Thursday, 31 December 2009

میں سال کا آخری سورج ہوں!

ایک اور سال بیت چلا۔ آخری دن وہی روایتی سوال خود سے اور دوسروں سے پوچھا جاتا ہے۔ یہ سال کیسا گزرا؟ کیا کھویا کیا پایا؟ جو کام کرنے کا ارادہ تھا مکمل ہوئے یا نہیں؟

2009ء میں بحثیتِ پاکستانی اتنا کچھ کھویا ہے کہ شمار کرنا مشکل ہے۔ وطن سے دُور رہ کر بھی سکون نہیں اور وطن میں رہ کر بھی ایک دھڑکا لگا رہتا ہے۔ کتنا عجیب لگتا ہے جب قدم قدم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہتھیار بند افراد سے سامنا ہوتا ہے۔ جب ہر کوئی اپنے آس پاس موجود لوگوں کو مشتبہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ جب اخبار اٹھاتے، خبریں سنتے ہوئے اور کسی کا فون آتے ہی بے اختیار منہ سے خدا خیر کرے نکلتا ہے۔ :-( پھر بھی زندگی رواں دواں ہے۔ اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چُھوٹا :smile ۔ مشکل حالات کے باوجود اپنا گھر اپنا ہی ہے۔ اپنا تو یہی یقین ہے کہ ؀ جو مزہ اپنے چوبارے ، نہ بلخ نہ بخارے۔ :) ۔ اللہ کرے آنے والا سال پاکستان اور ہم سب کے لئے امن و سلامتی کا پیامبر ثابت ہو۔ ثمَ آمین :pray

اس سال زندگی مصروف سے مصروف تر ہوتی گئی۔ سارا سال ہی جیسے سفر میں گزر گیا۔ بہت سے پرانے دوستوں سے رابطہ بحال ہوا جن میں سراسر قصور انہی لوگوں کا تھا کہ میں جہاں بھی ہوں وہ مجھے ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ اسی طرح بہت سے اچھے لوگ شاید ناراض ہو گئے ہیں کہ ان سے رابطہ برقرار رکھنے میں سستی ہو گئی :confused ۔ اللہ کرے 2010ء میں یہ ناراض لوگ اپنی ناراضگی بھول جائیں۔ :cry:

اسی دعا کے ساتھ کہ سب کے ناراض دوست مان جائیں، نئی کامیابیاں نصیب ہوں اور دل سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال ہو جائیں۔ نئے سال کی آمد پر سب کے لئے نیک خواہشات کا تحفہ۔ :flwr
نئے سال کے لئے قرارداد بنانے کا کم از کم مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کہ میں وہ سب کام کر لیتی ہوں جن کا نئے سال کے ایجنڈے سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا جبکہ قرارداد کا حشر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اقوامِ متحدہ میں کشمیر کے متعلق داخل کردہ یادداشتوں کا۔ :sadd:


خوش آمدید 2010ء اور الوداع 2009ء

RiverJhelum

میں سال کا آخری سورج ہوں
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا
کوئی کہتا ہے کیا خُوب چلا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
اس رخصتِ عالم میں مجھ کو
اک لمحہ رخصت مل نہ سکی
جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا
اس شب کی چاہت مل نہ سکی
یہ سال کہاں، اک سال کا تھا
یہ سال تو اک جنجال کا تھا
یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے
یہ اک اک پَل سے بنتی ہے
سب اک اک پَل میں جیتے ہیں
اور اک اک پَل میں مرتے ہیں
یہ پَل ہے میرے مرنے کا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا

اے شام مجھے تُو رخصت کر
تُو اپنی حد میں رہ لیکن
دروازے تک تو چھوڑ مجھے
وہ صبح جو کل کو آئے گی
اک نئی حقیقت لائے گی
تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے
اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے
اک صبحِ امید ، آثار میں ہے
اک در تیری دیوار میں ہے
اک صبحِ قیامت آنے تک

بس میرے لیے بس میرے لیے
یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے
اب آگے لمبی رخصت ہے
اے شام جو شمعیں جلاؤ تم
اک وعدہ کرو ان شمعوں سے
جو سورج کل کو آئے یہاں
وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو
وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو
وہ پُورے سال کا سورج ہو
اے شام مجھے تو رخصت کر!

کلام: لطیف ساحل

مکمل تحریر  »

Tuesday, 29 December 2009

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے!


اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


وہی لوگوں سے روٹی کا نوالہ
چھین لینے کی حریصانہ پراگندہ سیاست
سیاہ کاروں کے ہاتھوں میں چیختی، سسکتی ہماری ریاست
جہاں مائیں۔۔۔۔جگر گوشوں کو
اپنے خون میں ڈوبی ہوئی
لوری سناتی ہیں
جہاں پر خواب میں سہمے ہوئے بچوں کی آہیں ڈوب جاتی ہیں
یہ میرے سامنے سے کیسا موسم جا رہا ہے

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


وہی سہمے ہوئے وعدے
لہو میں تر دعائیں
لرزتی کانپتی روتی صدائیں
عبادت کرنے والوں کو بلاتی ہیں
بھلائی کی طرف آؤ
بھلائی کی طرف آؤ
مگر ایسا نہیں ہوتا
مگر ایسا نہیں ہوتا
خدا اور آدمی کے درمیان
ایک خوف کی دیوار چڑھتی اور بڑھتی جا رہی ہے
اسی جانب اندھیروں کا سمندر جا رہا ہے

اُسے کہنا دسمبر جا رہا ہے


میرا قومی خزانہ لوٹنے والوں کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے
اور ایسے لالچی لوگوں کو حاصل ساتھ کس کا ہے
وطن والوں کی خواہش ہے
کہ یہ سب لوگ
رسنِ صبح تک پہنچیں
یا دارِ شام تک پہنچیں
یہ جس انجام کے قابل ہیں
اس انجام تک پہنچیں
کہ ذلت کی طرف ان کا مقدر جا رہا ہے

کلام: فاروق اقدس

مکمل تحریر  »

Monday, 28 December 2009

مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا- نعت

مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا



مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا
یہ کہہ دینا ، ہزاروں عیب رکھتا ہوں ، ہنر دینا
نہ دل دینا ، نہ در دینا، نہ زر دینا، نہ گھر دینا
تمہیں دیکھا کروں آٹھوں پہر ، ایسی نظر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

کئے ہیں جُرم اتنے اس لیے پچھتا رہا ہوں میں
گناہوں کے بھنور میں ڈوبتا ہی جا رہا ہوں میں
چلا آیا تیرے در پر تو بیڑا پار کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

شبِ اسراء کے دولہا تمہاری دُھوم ہے گھر گھر
پلاتے ہو مئے توحید مستانوں کو بھر بھر کر
سوالی ہوں تیرے در کا ، مری جھولی کو بھر دینا
مدینے میں صبا جانا تو اتنا کام کر دینا
رسول اللہ ﷺ کو میری غریبی کی خبر دینا

نعت خواں: علی حمزہ (نُوری)

مکمل تحریر  »

نذرِ امام حُسین (رض)

فکرِ انسانی کو دے گی ارتقا کی روشنی

یہ مدینے کی ، نجف کی، کربلا کی روشنی

شمعیں گُل کر دی گئیں بزمِ حُسینی کی مگر

تھی شبِ عاشور میں اہلِ صفا کی روشنی

اس میں ہر نقشِ حق و باطل نظر آتا ہے صاف

کربلا کی روشنی ہے، کربلا کی روشنی

ہر قدم رکھا تصور، روضۂ شبیر کا

ہم نے راہِ کربلا میں ، رہنما کی روشنی

دل میں غم شبیر کا ، آنکھوں میں اشکِ تعزیت

ان عزا خانوں میں ، ہم نے تو سدا کی روشنی

نور چشمِ مصطفیٰ کے روضۂ پُر نُور پر

سب نے کچھ مانگا مگر، ہم نے دعا کی روشنی

شام کی راہوں میں عابد پابجولاں تھے مگر

دُور تک پھیلی ہوئی تھی ، نقشِ پا کی روشنی

مجھ کو تابندہ رکھا سوزِ غمِ شبیر نے

عمر بھر زخمِ محرم نے عطا کی روشنی

تازہ تر رکھا غمِ شبیر اشک و آہ نے

نخلِ ماتم میں رہی آب و ہوا کی روشنی

سننے والوں کو بھی کچھ نورِ سماعت مل سکے

اس لیے ہر منقبت میں ہم نوا کی روشنی

کربلا کی روشنی میں کہہ کے تابش کشھ سلا

ہم نے ایوانِ ادب میں بارہا کی روشنی

 

کلام: تابش دہلوی

مکمل تحریر  »

Wednesday, 23 December 2009

واپسی

Back after a long visit to Azad Kashmir educational institutes with a foot sprain tale.

Couldn't resist taking snapshots of knives and guns in Bhimber.

Photobucket

مکمل تحریر  »

Friday, 11 December 2009

میں نے یہ جانا!

