرض اور اپنا حق سمجھ کر وصول کرنے کے عادی ہیں اور اس کے جواب میں اپنا فرض اور ان کا حق سمجھنے میں ہمیشہ ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کو تو اپنا حق سمجھ کر دھڑلے سے وصول کر لیتے ہیں لیکن حقوق اللہ کے لئے اپنے فرض کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ 
آج صبح ایک ڈاکیومنٹ ڈھونڈتے ہوئے میں نے دوبارہ یہی خط کھول لیا اور پھر اسی احساس میں گھِر گئی۔ کچھ اور کرنے کو دل نہیں چاہا تو اس خط کو اردو میں لکھنا شروع کر دیا۔ ایسے ہی جیسے میری اماں یہ سب کچھ میرے لئے لکھ رہی ہوں۔ ٹوٹا پھوٹا ترجمہ یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد اپنے لئے ایک یاد دہانی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ اس محبت کا حق پھر بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ 

میری عزیز از جان بیٹی! مجھے امید ہے کہ جس دن تم یہ محسوس کرو کہ میں بوڑھی ہو رہی ہوں تو تم حوصلہ نہیں ہارو گی اور یہ سمجھنے کی کوشش کرو گی کہ میں زندگی کے ایک مشکل دَور سے گزر رہی ہوں۔
اور اگر میں دورانِ گفتگو ایک ہی بات دہرانے لگوں تو مجھے ٹوکنے کی بجائے خندہ پیشانی سے سُنو گی اور وہ وقت یاد کرو گی جب تم چھوٹی تھیں اور میں تمھاری فرمائش پر ہر رات تمھیں ایک ہی کہانی سُناتی رہتی تھی جب تک کہ تم سو نہ جاتیں۔
بٹیا رانی مجھے امید ہے کہ بڑھاپے میں اگر میں کبھی نہانے سے انکار کر دوں تو اُس وقت کی یاد تمھیں مُسکرانے پر مجبور کر دے گی جب تمھیں نہلانے کے لئے مجھے تمھارے پیچھے دوڑنا پڑتا تھا اور تمھارے نت نئے بہانے سُننے پڑتے تھے۔
کبھی ایسا ہو کہ میں نئی چیزوں اور مشینوں کو استعمال کرنے میں ناکام ہو جاؤں تو مجھے ان کو سمجھنے کے لئے کچھ وقت دینا بلکہ ایسے ہی جیسے میں نے اتاولے ہوئے بغیر تمھیں کھانا کھانا ، اپنا خیال رکھنا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا۔
میری بچی! جس دن میں تمھیں بوڑھی لگنے لگوں ، تم حوصلہ مت ہارنا اور پریشان ہونے کے بجائے میرے محسوسات اور تکالیف سمجھنے کی کوشش کرنا۔
اور جب کبھی میں بات کرتے ہوئے موضوعِ گفتگو بُھول جاؤں تو میں امید کرتی ہوں کہ تم یہ یاد کرنے کے لئے مجھے کچھ وقت دو گی کہ ہم کیا بات کر رہے تھے۔ اور مجھے پھر بھی یاد نہ آئےتو تم پریشان نہیں ہو گی  اور نہ ہی مجھ پر غصہ کرو گی۔ اس بات کو کبھی مت بُھلانا کہ میرے لئے تمھارا ساتھ ہمیشہ سب سے اہم رہا ہے۔
میری بیٹی مجھے امید ہے کہ جب میری بوڑھی ٹانگیں تیز چلنے میں میرا ساتھ دینے سے انکار کرنے لگیں تو تم مجھے سہارا دینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے میں نے تمھارا ہاتھ اس وقت پکڑ رکھا تھا جب تم نے پاؤں پاؤں چلنا شروع کیا تھا۔
اور جب میں اس دَور میں داخل ہوں تو اُداس مت ہونا۔ بس میرے ساتھ رہنا اور مجھے سے اس وقت بھی محبت کرنا جب میری زندگی کا چراغ گُل ہونے کو ہو کہ تمھاری توجہ اور وقت کا تحفہ میرے لئے زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گا جس کے لئے میں تمھاری بہت شکر گزار ہوں گی۔
جانِ عزیز ! اس وقت بھی میرے چہرے پر بکھرتی مسکراہٹ اور تمہارے لئے چھلکتا پیار  تمھیں یہ بتائے گا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں۔ اور جب میں اس مشکل وقت سے گزر رہی ہوں تو تم حوصلہ مت ہارنا اور پریشان ہونے کے بجائے میرے محسوسات اور تکالیف سمجھنے کی کوشش کرنا۔

مکمل تحریر  »

Friday, 18 January 2013

سرگم ٹائم!

رولا: سر جی دھرنے کے انتظامات پر حکومت کے اخراجات کون پورے کرے گا؟

 انکل سرگم: ظاہر ہے میں ، تم یعنی ہم عوام۔

رولا: وہ کیسے سر جی؟

انکل سرگم: وہ تمھیں تب پتہ چلے گا جب بجلی اور گیس کا بِل 'ایڈیشنل سرچارج' کے ساتھ ملے گا۔

رولا: لیکن سر جی ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم تو نہ میزبان تھے اور نہ مہمان؟

انکل سرگم: ارے نادان۔ تمھارا قصور یہ ہے کہ تم عوام ہو۔ اور تمھارے لئے تمھارے لیڈر اور حکومت نے اتنی تکلیفیں سہیں۔ 

رولا: پر سر جی۔ تبدیلی بھی تو آنی تھی۔ وہ کہاں ہے؟

انکل سرگم: رہے ناں چھوٹے پانڈے ، کوارٹر پلیٹ۔۔ مہنگائی میں مزید اضافہ کیا تبدیلی نہیں ہے۔ تمھیں اس سے بڑی 'تبدیلی' کیا

 !!چاہئے ؟ میرے بھولے رولے

مکمل تحریر  »