Pages - Menu

Sunday, 25 September 2011

میں کب سے گوش برآواز ہوں پکارو بھی!

میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم




میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی

میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی

میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی

بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی

4 comments:

  1. آپ کے نام سے میل وصول ہوئی تھی ۔
    جاپان کی ایجوکیشن ویلیوز سے متعلقہ معلومات کیلئے۔
    اگر مجھے غلط فہمی ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔
    آجکل مجھے کچھ فرصت ہے اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوتو
    تکلف مت کیجئے گا۔

    ReplyDelete
  2. فرحت کیانی5 October 2011 at 21:37

    بالکل۔ :)

    ReplyDelete
  3. فرحت کیانی5 October 2011 at 21:40

    نہیں آپ کو ہر گز غلط فہمی نہیں ہوئی ہے۔ میں اصل میں بہت دنوں سے یہاں تھی ہی نہیں اس لئے بتا نہیں پائی کہ کس طرح کا مواد چاہئیے۔ بہت شکریہ آپ نے یاد رکھا اور وقت بھی نکالا۔ میں ابھی آپ کو میل کرتی ہوں تفصیلاً۔
    ایک بار پھر بہت شکریہ :)

    ReplyDelete