“ہم لوگوں کے لئے یہی ایک مقامِ غور ہے کہ ہم زندگی فرعون کی چاہتے ہیں اور عاقبت موسیٰ کی”
‘گُمنام ادیب۔ واصف علی واصف’









“زندگی غموں اور خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ تعلیم کا وسیع ترین مفہوم یہ ہے کہ جسم اور ذہن دونوں کی تربیت ہو اور ایسی متوازن شخصیت تشکیل پائے جو ہر طرح کے حالات میں خود کو سنبھال سکے۔ اور زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ آسانی سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔ یہ محض سکول کی پڑھائی اور کتابوں کے علم سے ممکن نہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر ماں کے رویے اور اور تربیت پر ہے۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ بچے میں خود نظمی اور کردار کی کی مضبوطی پیدا کرنے میں مدد کرے۔ حقیقی محبت یہ نہیں کہ بچے کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کی جاتی رہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اُسے منظم ہونا اور ضرورت کے مطابق حالات کو سمجھنا سکھایا جائے۔”
‘اندرا گاندھی۔ میرا سچ’

مکمل تحریر  »

Thursday, 26 November 2009

پاکستان اور سوپ ڈرامہ

ٹیلی ویژن کسی زمانے میں تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم کا ذریعہ بھی تھا۔ اگرچہ آج بھی ایسا سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب سب کچھ تفریح کے گرد ہی گھومتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز پر ڈرامہ اور سیاست کے علاوہ شاید ہی کچھ نشر کیا جاتا ہے۔ (ویسے تو سیاسی شوز بھی ڈرامہ ہی ہیں)۔ بلکہ میں تو انہیں سٹیج شوز کہوں گی۔ چند مخصوص چہرے، مخصوص سوالات، رٹے رٹائے جوابات ، الزامات اور لڑائیاں۔ مہمان  سیاستدان اداکار ایک سٹوڈیو سے دوسرے کی طرف بھاگتے ہیں اور وہاں پہنچ کر وہی رٹا رٹایا سکرپٹ دہرا دیتے ہیں :daydream :daydream ۔ اول الذکر دیکھنے بیٹھیں تو ایسے ایسے موضوعات اور حالات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ پاکستانی ڈرامے کے سنہری دور میں بھی کوئی مثال موجود نہیں۔ بلکہ یہ جو آئے دن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پابندی کا غلغلہ اٹھتا ہے انہیں میڈیا کی آزادی دیکھنا ہے تو کسی بھی چینل پر کوئی ڈرامہ دیکھ لیں۔ سیٹ، ملبوسات ، موضوع، اداکاری کسی بھی لحاظ سے ہم کسی سے کم نہیں بلکہ بہت آگے نکل رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں ہم لوگ بحیثیتِ قوم بہت روشن خیال ہو گئے ہیں :-s یا شاید  پمرا ڈرامہ اور دیگر تفریحی پروگرامز کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں بناتا۔ برطانیہ میں رات دس بجے سے پہلے کوئی ایسا پروگرام نشر نہیں کیا جاتا جسکا دیکھنے والوں خصوصا بچوں پر غیر اخلاقی اثر پڑتا ہو۔ حتیٰ کہ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھانے میں بھی احتیاط کی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا کوئی پروگرام/ فلم/ ڈرامہ آن ایئر آتا بھی ہے تو شروع ہونے سے پہلے اس کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔

کسی زمانے میں صرف سٹار پلس کے سوپ ڈراموں کا بخار ہوتا تھا۔ اب پاکستان میں بھی اس وائرس کا دور دورہ ہے۔  میری بھابھی پنے بھائی کی طرف جاتیں تو باقاعدگی سے اپنے پسندیدہ ڈرامے کی اپڈیٹ لیتیں فون پر :D اس وقت جیو پر سوپ ڈراموں کا سلسلہ نیا نیا شروع ہوا تھا۔ اور مجھے حیرت ہوئی کہ اتنے سالوں بعد بھی وہ ڈرامہ ابھی جاری ہے۔ تقریباتمام کاسٹ تبدیل ہو چکی ہے۔ کہانی بھی عجیب و غریب ہے۔ کبھی کوئی برسوں بعد مردہ سے زندہ ہو جاتا ہے تو کبھی اچانک کوئی ایسا رشتہ دریافت ہو جاتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔  بیچ میں کاسٹ غائب ہوتی جاتی ہے تو بجائے اس کردار کو ختم کرنے کے ایک نیا اداکار بھرتی کر لیا جاتا ہے یوں ایک کردار کئی چہرے بدلتا ہے۔ جس کہانی میں حقیقت کا رنگ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیام سے اب تک پاکستان میں بھی سوپ ڈرامہ ہی چل رہا ہے۔ وہی سیاست اور سیاست دان، وہی فوج اور وہی فوجی رعب۔ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ ایک جاتا ہے ایک آتا ہے۔ چہرے بدل بھی جائیں لیکن تاریخ میں سب کا ایک ہی کردار ہے کم و بیش۔ :confused

مکمل تحریر  »

Tuesday, 10 November 2009

شاعر ہے رہنما ہے اقبال ہمارا!


نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے(بالِ جبریل)




نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتابِ ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا ہے!

گلوکار: شوکت علی
------------

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں (بالِ جبریل)




خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آبِ گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردشِ خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوزِ جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروسِ لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیمِ سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجرانِ فرنگ
وہ شے متاعِ ہُنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن!
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

گلوکارہ: ثریا خانم
------

پاکستان ٹیلی ویژن کے بہت سے کارناموں میں ایک ڈاکٹر محمد اقبال کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کرنا بھی ہے۔ لیکن یہ روایت شاید اب ختم ہو چکی ہے۔ ہر سال نومبر میں میں انتظار کرتی ہوں کہ شاید بھولے سے کوئی وہ انسٹرومنٹل ہی لگا دے جو ہمارے بچپن میں نومبر شروع ہوتے ہی اکثر سننے کو ملتا تھا ۔۔'شاعر ہے رہنما بھی ہے اقبال ہمارا'۔ لیکن :( ۔ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر بھی تلاش جاری تھی۔ یوٹیوب کی بدولت ایک بار پھر یہ نغمہ سننے کو مل گیا۔ :)


ان دنوں ہوتا کچھ یوں ہے کہ علامہ اقبال کی نظم ' بچے کی دعا' نئے سرے سے گائی اور فلمائی جاتی ہے لیکن تلفظ پر دھیان دینا بھول جاتا ہے :-( ۔ آخری مصرعے میں راہ اور رہ میں فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے (ربط)۔ ہماری اردو کی استاد مس چوہدری کو بہت غصہ آتا تھا جب کوئی بچہ راہ کو رہ بنا دیتا تھا۔ پچاس پچاس بار دونوں الفاظ دہرانے پڑتے :uff

مکمل تحریر  »

Saturday, 26 September 2009

پاکستان اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کےتحت منعقدہ  انڈر گریجویٹ ایڈمیشن کےلئے داخلہ ٹیسٹ کی میرٹ لسٹ 24 ستمبر کو لگائی جانی تھی۔ 24 سمتبر سارا دن انتظار کے بعد طلباء کو معلوم ہوتا ہے کہ میرٹ لسٹ رات آٹھ بجے لگا دی جائے گی اور ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کر دی جائے گی۔ شام سات سے رات دس بجے تک یونیورسٹی کی ویب سائٹ ڈاؤن رہتی ہے۔ دس سے 25 ستمبر رات دو بجے تک میرٹ لسٹ کی کوئی خبر نہیں اور اس کے بعد سے  (26 ستمبر رات ایک بجے تک) ویب سائٹ ڈاؤن ہی ہے ماشاءاللہ۔ :-s



تین چار سال پہلے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ویب سائٹ پر اکثر فیکلٹیز/ڈیپارٹمنٹس کے تعارف میں ‘will be updated soon’ لکھا ملتا تھا۔ آج بھی یہی حالات ہیں۔ مستقل مزاجی ہو تو ایسی ہو۔ :clap










کچھ عرصہ پہلے میں نے منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پاکستان  کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کی اور مسلسل تین دن تک اس کے بجائے ایبٹ آباد  ضلعی حکومت کی ویب سائٹ کُھلتی رہی۔ :-(

مکمل تحریر  »

Tuesday, 22 September 2009

عید الفطر (ستمبر 2009)

S1051554

عید الفطر مبارک


عید کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے ہیں اس دن کے لیے

مکمل تحریر  »

Sunday, 20 September 2009

یہ عید دل شکن ہے!

 

اے چاند آج تجھ کو ہم داغِ دل دکھائیں

برسوں سے رنج و غم کا جو حال ہے سُنائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

ہیں ظلم و یادتی کے سب ماہ و سال وہی

ہونٹوں پہ ثبت تشنہ لاکھوں سوال وہی

ٹوٹے دلوں کو خوشیاں کیا عید کی لبھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

خوشحال ہیں گداگر ، ہیں موج میں سوداگر

رکھتے ہیں سیم و زر سے بھر بھر کے روز گاگر                                               

کم مائیگی پر اپنی، ہم دل پہ تیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

زوروں پہ ڈاکے ناکے ، اس پہ ستم دھماکے

اس شہرِ بے اَماں سے کیا لائیں ہم کما کے

بے طاقتوں کو طاقت والے نہ چیر کھائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 145557_news_image

شیطان کی خطائیں اب تو لگیں ہیں چھوٹی

لگتی ہے زنگ خوردہ سچائی کی کسوٹی

معراجِ آدمیت پھر کس طرح سے پائیں

یہ عید دل شکن ہے ہم عید کیا منائیں

 

کلام: نجمہ یاسمین یوسف

مکمل تحریر  »

Friday, 11 September 2009

تیرے بعد (بحُضور قائدِ اعظم)- احمد فراز

تیرے بعد


(بحضُور قائدِ اعظم)


پُھول روتے ہیں کہ آئی نہ صدا تیرے بعد

غرقۂ خوں ہے بہاروں کی رِدا تیرے بعد

آندھیاں خاک اُڑاتی ہیں سرِ صحنِ چمن

لالہ و گل ہُوئے شاخوں سے جُدا تیرے بعد

جاہ و منصب کے طلبگاروں نے یوں ہاتھ بڑھائے

کوئی دامن بھی سلامت نہ رہا تیرے بعد

جن کو اندازِ جنُوں تُو نے سکھائے تھے کبھی

وہی دیوانے ہیں زنجیر بپا تیرے بعد

کس سے آلامِ زمانہ کی شکایت کرتے

واقفِ حال کوئی بھی تو نہ تھا تیرے بعد

اب پکاریں تو کسے زخم دکھائیں تو کسے

ہم سے آشفتہ سر و شعلہ نوا تیرے بعد

پھر بھی مایوس نہیں آج تیرے دیوانے

گو ہر اک آنکھ ہے محرومِ ضیا تیرے بعد

راستے سخت کٹھن منزلیں دشوار سہی

گامزن پھر بھی رہے آبلہ پا تیرے بعد

جب کبھی طُلمتِ حالات فضا پر برسی

مشعلِ راہ بنی تیری صدا تیرے بعد

آج پھر اہلِ وطن انجم و خورشید بکف

ہیں رواں تیری دکھائی ہوئی منزل کی طرف

(احمد فراز. شب خون)









ماخذ تصاویر: Frost’s Meditations

National Archives of Pakistan

مکمل تحریر  »

Monday, 7 September 2009

سوال یہ ہے کہ

پروفیشنل سی- وی/ Resume زیادہ سے زیادہ کتنا طویل ہونا چاہئیے؟
دو یا تین صفحات :qstn
کچھ خاص جو پاکستانی کمپنیاں خصوصی طور پر سی وی میں دیکھتی ہیں؟

مکمل تحریر  »

Monday, 31 August 2009

وقت وقت کی بات!

