Wednesday, 29 December 2010

پشاور سے واپسی تین دن پہلے ہو گئی تھی۔ میں زندگی میں پہلی بار پشاور جا رہی تھی تو بہت خوش تھی۔ اس سے پہلے نوشہرہ جانا ہوا تھا کافی عرصہ پہلے۔ جب میرے ابا جان کی تبدیلی وہاں ہوئی تھی۔ ہم لوگ نوشہرہ شفٹ تو نہیں ہوئے تھے لیکن گھومنے ضرور گئے تھے۔ یہ شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نوشہرہ کو گلابوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ نہایت خوبصورت اور تقریباً ہر رنگ کے گلاب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہرحال پشاور جانے کا بھی ایک عرصے سے شوق تھا لیکن وہی بات کہ اب تو کہیں جا کر بھی جانا نہیں ہوتا کہ باہر نکلنے سے پہلے کئی بار سوچا جاتا یے کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے۔ حالانکہ حادثے یا موت سے ملاقات تو کہیں بھی ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی۔ ویسے مرنے کے بارے میں میرے خیالات ووڈی ایلن جیسے ہی ہیں جو کہتا ہے، ' میں موت سے نہیں ڈرتا۔ صرف یہ چاہتا ہوں جب موت آئے تو میں وہاں نہ ہوں۔' :daydream

خیر پشاور کا سفر اور قیام بہت اچھا رہا۔ براستہ موٹر وے پشاور داخل ہوئے تو سامنا عظیم الشان قلعہ بالا حصار سے ہوا۔ قلعہ بالا حصار کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود وادی پشاور۔ اس کی دیوار کی اونچائی سطح زمین سے تقریباً 90 فٹ کہی جاتی ہے اور بیرونی دیوار کا رقبہ 15 ایکڑ۔ قلعہ میں اس وقت فرنٹیئر کو

مکمل تحریر  »

Tuesday, 28 December 2010

کلامِ اقبال (رح)





خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں
رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں
عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں
جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں
بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں




کلام: علامہ محمد اقبال
گلوکارہ: ثریا خانم

مکمل تحریر  »

Monday, 27 December 2010

ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی خصوصاً کمپیوٹر نے جہاں روزمرہ زندگی میں بہت سے کام آسان کر دیئے ہیں وہاں انسان کی خود انحصاری تو بالکل ختم کر دی ہے۔ کمیپوٹر اور انٹرنیٹ پر کام کرنے کے بعد وہ خود سے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ بچپن میں ہم جب اپنی ٹیچر سے یا گھر میں ابو امی سے کسی لفظ کا مطلب پوچھتے تھے تو ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا 'لغت میں دیکھو'۔ تب کا سیکھا ہوا ابھی تک ذہن میں تازہ ہے لیکن اب نہ ہم خود اور نہ ہی آج کے طلبہ لغت استعمال کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ نتیجہ کسی بھی زبان میں ذخیرہ الفاظ تو کیا ہونا ہے ہجے بھی نہیں آتے۔ انگریزی میں مسئلہ اس طرح حل کیا جاتا ہے کہ ٹائپ کرتے کمپیوٹر خود ہی آپ کی غلطیاں پکڑ لے گا اور اردو تو ویسے ہی گھر کی کھیتی ہے۔ اس کا بطور زبان سیکھنا کبھی ہمارا مقصد ہی نہیں رہا۔ اسی طرح ہاتھ سے لکھنا، کتاب پڑھنا یہ سب کام نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ مجھے کبھی ہاتھ سے دو صفحات لکھنے پڑ جائیں تو انگلیاں جواب دے جاتی ہیں جبکہ وہ بھی دن تھے جب امتحان میں دھڑا دھڑ جوابی کاپیاں بھری جاتی تھیں۔ اسی طرح کسی مضمون یا کتاب میں سے کچھ خاص ڈھونڈنا ہو تو مصیبت پڑ جاتی ہے۔ جی چاہتا ہے کہیں سے کنٹرول ایف دبا کر مطلوبہ لفظ ٹائپ کروں اور اپنا کام مکمل کر لوں۔ اس ساری داستان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آج ہماری دو سینئرز بچوں کے بہترین کمپیوٹر سکلز اور اپنی کمپیوٹر سے بیزاری پر بات کر رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہم لوگوں کو مینوئلی کام کرنے کی نسبت اس طرح کام کرنا آسان لگتا ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ پوچھا کہ اگر کبھی آپ کو یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر غیر میسر ہو تو کیا کریں گی؟ تو میرا جواب کچھ ایسا ہی تھا :nailbite
واقعی اگر ایسا ہو تو کم از کم شروع کے کچھ عرصہ میں میرے کام کی رفتار تو بالکل کچھوے جیسی ہو جائے گی۔
اور محض ایک جملے کے لئے بیس بیس صفحات کے مضامین پڑھتے ہوئے میرا تو حشر ہو جائے گا :aww

مکمل تحریر  »

Monday, 20 December 2010

سفر نصیب

تین دن کے لئے جا رہے ہیں پشاور۔ خیر خیریت سے واپسی پر یہاں آنا ہو گا 24 دسمبر 2010ء کے بعد۔ ان تین دنوں میں اگر پشاور میں کسی دھماکے کی آواز سنائی دی تو میری خیریت کی دعا کرنا نہ بھولیں۔ اور اگر میں کم از کم دو ہفتوں تک یہاں دکھائی نہ دی تو میری مغفرت کی دعا سب پر ادھار رہی۔ :sadd:

مذاق برطرف اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ امان میں رکھے۔ بشرطِ زندگی پھر یہاں آنا ہو گا جلد ہی۔ انشاءاللہ

مکمل تحریر  »

