Tuesday, 1 May 2012

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات!

یومِ مئی پر ایک پیغام موصول ہوا۔
'کتنی عجیب بات ہے کہ جو آٹے کی بوری خرید سکتے ہیں وہ اُٹھا نہیں سکتے اور جو اُٹھا سکتے ہیں وہ خرید نہیں سکتے۔'

مکمل تحریر  »

Friday, 27 April 2012

دورۂ چکوال

نہیں نہ تو میرا وفاقی یا صوبائی کابینہ میں اعلیٰ عہدے پر تقرر ہو گیا ہے کہ دوروں پر روانہ ہو جاؤں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے جلسے جلوسوں والے 'طوفانی' دورے شروع کئے ہیں۔ بس گزشتہ روز چکوال جانے کا اتفاق ہوا جسے میں نے دورۂ چکوال کا نام دے دیا۔ دورانِ سفر بہت سے دلچسپ چیزیں مشاہدے میں آئیں۔
پہلی یہ کہ جی۔ٹی۔روڈ سے چکوال کے لئے لنک روڈ پر مڑتے ہی عمارتوں کی دیواروں پر جلی حروف میں 'ہم راجہ پرویز اشرف تو اہم وفاقی وزارت ملنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں' کے پیغامات لکھے نظر آئے۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ دونوں اطراف پر ہر دوسری دیوار پر یہ پیغام لکھا ہوا ہے تو اس میں ہر گز مبالغہ نہیں ہو گا۔ مجھے سفر کبھی بھی فاصلے کے حساب سے یاد نہیں رہتا لیکن ہماری منزل چکوال کے مین شہر سے کچھ پہلے تھی اور سیدھی سڑک پر ہمیں وہاں پہنچتے تقریباؐ ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ اور اس ڈیڑھ گھنٹے کے دوران یہ پیغام ہر دوسری دیوار پر لکھا دکھائی دیا۔ اور کہیں کہیں بینرز بھی نظر آئے۔ اللہ ہماری قوم کو ہدایت دیں۔ جہاں مبارکباد دینے کا موقع ہوتا ہے یا جو واقعی اس کے مستحق ہوتے ہیں انہیں معتوب قرار دے دیا جاتا ہے اور جو اداروں اور نظام کا بیڑہ ڈبو دیتے ہیں ان پر مبارک سلامت کے ڈونگرے برسا ددیتے ہیں اور پھر ملکی حالات و واقعات پر رونا دھونا بھی فُل ٹائم جاری رہتا ہے۔ اسی لئے میں اپنی قوم اور اپنے لئے میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