کسی نے کہا کہ۔۔

“1947ء میں بھی رمضان ماہِ اگست میں تھا اور 2009ء میں بھی رمضان اگست میں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت قوم کو ”ایک مُلک“ کی ضرورت تھی اور آج مُلک کو ”ایک قوم“ کی ضرورت ہے۔ :-s

مکمل تحریر  »

Friday, 28 August 2009

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

 

2135194437_3b08b4aa4e

 

یااللہ!

تری آزمائشوں سے ہُوں بے خبر

یہ میری نظر کا قصور ہے

تری راہ میں قدم قدم

کہیں عرش ہے کہیں طُور ہے

یہ بجا ہے مالکِ دو جہاں

میری بندگی میں فتور ہے

یہ خطا ہے میری خطا مگر

تیرا نام بھی تو غفُور ہے

یہ بتا! میں تُجھ سے ملوں کہاں

مجھے تُجھ سے ملنا ضرور ہے

کہیں دل کی شرط نہ ڈالنا

ابھی دل گناہوں سے چُور ہے

تُو بخش دے مرے سب گناہ

تُو رحیم ہے تُو غفور ہے

مکمل تحریر  »

Saturday, 15 August 2009

14 اگست 2009۔ 63 واں یومِ آزادی پاکستان

میری ذات کے آنگن میں جو سبز اُجالا ہے
اس چاند ستارے کے پرچم کا حوالہ ہے
میں اس کے حوالے سے ، خود کو پہچانی ہوں
میں پاکستانی ہوں :pak

ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔ :)
گزشتہ برس شاید نیٹ پر ایک تحریک شروع کی گئی تھی ۔۔' مجھے اب بھی پاکستان سے محبت ہے' کے نام سے۔
مجھے لفظ 'اب' پر اعتراض ہے۔ محبت مشروط تو نہیں ہوتی۔ اگر پاکستان مسائل اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے تو یہ بھی ہم پاکستانیوں کی اپنی کوتاہیاں ہیں۔ بجائے ان پر نظر ڈالنے کے وطن سے لگاؤ کو 'اب' اور 'تب' کے مابین تقسیم کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ سو مجھے پاکستان سے محبت ہے۔ :pak


ہم سب کا ایک سہارا، یہ پاکستان ہمارا۔ فیض بلوچ



ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا

سو ہیرے ایک خزینہ سو جلوے اک آئینہ
سو عاشق اک دلجارا ، یہ پاکستان ہمارا

ہم تختہ گل یہ گلشن ، ہم تن ہیں یہ پیراہن
ہم دریا اور یہ کنارا ، یہ پاکستان ہمارا

اب فیض بلوچ سنائے جو سن لے خوش ہو جائے
یہ الفت کا سیپارہ ، یہ پاکستان ہمارا


ماضی میں کیسے اچھے ملی نغمے بنا کرتے تھے۔ جوش و جذبے سے بھرپور :pak

مکمل تحریر  »

Thursday, 13 August 2009

اے مری ارضِ وطن



اے مری ارضِ وطن

اے مری ارضِ وطن ، پھر تری دہلیز پہ میں
یوں نگوں سار کھڑا ہوں کوئی مجرم جیسے
آنکھ بے شک ہے برسے ہُوئے بادل کی طرح
ذہن بے رنگ ہے اُجڑا ہُوا موسم جیسے
سانس لیتے ہُوئے اس طرح لرز جاتا ہوں
اپنے ہی ظلم سے کانپ اُٹھتا ہے ظالم جیسے

تُو نےبخشا تھا مرے فن کو وہ اعجاز کہ جو
سنگِ خار کو دھڑکنے کی ادا دیتا ہے
تُو نے وہ سحر مرے حرفِ نوا کو بخشا
جو دل قطرہ میں قلزم کو چُھپا دیتا ہے

اور میں مستِ مَے رامش و رنگِ ہستی
اتنا بے حس تھا کہ جیسے کسی قاتل کا ضمیر
یہ قلم تیری امانت تھا مگر کس کو ملا؟
جو لُٹا دیتا ہے نشے میں سلف کی جاگیر
جیسے میزانِ عدالت کسی کج فہم کے پاس
جیسے دیوانے کے ہاتھوں میں برہنہ شمشیر

تجھ پہ ظلمات کی گھنگھور گھٹا چھائی تھی
اور میں چُپ تھا کہ روشن ہے مرے گھر کا چراغ
تیرے میخانے پہ کیا کیا نہ قیامت ٹوٹی
اور میں خوش تھا سلامت ہے ابھی میرا ایاغ
میں نے اپنے ہی گہنگار بدن کو چُوما
گرچہ جویائے محبت تھے ترے جسم کے داغ

حجلۂ ذات میں آئینے جڑے تھے اتنے
کہ میں مجبور تھا گر محوِ خود آرائی تھا
تیری روتی ہوئی مٹّی پہ نظر کیا جمتی
کہ میں ہنستے ہُوئے جلوؤں کا تمنّائی تھا
ایک پل آنکھ اُٹھائی بھی اگر تیری طرف
میں بھی اوروں کی طرح صرف تماشائی تھا

اور اب خواب سے چونکا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
ایک اِک حرف مرا تیرِ ملامت ہے مجھے
تُو اگر ہے تو مرا فن بھی مری ذات بھی ہے
ورنہ یہ شامِ طرب صبحِ قیامت ہے مجھے
میری آواز کے دُکھ سے مجھے پہچان ذرا
میں تو کہہ بھی نہ سکوں کتنی ندامت ہے مجھے

آج سے میرا ہُنر پھر سے اثاثہ ہے ترا
اپنے افکار کی نس نس میں اُتاروں گا تجھے
وہ بھی شاعر تھا کہ جس نے تجھے تخلیق کیا
میں بھی شاعر ہوں تو خوں دے کے سنواروں گا تجھے
اے مری ارضِ وطن اے مری جاں اے مرے فن
جب تلک تابِ تکّلم ہے پکاروں گا تجھے

احمد فراز

:pak

اے وطن پاک وطن (انسٹرومنٹل(


اے وطن پاک وطن: استاد امانت علی خان



شاعر کا نام میرے ذہن میں نہیں آ رہا۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 11 August 2009

ورائے عقل تھیں اہلِ ہوس کی تدبیریں


ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں

ذکر ہے سردیوں کی ایک شام کا اور اک ایسے مقام کا کہ بے آب و گیاہ میدان پہاڑوں سے گھرا۔ جنوری کے مہینے میں کوئٹہ اور اس کے مضافات میں شامیں ویسے تو بہت یخ بستہ ہوتی ہیں لیکن اس دن سورج دن بھر چمکتا رہا تھا اور الوادعی کرنوں میں کچھ حدت باقی تھی جو تھکے ماندے ان افسروں کو بھلی لگ رہی تھی جو تمام دن مختلف فوجی مشقوں میں مصروف رہے تھے۔
کوئٹہ میں واقع سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس پاک فوج کے نوجوان افسروں کو انفٹری میں زیرِ استعمال ہتھیاروں میں مہارت اور کمپنی سطح تک فوجی دستوں کی قیادت کی تربیت دیتا ہے۔ عام طور پر ان کاموں کیلئے الگ الگ کورس ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ ہتھیاروں میں مہارت اور جونیئر عسکری قیادت کو اکٹھا کر دیا گیا تھا اور کورس کو آفیسرز ویپن اینڈ جو نیئر آفیسرز لیڈرشپ کورس (owjol-1) کا نام دیا گیا تھا۔ اس کورس میں شریک افسر، دن بھر کی فوجی مشقتوں کے بعد فائر پاور کا ایک مظاہرہ دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ تھکن سے نڈھال ان افسروں کو یہ اطمینان تھا کہ اب انہیں خود کچھ نہیں کرنا بس مظاہرہ دیکھنا ہے۔ مظاہرے کے انعقاد کی ساری ذمہ داری ویپن آفیسر اور اس کے عملے پر تھی۔
سورج مغرب کی طرف جُھک رہا تھا اور افسر زمین پر بچھائی دریوں پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ مظاہرے میں کچھ دیر دکھائی دی تو کچھ افسر لیٹ گئے ، کچھ نے اپنے پٹھوؤں سے ٹیک لگا لی۔ اچانک فضا میں ایک گانے کے بول اُبھرے۔
سن وے بلوری اکھ والیا
اساں دل تیرے نال لا لیا
تیری مہربانی، میرے ہانی، میرا بن جا
کسی نے مائک کے قریب رکھا ٹیپ ریکارڈر پوری آواز میں کھول دیا تھا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اس کی آواز چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ افسروں نے دائیں بائیں دیکھا اور یہ جان کر کہ کوئی اس گانے پر معترض نہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ کچھ منچلے اٹھ کھڑے ہوئے اور رقص کرنے لگے۔ دوسرے افسر تالیاں بجانے لگے اور جلد ہی پورے ماحول پر ایک سر خوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ افسر رقص کرنے اور تالیاں بجانے میں مگن تھے کہ اچانک ایک قیامت بپا ہو گئی۔ موسیقی تھم گئی اور چاروں طرف مشین گنوں کی تڑ تڑ سنائی دینے لگی۔ چاروں طرف سے شعلے لپک رہے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے شر پسندعناصر نے افسروں پر حملہ کر دیا ہو۔ مختلف ہتھیاروں کی فائرنگ کے بعد ٹریسر فائر ہوئے جنہوں نے افسروں کے اوپر ایک چھتری سی تان دی۔ پھر کچھ دیر بعدویری لائٹ فائر ہوئیں جو ایک پیراشوٹ کی مدد سے نیچے اُترتی ہیں اور اپنے نیچے کے علاقے کو منور کر دیتی ہیں۔ لاؤڈ سپیکر پر ایک آواز ابھری،
“جو قومیں رقص و سرود میں غرق ہو کر عیاشی میں مبتلا ہو جاتی ہیں ، روحِ جہاد سے محروم ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لئے مسلح جد و جہد کو فراموش کر دیتی ہیں، بہت جلد قصۂ پارینہ بن جاتی ہیں"۔
ویری لائٹ کی مدھم روشنی میں افسروں نے دیکھا کہ سکول کا ویپن ٹریننگ آفیسر مائک پر تھا اور مظاہرہ شروع ہو چکا تھا۔
بلوچ رجمنٹ کا ایک کپتان طارق مجید(موجودہ جنرل اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی) بڑبڑایا۔ " کیا مہم جو افسر ہے اور پڑھانے کا کیا نرالا انداز اختیار کیا ہے"۔
ویپن ٹریننگ افسر پنجاب رجمنٹ کا ایک میجر، جاوید حسن تھا۔ آنے والے وقت میں اس نے قومی وقار اور سینکڑوں جانوں کی قیمت پر کہیں زیادہ خطرناک مہم جوئی کا مظاہرہ کرنا تھا۔