Sunday, 12 December 2010

قصہ ایک صاحبِ کرامات بابا جی کا۔

واقعہ کچھ پرانا ہے لیکن تحریر کرنے کی فرصت اب ملی ہے۔
اس سال جون میں ہماری ایک مہمان لندن سے پاکستان آئیں۔ ہمارے خاندان سے ان کی جان پہچان اس طرح ہوئی کہ وہ لندن میں ہماری ہمسائی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والدین ہمارے شہر سے تھے جو شائد 50 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ہمارے شہر میں ہے جہاں آخری بار وہ آج سے دس سال پہلے اپنے والد کی وفات پر آئی تھیں۔ بہرحال انہوں نے ہم لوگوں کا بہت خیال رکھا اور یوں ہماری پکی والی آنٹی بن گئیں۔ اس سال تقریباً دس سال بعد جب وہ پاکستان آئیں تو ہم لوگ بھی ان کے میزبانوں میں شامل تھے کیونکہ ان کی اپنی ساری فیملی پاکستان سے باہر ہوتی ہے۔ میزبانی کرتے کرتے ایک بہت دلچسپ موڑ بھی آیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی اور سر اور جسم میں درد رہنے لگا۔ جو کہ میرے خیال میں گرمی، موسم اور جگہ کی تبدیلی اور تھکن کے باعث تھا لیکن آنٹی کو ان کی کسی رشتہ دار خاتون نے قائل کر لیا کہ کسی بدخواہ نے ان پر کچھ عمل کر دیا ہے۔ اور اس کا توڑ دوائیوں سے نہیں دعا سے ہو گا اور وہ بھی کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی دعا سے۔ لگے ہاتھوں انہوں نے ایک صاحبِ کرامت بزرگ کا ذکر بھی کیا اور مزید ستم یہ ہوا کہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ اور اچھی خاصی سمجھدار خاتون جو وہاں NHS سے منسلک ہیں، ان باتوں پہ یقین کر بیٹھیں بلکہ وہاں چلی بھی گئیں۔ بابا جی کو جب یہ معلوم ہوا کہ موصوفہ انگلینڈ سے آئی ہیں تو ان کا وہ تعویذ جو ایک بار جانے میں ہی سارے مسئلے حل کر دیتا تھا ، دو تین باریوں پر محیط ہو گیا۔ یعنی ان کو کہا گیا کہ وہ تین ہفتے تک ہر ہفتے آئیں۔ خیر آنٹی ان کی ٹھیک ٹھاک معتقد ہو گئیں۔۔ جب انہوں نے آخری بار بابا جی کی طرف جانا تھا تو ان کی رشتہ دار خاتون بیمار ہو گئیں اور آنٹی نے میری امی سے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے اماں ابا اس قسم کی پیری فقیری کے سخت خلاف ہیں تو امی کو سمجھ نہ آئے کیسے انکار کریں کہ وہ ہماری مہمان بھی تھیں۔ خیر ابو نے کہا چلی جائیں لیکن بھائی کے ساتھ جائیں۔ اب میرے زرخیز ذہن میں خیال آیا کہ لائیو دیکھنا چاہئیے یہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پڑی لیکن بڑی مشکل سے ابو، امی اور بھائی سے کہہ کہہ کر اپنا نام بھی اس ٹرپ میں شامل کروا لیا۔ آنٹی سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے جو ایک عرصے سے علاج کرانے کے باوجود بھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا۔ بابا جی سے تعویذ لینا ہے۔
مقررہ دن پر ہم لوگ وہاں پہنچے۔ یہ مرکزی سڑک سے ذرا سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے بازار کی ایک چھوٹی سی گلی میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ بیرونی دیواریں اور دروازہ گہرے سبز رنگ میں رنگا گیا تھا۔ کپڑے کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں دیوار پر عمودی زاویہ پر لٹک رہی تھیں اور جھنڈیوں کے کونوں پر خوب چمکیلی گوٹا کناری کا کام بھی کیا گیا تھا ۔ خیر دروازے کی چوکھٹ پر بنی دو سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوئے تو ایک ڈربہ نما جگہ تھی جس کو درمیان میں ایک پردہ( جس کو شاید ہی کبھی دھویا جاتا ہو) لگا کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ داخلی حصے میں ایک عدد خاصی نورانی صورت والی بابا جی سفید عبا سی پہنے ، سر پر باریک کشیدہ کاری والی نماز والی ٹوپی پہنے اور اس ٹوپی ہر سفید کپڑا اوڑھے چہرے کو ہلکا سا چھپائے بیٹھے تھے۔ (نورانی صورت کے بارے میں میرے بھائی کا خیال تھا کہ کمزوری کی وجہ سے رنگ پیلا تھا بابا کا جو کہ سفید مرکری بلب کی وشنی میں نور جیسا دکھ رہا تھا) ۔ ان کے سامنے دو تین ٹوکریاں رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک میں سفید کاغذ کے پرزے تہہ کئے رکھے تھے۔ ایک طرف اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ اور ایک چھوٹی سے چوکی پر رنگ برنگ موٹے دانوں والی ایک تسبیح اور بتھر جڑی دو تین انگوٹھیاں دھری تھیں۔ بابا جی کے سامنے چائے کی پیالی اور سائڈ پر دو تین خالی پیپسی کی بوتلیں پڑی تھیں۔ دیوار پر ایک اسلامی کیلنڈر لٹک رہا تھا۔ اسی طرف ایک دو بھائی صاحب بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ بچارے زندگی کے ہاتھوں بری طرح ستائے ہوئے ہیں۔
خیر بھائی تو اندر آنے کے بجائے دروازے میں ہی کھڑے رہے۔ آنٹی ، اماں اور مجھے لیکر پردے کی دوسری سائڈ پر چلی گئیں۔ وہاں ایک دو سائل خواتین کے علاوہ ایک بزرگ خاتون بھی بیٹھی تھیں جو معلوم ہوا بابا جی کی بیگم تھیں۔ ساتھ ہی ان کی بیٹی بھی موجود تھیں جنہوں نے ہماری آنٹی کو دیکھتے ہی ان کا پرتپاک استقبال کیا اور بابا جی اینڈ کو کے کمالات و خدمات روشنی ڈالنا شروع کی جس میں سرِ فہرست یہ تھا کہ وہ ایک مدرسہ بنانے جا رہے ہیں جس کے لئے ان کے مرید خصوصاً ملک سے باہر مقیم مرید دل کھول کر مدد کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ ان آنٹی کو خاصی امید بھری نظروں سے دیکھ جا رہی تھیں جنہوں نے فوراً جذباتی ہو کر اچھی خاصی رقم دینے کا اعلان کر دیا ۔جواباً بابا جی کی اہلیہ اور بیٹی سکون کا سانس لیتے ہوئے نان چھولوں کی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئیں جو انہوں نے شاید صرف اپنے دونوں کے لئے ہی منگوائی تھی۔ بغیر کسی کو دعوتِ طعام دیئے انہوں نے اپنا لنچ شروع کیا اور میں نے دوسری طرف سے آتی ہوئی آوازوں پر توجہ دی۔ ایک خاتون شاید اپنے بیمار بچے کے لئے تعویذ لینے آئی تھیں۔ بیمار تو بچہ تھا لیکن بابا جی نے خاتون کو کھڑا ہو کر زمین پر دایاں پاؤں زمین پر زور زور سے مارنے کو کہا۔ بابا جی کی ترجمان یعنی ان کی بیٹی نے اس کی توجیہہ یہ دی کہ ان کے بچے پر کسی دشمن نے عمل کر دیا ہے جس کی وجہ سے بچہ بیمار ہے۔ یہ عمل دشمن کو زیر کرنے کے لئے ہے۔ پھر بابا جی نے انہیں تعویذ دیا۔ بیچاری ممتا کی ماری نے جاتے جاتے دل کی تسلی کے لئے صرف اتنا پوچھا ' بابا جی! میرا بچہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں؟ 'اور بابا جی آ گئے جلال میں۔ ایسی گرجدار آواز میں ان کو ڈانٹا کہ سلطان راہی کی مشہورِ زمانہ بڑھکوں کا خیال آ گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گنڈاسے کی جگہ بابا جی کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ ان کی بیٹی نے ہمارے چہروں پہ چھائی حیرت یا سراسیمگی دیکھ کر تسلی یوں دی کہ بابا جی بہت جلالی ہیں انہیں لوگوں کا جاہلوں کی طرح سوال کرنا نا پسند ہے۔ جب وہ تعویذ دے رہے ہیں تو یہ سوچنا کہ تعویذ کام نہیں کرے گا، بہت غلط بات ہے۔
خیر جی اب آئی ہماری آنٹی کی باری۔ چونکہ وہ ولائت سے آئی تھیں اس لئے انہیں اٹھ کر پردے کی دوسری طرف آنے کی زحمت سے بچاتے ہوئے پردے کو ذرا سا کھینچ دیا گیا اور بابا جی نے گوشۂ خواتین کی طرف رخ موڑ لیا۔ پہلے تو آنٹی سے فیڈ بیک لیا گیا جس میں زیادہ تر آنٹی کے بجائے بابا جی کی دختر بولیں۔ انہوں نے بابا جی کے تعویذ کی وہ کرامات بھی بیان کر دیں جو ابھی آنٹی نے دیکھنا تھیں۔ خیر اس کے بعد بابا جی نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کیا۔ ان کی بیٹی اس وقت ویسے ہی رواں تبصرہ کر رہی تھیں جیسے لئیق احمد پی ٹی وی پر 23 مارچ کی پریڈ کے دوران کیا کرتے تھے۔ سب کو آنکھیں بند کر کے با ادب بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔جس پر باقیوں نے تو شاید عمل کیا ہو، میں نے اور دوسری طرف کھڑے میرے بھائی دونوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر گز عمل نہیں کیا بلکہ نہایت ذہین صحافیوں کی طرح ہر طرف آنکھیں گھما گھما کر کہانی کے لئے مواد اکٹھا کرتے رہے۔ خیر کچھ پڑھنے کے بعد بابا جی نے پھونک ماری اور پھر آنٹی کے دونوں کندھوں کو باری باری چھڑی سے اس طرح چھوا جیسے ملکہ برطانیہ آرڈر آف برٹش ایمپائر دیتے ہوئے ایوارڈ لینے والے کے دونوں کندھے تلوار سے چھوتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آنٹی سے بھی کہا کہ اٹھ کر زمین پر اپنا پاؤں زور زور سے تین بار ماریں۔ ماشاءاللہ آنٹی خاصے کھاتے پیتے گھر سے ہیں تو تھوڑی دیر تک منی زلزلہ کے اچھے خاصے آفٹر شاکس آتے رہے۔ اگلا مرحلے پر بابا جی نے اپنے سامنے پڑی ایک چھوٹی سے ٹوکری میں سے ایک تعویذ نکالا اور باجی کو دے دیا کہ اپنے گھر میں کہیں کچی زمین میں دبا دیں۔ دشمن کا وار اثر نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے ایک طرف رکھی بوتل اٹھائی اور آنٹی پر کچھ چھڑکا۔ میرا تو خیال ہے سادہ پانی بھر کے رکھا گیا ہو گا۔ اللہ جانے۔
اب ان آنٹی نے بابا جی سے میری سفارش کی کہ اس کے سر میں بہت درد رہتا ہے۔ کچھ ایسا دَم کریں کہ ختم ہو جائے (درد ختم ہو جائے، میں نہیں)۔ لیکن بابا جی کو لگتا ہے یہی سمجھ آئی کہ آنٹی سرے سے مجھے ہی ختم کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ سو انہوں نے مجھے آنکھیں بند کر کے سر جھکانے کو کہا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ پھر ملکہ برطانیہ کے ایکشن کا اعادہ کیا گیا ۔ اس کے بعد مجھے بھی تین بار زمین پر پاؤں مارنے کو کہا گیا جس پر میں نے پاؤں میں موچ آنے کا بہانہ کر کے جان بچائی۔ جواباً کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے مجھے پھر سر جھکا کر بیٹھنے کو کہا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تین چار بار زور زور سے چھڑی ٹھاہ ٹھاہ میرے سر میں دے ماری۔ جو ان کی بیٹی کے بقول سر درد کو ہمیشہ کے لئے بھگانے کے لئے تھی جبکہ میرے بھائی اور امی کے خیال میں یہ انہوں نے بات نہ ماننے پر مجھے سزا دی تھی۔ خیر نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت میں بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن تین چھڑیاں کھا کر سر درد تین دن ٹھیک نہیں ہوا۔ اس کے بعد مجھے بھی اسی ٹوکری سے ایک عدد تعویذ عنایت ہوا اور اس کو سر پر باندھنے کی ہدایت کی گئی۔ یعنی بابا جی کے پاس all in one قسم کے تعویذ تھے۔
اب بابا جی کی مارکیٹنگ مینیجر بیٹی نے پھر ایک بار ہماری رہنمائی کی اور بابا جی کے سامنے پڑی ایک بڑی سی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔۔جہاں چند کرنسی نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ آنٹی نے ان کا اشارہ سمجھتے ہوئے 1000 کا نوٹ نکالا اور ٹوکری میں رکھ دیا ساتھ ہی انہوں نے امی سے کچھ کہا۔ امی کا پرس چونکہ میرے ہاتھ میں تھا اس لئے مجھے ہی پیسے نکال کر دینے تھے۔۔اور اتنے زور کی چھڑیاں کھانے کے بعد میں کم از کم 1000 تو کیا 100 روپے بھی دینے کو تیار نہیں تھی ۔ لیکن پھر امی کے گھورنے پر دل کڑا کر ایک سو روپے رکھ دیئے۔ اس وقت جو مزے کا سین دیکھنے کو ملا۔۔اس سے ساری کوفت دور ہو گئی۔ بابا جی اور دخترِ بابا جی دونوں کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کیا دیا جبکہ بابا جی کی اہلیہ جو اس تمام عرصے میں نان چھولوں سے انصاف کرنے کے بعد دھڑادھڑ سلاد کھا رہی تھیں انہوں نے باقاعدہ جھانک کر رقم دیکھی۔
اگلا مرحلہ خدمتِ خلق پر بابا جی کا ایک طویل خطبہ تھا جو باقیوں نے سر جھکائے اور میں نے سر دباتے ہوئے سُنا۔ جاتے ہوئے انہوں نے ان آنٹی کو اپنے تین موبائل فون نمبر، گھر کا پتہ اور اکاؤنٹ نمبر بھی لکھ کر دیئے تا کہ آنٹی بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈال سکیں۔
گھر پہنچ کر میں نے اور بھائی نے ان آنٹی سے ان کا تعویذ لیا۔ اپنا اور ان کا تعویذ کھول کر دیکھا تو دونوں پرزوں پر چند خانے بنے تھے اور کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔ وہ آنٹی تو کچھ دنوں بعد واپس برطانیہ چلی گئیں اور خوب تعریفیں کر کے گئیں کہ اس تعویذ کو زمین میں دبانے سے ان کی طبیعت بھی بہتر ہو گئی اور گھر بھی روشن سا لگنے لگا۔۔ یہ اور بات ہے کہ جب ان کو یہ بتایا گیا کہ ان کا تعویذ تو میں نے خود رکھ لیا تھا اور ان کو ایک اور خالی کاغذ کا پرزہ دے دیا تھا۔ جبکہ بابا جی والے کاغذ کے پرزے ہم نے پانی میں بہا دیئے تھے تو ان کو یقین آیا کہ کیسے لوگ ہماری ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان بزرگ نے کسی کو نماز پڑھنے یا اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین نہیں کی اور نہ ہی کسی قرانی آیت کے پڑھنے کی ہدایت کی۔ ہر ایک کے مسئلے کی وجہ ان کے نزدیک دشمنوں کا کیا گیا عمل تھا اور ہر ایک سے نمٹنے کا طریقہ بھی ایک ہی۔ (ویسے میں ابھی تک اپنے اس نادیدہ دشمن کی تلاش میں ہوں جس نے مجھ پر عمل کرایا کہ مجھے سر درد ہو جائے)۔ :123
ضعیف الاعتقادی صرف کم پڑھے لکھے یا غریب طبقے کی ہی بیماری نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور مالی طور پر آسودہ لوگ بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ ایک مثال جو میں نے ابھی دی۔ ایک اور مثال ہمارے لوکل کیبل چینل پر آنے والے اشتہارات ہیں۔ جن میں دو تین لوگوں کی تصویریں دے کر سلائیڈ چلائی جاتی ہے کہ ان کے مسائل فلاں بزرگ کے عمل سے حل ہوئے۔ اور یوں سادہ لوح حالات کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک نئی راہ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک انکل تو اس کو شرک کا نام دیتے ہیں۔
مزے کی بات کہ اس میں مذہب کی بھی قید نہیں۔ ابھی اسی ویک اینڈ پر چینل بدلتے ایک بار پھر اپنے مقامی کیبل چینل پر نظر پڑی تو وہاں ایک عیسائی بابا جی کا اشتہار آ رہا تھا ان کی کمالات، فون نمبر اور رہائش کی تفصیل کے ساتھ۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز :dntelme

مکمل تحریر  »

Monday, 22 November 2010

آج کا سبق!

