میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی۔ تصور خانم
میں کب سے گوش بر آواز ہوں پکارو بھی
زمین پر یہ ستارے کبھی اتارو بھی
میری غیور امنگو! شباب فانی ہے
غرورِ عشق کا دیرینہ کھیل ہارو بھی
میرے خطوط پہ جمنے لگی ہے گردِ حیات
اُداس نقش گرو اب مجھے نکھارو بھی
بھٹک رہا ہے دھندلکوں میں کاروانِ حیات
بس اب خدا کے لئے کاکُلیں سنوارو بھی
لاجواب
ReplyDeleteآپ کے نام سے میل وصول ہوئی تھی ۔
ReplyDeleteجاپان کی ایجوکیشن ویلیوز سے متعلقہ معلومات کیلئے۔
اگر مجھے غلط فہمی ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔
آجکل مجھے کچھ فرصت ہے اگر کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوتو
تکلف مت کیجئے گا۔
بالکل۔ :)
ReplyDeleteنہیں آپ کو ہر گز غلط فہمی نہیں ہوئی ہے۔ میں اصل میں بہت دنوں سے یہاں تھی ہی نہیں اس لئے بتا نہیں پائی کہ کس طرح کا مواد چاہئیے۔ بہت شکریہ آپ نے یاد رکھا اور وقت بھی نکالا۔ میں ابھی آپ کو میل کرتی ہوں تفصیلاً۔
ReplyDeleteایک بار پھر بہت شکریہ :)