'سانحۂ کارگل کے اصل حقائق: جنٹلمین استغفر اللہ (Witness to Blunder) ' از کرنل(ر) اشفاق حسین سے اقتباس
(باب: ورائے عقل تھیں اہلِ "ہوس" کی تدبیریں)

میجر جاوید حسن (بعد ازاں میجر جنرل اور نیشنل ڈیفنس کالج کے کمانڈنٹ) کا جنگِ کارگل میں کردار کیا رہا اور ولن ہیرو کیسے بنے۔ اس سمیت دیگر تلخ حقائق کے بارے میں بات کرنا کافی تکلیف دہ امر ہے۔مجھے اس پر کچھ تبصرہ نہیں کرنا۔ بس اتنا کہنا ہے کہ برسوں پہلے جو بات چند فوجی افسروں کے لئے کہی گئی تھی وہ آج پوری قوم پر صادق آتی ہے۔ سنتے ہیں کہ کبھی کسی نے 'نظریۂ پاکستان' کو خلیج بنگال میں ڈبونے کی بات کی تھی اور پھر کسی نے پاکستانی قوم کو ثقافتی محاذ پر شکست دینے کا عزم کیا تھا اور آج یہ دونوں دعوے حقیقت میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے اندر ہی قدم قدم پر نظریۂ پاکستان کو غلط قرار دینے والے ملتے ہیں اور ان چند افسروں کی طرح پوری قوم طاؤس و رباب اول کی تفسیر بنی دکھائی دیتی ہے۔ :quiet: اور اس کا سہرہ غیروں کے نہیں بلکہ خود ہمارے اپنے سر جاتا ہے۔

؎ ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

مکمل تحریر  »

Monday, 10 August 2009

سرگم نامہ

انکل سرگم: حکومتوں کے عوام سے مخلص ہونے پر شک کیا ہی نہیں جا سکتا۔
رولا: وہ کیسے سر جی؟
انکل سرگم: رہا ناں سمال کراکری، چھوٹا پہانڈا۔ یہ بتاؤ۔ ہماری عوام کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
رولا: سر جی، اب تو 'زندگی' ہی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ لگتی ہے۔
انکل سرگم: بالکل۔ اور ہر آنے والی حکومت عوام کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتی۔ بھوک، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو ڈرون حملے :what
:-s

مکمل تحریر  »

Wednesday, 5 August 2009

ہفتۂ چھینک

حساس ہونا بھی بڑی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔اور اگر یہ حساسیت طبی حساسیت کے زمرے میں آتی ہو تو حال میرے جیسا ہوتا ہے۔    :quiet: ۔ مارچ اپریل میں یہ پولن الرجی کا باعث بنتی ہے۔ گرمیاں آتی ہیں تو دھوپ میں نکلتے ہی پھر یہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور گرد تو سارا سال ہی میری چھینکوں کا وجہ ہوتی ہے۔  :sad: :sadd: بہرحال چھینکوں سے بھرپور ہفتہ گزار کر واپسی ہو ہی گئی :) ۔
ویسے یہ بھی اچھا ہے کہ کچھ الرجیز میں چھینکیں نہیں آتیں۔ ورنہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کے کبھی نہ پورے ہونے والے بلند و بانگ دعوؤں سے الرجک ہماری پوری قوم دن رات باجماعت چھینک رہی ہوتی :ohh

مکمل تحریر  »

Monday, 20 July 2009

انشاء جی اُٹھو!

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو

اسد امانت علی پی ٹی وی پروگرام نکھار میں استاد امانت علی خان کی وفات کے بعد 'انشاء جی اٹھو' گاتے ہوئے۔ :-( :cry:



انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

ابنِ انشاء


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابنِ انشاء کی وفات پر قتیل شفائی نے ایک غزل 'یہ کس نے کہا تُم کُوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی' لکھی تھی۔ جسے سلمان علوی نے گایا ہے۔









یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی

:cry: :cry:

مکمل تحریر  »

Saturday, 27 June 2009

شیشہ حقہ

برطانیہ میں کسی بھی پبلک پوائنٹ پر سگریٹ پینے کی ممانعت ہے۔ چنانچہ ایسے مقامات پر سگریٹ نوشی کے لئے مخصوص شیڈز بنا دیئے جاتے ہیں جہاں آپ کو لوگ اجتماعی سگریٹ نوشی کرتے ملتے ہیں۔ جو کہ کافی دلچسپ منظر ہوتا ہے :daydream ۔ گھروں میں بھی عموماؐ لوگ محتاط ہی رہتے ہیں۔ ہمارے ایک جاننے والوں کے گھر پاکستان سے ایک انکل آئے۔اکثر شام کو اپنے گھر کے باہر کھڑے سگریٹ پیتے دکھائی دیتے تھے کیونکہ گھر والوں نے انہیں گھر کے اندر سگریٹ پینے کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن ہم بھی پاکستانی ہیں ناں تو جہاں تو “قانون” کی اصل والی حکمرانی دکھائی دیتی ہے ہم سے زیادہ بیبا بندہ کوئی نہیں اور جہاں پاکستان کی حدود شروع نہیں ہوئیں سب کچھ بھول گئے۔ اس بار پاکستان آتے ہوئے یہی کچھ ہوا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ابھی سب لوگ سامان کے انتظار میں کھڑے تھے کہ ہر طرف “شام ہے دھواں دھواں” کا سماں پیدا ہو گیا جو کہ اسی فلائٹ سے آنے والے چند انکلز اور بھائیوں کی مہربانی تھی۔ جنہوں نے ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کا بھی انتظار نہیں کیا :-s ۔   


26 جون کو عالمی یومِ انسدادِ منشیات منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے منشیات کی روک تھام اور سدِ باب کے لئےان گنت پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے۔ ہیروئن کلچر تو ایک عرصہ پہلے ہی ہمارے ایک عظیم سربراہِ مملکت کی مہربانی سے پاکستان میں قدم جما چکا تھا۔ مزید ترقی یہ ہوئی کہ اب سرنج کے ذریعے منشیات لینے کا طریقہ عام ہو گیا ہے جو ایڈز جیسی مہلک بیماری کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔


پچھلےسال اسی دن ایک پاکستانی چینل پر پاکستان میں منشیات کے بارے میں ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اسی پروگرام میں دیگر منشیات کے علاوہ پہلی بار ‘شیشہ’ کے متعلق بھی سنا کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں شیشہ کے نشے کا رحجان بہت بڑھ گیا ہے۔ انہی دنوں کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر ایک پاکستانی ٹین ایجر کے پروفائل میں بھی شیشہ حقہ کا بطور پسندیدہ مشغلہ ذکر  پڑھا۔ اور یوں میری تحقیق کا آغاز ہوا۔  آج ایک سال بعد یہاں لکھنے کا موقع مل ہی گیا۔


شیشہ ذائقہ دار تمباکو کا نام ہے جو حقے کے ذریعے پیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن شیشہ حقہ کی روایت اب تقریبا دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔  عموما اسے اتنا نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا لیکن تحقیق  بتاتی ہے کہ شیشہ سگریٹ سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے۔ French anti-tobacco agency (OFT)  کے مطابق شیشہ سگریٹ سے کئی  گنا زیادہ کاربن مونو آکسائیڈ اور ٹار پیدا کرتا ہے۔ سگریٹ ہی کی طرح پینے والے کے علاہ اسی ماحول میں موجود دوسرے لوگ بھی اس آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔



تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں بھی شیشہ کلچر بطور فیشن پھیل رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر مجھے مصر میں شیشہ کے بارے میں ایک مضمون پڑھنے کو ملا جس میں یہ لکھا تھا کہ نوجوان ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی شیشہ کا نشہ کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے بارے میں ایسا ہی کچھ معلوم ہوا کہ شیشہ پینا پاکستانی نوجوانوں میں کس قدر فروغ پا رہا ہے۔ جس طرح نوجوان نسل میں موبائل فون سٹیٹس سمبل ہے اسی طرح چھوٹا موٹا نشہ کرنا بھی Cool :kool ہونے کی نشانی ہے۔ ایک آرٹیکل اسلام آباد میں جناح سپر، میلوڈی اور ایف ٹین جیسی مارکیٹوں میں شیشہ کی کھلم کھلا فروخت کے بارے میں ملا۔ کراچی کی ایک کافی شاپ کے مینجر کے مطابق  جب سے انہوں نے کافی شاپ کے مینو میں شیشہ کا اضافہ کیا ہے، ان کا بزنس سو فیصد منافع میں جا رہا ہے :huh ۔ شاباش دینے کو دل چاہتا ہے۔ اپنی قوم کو بھی اور اپنے اربابِ اختیار کو بھی جن کے سامنے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور کوئی روک تھام نہیں۔ یعنی اگر ٹین ایجرز کے سگریٹ خریدنے پر پابندی ہے تو شیشہ بھی تو تمباکو ہے۔ اس پر کوئی پابندی کیوں نہیں؟شاید ہماری وزارتِ صحت کی ذمہ داری  صرف منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک آدھ بیان جاری کر دینے تک محدود ہے۔ اور والدین کی لاپرواہی اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ 


  نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور معاشرے کا انتہائی vulnerable طبقہ بھی۔ جو قومیں اس سرمایے کی حفاظت کا خاطرخواہ بندوبست نہیں کرتیں انہیں روشن مستقبل کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئیے۔








:-(

مکمل تحریر  »

Monday, 22 June 2009

ہم کسی سے کم نہیں!