آج ایک سبق آموز ای-میل ملی۔

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔


کاش ہم سب یہ فلسفہ سمجھ جائیں تو زندگی کتنی بہتر ہو جائے :smile

مکمل تحریر  »

Sunday, 14 November 2010

بلاعنوان!

اچھا جی۔ ابھی لکھنا تو کچھ اور تھا لیکن اچانک دماغ کی چولیں ڈھیلی ہو گئی ہیں اور سب ذہن سے نکل گیا۔
اور اس کی وجہ ہے ایک ٹیکسٹ میسج (ایس ایم ایس)۔ ٹیکسٹ میسج کسی انجانے نمبر سے بھی نہیں آیا اور خدانخواستہ کوئی فضول سی بات بھی نہیں لکھی ہوئی۔ جس ادارے کے ساتھ آجکل میں منسلک ہوں اس کے ایک ذیلی ادارے کی سربراہ کا پیغام تھا ایک پراجیکٹ کے بارے میں جس کے لئے وہ بھی کام کر رہی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماشاءاللہ وہ ہیں بہت ایکٹو اور پوری تندہی سے کام کرنے والی تو ویک اینڈ پر بھی ایک آدھ نقطہ ان کے ذہن میں ضرور آتا ہے اور چونکہ میں ای-میلز اور میٹنگز میں یہ کہہ کر خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکی ہوں کہ جب بھی ضرورت ہو آپ بلاججھک مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں تو اب :hmm:
خیر بات ہو رہی تھی تازہ ترین ٹیکسٹ کی۔ میں جب بھی ان کا نام اپنے فون ان باکس میں بلنک کرتا دیکھتی ہوں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے۔۔۔ ناٹ اگین :skeptic اس کی وجہ جاننے کے لئے یہ پڑھنا ضروری ہے...

AOA.. I ve rcvd d fax unabl 2 inf u d email wr it z mntd dt ds team n dt z rgnl team undr dz membr also snd 2 our RC.

اس پیغام کا اصل تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن میں نے انہیں کل کچھ فیکس کروایا تھا جس میں ٹیموں کا ذکر تھا تو میں نے تُکے لگا کر سمجھنے کی کوشش کی کہ اصل مقصد کیا ہے۔ دوسرا آج چھٹی تھی اور فوری عمل ضروری نہیں تھا تو سوچا کہ کسی فارغ وقت بیٹھ کر مزید سر کھپاؤں گی۔ سو جواباً میں نے انہیں تسلی دی کہ ٹھیک ہے۔ میں صبح دیکھ لوں گی۔ آپ فکر نہ کریں۔
لیکن یہ کیا :what مجھے ایک بار پھر ناٹ اگین کہنا پڑا کہ جواب کچھ یوں آیا۔۔۔

thnx..actly i wan 2 wrk wdt any poktc i dnt kw ppl nt realz ds life iz 2 shrt lkn koi bat nhn. tell dz thng 2 maam (dir) az wel plz

:wha
ایک بار پھر اندازے سے سمجھا اور جواب دیا لیکن اتنی دیر میں میرا اپنا دماغ گھوم چکا تھا۔ یہ نہیں کہ ان خاتون کو کچھ نہیں آتا۔ یہ اپنے زمانے کی گولڈ میڈلسٹ ہیں ماسٹرز میں ماشاءاللہ ۔ اور سولہ سترہ سال کا تجربہ ہے کام کا۔ انگزیزی پر مکمل عبور رکھتی ہیں اور ان کی ای-میلز یا ان کے بنائے گئے دوسرے دفتری کاغذات دیکھ کر ان کی قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن ان کے ٹیکسٹس پڑھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

کمپیوٹر اور موبائل فون نے ای-میل اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے جہاں ایک دوسرے سے رابطہ کرنا بہت آسان کر دیا ہے وہاں زبانوں (چاہے وہ اردو ہے یا انگریزی) کا حشر نشر کر دیا ہے۔ پہلے تو یہ کہ دو زبانوں کا ملغوبہ بنا کر ایک نئی جناتی زبان تخلیق کر لی جاتی ہے۔ یا اردو لکھو یا انگریزی۔ یہ جو کھچڑی بنتی ہے یہ مفہوم کچھ کا کچھ کر دیتی ہے۔ اوپر سے اختصار کی کوشش مجھ جیسے کند ذہنوں کو مزید مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اپنا پیغام دوسرے تک پہنچانے کے چکر میں ہم گرامر، ہجے ہر شے کو بھلاتے جا رہے ہیں نتیجہ یہ کہ بچے سکول کالج سے نکلتے ہیں ان کو مادری، قومی یا بین الاقوامی زبان کچھ بھی مکمل نہیں آتا۔ بقول ایک استاد کے زبان کے امتحان میں مضمون، کہانی، خط ہو یا جملے لکھنے ہوں ایسے ایسے شاہکار دیکھنے میں آتے ہیں کہ کیا کہا جائے۔
اور یہ صرف مسئلہ صرف ہمارا ہی نہیں ہے دوسرے ممالک میں بھی ایسی صورتحال کسی حد تک ماہرینِ لسانیات کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ برطانیہ میں میرا یونیورسٹی ریسرچ سپروائزر بنیادی طور پر linguistics کا ماہر تھا اور وہ اکثر اس موضوع پر انتہائی پریشان کن آرٹیکلز لکھتا اور سیمینارز میں شرکت کرتا تھا کہ انگریزی زبان اپنی اصل کھوتی جا رہی ہے۔ یہی حال ہمارا ہے۔ اردو کو ویسے ہی ہم نے بھلا دیا ہے اوپر سے رومن اردو :sad:

بہرحال اس وقت تو اللہ میرے حال پہ رحم فرمائے کہ مجھے جولائی 2011 (بشرطِ زندگی اور سازگار حالات ) اس پراجیکٹ پر کام کرنا ہے۔ تب تک میرا کیا ہو گا :dntelme

مکمل تحریر  »

Tuesday, 26 October 2010

سیڈ- Seasonal Affective Disorder

اللہ اللہ کر کے گرمیاں ختم ہونے کے آثار دکھائی دیئے۔ پہلے دو دن تو مزاج خاصا خوشگوار رہا لیکن کل سے مجھے شک ہونے لگا ہے کہ سردیاں آنے سے پہلے ہی میں SAD کا شکار ہونے لگی ہوں۔ اصل میں دو تین دن پہلے ایک میگزین میں 'ڈپریشن' کے بارے میں مضون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مزید ستم یہ کہ اگلے ہی دن کچھ ڈپریسڈ لوگوں سے ملاقات بھی ہو گئی جن کو ڈپریشن سے نکالنے کی کوشش میں لگتا ہے کہ میں خود بھی ڈپریس ہو گئی ہوں کیونکہ شام تک مجھے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے موجودہ حالات میں ڈپریس ہونا میرا قومی اور انسانی فرض ہے۔ چنانچہ شعوری اور لاشعوری کوشش کت بعد بالآخر مجھے کسی حد تک کامیابی حاصل ہو ہی گئی۔۔۔ کیونکہ کل دن میں میری ایک کولیگ کسی کام سے میرے پاس آئی تو کچھ اس طرح کا مکالمہ ہوا۔
کولیگ: 'تم ٹھیک ہو؟'
میں: '' بالکل'
کولیگ: 'لگ نہیں رہیں۔'
میں: 'کیوں ۔ بہت تھکی ہوئی ہوئی لگ رہی ہوں؟'
کولیگ: ' نہیں۔ بہت اَکی ہوئی (بیزار) لگ رہی ہو۔'
میں: 'واؤ۔ تمھارا مطلب ہے۔ ڈپریشن۔ گڈ"

چنانچہ کل شام میں نے گھر میں بھی اعلان کر دیا کہ میں شدید ڈپریس ہوں اس لئے میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ذپریشن اصل والی ٹینشن میں اس وقت بدلا جب مجھے احساس ہوا کہ موسم تو کافی ٹھنڈا ہو گیا ہے اور میرے چند نئے لباس جومیں کافی دن سے سلے رکھے ہیں وہ یوں ہی پڑے رہ جائیں گے۔ اب میں دوبارہ اکتوبر کے آنے کا انتظار تو نہیں کر سکتی۔ کیا معلوم تب تک زندگی ہے بھی نہیں اور میرے اتنے اچھے کپڑے اگر کسی اور کو مل گئے تو مجھے کیا فائدہ۔ :hmm: اس مہا ٹینشن کے بعد مجھے لگا کہ SAD نے حملہ کر دیا ہے۔
ویسے تو میں ہر سال اس بیماری کا شکار ہوتی ہوں لیکن ایسا شدید سردیوں میں ہوتا ہے خصوصاً جن دنوں میں پاکستان سے باہر ہوں۔ شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں پاکستان کو مس کر رہی ہوں لیکن بعد میں میرے GP نے بتایا کہ یہ Seasonal Affective Disorder (SAD) ہے۔ جس میں انسان میری طرح دنیا سے بیزار ہو جاتا ہے۔ نیند بہت آتی ہے اور بھوک بہت لگتی ہے۔  کام کرنے کو بالکل بھی دل نہیں چاہتا۔ ویسے میرے گھر والوں کے خیال میں آخری تین علامات تو میرے اندر تمام سال موجود رہتی ہیں :sh حالانکہ سیڈ کے مریض کے لئے صبح اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے جو کہ میرے ساتھ مسئلہ نہیں ہے۔ میں صبح تو اٹھ جاتی ہوں آرام سے۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ دو بجے چھٹی کے بعد رات ہو جایا کرے تا کہ دن میں سو کر شام میں اٹھنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے :smile
سیڈ کے علاج میں سب سے موثر فوٹو تھراپی ہے جس میں مریض کو کچھ دیر کے لئے تیز روشنی کے سامنے بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ادویات بھی دی جاتی ہیں۔ وقتی طور پر روزمرہ معمولات میں تبدیلی بھی مزاج درست کر دیتی ہے۔
ویسے میں سچ مچ میں سیڈ کا شکار نہیں ہوتی بس وقتی طور پر winter blues کے زیرِ اثر ضرور آتی ہوں :confused وہ بھی ایک آدھ دن کے لئے۔
لیکن آجکل مجھے کچھ شک ہو چلا ہے کہ پاکستانی عوام و خواص دونوں بری طرح SAD کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس میں موسم کی قید نہیں ہے۔ دیکھیں ناں وہی قوم جس کو اقبال مرحوم نے کتنی دقتوں سے جگایا تھا ایک بار پھر اسی طرح خوابِ غفلت میں کھوئی پڑی ہے۔ ہمارے ساتھ کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ امن و سلامتی تو ایک طرف رہی۔ ہمارے سامنے ہمارے اپنے لوگ قدرتی آفات کا شکار ہیں اور ہمیں پروا نہیں۔ ہمارے بچے اور نوجوان بلکہ پورا معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو رہا ہے ہمیں احساس نہیں ہو رہا۔ اور حکمرانوں اور رہنماؤں کی بھوک ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سب کچھ ہڑپ کر لینے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ وہ ابھی بھی بھوکے ہیں۔ اور مزید یہ کہ مین حیث القوم ہم انتہائی سُست قوم ہوتے جا رہے ہیں۔ کام میں دل نہیں لگتا اور تقریر و تحریر میں سب سے آگے (میری طرح )۔ :party
اللہ جانے ہمارے اس SAD کا کیا علاج ہو گا اور وہ کون سی روشنی ہو گی جو ہماری فوٹو تھراپی کے لئے موثر ثابت ہو گی۔ :-s

مکمل تحریر  »

Monday, 4 October 2010

اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم!