خیر اگلا مشاہدہ یہ تھا کہ اس تمام راستے میں اتنے زیادہ سکول دیکھے کہ ابھی تک میری حیرانگی ختم نہیں ہو رہی۔ سڑک کے ساتھ ساتھ سرکاری اور غیرسرکاری ہر طرح کے سکولوں کی بھرمار ہے۔ صبح صبح اتنے زیادہ بچے پیدل اور گاڑیوں پر دیکھ کر میں نے اپنی روایتی قومی جذباتی پن سے کام لیتے ہوئے چکوال اور پھر پاکستان کی شرح خواندگی کو 100 فیصد سے بھی زیادہ قرار دے دیا۔ :daydream سکولوں خصوصاً پرائیویٹ سکولوں کی مشرومنگ تو ماشاءاللہ ہر شہر میں
ایسی ہی ہے اور جس کے پاس کوئی ڈگری یا ہنر نہیں ہے یا کوئی کام نہیں ہے لیکن تھوڑا بہت سرمایہ بھی ہے، دو کمروں کا مکان کرایے پر لیکر ایک سکول کھول لیتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ اپنا مکان کئی منزلہ بنا لیتا ہے 'ھذا من فضل ربی' کی تختی لگا کر۔ جو بات مجھے دلچسپ لگی وہ ان سکولوں کے نام تھے۔
برائٹ پبلک سکول
ریڈینٹ ہاؤس سکول
تعمیرِ ملت پبلک سکول
انٹرنیشنل سکول سسٹم
اکیڈمی آف سائنس اینڈٖ ریسرچ (اور یہ سکول واقعتاؐ دو کمروں پر مشتمل تھا جہاں کوئی دیوار کوئی صحن کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا)
دا برینز سکول اینڈ کالج
برائٹ روز سکول
ڈیفوڈلز سکول
ینگ سکالرز سکول سسٹم
دی ایجوکیٹرز
دا سٹی سکول سسٹم
بیکن ہاؤس سکول سسٹم
بحریہ فاؤنڈیشن
اف۔۔اس کے علاوہ بھی بہت سے۔ لیکن اب نام یاد نہیں آ رہے۔ کیونکہ جاتے ہوئے صبح جلدی نکلے تھے تو میں آدھی سوئی ہوئی تھی اور آتے ہوئے تھکی ہوئی تھی کہ نوٹس نہیں لے سکی اور نہ تصویریں۔
تیسری اہم بات ایک باہمت و بہادر خاتون سے ملاقات تھی۔ انتہائی خوبصورت لہجے میں بولنے والی یہ خاتون دکھنے میں بھی اتنی ہی اچھی لگ رہی تھیں۔ اور جب تک انہوں نے خود نہیں بتایا۔ مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کا ایک بازو کندھے سے کٹا ہوا ہے۔ انہوں نے دوپٹہ اس طرح اوڑھ رکھا تھا کہ بازو کا نہ ہونا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ بہرحال یہ خاتون ایک کامیاب خاتونِ خانہ بھی ہیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اتنی ہی کامیاب ہیں۔
یہ خاتون 2005ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد میں پڑھتی تھیں۔ زلزلے میں ان کے ہاسٹل کی عمارت منہدم ہوئی تو یہ اٹھائیس گھنٹے ملبے کے نیچے دبی رہیں۔ باہر نکالنے کے بعد جب انہیں راولپنڈی شفٹ کیا گیا تو ان کے بازو کے ٹشوز میں اس بری طرح ٹوٹ پھوٹ ہو چکی تھی کہ بازو کاٹ دیا گیا۔ کچھ دنوں بعد پشت کی سائیڈ سے پیپ رسنے لگی اور مزید ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کی دو پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں اور اندورنی طور پر زخم اس طرح خراب ہو رہے تھے کہ میجر سرجری کے بغیر کچھ کرنا ناممکن تھا۔ پیٹ اور پشت دونوں طرف سے سرجری کی گئی۔ اور اب ان کے جسم کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ حصے پر آپریشن کے ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنی تعلیم مکمل کی اور پھر جاب بھی شروع کر دی۔ 2009ء میں ان کو مصنوعی بازو لگایا گیا لیکن وہ اس کو استعمال میں لاتے ہوئے جب بہت زیادہ کام کرنے لگیں تو اس کا اثر پھر پشت کے مسلز پر پڑا اور وہ پھٹنے لگے۔ سو اب وہ اس بازو کو استعمال نہیں کرتیں۔ ان کی شادی ایک بہت اچھے اور سلجھے ہوئے آدمی سے ہوئی جنہوں نے ان کی معذوری کو ان کے لئے طعنہ نہیں بنایا اور اب یہ خاتون اپنا گھر خود سنبھال رہی ہیں اور ساتھ ساتھ قائدِ اعظم یونیورسٹی سے ایم فل میں داخلے کی فہرست لگنے کی منتظر ہیں۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو مختصر سی ملاقات میں بھی آپ کو متاثر کر جاتے ہیں اور ہھر ان کا خیال اور ان کی مثال ذہن میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ میرے لئے یہ خاتون بھی ایسی ہی ایک مثال تھیں۔ جنہوں نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا کہ 'میں ہی کیوں' یا 'مجھے بہت مشکل یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔' مسکرتے لبوں اور نم آنکھوں والی یہ مثال مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح حوصلہ و ہمت عطا کرتے رہیں اور وہ زندگی میں یونہی کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ ثمَ آمین