زندہ باد پاکستان!!! :pak











اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو


فریحہ پرویز، شفقت امانت علی خان



اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو


جانا ہے ہمیں وقت کی رفتار سے آگے
سورج کی کرن ہم سے نہ پہلے کبھی جاگے
قُوت کے اخُوت کے جو مضبوط ہوں دھاگے
ٹوٹے نہ کبھی عزم نہ ہمت کبھی کم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

ہر ہاتھ میں اک شمع ہو اور لَو نہ ہو مدھم
دن رات سفر جاری و ساری رہے پیہم
ہرفرد کو ہو ذات سے یہ ملک مقدم
مٹی جو کبھی مانگے دل و جاں تو بہم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم کہ جس میں کہ دم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو


ہر اہلِ وطن چاہے وہ دنیا میں کہیں ہو
ملت کی وہ عزت کا، حمیت کا امیں ہو
اللہ پہ، نبی پہ اُسے ایمان و یقیں ہو
اِس مُلکِ خُدادا پہ مولا کا کرم ہو
اے میرے وطن، اے میرے وطن!
اے پاک چمن، اے پاک چمن!

اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو
اے میرے وطن تیز قدم تیز قدم ہو
پھر تجھ سے ملائے وہ قدم جس میں کہ دَم ہو

کلام: ریاض الرحمٰن ساغر


مکمل تحریر  »

Tuesday, 16 June 2009

ناسٹلجیا!!

یادش بخیر۔ اس ویڈیو نے کتنے ہی نام یاد کرا دیئے۔

سنگ سنگ چلیں، سہیل رانا، آنگن آنگن تارے، خلیل احمد :)

یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے



یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہماری آن اور ہماری عزت ہے اس کا پرچم
ہماری شان اور ہماری شوکت ہے اس کا پرچم
جبیں پہ اس کے یہ چاند تارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

اسے سجا کر ہم اپنی قسمت سنوار دیں گے
دمکتی کرنوں سے اس چمن کو نکھار دیں گے
یہ روشنی کا حسیں مینارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

ہم اپنی محنت سے اس کو رنگِ بہار دیں گے
جو وقت آیا تو اپنی جانیں بھی وار دیں گے
یہاں کا ہر پُھول، ہر شرارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہ پاک و روشن وطن ہمارا، ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے
یہاں کا ہر رنگ، ہر نظارہ ہماری جاں ہے، ہماری جاں ہے

کلام: سیما سحر
گلوکار: نیرہ نور اور بچے
موسیقی: خلیل احمد

مکمل تحریر  »

Monday, 15 June 2009

کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

تلاشِ گُم شُدگاں میں نکل چلوں لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

رئیس فروغ

مکمل تحریر  »

Thursday, 11 June 2009

سہولت اور ضرورت!

آپ جو کوئی بھی ہو پلیز میرے اِس نمبر پر 20 روپے بھیجیں۔ میں ہسپتال میں مصیبت میں ہوں۔ پلیز تم کو اللہ اور رسُول کا واسطہ میرا یقین کرو۔ پلیز 25 روپے پلیز۔
:what :what
میں کسی مشکل میں نہیں ۔ الحمداللہ :) بلکہ پچھلے دنوں جب میں پاکستان میں تھی تو ایک دن ایک انجان نمبر سے یہ پیغام موصول ہوا۔ ظاہر ہے میں حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی کہ لوگ کس طرح دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اگر اس بندے نے دس لوگوں کو بھی یہ پیغام بھیجا ہو اور ان میں سے صرف دو لوگ ہی جواباً اس کو کریڈٹ بھجواتے ہیں تو ان حضرت کے تو مزے ہو گئے ناں :confused ۔ یقیناً ایسےدرد مند بھی ہوتے ہوں گے جو ایسے ٹیکسٹ کو سچ سمجھ لیتے ہوں۔ میں اس صف میں اس لئے شامل نہیں ہو سکی کہ ایک تو مجھے اس سے ملتی جُلتی ای میلز کا تجربہ تھا اور دوسرا مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کریڈٹ ٹرانسفر کیسے کرتے ہیں :shy: ۔ بلکہ ابھی بھی نہیں معلوم :hmm: ۔ یہ موبائل کریڈٹ ٹرانسفر کرنے والی ترقی شاید پچھلے کچھ سالوں میں ہوئی ہے۔ تیسرا یہ کہ یہ کہ بھیجنے والے نے شروع میں 20 روپے لکھا اور آخر میں اس کو 25 کر دیا۔ اب جب موصوف یا موصوفہ کو خود ہی نہیں معلوم کہ ان کو کتنی رقم کی ضرورت ہے تو مدد کیا کی جائے :D بہرحال میں نے اس بات کا ذکر گھر میں کیا تو میری کزن کہنے لگیں کہ یہ بہت عام رویہ ہے۔ لوگ بہت زیادہ ایسے ٹیکسٹ بھیجتے ہیں رینڈم نمبرز پر اور کئی سادہ لوح خصوصاً گھریلو خواتین اس بات کو سچ سمجھتے ہوئے فوراً مدد کو تیار ہو جاتے ہیں۔ :-s
پاکستان میں موبائل فونز کا جیسے سیلاب آ گیا ہے۔ اب اس کا استعمال کیسے کیے جاتا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں۔ آپ بازار چلے جائیں لوگ بازار سے گزر رہے ہیں اور موبائل فون ان کے ہاتھ میں ہے۔ دکانوں میں بیٹھے ہیں تو فون ان کے پاس ہے۔ بظاہر یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بازار سے گزرنے والی یا دکانوں پر آنے والی خواتین کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور موبائل فون کیمرہ سے ان کی تصویر اتار لی جاتی ہے اور پھر ملٹی میڈیا میسجنگ زندہ باد۔ لمحوں میں یہ تصویریں کہاں سے کہاں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ تو بات ہوئی صارفین کی۔ موبائل کمپنیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ تین ماہ سے زائد عرصہء قیام میں بلا مبالغہ ہر روز کم از کم تین چار ٹیکسٹ میسج مجھے اپنی موبائل فون کمپنی کی طرف سے موصول ہوتے تھے۔ کسی خاص موقع مثلاً ویلنٹائن ڈے پر یہ تعداد بڑھ بھی جاتی ہے۔ روزانہ ملنے والے پیغامات میں کبھی اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو نئے گانے بھیجنے کی ہدایت ہوتی ہے۔ جیسے اگر آپ نے گانا نہ بھیجا تو معلوم نہیں کیا نقصان ہو جائے گا۔ :ohh ویسے اسی بہانے مجھے نئی ہندی فلموں کے نام اور ہٹ گانوں کا تو معلوم ہوتا رہا۔ جنرل نالج میں ٹھیک ٹھاک اضافہ ہوا :daydream ۔ ایسے ہی کبھی love meter کے ذریعے دو لوگوں کے بیچ compatibilty چیک کرنے کو کہا جاتا ہے تو کبھی فون فرینڈشپ کی ترغیب۔ اور یہ ساری باتیں مجھے یہی سوچنے پر مجبور کرتی رہیں کہ کیا ہمارے ہاں کاروباری اخلاقیات بھی کوئی وجود رکھتی ہیں؟ بزنس میں ترقی کے لئے ایسے طریقے استعمال کرنا جس کا براہِ راست اثر افراد کے اخلاق و کردار پر پڑتا ہے کس حد تک درست ہے؟ میرا اندازہ ہے کہ موبائل فون صارفین میں اکثریت نوجوان نسل کی ہے خصوصاً ٹین ایجرز۔ جن کے لئے کسی بات کے مفید یا مُضر ہونے کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ان کے ذہنوں کو ایسی غیر مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ کر دیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا۔ کچھ حیرت کی بات نہیں کہ آج کل بچے تعلیم اور دیگر صحتمندانہ سرگرمیوں کو چھوڑ کر الٹے سیدھے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ اور سب سے اہم یہ کہ موبائل نیٹ ورک بغیر صارف کی اجازت یا سبسکرپشن کے اسے وقت بے وقت فضول قسم کے ٹیکسٹ کیسے بھیج سکتا ہے؟ :qstn لیکن ظاہر ہے یہ 'ہمارا' پاکستان ہے۔ ہم جب ، جہاں اور جیسے بھی جو چاہے مرضی کر سکتے ہیں :quiet:
موبائل فون رابطے کو بہت آسان بنا دیتا ہے یہ اس کا فائدہ ہے۔ لیکن مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ الٹے سیدھے کاموں میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمیں سہولت اور ضرورت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم نے ایک سہولت کو ضرورت بنا لیا ہے اور پھر اسے منفی انداز میں استعمال کرنا بھی ہمارا ہی خاصہ ہے۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 2 June 2009

میں نعرہء مستانہ: عابدہ پروین

میں نعرہء مستانہ: عابدہ پروین
کلام: واصف علی واصف






ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

تجھے آدم نہیں ملتا، خدا کی جستجو کیسی: اسد امانت علی
کلام: ؟؟؟




جہاں بینی کرامت ہے ہماری ، ہم قلندر ہیں
نگاہ ہم سے طلب کر ، کیمیا کی جستجو کیسی

مکمل تحریر  »