لائبریری میں کتابیں دیکھتے ہوئے سید ضمیر جعفری مرحوم کے مجموعے'میرے پیار کی زمیں' پر نظر پڑی۔ چھوٹی سی کتاب آغاز سے اختتام تک وطن سے محبت کا اظہار ہے۔ زیادہ تر کلام 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے متعلق ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ صرف کیلنڈر پر سال بدلے ہیں، ورنہ کچھ بھی نہیں بدلا ۔ اور اب یہ تریسٹھ برس کی فردِ عمل ہے۔۔۔ہر دل زخمی اور ہر گھر مقتل :-(



اے ارضِ وطن!



(1)
چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
قیدی شیرو، زخمی بیٹو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(2)
ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی
بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی
جلتی راہو! اُٹھتی آہو!
گھائل گیتو! بِسمل نغمو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(3)
افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں
اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں
ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو!
روندی قدرو! مَسلی کلیو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(4)
ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا
ایک آدھ سُنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا
سُونی گلیو! خُونی رستو!
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(5)
بیواؤں کے سر کی نم چادر، خوش وقتوں کی بانات ہُوئی
جو تارا چمکا ڈُوب گیا، جو شمع جلائی رات ہُوئی
ہنستے اشکو! جمتی یادو!
دُھندلی صبحو! کالی راتو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم

(6)
کُچھ اور چمک اے آتشِ جاں، کُچھ اور ٹپک اے دل کے لہُو
کُچھ اور فزوں اے سوزِ دروں، کُچھ اور تپاں اے ذوقِ نمو
بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو!
دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو!
ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں
اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم


کلام: ضمیر جعفری
19 دسمبر 1971ء
(قلعہ سوبھا سنگھ)




اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم
04 اکتوبر 2010ء

مکمل تحریر  »

Thursday, 23 September 2010

آج تمہاری سالگرہ ہے!

نہایت ہی قابل ، ذہین اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کی مالک فریحہ کو سالگرہ مبارک۔ :party فریحہ اِنٹیریئر ڈیزائنر ہیں اور ماشاءاللہ بہت زبردست آرٹسٹ بھی :)
دعا ہے کہ زندگی کا یہ نیا سال بہت سی نئی خوشیوں اور ان گنت کامیابیوں کا پیغام لائے۔ ثمَ آمین :pray






خوش رہو بہت سا : :) hug

مکمل تحریر  »

Thursday, 2 September 2010

نظام سقہ

سوال: اگر آپ کو پاکستان کا نظام سقہ بننے کا موقع ملے تو کیا کریں گے؟
جواب: 1۔ ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا اعلان خصوصاً سحری اور افطاری کے اوقات میں۔ مزید برآں دونوں جگہوں پر یو-پی-ایس اور جنریٹر پر پابندی۔
2۔ فضائی دورے کے دوران وزیرِ اعظم صاحب کے سامنے باداموں کے بجائے متاثرینِ سیلاب کو میسر پینے کے پانی کی بوتل کی فراہمی۔
3۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پاکستانی عوامی نمائندوں کو ان کے عوامی حلقوں میں بطور عوام کم از کم ایک ہفتہ گزارنے کی پابندی۔
4۔ پاکستانی ٹی وی نیوز چینلز پر بریکنگ نیوز اور سیاسی ٹاک شوز دکھانے پر مکمل پابندی۔

اور آپ؟

مکمل تحریر  »

Thursday, 26 August 2010

المیہ!

"ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ کی ایک نہیں مانتے!"




— اشفاق احمد

مکمل تحریر  »

Tuesday, 24 August 2010

امید ابھی کچھ باقی ہے!

میرا شمار خوش امید لوگوں میں ہوتا ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں پاکستان پر مصائب کی ایک نئی لہر نے اداسی کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ قدرتی آفت اور اپنی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید خدانخواستہ اب کچھ بھی نہیں بچے لگا لیکن کل شام سے جیسے امید کے چراغ پھر سے روشن ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کے لئے لگائے گئے جس کیمپ  سے گزرتے ہوئے مجھے کبھی دو چار لوگوں اور آٹھ دس تھیلوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا وہا‫‫ں سے ہر شام 3 ٹرک امدادی سامان لیکر متاثرینِ سیلاب کی اور نکلتے ہیں۔
میں نے عمران خان کی پکار پر قوم کو پھر مدد کے لئے سامنے آتے دیکھا۔ اورمحض ایک گھنٹے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پچھتر لاکھ روپے اکٹھے ہوتے دیکھے۔
میں نے کل شام ایدھی صاحب کو وہیل چیئر پر بیٹھے جناح سُپر اسلام آباد میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کے لئے اپیل کرتے اور اس کے جواب میں لوگوں کو اپنی جیبیں خالی کرتے دیکھا۔

اور میری آج کی صبح گزشتہ بہت سی مایوس اور بے رنگ صبحوں کی نسبت ایک بار پھر امید کے رنگ لئے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ رنگ اتنے چمکدار اور روشن نہیں ہیں لیکن میں اب بھی مایوس نہیں۔

؂ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, 18 August 2010

اردو انگریزی شاشلک!

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک پوسٹ 'ممی کا لیٹر' لکھی تھی۔ جو اصل میں ملٹری کالج جہلم کے ایک طالبعلم کی تحریر تھی۔ یہ تو خیر اس طالبعلم کے ذہن کی اختراع تھی لیکن ابھی دو دن پہلے اتفاق سے خواتین کا ایک رسالہ میرے ہاتھ لگا۔ یونہی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک خاتون 'رائٹر' کے اصلی والے انٹرویو پر نظر پڑی۔ جن میں ان کی کسی 'فین' نے ان کی کہانیوں میں انگریزی کے تڑکے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کا جواب ان خاتون نے کچھ یوں دیا ہوا تھا۔
ویل۔۔۔ ثمن کو میری اردو کہانیوں میں انگریزی الفاظ کے غیر ضروری استعمال والی بات اچھی نہیں لگی۔ ان کی روم میٹ عائشہ کو بھی بالکل اچھی نہیں لگی۔
جہاں تک انگریزی کی بات ہے تو ڈئیر ریڈر، مجھ سے پہلے یہ بات ایک بہت بڑے رائٹر نے کہی تھی، اور جب میں نے اپنے نوٹ میں یہ بات لکھی تھی تو بہت سی دوسری رائٹرز نے مجھ سے اتفاق کیا تھا۔ بقول ایک رائٹر کے " میں اپنے مسودے کی خود پروف ریڈنگ کرتے ہوئے انک ریموور سے انگریزی الفاظ مٹا مٹا کر اردو ترجمہ لکھتی ہوں۔ پھر بھی چند الفاظ رہ جاتے ہیں۔"
اصل میں پرابلم پتہ ہے کیا ہے۔ جب رائٹرز جا بجا انگریزی کے غیر ضروری الفاظ لکھتی ہیں تو وہ محض لا پرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں، اس کا ذاتی مقصد ریڈر پر رعب ڈالنا نہیں ہوتا۔ یہ بات میں نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ ہم رائٹرز کو ریڈرز پر رعب ڈالنے کا شوق نہیں ہے، سو ریڈرز کو رعب میں نہیں آنا چاہئیے۔
جب میری ریڈرز مجھے کہتی ہیں کہ آپ نے ایم - اے انگلش کیا ہوا ہے تو مجھے افسوس صرف اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیم اور قابلیت کا معیار انگریزی کو کیوں بنا دیا ہے۔ جو جتنی اچھی انگریزی پولے گا، وہ اتنا پڑھا لکھا ہو گا، یہ ٹرینڈ کیوں بلڈ اپ ہو رہا ہے؟ آپ کو انگریزی آنی چاہئیے لیکن اردو اس سے اچھی آنی چاہئیے۔ انگریزی کو معیار نہ بنائیں۔ انگریزی لکھنا محض لا پرواہی ہوتی ہے۔ اس ٹرینڈ کو ختم کریں۔ اردو کی کہانی محض اردو میں لکھیں، مکمل لکھنا بہت مشکل ہے۔ مگر جتنی حد تک ہو سکتا ہے اس حد تک تو لکھیں نا!
مجھے فلاں رائٹر کی سب سے اچھی بات ان کی گاڑھی اردو لگتی ہے۔ پھر وہ اپنے ازلی سوئیٹ انداز میں مجھے تسلی دیتی ہیں کہ 'نہیں بھئی! آپ کی اردو بھی بہت اچھی ہے۔' مجھے تو سیریئسلی ان کے اردو ایکسنٹ پر رشک آتا ہے۔

پی- ایس: اس ایکسٹریکٹ میں رائٹر کا اصلی نام اور دیگر ادر رائٹرز کے نام بوجہ پرائیویسی پالیسی، مینشن نہیں‌ کئے گئے۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 17 August 2010

مژگاں تو کھول، شہر کو سیلاب لے گیا!