مکمل تحریر  »

Sunday, 4 March 2012

ہمسفراور بے/ لا انتہا

ٹرن ٹرن ٹرن فون بجا۔
میں: السلام علیکم
میری کزن: وعلیکم السلام۔ عبداللہ کی سالگرہ جمعہ کو مغرب کے بعد ہے۔ سب لوگ وقت پر پہنچ جانا۔'
میں: لیکن سالگرہ تو ہفتہ والے دن بنتی ہے۔'
کزن: ہے تو ہفتے کو ہی۔ لیکن کیونکہ شام کو ہی سب آ سکتے ہیں اور ہفتہ ہی کو ہمسفر کی آخری قسط آ رہی ہے۔ تو بہتر سمجھا جمعہ رکھ لیں۔ ورنہ پھر اتوار کو انتظام کرنا ہو گا۔'
کچھ مزید۔۔۔۔
فون پر ٹیکسٹ میسج کی بیپ آئی۔
"پڑوس کا بچہ: 'انکل! یہ لیں مٹھائی، امی اور باجی نے بھیجی ہے۔'
انکل: 'اللہ مبارک کرے۔ کس خوشی میں بھیجی ہے؟'
بچہ: وہ ہمسفر میں اشعر کو سب سچ پتہ چل گیا۔''
اسی طرز کے کئی پیغامات میرے فون کے ان باکس میں موجود ہیں۔