Sunday, 31 May 2009

کیا پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑ دینا چاہئیے؟

غالباً جیو پاکستان پر ایک پروگرام آتا ہے 'عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا؟'۔ میں نے پورا پروگرام تو کبھی نہیں دیکھا لیکن ایک دن یونہی چلتے پھرتے ایک دو جھلکیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ عالیہ پاکستان چھوڑ کر لندن پہنچ چکی ہیں۔ کیونکہ ایک سین میں وہ بس میں بیٹھی لندن کی سڑکوں سے گزر رہی تھیں۔ اور ایک اور سین میں ایک پاکستانی طالبِ علم سے بات ہو رہی تھی جن کے پاس دلائل کا ایک انبار تھا کہ پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہئیے۔ ظاہر ہے اگر میں وہاں ہوتی تو میری تو ان بھائی صاحب سے ٹھیک ٹھاک قسم کی بحث ہو جاتی۔ :dont
آپ تعلیم، روزگار یا زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے کہیں بھی جا سکتے ہیں جہاں آپ کو بہتر وسائل میسر ہوں لیکن اگر اس کی قیمت اپنے ہی گھر کو بُرا بھلا کہنا ہے تو اللہ معاف رکھے ایسی ترقی سے۔ حقائق بیان کرنا اور بات ہے لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہماری نظر ہمیشہ منفی پہلوؤں پر ہی کیوں ہوتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات اگر آپ صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے تو آپ کو اس بارے میں تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔
عالیہ نے پاکستان چھوڑ دیا ہے یا ابھی فیصلہ نہیں کیا، یہ تو عالیہ جانے یا جیو والے جانیں۔ یہاں ایک اور پاکستانی کی بات کرنا ہے۔ جو پاکستان واپس جانا چاہتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اسے روک رہے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ پاکستان اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں زندگی اتنی مشکل ہے اور عقلمندی کا تقاضا کیا ہے، پاکستان سے باہر رہنا یا وطن لوٹنا؟

مکمل تحریر  »

Wednesday, 27 May 2009

سفر در سفر

پچھلے ہفتے پہلی بار آزاد کشمیر جانا ہوا۔ سفر اتنا طویل نہیں تھا لیکن شدید گرمی اور جی ٹی روڈ سے ہٹ کر کسی سڑک پر سفر کرنے کا تصور پہلے ہی تھکن کا احساس دلا رہا تھا۔ بہرحال پانی، کھانے پینے وغیرہ کا ٹھیک ٹھاک بندوبست کیا اور راونہ ہوئے۔ یہ اور بات ہے کہ چھوٹی سڑک جی ٹی روڈ سے بھی زیادہ اچھی حالت میں تھی چنانچہ سفر آرام اور خیریت سے گزر گیا۔ میزبانوں نے اس قدر مہمان نوازی کی کہ مجھے یہ کہنا چاہئیے کہ یہ میری زندگی کی یادگار مہمان نوازیوں میں سے ایک تھی۔ واپسی پر بھی سفر مزے میں گزرا۔ اگرچہ تھکن نہ ہونے کے برابر تھی پھر بھی اپنے گھر کے راستے پر پہنچتے ہہی سکون اور اطمینان کی لہر دل میں دوڑ گئی۔ گھر والوں نے بھی یوں استقبال کیا جیسے ہم لوگ کوئی دشوار گزار راستہ طے کر کے آئے ہیں لہٰذا خوب خاطریں کرائیں اور اگلا پورا دن آرام کرنے میں گزرا۔ ویسے سفر اس لحاظ سے بھی اچھا تھا کہ چھمب جوڑیاں اور افتخار آباد، جہاں 1971ء میں جنرل افتخار کا طیارہ گرا تھا، کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ :)
یہ تو تھی میرے سفر کی داستان۔ اور ایک سفر وہ بھی ہے جو اپنے ہی ملک میں ہجرت پر مجبور اہلیانِ سوات کر رہے ہیں۔ جنہیں سفر پر نکلنے سے پہلے نہ تو اس کی طوالت کا اندازہ ہے اور نہ منزل و عارضی پڑاؤ کی خبر۔ زادِ راہ ساتھ رکھنا تو کجا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ واپسی کب ہوگی یا ہو گی بھی کہ نہیں۔ جو حکومت کے مہمان ہیں لیکن ان کے میزبانوں خود تو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے ہیں اور مہمانوں کو شدید گرمی میں بٹھا چھوڑا ہے۔ اور جن کے ایسے ہموطن بھی ہیں جو مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی مدد کرنے کے بجائے اپنے دروازے ان پر بند کر دیتے ہیں۔ اگر ہمارا اپنا یہ حال ہے تو غیروں سے کیا امید رکھنی :quiet:



http://www.daylife.com/photo/043Hdw6aPb4Bz

اور ان مسافروں کی تھکن کا اندازہ کون کر سکتا ہے جو سفر پر نکلنے سے قبل یہ بھی جانتے ہوں کہ جب وہ واپس لوٹیں گے تو ان کے گھرکھنڈرات میں بدل چکے ہوں گے۔ :cry:

مکمل تحریر  »

Wednesday, 20 May 2009

ٹیگ دو دو چار

بہت دن پہلے عمار نے ٹیگ دو اور دو کے سلسلے میں مجھے بھی ٹیگ کیا تھا جس کا مجھ بے خبر کو ایک عرصے تک علم نہیں ہوا :quiet: پھر شگفتہ نے بھی پوسٹ لکھی۔ اس کے بعد کچھ مصروفیت اور کسی حد تک موجودہ حالات کی وجہ سے کچھ بھی لکھنے کا موڈ نہیں ہوا۔ آج ایک پسندیدہ فلم دوبارہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو یہ ٹیگ پوسٹ پھر سے یاد آ گئی۔
مجھے چونکہ دو اور دو چار کرنا نہیں آتا :angelic اس لئے کچھ سوالات میں چار کا ہندسہ نہیں ملے گا۔ :smile

چار جگہیں جہاں میں بار بار جاتی ہوں
یونیورسٹی
لائبریری
سپر مارکیٹ
کچن

چار لوگ جن سے باقاعدہ ملتی ہوں، گھر والوں کے علاوہ
لائبریرین
دوسری لائبریرین :D
ماموں اور ان کی فیملی
دو سہیلیاں (ان کو ایک اس لئے شمار کیا ہے کہ دونوں عموماً اکٹھی پائی جاتی ہیں) :D

کھانے کی پسندیدہ چار جگہیں
لگتا ہے یہ ٹیگ سلسلہ شروع کرنے والے ضرور لاہور سے تعلق رکھتے ہیں تبھی تو ایک نہ دو اکھٹی چار جگہیں پوچھ لی ہیں۔ :smile
گھر میں کچن اور ٹی وی لاؤنج
گھر سے باہر کھانے کا کچھ ایسا شوق نہیں لیکن اگر جانا ہو تو کوئی بھی 'فش اینڈ چپس' پوائنٹ
جب ہم لاہور میں تھے تو چمن آئس کریم جانا اچھا لگتا تھا۔

چار جگہیں جہاں میں ہونا چاہوں
پاکستان اپنے گھر میں
لائبریری میں
کینیڈا نیاگرا فال کے کنارے

چار پسندیدہ ٹی وی پروگرام
ٹیلی ویژن تو میں بہت دیکھتی ہوں۔ اور پسندیدہ پروگرامز کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ لیکن چار لکھنے ہیں تو:

 Live with Talat

Dispatches

Monk

Dad's Army

Numbers

 

چار فلمیں جو بار بار دیکھنا چاہوں
فلمیں تو کم کم دیکھتی ہوں اور بار بار کا مطلب اگر دو بار سے زیادہ ہے تو ایسی فلموں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ بہرحال:

A Beautiful Mind
نوبل انعام یافتہ ریاضی دان 'جان نیش' کی زندگی پر مبنی یہ فلم میری گنی چُنی پسندیدہ فلموں میں شامل ہے جس کو میں چار، پانچ یا چھ مرتبہ بھی دیکھ لوں۔ :) ۔ خصوصاً اس کا آخری حصہ، جب جان نیش کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سب اپنے اپنے قلم ان کی میز پر رکھتے ہیں اور تقریب میں جان نیش کی تقریر۔ پھر نیش کو چارلس، مارسی اور پارچر کا دکھائی دینا۔

2.The Terminal

The Princess Diaries

Pirates of the Caribbean: The Legend of Jack Sparrow

یقیناً یہ ٹیگ کھیل ختم ہو چکا ہو گا اب تک ۔ میں کس کو ٹیگ کروں۔ زین بھی لکھ چکے شاید :quiet:
تانیہ رحمان نے اگر ابھی تک کچھ نہیں لکھا اس بارے میں تو اب اوور ٹو یو تانیہ :smile

مکمل تحریر  »

Friday, 1 May 2009

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک!!!



ان  جفاکش ہاتھوں کے نام جن کی سلامتی مجھ سمیت بہت سوں کی تن آسانی کی ضمانت ہے۔

اور سب سے بڑھ کر ہماری کپڑے دھونے والی ماسی کے نام جن کی علالت کے سبب آج مجھے احساس ہوا کہ 'کر کے کھانی بڑی اوکھی اے' :blush: :uff



شورشِ بربط و نَے

دوسری آواز

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہے جب تک
اس دل میں صداقت ہے جب تک، اس نطق میں طاقت ہے جب تک
ان طوقِ سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نَے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبلِ قیصر و کَے
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھر پور خزینہ ہمت کا
اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، اِمروز ہے اپنا ہر فردا
یہ شام و سحر یہ شمس و قمر، یہ اختر و کوکب اپنے ہیں
یہ لوح قلم، یہ طبل و علم، یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

کلام: فیض احمد فیض
گلوکارہ: نیرہ نور

مکمل تحریر  »

Tuesday, 14 April 2009

حیراں ہوں!!!