لہو میں ڈوب رہی ہے فضا ارضِ وطن
میں کس زبان سے کہوں “جشن آزادی مبارک"










شہر نامہ

وہ عجیب صبحِ بہار تھی
کہ سحر سے نوحہ گری رہی
مری بستیاں تھیں دھواں دھواں
مرے گھر میں آگ بھری رہی


مرے راستے تھے لہو لہو
مرا قریہ قریہ فگار تھا
یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی
وہ فلک کہ مشتِ غبار تھا


کہیں نغمگی میں وہ بین تھے
کہ سماعتوں نے سُنے نہیں
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے
کہ انیس نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں
یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں
یہاں بادلوں کی اڑان تھی


جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر
یہاں قمقموں سے جوان تھے
یہاں چیونٹیاں ہیں خیمہ زن
یہاں جگنوؤں کے مکان تھے


کہیں آبگینہ خیال کا
کہ جو کربِ ضبط سے چُور تھا
کہیں آئینہ کسی یاد کا
کہ جو عکسِ یار سے دُور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں
جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے
مرے آہوؤں کا چکیدہ خوں
جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت
مرے قاتلوں کی وکیل ہے
مرے خانقاہوں کی منزلت
مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہلِ حرف و سخن سرا
جو گداگروں میں بدل گئے
مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو
کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں
مجھے کرگسوں کا چلن لگا
کئی چاند بھی تھے سیاہ رو
کئی سورجوں کو گہن لگا

مرے پاسباں ، مرے نقب زن
مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے
مرا دیس میرِ سپاہ کا
مرا شہر مالِ غنیم ہے

یہاں روزِ حشر بپا ہوئے
پہ کوئی بھی روزِ جزا نہیں
یہاں زندگی بھی عذاب ہے
یہاں موت میں بھی شفا نہیں


احمد فراز کی نظم شہر نامہ کے چند بند

مکمل تحریر  »

اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے

کتنی حسیں پیار کی یہ زمیں ہے
اس کا زمانے میں ثانی نہیں ہے
پیارا ہے اپنی دھرتی کا چہرہ
دنیا کے ہر دلربا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

اپنے وطن کی وہ آب و ہوا ہے
سب کے لئے جو پیامِ شفا ہے
سب روگ اپنے روح و بدن کے
مٹتے ہیں اس کی صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے

ہم نے کسی کی طرف کم ہی دیکھا
چمکائی خود اپنے ہاتھوں کی ریکھا
ہم کو وطن کی لُو بھی ہے پیاری
غیروں کی بادِ صبا سے
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے

مکمل تحریر  »

Friday, 13 August 2010

ہفتہ کتب و کتب خانہ: راولپنڈی کے کتب خانے

معذرت شگفتہ، بہت دنوں سے آپکے ہفتہ کتب کے بارے میں لکھنا تھا بلکہ اتفاق سے جن دنوں آپ نے اس مہم کا آغاز کیا تو میں بھی راولپنڈی میں لائبریریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ سو آپکی پوسٹس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی سوچا اسی بہانے میں بھی کچھ لکھ لوں گی لیکن :what
خیر اپنی ازلی روایت 'ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں' پر قائم رہتے ہوئے میں ہفتہ کتب کے پہلے مرحلہ کے اختتام کے بعد یہ پوسٹ کر رہی ہوں۔
میرا لائبریری اور کتابوں سے تعارف کیسے اور کب ہوا، اس بارے میں پھر کبھی لکھوں گی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھے کہ کوئی ایسی جگہ جہاں میں ہمیشہ جانا چاہوں یا جا کر کبھی بور نہ ہوں تو میرا جواب لائبریری ہو گا۔ باوجود اس کے کہ میرا مطالعہ بہت محدود ہے، میرا لائبریری جانے کا شوق کبھی کم نہیں ہوتا۔
سکول اور کالج کی لائبریریوں کے بعد پہلی بڑی لائبریری جہاں میں باقاعدگی سے جاتی اور گھنٹوں وقت گزارتی ، پنجاب یونیورسٹی کی مین لائبریری تھی۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری سے تو دوستی تھی ہی لیکن مین لائبریری میں دیگر کتب بھی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملتا۔ پھر لاہور میں ہی پنجاب پبلک لائبریری اور قائد اعظم لائبریری میں بھی جانا ہوتا تھا۔
اسی طرح اسلام آباد میں نیشنل لائبریری اور برٹش کونسل کی لائبریری بھی دیکھیں۔ ہاں راولپنڈی کا چونکہ مجھے اتنا علم نہیں تھا تو یہاں لائبریریاں ڈھونڈنے میں مجھے بہت مسئلہ ہوا۔ راولپنڈی میں رہنے والوں سے اگر پبلک لائبریریوں کا پوچھو تو اکثریت اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہیں اور آرمی سنٹرل لائبریری کے علاوہ دیگر دو پبلک لائبریریوں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
آرمی سنٹرل لائبریری جی-- ایچ- کیو کے قریب آرمی -میوزیم کے ساتھ واقع ہے۔ لیکن یہ پبلک لائبریری نہیں ہے۔ یہاں صرف فوج سے منسلک افراد ہی ممبرشپ لے سکتے ہیں اور ان میں بھی نان کمیشنڈ یا جونیئر رینکس کے لئے ممبرشپ کھولی نہیں جاتی۔ یہاں کتابیں تو بہت ہیں لیکن زیادہ تر سیکشنز میں پرانی اور خستہ حال کتب ملیں گی۔ ہاں حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی حالات سے متعلق کافی اچھا ذخیرہ موجود ہے۔ ہاںتقریباً ہر اہم میگزین اور جرنل یہاں باقاعدگی سے منگوایا جاتا ہے۔ چند کمپیوٹرز بھی موجود ہیں جن پر کبھی کبھار کوئی کام کرتا دکھائی دے ہی جاتا ہے۔








دوسری لائبریری کنٹونمنٹ بورڈ لائبریری ہے۔ یہ لائبریری 1891ء میں بنی تھی اور اس کے بانی دو بھائی سردار سجن سنگھ اور سردار کرپال سنگھ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ لائبریری برٹش کونسل کے حوالے کر دی گئی جس نے یہاں اپنی لائبریری بنائی۔ 1979ء میں سعودی عرب میں خانہ کعبہ کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے برٹش کونسل لائبریری کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور پھر اس کے بعد برٹش کونسل نے اپنی لائبریری اسلام آباد منتقل کر لی۔ اس وقت کنٹونمنٹ لائبریری صدر میں کامران مارکیٹ کے پہلی منزل پر واقع تھی۔ برٹش کونسل لائبریری کے اسلام آباد شفٹ ہو جانے کے بعد کنٹونمنٹ لائبریری کو اس عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ 2009ء میں اس کے ایک اور بلاک کا اففتاح ہوا اور کینٹ بورڈ کی حدود میں واقع پرانے اوڈین سینما کو بھی لائبریری میں شامل کر دیا گیا۔ اس لائبریری میں کتابوں کا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ لائبریری کی ممبرشپ فیس دو طرح کی ہے۔ 200 فیس کے ساتھ آپ محدود قسم کی کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں جبکہ 400 روپے فیس پر آپ تمام کتابیں ایشو کروا سکتے ہیں۔ لیکن ممبرشپ لیتے ہوئے آپکو اچھیی خاصی سیکیورٹی بھی جمع کروانی پڑتی ہے۔ بہرحال لائبریری میں موجود کتب کو دیکھ کر جیب ہلکی ہونے کا احساس خاصا کم ہو جاتا ہے۔

تیسری لائبریری میونسپل لائبریری ہے جسے راولپنڈی کی قدیم ترین لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ لائبریری 1868ء میں قائم ہوئی اور لیاقت باغ میں واقع ہے۔ بلاشبہ یہاں کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 2001ء کے سیلاب میں لائبریری کی تقریباً نصف سے زیادہ کتب ضائع ہو گئی تھیں اس کے باوجود یہاں اس وقت 50،000 سے اوپر کتابیں موجود ہیں۔ جن میں خاصی نایاب کتب بھی موجود ہیں۔ لائبریری فیس 250 روپے سالانہ ہے جو یقینناً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہاں ایک مسئلہ ہے کہ آپ ایک وقت میں دو سے زیادہ کتب ایشو نہیں کرا سکتے اور ایک ہفتے سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ کتب رینیو کرانے کے لئے آپ کو لائبریری آنا پڑتا ہے اور فون یا کمپیوٹر پر رینیو کرانے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔ کمپیوٹرسے خیال آیا کہ لائبریری کے کمپیوٹر سیکشن میں ایک عدد کمپیوٹر موجود ہے جسے آسانی سے آثارِ قدیمہ کے نوادرات میں شامل کرایا جا سکتا ہے۔ ممبرشپ لینے کا طریقہ خاصا دلچسپ ہے۔ آپ کو لائبریرین سے ہی دو پوسٹل لفافے خرید کر ان کے حوالے کرنے ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور ایک پر اپنا پتہ لکھ کر۔ پتہ لکھے لفافے میں ایک عدد چھپا ہوا کاغذ ڈالا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ نے لائبریری ممبرشپ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ اپنی خواہش پوری کر لیں ۔ اس قصد کے لئے یہ کاغذ، ڈاک کا مہر شدہ لفافہ جس میں یہ کاغذ آپ کو ملا، اور دیگر ضروری کاغذات لیکر کر لائبریری پہنچ جائیں۔ یہ لفافہ آپ کے حوالے کیا جاتا ہے اس تاکید کے ساتھ کہ خود کو پوسٹ کر دیں۔ جب آپ کو مل جائے تو ہمارے پاس آئیں۔ اور خبردار بغیر مہر کے لفافہ لانے کی غلطی مت کرنا۔ ساتھ ہی آپ کو ایک فارم دیا جاتا ہے جو پُر کر کے لفافے کے ساتھ آپ کو لانا ہو گا :smile


سنٹرل لائبریری اور میونسپل لائبریری میں چپکے چپکے میں نے چند تصویریں لی تھیں مبادا کوئی مجھے دہشت گرد سمجھنتے ہوئے حساس معلومات اکٹھے کرنے کے الزام میں پکڑ نہ لے :shy:

حوالہ:

مکمل تحریر  »

Thursday, 12 August 2010

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا!

سب سے پہلے تو ماہِ صیام مبارک۔ 2005ء کی طرح یہ رمضان بھی پاکستانی قوم کے لئے آزمائش کا مہینہ بن کر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے (ثمَ آمین)


پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ 2004ء میں آنے والے سونامی طوفان سے کہیں زیادہ لگایا جا رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد زندگی کے اپنے معمول پر آنے میں نجانے کتنا وقت لگے گا۔


پیر کے روز نوشہرہ کے کچھ سکولز کی لی گئی تصاویر پوسٹ کر رہی ہوں۔ حالات ایسے تھے کہ نہ تو کہیں گزرنے کا راستہ تھا اور نہ ہی کھڑے ہونے کی جگہ۔ بچوں کی کتابیں، ٹیچرز کے پلانرز اور ڈائریاں کیچڑ میں کہیں بہت نیچے دبی ہوئی تھیں۔ زمین پر چار چار فٹ دلدلی کیثر کی تہہ موجود ہے۔ چھت کے پنکھوں پر بھی مٹی اور کیچڑ کی تہیں جمی ہوئی ہیں۔ کہیں کہیں جو کرسی میز دکھائی دیتی ہے اس کی لکڑی پانی سے نرم ہو کر جھڑ رہی ہے۔ گراؤنڈز کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیدل جانا تو درکنار چھوٹی گاڑی پر جانا بھی ناممکن ہے۔ کمپیوٹر اور سائنس لیبارٹریوں میں ہر چیز تباہ ہو چکی ہے۔ یہ تو دو سکولز کا حال ہے۔ جن میں سے ایک کی عمارت مقابلتاً کچھ نئی تھی لیکن گھروں اور دیگر عمارتوں کا بالکل کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر زندگی کی ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کی خواہشات کی کوئی اخیر نہیں ہوتی اور لمحوں میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ :-(











مکمل تحریر  »

Tuesday, 10 August 2010

الوقت الصعب

وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی عوام میں متاثرین کی مدد کرنے کا وہ جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا جو دو ہزار پانچ میں زلزلے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

میرا جواب یہ ہے کہ جذبہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ احساس کہ آپ کی مدد حقدار لوگوں تک پہنچنے کے بجائے راستے میں رہ جائے تو عوام کس پر اعتبار کریں۔ میں نے خود 2005 کے زلزلے کے لئے ملنے والا امدادی سامان مارکیٹس میں بکتے دیکھا ہے اور دوسری طرف اتنے سال گزرنے کے باوجود زلزلے کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہیں ہوئی۔

اگرچہ کہیں کہیں بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن الحمداللہ ابھی بھی لوگ موجود ہیں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے کو۔ میرے پاس کچھ فنڈز اکٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔

کیا مجھے یہاں یہ سوچ کر کہ میری نیت تو مدد کرنے کی ہے ، جانتے بوجھتے جو تھوڑا بہت میں دے سکتی ہوں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دینا چاہئیے جو اس کو کبھی حقدار تک نہیں پہنچائیں گے؟
کیا راولپنڈی اسلام آباد میں 'وزیرِ اعظم کے ریلیف فنڈ' کے علاوہ کوئی ایسی تنظیم ملے گی جو امدادی سامان آگے تک پہنچا دے؟

مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 August 2010

پاکستان کھپے!