میری کزن جو اسی سال انٹر میں گئی ہے ، ایک دن مجھے کہنے لگی اگر آپ کے پاس 'وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی' والی غزل ہے تو مجھے ابھی بھیجیں۔ میں اگرچہ حیران ہوئی کہ ہپ ہاپ میوزک کی شوقین کا ذوق ایک دم سے اتنا تندیل کیسے ہو سکتا ہے۔ خیر فائل ٹرانسفر ہونے کے بعد اس نے غزل چیک کی۔ پھر بہت ناراض انداز میں بولی۔ ' میں نے آپ سے یہ بور غزل نہیں مانگی تھی۔ کیو بی والی غزل کی بات کی تھی۔ ابھی میں اسے اپنی پسندیدہ گلوکارہ عابدہ پروین اور میری، دونوں کی شان میں گستاخی کی سنگین غلطی پر جھاڑ پلانے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اس نے پوچھا۔ آپ ہمسفر ڈرامہ نہیں دیکھتیں؟ میرے نفی میں جواب پر اس کی آنکھیں اور منہ بیک وقت اس طرح کھلے :dntelme کہ مجھے وہی صدیوں کا گھسا پٹا مکھی والا جملہ بولنا پڑا۔ خیر اس کے بعد مجھے ڈرامہ کی کہانی سنائی گئی اور وعدہ لیا گیا کہ میں یہ ڈرامہ ضرور دیکھوں گی۔
سو ایک ویک اینڈ پر میں بھی دیگر متاثرین کے ساتھ بیٹھ گئی کہ طعنوں سے بچت تو ممکن ہو۔ ہر دفعہ وقفہ ہونے پر ڈرامہ کی پنکھیاں مجھے اس قدر داد طلب نظروں سے دیکھتیں جیسے ڈرامہ انہوں نے ہی بنایا ہو۔ خیر میرے خیال میں (جسے سب نے اتفاقِ رائے سے نامعقول خیال قرار دے دیا)، ڈرامہ کی پروڈکشن واقعی بہت اچھی تھی لیکن کہانی کچھ زیادہ ہی روایتی ہو گئی۔ اور مزید یہ کہ ڈرامہ کا نام ہمسفر کے بجائے 'بے انتہا؛ یا 'لا انتہا' ہونا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جو قسط میں نے دیکھی اس میں خرد مظلومیت کی انتہا پر تھی۔ 45 منٹ کے ڈرامے میں خرد نے آنسوؤں کی ان گنت بالٹیاں، ٹب بلکہ ٹینک بہا دیئے۔ پھر ہیرو یعنی اشعر صاحب انتہا درجے کے بے خبر۔ نہ انہیں اپنی بیگم کے حالات کی خبر ہے اور نہ ہی کزن کے خیالات کی۔ نہ اماں جان اور خالہ جان کی سیاستوں کی خبر ہے۔ حد ہے بھئی۔ اب سارہ کی باری آئی۔ انتہا درجے کی شدت پسندی۔ سو میرے مطابق اس ڈرامہ کا نام ہمسفر تو ہر گز نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ اگرچہ اپنے اس اظہارِ خیال کے بعد مجھے بہت سی خونخوار نظروں کا سامنا کرنا پڑا :dont اور آخر میں یہ فیصلہ بھی سننا پڑا کہ آپ آئندہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامہ نہیں دیکھیں گی۔ جس پر میں تب سے بہت سعادتمندی سے عمل کر رہی ہوں کہ پھر مجھے کسی نے اس بارے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ :cn
تفنن بر طرف میں نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں پی ٹی وی کے سنہری دور کے ڈرامے دیکھے ہیں شاید اسی لئے مجھے اب والے ڈراموں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ڈرامہ کی پروڈکشن مجھے واقعی اچھی لگی۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے کریڈٹ پر ایک کامیاب ڈرامہ آ گیا۔ قرۃ العین بلوچ نے غزل بہت اچھی طرح گائی ہے۔ رائٹر سنا ہے خواتین کے رسالوں کی کافی معروف مصنفہ ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اکثر لوگ پھر پاکستانی ڈرامہ کی ریواول کی بات کرتے ملتے ہیں۔ اگر اس میں کچھ مقصدیت بھی شامل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہو گی۔ :smile
اب میرے خیال میں شاید رات اس ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہو چکی ہے۔ تو پاکستانی قوم کا یہ جنون بھی ختم ہو جائے گا۔ میں یہ پوسٹ نہ لکھتی لیکن اس سلسلے میں پیش آنے والا آخری واقعہ نے مجبور کر دیا۔ میری ایک سہیلی کے کالج میں پچھلے ہفتے سٹوڈنٹس الیکشنز ہو رہے تھے۔ اس میں ایک امیدوار کے پوسٹر نے مجھے پھر اس ڈرامہ کی یاد دلا دی۔

اب اس کے بعد مزید کیا لکھا جائے۔ صرف یہ کہ متاثرین ہمسفر کو مبارکباد کہ 'اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے' والا انجام ہوا۔
مجھے بھی مبارکباد کہ اب اگر میں کسی کو ہفتے شام میں ملنے یا فون پر بات کا ارادہ کروں گی تو یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ وہ اپنا پسندیدہ ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہوں گی۔ :party
اور الیکشن امیدوار سے اظہارِ افسوس کہ سنا ہے وہ کل کے الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ :sadd: لگتا ہے ان کے ووٹرز بھی کنوینس نہیں ہو سکے :humm

مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 January 2012

مثبت سوچ

آج ہمارا ٹی کیفے والے چاچا کافی دینے آئے تو گیس کی لوڈشیڈنگ اور قیمت بڑھنے، سی این جی والوں کی ہڑتال، اور گزشتہ دو دنوں سے ٹرانسپورٹ کے مسائل کے بارے میں بتانے لگے۔ بات کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ اوپر والوں اور اختیار رکھنے والوں کو الزام دیتے ہیں جو کسی حد تک تو درست ہے لیکن ہم اپنی ذاتی اور انفرادی حیثیت میں بھی تو اپنے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی کرتے ہیں۔ جب بجلی اور گیس قسمت سے ہمیں بغیر تعطل کے ملتی ہے تو اکثریت اسے انتہائی لاپرواہی سے استعمال کرتی ہے۔ بات سے بات نکلی تو کسی نے کہا کہ ہم جن لوگوں میں رہتے ہیں یا جن کے ساتھ کام کرتے ہیں ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اور وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ سو ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ دوسروں سے سیکھیں بھی اور انہیں اچھی بات بتائیں بھی۔ اس بات پر ان چاچا نے دو بہت اچھی باتیں سنائیں۔
(یہ صاحب سابق فوجی ہیں اور بہت سے بڑے افسروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب میں ایک جنرل صاحب اور ان کے خاندان سے سیکھے گئے سبق کو کبھی نہیں بھول سکتے۔)
1۔ "فوج میں کام کرتے ہوئے میں نے کافی عرصہ ایک جنرل صاحب کے گھر کام کیا۔ جنرل صاحب کی بیگم صاحبہ نے مجھے کبھی نہیں ٹوکا اور نہ ڈانٹا سوائے ایک موقعے کے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اکثر کچن یا کسی کمرے سے نکلتے ہوئے بتی جلتی ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ تو انہوں نے ایک دن مجھے بلا کر کہا 'یہ جو بجلی ہم جلا رہے ہیں اس کی ادائیگی ہماری جیب سے نہیں بلکہ عوام کے پیسوں سے ہوتی ہے۔ اگر ہم یوں ہی بجلی ضائع کرتے رہے تو ہمیں تو شاید فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن ان لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی۔اور اس کے ذمہ داروں میں میں اور تم بھی شامل ہوں گے۔'
چاچا کا کہنا تھا کہ وہ 20 سال پہلے ملا یہ سبق آج تک خود بھی نہیں بھولے اور دوسروں کو بھی اسی بھولنے نہیں دیتے۔

دوسری بات: "میں سگریٹ بہت پیا کرتا تھا۔ ایک دن جنرل صاحب کے بیٹے نے، جو اس وقت 10-12 سال کا ہوگا، مجھے کو سگریٹ پیتے دیکھا۔ جب میں سگریٹ ختم کر چکا تو اس نے پوچھا۔ 'صاب۔ آپ کے پاس ایک روپیہ ہے؟'۔ میں جواب دیا کہ ہے تو اس نے مجھے پیسے نکالنے کو کہا۔ پھر اس نے مجھ سے ماچس مانگی جو میں نے دے دی۔ بچے نے تیلی جلائی اور میرے ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو آگ لگانے لگا۔ میں نے فورا ہاتھ پیچھے کیا اور کہا 'یہ کیا کر رہے ہیں پیسے جلا رہے ہیں۔ ضائع ہو جائے گا۔' اس پر وہ بچہ بولا۔ جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں وہ بھی تو آپ اپنا پیسہ جلا رہے ہیں۔' ۔ بچے کی بات نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے اس دن کے بعد سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے جس طرح سمجھایا شاید میں کبھی بھی سمجھ نہ سکتا۔"

میں یہ بات کسی اور سے سنتی تو اسے مبالغہ آرائی سمجھتی (کیونکہ بڑے افسران چاہے وہ کسی بھی ادارے سے ہوں، ایسی سلجھی ہوئی سوچ کم ہی دیکھنے میں آتی ہے)، لیکن آج کی گفتگو کے بعد میرا یقین ایک بار پھر اس بات پر پختہ ہو گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کوشش کسی کی زندگی میں بہت بڑی مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور ہم کسی بھی وقت کسی سے بھی کوئی اچھی بات سیکھ سیکھتے ہیں قطع نظر ان کی عمر، مرتبے اور حیثیت کے۔ چاچا کو ان کی مالکن اور ایک بچے نے جو سکھایا وہ میں نے ان سے سیکھا اور اب مجھے چاہئیے کہ اس پر عمل بھی کروں اور دوسروں کو بھی بتاؤں۔

مکمل تحریر  »