مختار مسعود اپنی کتاب "سفر نصیب" میں لکھتے ہیں۔

'غلامی کی بہت سی قسمیں اور طرح طرح کی شکلیں ہُوا کرتی ہیں۔ گمراہی غلامی کی بدترین صورت ہے۔ اگر آزاد ہونے کے بعد بھی صحیح راستہ کا پتہ نہ چلے اور اگر چلے لیکن اس پر چلنے کی ہمت نہ ہو تو یہ صورت غلامی سے بدرجہا بد تر ہوتی ہے۔"

میں تو خود کو ایک آزاد قوم کا آزاد فرد سمجھتی رہی :-s ۔ معلوم نہیں میں اور میری قوم صحیح معنوں میں آزاد ہیں یا نہیں؟ اگر ہاں تو ہمیں آزادی کی چھ دہائیوں کے بعد بھی اپنا راستہ دُھندلا کیوں دکھائی دیتا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے پیروں میں چھالے اور چہروں پر تھکن کیوں ہے؟ اگر نہیں تو میں ہر سال 14 اگست کو کس آزادی کی خوشیاں مناتی ہوں :cry:

مکمل تحریر  »

Friday, 27 March 2009

اے کاش!

خیبر: مسجد میں خودکش حملہ، درجنوں ہلاک



دے کے جان آج میں سرخرو ہو جاؤں گا
اور رب کے لاڈلوں کے دُوبدُو ہو جاؤں گا
میرے رب تیرے حکم پہ جان جو نہ دے سکا
تیرے آگے حشر میں بے آبُرو ہو جاؤں گا
ہے زمیں اللہ کی اور غیر اللہ کا حکم
مانتا ہے جو بھی اس کو، اُس کا سر کر دو قلم
قتل کر دو مار ڈالو ایسے ہر انسان کو
جو گوارہ کرتا ہے ُروئے زمیں پہ یہ ستم
تیرا نا فرمان ہر بندہ فنا ہو جائے گا
کچھ ہی پَل میں اس جگہ محشر بپا ہو جائے گا
میری جاں تیرے لئے ہے مالکِ کون و مکاں
کرتا ہوں تیرے حوالے، آگے دیکھا جائے گا

یا خُدا! اس بچے کے ہاتھوں میں تو قُرآن ہے
اِس کو بھی میں ختم کر دوں کیا یہی فرمان(؟) ہے؟
ایک بیکس آدمی روزی کماتا ہے یہاں
ہے سجا رکھا جبیں پہ تیری طاعت کا نشاں
بچے اِس عورت کے جب نہ اپنی ماں کو پائیں گے
نالے اِن کے قلب کے سات آسماں دہلائیں گے
چوک میں اخبار تھامے لڑکا اک نم دیدہے
شاید اپنے گھر کی یہ اِک آخری امید ہے
خون اور بارُرود کی بدبُو بسی ہو گی یہاں
بھاگتے پھرتے ملیں گے زخمی ہی زخمی یہاں
اس طرف بازو کسی کا، اُس طرف بے سر پڑا
کر سکے گا ٹکڑے پیاروں کے یہاں کوئی بھلا؟
کتنے گھر تاراج ہوں گے کتنے دل پھٹ جائیں گے
راستے اپنے ہی گھر کے لاشوں سے پَٹ جائیں گے
دیکھ کر بیٹے کی میت کس طرح تڑپے گی ماں
عرش کو دہلائے گی اک باپ کی آہ و فغإں
بیویاں دیں گی دہائی اپنے کھوئے تاج کی
کیا یہی تصویر ہے یا رب! ہمارے آج کی؟
ان دھماکوں سے بموں سے ہم بھلا کیا پائیں گے؟
اپنے ہی لوگوں کو کب تک خُون میں نہلائیں گے؟
عرش کی منزل کو جب یہ ساتھ میرے جائیں گے
کیا کروں گا کلمہ لے کر جو کھڑے ہو جائیں گے؟
کیا کروں گا کلمہ لے کر جو کھڑے ہو جائیں گے؟

مکمل تحریر  »

Monday, 16 March 2009

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!











اور


ثابت ہوا کہ جہدِ مسلسل اور تبدیلی لازم و ملزوم ہیں۔
ثابت ہوا کہ عوامی طاقت کے آگے کوئی بند نہیں باندھا جا سکتا۔
اور ثابت ہوا کہ پاکستانی قوم ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوئی ہے۔

مکمل تحریر  »

Friday, 13 March 2009

وہی ہُوا ناں!



تصویر دیکھ کر ذہن میں بہت سے خیالات آ رہے ہیں لیکن ابھی اہم بات یہ ہے کہ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پہلی تصویر ہے جس میں زرداری انکل اپنی 'مخصوص مسکراہٹ' کے بغیر نظر آ رہے ہیں :quiet: :D ۔معلوم نہیں کیوں :hmm:

مکمل تحریر  »

Wednesday, 11 March 2009

ہادیٔ دو جہاں ہو سلام آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) پر



بہشتِ بریں کے کُھلے باب سارے ، فلک سے ملائک سلامی کو اُترے
ہوئی سرورِ انبیاء کی ولادت، زمین جگمگائی، فلک جگمگایا
(حفیظ تائب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو فلسفیوں سے کُھل نہ سکا، جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اِک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں
(ظفر علی خان)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالک ہے جو کہ جادۂ عشقِ رسول میں
جنت کی راہ اس کے لئے ہے کُھلی ہوئی
(ابوالکلام آزاد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چمکا ہے تری ذات سے انساں کا مقدر
تُو خاتمِ دوراں کا رخشندہ نگیں ہے
(صُوفی غلام مصطفیٰ تبسم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب ٹوٹتی ہیں
نُور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
(احمد ندیم قاسمی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ان کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہو جائے
جب ان کا نام آئے مرحبا صلِ علیٰ کہیے
(ماہر القادری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ جس نے آدمی کو آدمی کا مرتبہ بخشا
ازل سے تا اَبد امجد درُود اُس پر، سلام اُس پر
(امجد اسلام امجد)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

12 ربیع الاوّل 1430 ھ

مکمل تحریر  »

Sunday, 8 March 2009

وفاقی کابینہ کے نام۔ (وزیر کا فرمان از شوکت تھانوی)

وزیر کا فرمان

لوگوں مجھے سلام کرو، میں وزیر ہوں
گردن کے ساتھ خود بھی جھکو، میں وزیر ہوں

گردن میں ہار ڈال دو میں جُھک سکوں اگر
نعرے بھی کچھ بلند کرو، میں وزیر ہوں

تم ہاتھوں ہاتھ لو مجھے دورہ پر آؤں جب
موٹر کے ساتھ ساتھ چلو، میں وزیر ہوں

لکھے ہیں شاعروں نےقصائد مرے لیے
ایک آدھ نظم تم بھی کہو، میں وزیر ہوں

جو مجھ سے کہنے آؤ خبردار مت کہو
جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سنو، میں وزیر ہوں

معذور ہوں میں اپنی وزارت سے بے طرح
تم طرحدار مجھ کو کہو، میں وزیر ہوں

بے شک ہے برہمی سے مری گفتگو کے بیچ
لیکن ادب سے بات سنو، میں وزیر ہوں

میں وہ نہیں کہ یوسفِ بے کارواں پھروں
میرا جلوس لے کے چلو، میں وزیر ہوں

اخبار والو سوچ سمجھ کر کرو سوال
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو، میں وزیر ہوں

مجھ سے قرابتوں کو بس اب بُھول جاؤ تم
اے میرے بھائی بند گدھو، میں وزیر ہوں

مجھ کو تو مل گئی ہے وزارت کی زندگی
مرتے ہو تم تو جاؤ مرو، میں وزیر ہوں

شوکت تھانوی

:daydream

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مظہر العجائب

رونے کی گرچہ بات ہے آتی ہنسی بھی ہے
بے محکمہ وزیر ہے اور مرکزی بھی ہے
:hmm:

از انور مسعود

مکمل تحریر  »

Monday, 2 March 2009

جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا۔ عابدہ پروین

عابدہ پروین اگر گلوکارہ نہ ہوتیں تو میرے پسندیدہ فنکاروں کی فہرست کتنی مختصر ہوتی :-(



جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا، مے بن جا، مےخانہ بن جا


مے بن کر، مےخانہ بن کر، مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر، ہستی سے بیگانہ بن جا

ہستی سے بیگانہ ہونا، مستی کا افسانہ بننا
اس ہونے سے، اس بننے سے، اچھا ہے دیوانہ بن جا

دیوانہ بن جانے سے بھی، دیوانہ ہونا اچھا ہے
دیوانہ ہونے سے اچھا، خاکِ درِ جاناناں بن جا

خاکِ درِ جاناناں کیا ہے، اہلِ دل کی آنکھ کا سُرمہ
شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا، نُورِ دلِ پروانہ بن جا

سیکھ ذہین کے دل سے جلنا، کاہے کو ہر شمع پہ جلنا
اپنی آگ میں خود جل جائے، تو ایسا پروانہ بن جا



کلام: حضرت ذہین شاہ تاجی

موسیقی: مظفر علی

البم: رقصِ بسمل

کاش کہیں سے مجھے صاحبِ کلام کی مزید شاعری بھی مل جائے پڑھنے کو۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 24 February 2009

ضعیف الاعتقادی

پاکستان میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے۔ جعلی عامل کبھی ڈبل شاہ اور کبھی خود ساختہ پیر کے روپ میں لوگوں کی دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر ان کو لُوٹتے ہیں اور پھر بھی معتبر رہتے ہیں۔ ان کے معتقدین میں عوام و خواص کی کچھ قید نہیں۔ کوئی اقتدار کے لالچ میں ان کی لاٹھیاں کھانے کو اپنے لئے مبارک تصور کرتا ہے    :daydream    تو کوئی غربت بیماری اور دیگر مصائب کے خاتمے کے لئے انہیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتا ہے   :cry:  ۔ نتیجتا آئے روز ایسے لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ اس ضعیف الاعتقادی کے زیرِ اثر لوگ اپنی عزت، جان، مال سب کچھ داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔ لیکن دیکھنے والے پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ لوگ اسی طرح بیوقوف بناتے بھی ہیں اور بنتے بھی ہیں۔ :-(

ہمارے پاکستان میں عمومإ  بڑی بوڑھیاں کسی کے گھر سے باہر جاتے ہوئے پیچھے سے آواز دینا بُرا شگون تصور کرتی ہیں۔ اسی طرح کالی بلی کے راستہ کاٹنے کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا   :hmm:  ۔ ویسے برطانیہ میں بھی کچھ مقامی لوگ کالی بلی کے بارے میں کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک اور مزے کا مشاہدہ ہوا۔ اکثر برطانوی آئینے کے گرنے کو کسی مصیبت کی پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔ :D