میرے عزیز ہموطنو!
آپ سے خطاب کرتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے :cryin ۔ پاکستانی عوام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں (ویسے مشکل دور ہمیشہ عوام کے لئے ہی ہوتا ہے) ۔ سیلاب کی آفت نے لاکھوں گھر اُجاڑ دیئے ہیں اور کتنے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنا آپ اپنے لوگوں کے لئے قربان کرنا ہے۔ میں اور میرے بچے تو پہلے ہی قربانی دے چکے ہیں محترمہ شہید بی بی کی شہادت کی صورت میں۔ اس لئے معذرت کے ساتھ میں اس وقت آپ کو کچھ پیش نہیں کر سکتا :whistle ۔ آج آپ لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر مجھے اپنا اجڑا ہوا گھر یاد آگیا ہے۔ میرے لئے آپ لوگوں کو اس حال میں دیکھنا بہت مشکل ہے :pinochio ۔ یہ سیلاب تو ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا :humm ۔ ہم قدرتی آفتوں اور مشیتِ ایزدی کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ہاں جو ہمارے اختیار میں ہے ہم وہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے بن ماں کے بچوں کے ساتھ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے یہ تکلیف دہ منظر دکھائی نہ دیں :party ۔ آپ لوگ اپنا خیال رکھئے گا اور اگر ممکن ہو تو آپ بھی بیرونِ ملک دوروں پر نکل جائیں۔ :bye


درد مند صدرِ پاکستان

پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے

مکمل تحریر  »

Saturday, 10 July 2010

پرچہ مطالعہ پاکستان 2010

ایک ٹیکسٹ میسج ملا۔ پڑھ کر فیصلہ نہیں کر پائی کہ ہنسنا چاہئیے یا رونا :humm



پرچہ مطالعہ پاکستان 2010


1۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ اور blood-shedding کا میکانیہ(نظام) بیان کریں۔
2۔ چینی کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟ مفصل نوٹ لکھیں۔
3۔ روٹی سے کیا مراد ہے نیز روٹی اور شہباز شریف کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
4۔ خود کش جیکٹ کی ساخت شکل بنا کر واضح کریں۔ خود کش جیکٹ کا استعمال تفصیل سے لکھیں۔
5۔ پٹرول کیا ہوتا ہے اور کس مقصد کے لئے استعمال ہوتا ہے؟
6۔ پاکستان کا کون سا حصہ ابھی تک امریکہ کے نام نہیں کیا گیا؟
7۔ آٹا اور فاٹا کے مابین فرق بیان کریں۔


:sadd:

مکمل تحریر  »

Thursday, 1 July 2010

کتابیں اور ہم!

آج ایک دلچسپ سروے فارم پُر کیا۔ سوچا بلاگرز ساتھیوں سے بھی پوچھا جائے۔

1۔ کبھی کورس کی کتاب کے علاوہ کتابیں پڑھی بھی ہیں یا نہیں؟
2۔ آپ کی تین پسندیدہ کتابیں کون سی ہیں اور کیوں؟
3۔ پہلی دفعہ یہ کتابیں کب پڑھی تھیں؟
4۔ تین پسندیدہ لکھاری اور پسندیدگی کی وجہ؟
5۔ تین نا پسندیدہ تحریریں؟ وجہ؟
6۔ تین ناپسندیدہ لکھاری ( یا شاعر)۔ وجہ؟
7۔ تین پسندیدہ سیاسی لکھاری۔ وجہ؟
8۔ تین ناپسندیدہ سیاسی لکھاری۔ وجہ؟

مکمل تحریر  »

Tuesday, 15 June 2010

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو!

یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں آتی ہیں تو آتی ہی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دو دن سے میں بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ پرسوں دن 11 بجے اچانک معلوم ہوا کہ لاہور میں ایک ورکشاپ کم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اور جانا براستہ سڑک ہے۔ سو دو گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر تیاری کی اور بھاگم بھاگ لاہور چا پہنچے۔ سفر شروع ہوتے ہی لاہور میں گزرا وقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ یاد آنا شروع ہوا اور پھر کل رات واپسی کے بعد بھی یہ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔ میں تقریباً پانچ سال کے بعد لاہور گئی لیکن یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ دن کے وقفے سے واپسی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ جانا آنا بس سونے، میٹنگ ہال پہنچنے اور پھر گاڑی کے واپس گھر کو روانہ ہونے محدود رہا لیکن پھر بھی یاد رہے گا۔
پنجاب یونیورسٹی اور اپنے ہاسٹل جانے کی حسرت دل میں ہی رہی۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ آتے جاتے دونوں بار نیو کیمپس یونیورسٹی گراؤنڈ، پانی کی بڑی ٹینکی اور کھیت دکھائی دیتے رہے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں میں نے اپنی زندگی کا اکلوتا مشاعرہ اٹینڈ کیا۔ بڑے بڑے شعراء کو دیکھا اور گھر جا کر خوب شو ماری۔ یہ اور بات ہے حسبِ معمول سب نے متاثر ہونے سے صاف انکار کر دیا  انور مسعود ، احمد فراز، امجد اسلام امجد، ضیاءالحق قاسمی تو وہ نام ہیں جو ہمارے پسندیدہ شعراء میں شامل تھے۔ جند ایسے شاعر بھی موجود تھے جن کی شاعری تو پہلے ہی پلے نہیں پڑتی تھی لیکن اس مشاعرے کے بعد تو شاید ہی میں نے کبھی ان کو کلام پڑھا ہو۔ وصی شاہ، فرحت عباس شاہ بھی موجود تھے۔  منیر نیازی نے کرسی پر بیٹھ کر صدارت کی کیونکہ وہ ان دنوں بیمار تھے۔
یونیورسٹی گراؤنڈ سے کچھ ہی فاصلے پر ہمارا ہاسٹل تھا۔ جہاں رہتے ہوئے کبھی یہ اس جگہ اور اس وقت کی اہمیت کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سعید انکل اپنی چھوٹی سی ٹک شاپ جسے ہم انتقاماً سعید انکل کا کھوکھا کہتے تھے، ملتا تھا۔ جہاں سے آتے جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا اور انکل کو بتا کر ان کی سوئٹس چوری کرنا سب کا من پسند مشغلہ تھا۔ اسی طرح آتے جاتے لعل انکل کی دعائیں لینا اور نصحیتیں سننا بھی معمول کا حصہ تھا۔ تعصب انکل جو سوائے نام کے تعصب کے سراپا شفقت تھے اور نزاکت جو اتوار کی صبح آلو والے پراٹھے تقسیم کرتا اپنے آپ کو وائس چانسلر سے کم نہیں سمجھتا تھا، یہ سب انہی یادوں کا حصہ ہیں۔ افسوس ۔۔رہے گا کہ لاہور جا کر بھی یونیورسٹی جانا ممکن نہیں ہوا 
برکت مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ شامیں یاد آئیں جب ہم لوگ شاپنگ کرنے جاتے لیکن اکثر گھنٹوں اولڈ بک شاپ پر گزار کر کورس سے غیر متعلقہ ڈھیروں کتابیں اٹھا کر واپس آ جاتی تھیں۔
ماڈل ٹاؤن سے گزرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآن اکیڈمی دکھائی دی تو دل مزید اداس ہو گیا۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں
نہر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے کیمب کے بورڈ پر نظر پڑی تو ناسٹلیجیا انتہا کو چھونے لگا۔ ریسرچ کے دنوں میں کڑکتی دھوپ میں نیو کیمپس سے یہاں تک اکثر پیدل مارچ کرنے کے باوجود تھکن کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔
ابھی ہمارا روٹ ایسا تھا کہ ہم مین نیو کیمپس سے نہیں گزرے لیکن نہر اورر فیروز پور روڈ سے وہ نظم یاد آ گئی جو شاید لاء کالج کے کسی اولڈ سٹوڈنٹ نے نیو کیمپس پر لکھی گئی اپنی کتاب میں لکھی تھی۔
کچھ لائنیں یاد ہیں۔ جو میں واپسی کے سفر میں موٹر وے آنے آنے تک ساتھ بیٹھی اپنی سینئر کو سنا کر تنگ کرتی رہی۔

جہاں چڑیوں کی چہکار بھی ہے
جہاں پھولوں کی مہکار بھی ہے
جہاں شجرِ سایہ دار بھی ہے
جہاں سہپن سپنے سجتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

جہاں کپڑا سستا دُھل جائے
جہاں ماضی کا غم بُھل جائے
جہاں اچھا خاصا پڑھنے والا
کاریڈوروں میں رُل جائے
جہاں سرد سموسے ملتے ہیں
چلو نہر کنارے چلتے ہیں

کافی طویل نظم تھی اور بہت مزے کی۔ لیکن یاد نہیں ہے اب۔
لاہور کی حدود سے نکلتے ہی احساس ہوا کہ ایکسائٹمنٹ اپنی جگہ لیکن دو دن کے میراتھن سفر نے کافی تھکا دیا تھا۔ اور اس افسوس نے بھی کہ کاش باقی کا شہر بھی یوں ہی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے گھوم لیتے۔
اب ان ساری غیر ضروری باتوں کے بعد ایک کام کی بات۔ اگر آپ کسی ایسے تعلیمی ادارے (سکول/ کالج) کے بارے میں جانتے ہیں‌ جہاں اساتذہ اور بچے Effective teaching learning (معذرت کہ اس وقت ذہن میں اس کی با محاورہ اردو نہیں آ رہی) کے ماحول میں کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے برطانوی سکولز کے ساتھ پارٹنرشپ کرائی جا سکتی ہے اور یوں دونوں طرف کے ادارے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ اور سکھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے سکولز کے بڑا چھوٹا،سرکاری، نجی، نیم سرکاری، امیر غریب، بڑے چھوٹے شہر سے ہونے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ صرف کام کرنے کا جذبہ شرط ہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسا کوئی ادارہ ہے چاہے اس کو ایک استاد ہی کیوں نہ چلا رہا ہو۔ تو مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔
میں انشاءاللہ جلد ہی اس سلسلے کی تعارفی پوسٹ لکھوں گی اور یہ بھی کہ بلاواسطہ طور پر اس پروگرام کا حصہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ سے کسی ایک سکول کو بھی آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہو گا۔

مکمل تحریر  »

Friday, 28 May 2010

ملتان۔ صوفیاء کی سرزمین

زندگی خلافِ توقع مصروف سے مصروف ترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے کام اور بہت سی مصروفیات جن کے بغیر کبھی گزارہ نہیں ہوتا تھا، اب بھولتے جا رہے ہیں :( لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔
اس سال مارچ میں ملتان جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے لئے ملتان دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں بہت پُرجوش تھی کہ ایک تاریخی اور خوبصورت جگہ دیکھنے جا رہی ہوں (اگرچہ ایسا ہو نہیں سکا :-( )
مسلسل دو ہفتے خرابی موسم کی وجہ سے بالآخر تیسرے ہفتے اللہ اللہ کر کے فلائٹ کنفرم ہو ہی گئی۔ یہ اور بات ہے کہ جب تک جہاز کم 'بس' نے ٹیک آف نہیں کیا یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں پھر نہ اٹھنا پڑ جائے۔ :confused
یہ پی آئی اے کا اے۔ٹی۔ آر جہاز تھا جس میں سیٹیں ایسے لگی ہوئی تھیں جیسے عام کوسٹر میں ہوتی ہیں۔ سارا وقت یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہم براستہ سڑک ملتان جا رہے ہیں۔ بس باہر زمین کے بجائے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ میں حسبِ معمول ناشتے اور پھر دوپہر کے کھانے کے بغیر گھر سے نکلی تھی ایئرپورٹ آتے ہوئے جب بھائی سے کچھ کھانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ دیر ہو جائے گی۔ جہاز میں سنیکس مل جائیں گے۔ خاموش کرا دیا :cry: ۔ اور پھر جب جہاز میں سنیکس ملے تو میرے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔ ایک عدد سادہ کیک جو بہت اچھی طرح پیک کیا گیا تھا جیسے کہ کبھی کسی نے اسے کھانا ہی نہیں ہے۔ کافی دیر انتظار کے بعد جب میں نے ایئر ہوسٹس سے چائے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شانِ بے نیازی دے جواب دیا کہ ڈومیسٹک فلائٹ میں چائے نہیں دی جاتی :humm مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی پُر شفقت انداز میں پیشکش کی لیکن آپ کے لئے میں ابھی چائے لیکر آتی ہوں :shy: ۔ چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ میں نے وہ یادگار کیک کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور بھائی صاحب سے بھرپور قسم کی جنگ کا پروگرام فائنل کیا۔ :hello

ملتان ایئرپورٹ بہت چھوٹا سا ہے۔
'اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا' کے مصداق ایک اور سفر کا آغاز ہوا۔ کیونکہ ہمیں ملتان شہر کے بجائے 'عبدالحکیم' جانا تھا۔ جو ملتان سے تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ عبد الحکیم سے متعلق مجھے نیٹ سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور جاتے ہوئے میں اس قدر تھک چکی تھی کہ نوٹس لے سکی نہ تصویریں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ سدھنائی یا سندھانی نہر اسی راستے میں آئی تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو گئی۔ سو گرمی کی شدت کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔ ورنہ سب نے خوب ڈرا رکھا تھا کہ مارچ میں جون جولائی والی گرمی ملے گی۔ ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد جو عمارتیں دکھائی دیں ان میں سرخ اینٹوں کے ساتھ نیلی ٹائلوں کا استعمال دکھائی دیا جو ملتان کے راویتی طرزِ تعمیر کا خاصہ ہے۔
اڑھائی گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد عبدالحکیم پہنچے تو کھانے کے بعد ایسا سوئے کہ اگلے دن کی خبر لی۔ دن کی گہماگہمی میں بھی عبدالحکیم میں سکون اور ٹھہراؤ محسو س ہوتا تھا۔ شہروں کے رش اور شور شرابے سے اُکتائے ہوئے لوگ اسی سکون کو ترستے ہیں۔ پھر یہ جان کر خالص دودھ اور سبزیاں اس دام سے بھی کم ملتی ہیں جس پر بڑے شہر والوں کو دودھ ملا پانی اور باسی پھل اور سبزیاں ملتی ہیں ، ہم لوگوں کا رشک حسرت میں بدل گیا :D عبدالحکیم میں وقت بہت تیزی سے گزرا کہ ہمیں دن دو بجے واپس ملتان کے لئے روانہ ہونا تھا اس لئے تصویریں نہیں لی جا سکیں۔ ہاں کھڈی کے وہ سٹال جو ہم لوگوں کے لئے لگایا گیا تھا ، سے خریدا گیا کھڈی کا کپڑا عبدالحکیم کی سوغات کے طور پر ہمارے ساتھ آیا۔ :smile
ایک بار پھر انہی راستوں سے گزرتے واپس ملتان پہنچے۔ چونکہ سارا دن بہت مصروف گزرا تھا ، کہیں بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا حالانکہ میں بے صبری سے ملتان میں صوفیاء کے مزار دیکھنے کے انتظار میں تھی لیکن لوڈ شیڈنگ اور گرمی نے تھکن کو کئی گُنا بڑھا دیا اور اگلے دن کی مصروفیت کا سوچ کر ارادہ بدل لیا۔
اگلے دن اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے۔ آنٹیوں اور باجیوں کی پہلی ترجیح خریداری ہوتی ہے، وہ ہمیں بھی ساتھ گھسیٹ کر بازار لے گئیں۔ لالچ وہی کھڈیاں دکھانے کا دیا گیا۔ ملتان شہر کی تعمیرِ نو کی جا رہی ہے اس لئے عجیب و غریب راستوں سے گزر کر اس بازار پہنچا گیا جس کا راستہ ہماری اقامت گاہ سے صرف 15 منٹ کا بنتا تھا۔ البتہ منزل پر پہنچ کر کھڈیوں پر کپڑا بنتے دیکھ کر ساری کوفت ختم ہو گئی۔ گرمی میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کپڑا بُنتے محنت کش کو دیکھ کر ہنر مند ہاتھوں کی عظمت کا احساس ہوا۔ کپڑے کی خوبصورتی اور ڈیزائن دیکھ کر یہ بھی جانا کہ ہُنر کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سب متاثرینِ کھڈی ، دکانوں کی طرف چل دیئے اور حسبِ روایت ایک ایک دکان پر گھنٹوں لگا کر شام کو لدے پھندے واپس آئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اصل اور انتہائی نفیس کھڈی پر بنا کپڑا بہت سستے داموں ملتا ہے۔ اس لئے سب نے گرمیوں کی تقریباً تمام شاپنگ یہیں سے کر لی۔ :smile
یہ انکل کھڈیوں پر کپڑا بُن رہے تھے۔ :cn
اگلی شام ملتان کی مشہور صنعت Blue Pottery دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن اس کی کہانی اور تصاویر اگلی قسط میں انشاءاللہ۔
blue pottery
تصویر کا حوالہ

مکمل تحریر  »

Wednesday, 26 May 2010

ہماری قانون پسندی اوراخلاقیات

کسی بھی قانون کے بنانے کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک اس کی مکمل پابندی نہ کی جائے۔ لیکن ہمارے ہاں معاملہ کچھ الٹا ہے۔ شاید ہمارا یقین اس بات پر ہے کہ قانون تو بنتا ہی توڑنے کے لئے ہے۔ اور اس توڑ پھوڑ میں عوام و خواص دونوں برابر کے شریک ہیں۔ جس کے لئے جہاں ممکن ہوتا ہے وہ قانون کی خلاف ورزی کا اعزاز حاصل کر لیتا ہے۔ بہرحال ایک جگہ ایسی بھی میں نے دیکھی جہاں سب نہایت صبر اور سکون سے قانون کی پابندی کر رہے ہیں۔ یہ جگہ تھی ملتان۔ جہاں پچھلے دنوں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ ہمارے ہر دلعزیز المعروف پیر و مرشد وزیرِ اعظم صاحب کے خاندان والے جس کالونی میں رہ رہے ہیں اس کے اردگرد پرندہ تو شاید پر مار لے اور چاروں اطراف کھڑے قانون کے محافظین کی عقابی نظروں سے بچ جائے لیکں انسانوں کا اس طرف سے گزرنا منع ہے۔ ٹریفک کے لئے بھی یہی پابندی ہے اور لوگ ہنسی خوشی (چاہے جبری ہی سہی) طویل راستہ اختیار کر کے سوئے منزل سفر کرتے ہیں۔ میں چونکہ ایک درد مند دل رکھنے والی سچی پاکستانی شہری ہوں اس لئے سوچتی ہوں کہ کیا ہی اچھا ہو کہ وزیرِ اعظم صاحب اور ان کے معتمدان جنہوں نے یہ قانون بنایا اور پھر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا، پورے پاکستان کا دورہ کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ورکشاپس لیں تاکہ وہ بھی اپنا کام بہتر طریقے سے کر سکیں۔ ایک اور قانون یہ بھی ہے کہ اس کالونی میں 'لوڈ شیڈنگ' پر بھی پابندی ہے گویا تپتے ہوئے ملتان کا یہ گوشہ ایک 'نخلستان' ہے۔
خیر یہ تو ہمارا اپنا ملک ہے۔ ہماری مرضی ہم جیسے چاہیں رہیں۔ لیکن بین الاقوامی قوانین توڑنے میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ باقی ساری باتیں ایک طرف۔ پاکستان کے دو بہت بڑے اداروں ، جن کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے، میں یہ دیکھا کہ پورے ادارے میں تمام کے تمام کمپیوٹرز پائریٹڈ ونڈوز اور آفس پروگرامز استمعال کر رہے ہیں۔ جب 30-40 روپے کی سی ڈیز مل جا تی ہیں تو کس کو پڑی ہے کہ اصلی سافٹ ویئر خریدنے جائے۔ ویسے بھی ہمارا قومی بجٹ پورا نہیں پڑتا اور اس پر ہم مزید بوجھ ڈال دیں کہ ہر چیز جینئوئن خریدے۔ یہ تو پھر حب الوطنی کے تقاضے کی سراسر نفی ہو گی۔
یہ سب کچھ لکھنے کا خیال اس لئے آیا کہ کل ایک کانفرنس اٹینڈ کرنے کا اتفاق ہوا جس میں انتہائی پڑھے لکھے اور بااختیار پالیسی میکرز نے شرکت کی اور جب وہاں پر کسی نے یہ نقطہ بیان کیا کہ پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں جہاں سہولیات بہت کم ہیں اور شرح خواندگی بھی بہت کم ہے ، وہاں سکولوں اور کالجز میں پڑھانے والے اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں ، تعلیم اور تعلم کے نظریے اور بچوں کی نفسیات سے متعلق نئی کتب یا مواد فراہم کیا جائے تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے پڑھا سکیں گے۔ اس کے جواب میں جو بحث شروع ہوئی وہ ایسی ہی تھی جیسی ہمارے ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں ہوا کرتی ہے یعنی بے سر و پیر۔ اور پھر چلتے چلتے بات آن لائن لائبریریز تک پہنچی۔ کسی نے کہا آن لائن اکثر کتابیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے کچھ رقم ادا کرنی پڑتی ہے جس کے جواب میں پاکستان سے باہر سے پڑھ کر آنے والے ایک حضرت نے بتایا کہ ایسا کاپی رائیٹڈ مواد کے لئے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ارشاد فرمایا 'لیکن ہمیں اس سے کیا۔ ہم ٹورنٹس کے ذریعے یہ ساری کتابیں اپنے پاس ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں' ۔ پھر انہوں نے بہت مفصل انداز میں ٹورنٹس کے ذریعے کاپی رایئٹڈ مواد ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ بیان کیا۔ اور سب نے یوں سُکھ کا سانس لیا کہ ایک غریب ملک کے امیر ادارے نے کتنی رقم بچا لی۔ اس دوران میرا وہی حال تھا جو سرگم ٹائم میں ماسی مصیبتے کا ہوتا تھا جو مارے حیرانگی کے میں ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر ہٹانا بھول جاتی تھی۔ کہ اس بحث سے کچھ پہلے ہی طلباء کو اخلاقیات سکھانے کی ضرورت پر زور و شور سے گفتگو کی گئی تھی۔ قول و فعل کے تضاد کی اس قدر عملی مثال میں نے شاید پہلی بار دیکھی ہے۔

مکمل تحریر  »

Friday, 14 May 2010

12 مئی، پاکستان اور میں!

12 مئی کا دن پاکستانی تاریخ میں ایک اہم دن بن چکا ہے کہ 2007ء میں اسی دن ایکطرف جمہوریت کی دعویدار ایک جماعت ایک آمر کی حمایت میں نعرے لگا رہی تھی تو دوسری طرف کراچی میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ سو اور کسی کو یہ بات یاد رہے نہ رہے کراچی کے باسی یہ دن کبھی نہیں بھلا سکتے۔
12 مئی کی پاکستانی قوم کی تاریخ میں اہمیت اس لئے بھی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے باسیوں نے انگریز راج کے خلاف اپنی جدوجہد کا باقاعدہ آغاز 12 مئی 1857ء کو کیا تھا جو بالآخر انگریزوں کی واپسی اور قیامِ پاکستان پر منتج ہوا۔
اور 12 مئی کی اہمیت میرے لئے یوں بھی بہت زیادہ ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھپو بننے کا اعزاز بخشا تھا۔ اگرچہ میرے تمام کزنز کے بچوں کی تعداد ملا جلا کر اتنی بن ہی جاتی ہے کہ میں کم از کم ایک کرکٹ ٹیم کی پھپو کہلا سکتی ہوں لیکن اپنے بھتیجے کی پھپو بننا سب سے اچھا احساس ہے۔ :party
سو فصیح صاحب کو تیسری سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰٰ اسے اور تمام پیارے پیارے بچوں‌ کو ہمیشہ خوش رکھے اور ان کی پھپھوؤں کو بھی۔ ثمِ آمین



سالگرہ مبارک ہو فصیح کاکا۔ اگر میرا بلاگ زندہ رہا تو امید ہے انشاءاللہ جب تم بڑے ہو گے تو پھپو کی ڈائری کے علاوہ بلاگ پڑھ کر بھی خوش ہو گے کہ howww muchhhhhhhh Phupoo lovesssss u :hug

12 مئی کو عائشہ کی بھی سالگرہ ہوتی ہے جہاں میں پہلی بار وقت پر پہنچی اور ساری چیزیں کھا لیں۔ ہاں گفٹ ہر روز گھر بھول آتی ہوں۔ سو معذرت کے بعد ایک بار پھر سالگرہ مبارک ہو عائشہ۔ بہت خوش رہو اور اسی طرح میرا دماغ کھاتی رہو تا کہ میں مزید غبی ہو جاؤں۔ :123

مکمل تحریر  »

Thursday, 1 April 2010

آج کا سوال!

سب نے سکول کالج میں انگریزی گرامر میں وہ مضمون تو پڑھا ہو گا ' طلباء امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں۔' یا شاید 'لڑکے امتحان میں کیوں فیل ہوتے ہیں'۔
آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ کبھی فیل ہوئے؟ ہوئے تو کیوں اور نہیں تو کیوں نہیں؟
نیز امتحان میں نقل کرنے کے بہترین اور آزمودہ طریقے کون سے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کسی پیپر میں نقل کی؟

مکمل تحریر  »

Wednesday, 17 March 2010

درخواستِ دعا

ویسے تو انسان کو کب دعاؤں کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اس وقت مجھے واقعی دعاؤں کی شدید ضرورت ہے۔ :-(

مکمل تحریر  »

Tuesday, 9 March 2010

اے لئیم تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیئے!

ابھی لائبریری کی دوسری منزل پر بیٹھے مجھے اس عمارت کا ایک حصہ اور اس کے سامنے کی سڑک سنسان و ویران دکھائی دے رہی ہے جہاں گزشتہ شام قیامت کا سماں تھا۔ اس وقت سڑک کنارے پولیس اور فوج کے علاوہ دنیا ٹی وی کی گاڑی کھڑی دکھائی دے رہی ہے جس کو آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ اور میرے کانوں میں ابھی تک سائرن کی آوازیں اور لڑکیوں کی چیخ و پکار گونج رہی ہے۔ یہ لڑکیوں کا ایک نجی ہاسٹل ہے جہاں راولپنڈی کے مختلف کالجوں اور یونیورٹیوں میں زیرِ تعلیم طالبات رہائش پذیر تھیں۔ جن میں نہ صرف راولپنڈی بلکہ اسلام آباد جیسے پڑوسی شہر سے لیکر گلگت ، سکرود جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات شامل ہیں۔ اس عمارت میں گزشتہ سہ پہر اچانک آگ بھڑک آٹھی جس میں ہاسٹل انتظامیہ کے مطابق چھ طالبات جاں بحق ہو گئیں۔ میں اکثر اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے یہی سوچتی تھی کہ نیچے سے اوپر تک grilled اس عمارت جس میں 200 سے زائد طالبات رہ رہی ہیں، کا داخلی دروازہ بھی اس قدر تنگ ہے کہ خدانخواستہ کسی ناگہانی صورتحال میں یہاں سے باہر نکلنا کتنا مشکل ہو گا۔ ایسا سوچنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ہاسٹل جی ایچ کیو سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے اور اسی علاقے میں اس سے پہلے دہشت گردی کے چند واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔ کل اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی تھا کہ پہلے ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ایجنسیوں کو پہلے شیشے توڑنے پڑے، پھر لوہے کی جالی کاٹنے کے بعد اتنی جگہ بنائی جا سکی کہ اوپر والی منزل میں محبوس لڑکیوں کو سیڑھیاں لگا کر باہر نکالا جا سکے۔ اس اثنا میں رفاہ میڈیکل کالج کی چھ طالبات کو ایک ہی کمرے میں رہائش پذیر تھیں، جلنے اور دم گُھٹنے سے جاں بحق ہو چکی تھیں۔ اب ہو گا یہ کہ ہاسٹل انتظامیہ اور ہمارے حکمران تعزیتی بیان جاری کر کے پھر اپنے آپ میں گم ہو جائیں گے۔ اور کسی کو احساس تک نہیں ہو گا کہ کتنے قابل لوگ اتنی آسانی سے لقمہ اجل بن گئے اور کتنے والدین کی امیدیں مٹی میں مل گئیں۔ میری ایک کولیگ جو پچھلے سال اپنی گریجویشن سے پہلے اسی ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی، کے مطابق اس عمارت میں کہیں بھی ہنگامی اخراج کا کوئی ایک راستہ بھی نہیں تھا۔ پوری عمارت میں کہیں بھی کوئی سموک یا فائر الارم نہیں ۔ایک جگہ fire extinguishers نمائشی طور پر آویزاں تھے اور ان کو زنگ لگ چکا تھا۔ عمارت میں بجلی کی وائرنگ اس قدر شکستہ حالت میں تھی کہ تاروں سے سپارکنگ ہونا ایک عام بات تھی۔ بار بار یاد دہانی کے باوجود ہاسٹل انتطامیہ کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ جبکہ کرائے کے نام پر ہر مہینے بھاری بھرکم رقم بٹور لی جاتی ہے۔
اب یہ عمارت سِیل کر دی گئی ہے۔ اس طرف آنے والی سڑک بند کر دی گئی ہے۔ پولیس اور فوج کا سڑک پر پہرہ ظاہر کرتا ہے کہ ہو سکتا ہے اگر کسی کو خیال آ جائے تو 'بڑوں' میں سے کوئی ادھر کا دورہ کر لے۔ اگر رحمان ملک انکل کو برطانوی بچے کے اغواء کی ٹینشن نے کچھ مہلت دی تو شاید وہ بھی ادھر کو آ نکلیں۔ کاش کوئی اس انتظامیہ سے یہ بھی پوچھ سکے کہ کیا ان کی عمارت اس معیار پر پوری اترتی تھی جو طلباء کے ہاسٹل کے لئے ضروری ہوتے ہیں؟ اور کاش کوئی مجھے یہ بتا سکے کہ ہمارے ملک میں اداروں کے لئے کوئی ایسا کوڈ موجود ہے بھی یا نہیں جس کے تحت وہ سیفٹی کے اصول و ضوابط کی پابندی کریں؟


مکمل تحریر  »

Thursday, 7 January 2010

جد وجہد



Listen to The Climb

The Climb
I can almost see it
That dream I'm dreaming but
There's a voice inside my head sayin,
You'll never reach it,  :-(
Every step I'm taking,
Every move I make feels
Lost with no direction :cryin
My faith is shaking but I
Got to keep trying
Got to keep my head held high
There's always going to be another mountain :what
I'm always going to want to make it move :quiet:
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb  :)
The struggles I'm facing,
The chances I'm taking
Sometimes they knock me down but :sad:
No I'm not breaking :dont
The pain I'm knowing :sadd:
But these are the moments that
I'm going to remember most yeah :)
Just got to keep going
And I,
I got to be strong :smile
Just keep pushing on,
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle,
Sometimes you going to have to lose,
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
There's always going to be another mountain
I'm always going to want to make it move
Always going to be an uphill battle, :uff
Sometimes you going to have to lose,  :cry:
Ain't about how fast I get there,
Ain't about what's waiting on the other side
It's the climb
Keep on moving
Keep climbing
Keep the faith baby
It's all about
It's all about
The climb
Keep the faith
Keep your faith :pray

Singer: Joe McElderry



مکمل تحریر  »