مجھے یاد ہے پاکستان میں جی ٹی روڈ پر سفر کرتے اکثر دیواروں پر ایسے اشتہارات لکھے دکھائی دیتے تھے۔ ’عامل نجومی۔۔۔۔۔‘ اور ساتھ ہی ان کی کرامات کی تفصیل بھی درج ہوتی تھی۔ اسی طرح اخبار میں خاص طور پر اتوار میگزین میں ایسے اشتہارات دیکھنے کو ملتے تھے۔ زیادہ حیرت یہ جان کر ہوئی کہ ماشاءاللہ برطانیہ میں بھی ایشیائی خصوصا پاکستانی کمیونٹی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جتنے دیسی چینلز ہیں وہاں اکثر اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں۔ “روحانی سکالر پروفیسر۔۔۔‘ آپ کے تمام مسائل کا حل وغیرہ وغیرہ۔ یا ’۔۔۔۔۔ بنگالی بابا‘۔ تھوڑے ہائی ٹیک لوگ ہیں تو موبائل نمبر کے ساتھ ساتھ ای میل پتہ بھی دیا جاتا ہے۔ سنا ہے کہ لوگ جوق در جوق ان کے “آستانوں” پر حاضری دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ چینلز پر کارڈز کے ذریعے قسمت اور مستقبل کا حال بتایا جاتا ہے۔ ایک پروگرام ہندو مت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کرتی ہیں اور ان کے پروگرام میں فون کرنے والوں میں ہمارے مسلم بہن بھائیوں کی بھی اچھی خاصی اکثریت ہے۔

میں سمجھتی تھی کہ یہ سب شاید برصغیر میں ہی میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن شاید توہم پرستی کسی نہ کسی حد تک انسانی فطرت میں شامل ہے۔ تبھی تو جہاں جائیں کوئی نہ کوئی مثال مل ہی جاتی ہے۔ فرق بس اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ معمولی درجے کے توہم پرست ہوتے ہیں اور کچھ اس رویے کو خود پر اتنا سوار کر لیتے ہیں کہ سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں۔ توہم پرستی کو کسی ایک مذہب یا خطے کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ کسی معاشرے میں غربت، نا انصافی اور جہالت جس قدر زیادہ ہو گی، اسی قدر ایسے رویے پروان چڑھتے ہیں۔ :-s

کچھ عرصہ پہلے  چینل4 پر Dispachtes سلسلے کا پروگرام Saving the witch children of Africa دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جو نائجیریا کی Akwa Ibom State میں عیسائی آبادی کی توہم پرستانہ رویے کی وجہ سے معصوم بچوں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں تھی۔ اس علاقے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ خاندان پر آنے والی کسی بھی ناگہانی مصیبت یا کسی کی اچانک موت کے ذمہ دار عموما اس خاندان کا سب سے چھوٹا بچہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں شیطانی روح حلول کر جاتی ہے اور ان کے مصائب کا باعث بنتی ہے۔ جس طرح ہمارے یہاں ’جن نکالنے‘ یا ’سایہ دُور کرنے کے لئے‘ جسمانی اور ذہنی تشدد کی انتہا کر دی جاتی ہے، بالکل ایسے ہی ان بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ اقرار کرانے کے لئے کہ وہ شیطان کے چیلے ہیں اور شیطانی اثر سے دور کرنے کے لئے ان بچوں کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ گھروں سے دور رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ایک بچی کو پہلے اس کی ماں نے جلا کر مارنے کی کوشش کی اور بعد میں اس پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور لڑکی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی گئی۔ :cry:

شیطانی اثرات دور کرنے کے عاملوں کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ ہمارے جعلی پیروں اور عاملوں کی طرح وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو لوگوں کی ضعیف الاعتقادی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور ان بچوں کو شیطان کے اثر سے آزاد کرانے کے لئے تگڑی رقوم بٹورتے ہیں۔ اسی پروگرام میں ایک خود ساختہ عامل The Bishop دکھایا گیا جو ان بچوں کے کانوں اور آنکھوں میں ایک محلول(جو کہ خالص الکوحل اور اس عامل کے اپنے خون کا مکسچر ہوتا تھا) ڈالتا تھا تاکہ وہ شیطانی آوازیں نہ سن سکیں اور نہ ہی بدروحوں کو دیکھ سکیں۔ اس کام کے لئے وہ رقم وصول کرتا تھا اور جن بچوں کے ورثاء رقم کا بند و بست نہ کر سکیں وہ ان کو اپنے پاس روک لیتا تھا تاوقتیکہ اس کو رقم کی ادائیگی نہ ہو جائے۔ اسی طرح اس نے 100 سے زیادہ بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا بھی اعتراف کیا۔

ڈرے سہمے زخمی بچوں کو دیکھنا اتنا تکلیف دہ تھا کہ میں نے یہ پروگرام ایک کے بجائے تین نشستوں میں دیکھا اور پھر بھی آخر تک نہیں دیکھ سکی۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ اس پروگرام کے بعد ایسے مظلوم بچوں کی دادرسی کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کئے گئے۔ اور کچھ عرصے بعد The Bishop صاحب گرفتار کر لئے گئے اور ان پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا :clap

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کچھ کیوں نہیں ہوتا۔ آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں لیکن وقتی طور پر چھوٹی موٹی کاروائی کر دی جاتی ہے اور ملزموں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام دیکھتے ہوئے مجھے وہ واقعہ یاد آ رہا تھا جب  ایک جعلی پیر نے ایک مریض کے منہ میں انگارے بھر دیئے تھے۔ تازہ ترین مثال میرپور خاص میں جعلی عامل کے ہاتھوں دو عورتوں کے قتل کی ہے۔ لیکن یہاں تو رات گئی بات گئی والا حساب ہے۔ :quiet:

مکمل تحریر  »

Sunday, 15 February 2009

ویلنٹائن ڈے اور ہمارے ذرائع ابلاغ

اگر ہمیں شدت پسند قوم کہا جاتا ہے تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے۔ ایک طرف اتنی تنگ نظری کہ درس گاہوں کو دھماکوں سے اڑا دینا اور دوسری طرف ایسی روشن خیالی کہ تہذیب کا دامن ہی ہاتھ سے چھوڑ بیٹھنا۔ تازہ ترین مثال ویلنٹائن ڈے کی ہے۔ شاید ہم لوگ اپنے قومی تہوار بھی اس قدر جوش و خروش سے نہ مناتے ہوں گے جیسے 14 فروری کا دن منایا جاتا ہے۔یہ وبا بھی پچھلے چند سالوں میں پھیلی ہے اور میڈیا کی مہربانی سے اس وقت پوری قوم مکمل طور پر اس بخار کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ قریبی رشتوں سے انسیت کا اظہار قابلِ اعتراض نہیں (حالانکہ دلوں کے تعلق کبھی بھی کسی مخصوص دن کے ،محتاج نہیں ہوتے) لیکن ہم لوگوں کی طرح اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔ کل صبح سے رات گئےتک ہر چینل پر ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا۔ بلکہ آج بھی یہی کچھ چل رہا ہے۔ خیر ٹی وی چینلز کے تو کیا کہنے۔ موبائل فون کمپنیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
Valentine's Day is just around the corner. Find out how good is ur match with ur loved-one via 'Love-Meter'
Send ur name on۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Send lovesongs to ur valentine
1. Pehla Nasha
2. Love Mera Hit Hit
3.Guzarish
4. Ek Din Teri Rahon
Send song-no his/her mobile number to۔۔۔۔۔

یہ ہے ذرائع ابلاغ کے کاروباری اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی ایک اور مثال۔ :hmm: مجھے یقین ہے ان ٹیکسٹ میسجز کی وجہ سے ایک بڑی اکثریت نے فضول میں اپنا کریڈٹ ضائع کیا ہو گا۔
حیران ہوں کہ ہم لوگ غیروں کی قابلِ تقلید مثالوں کو تو درخورِاعتنا نہیں سمجھتے جبکہ غیر ضروری روایات کو پوری شدت سے اپنانا ہمارے لئے باعثِ فخر کیوں ٹھہرتا ہے؟

مکمل تحریر  »

Saturday, 7 February 2009

ممی کا لیٹر

پیارے children!
تمہارا لیٹر ملا۔ تمہاری condition معلوم ہوئی کہ تم سب OK ہو۔ ہم سب بھی fine ہیں۔
تمہاری progress report بھی receive ہوئی۔ اور تم چاروں کے examination results دیکھے۔ بہت ہی ‌bad condition ہے۔ اردو تم چاروں کی بہت weak ہے۔ تمہیں اس subject میں کافی hard work کی ضرورت ہے۔ because یہ intermediate level تک compulsory کر دی گئی ہے۔ بہرحال تم کو اس کی طرف پھرپور attention دینی پڑے گی۔ اسی لئے میں تم لوگوں کو یہ letter اردو میں لکھ رہی ہوں تا کہ تم اپنی mother tongue سے in touch رہو۔
یہاں کافی cold ہے اسی لئے تمہارے ابو کو fever ہو گیا ہے۔ you know وہ کتنے careless ہیں۔ چار دن تک ان کا temperature کافی high رہا۔ کافی weak ہو گئے ہیں۔ عیادت کے لئے کافی guests آتے ہیں۔ that's why میں کافی tired ہو جاتی ہوں۔
یہ winter ہے۔ اس لئے چھوٹے brother کا خیال رکھنا۔ اُس کو warm شال میں wrap رکھنا کیونکہ وہ by nature کافی weak ہے اور بعض اوقات summer میں بھی cold catch کر لیتا ہے۔
تمہاری sister بہت sensitive ہے۔ میری separation برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر وہ restless محسوس کرے تو ڈاکٹر کو فوراً call کر لینا۔ I hope کہ تم یقینا میرا letter غور سے read کر رہے ہو گے۔
تمہاری بڑی sister ہنزہ valley آنے والی ہیں۔ ان کو remind کرا دینا کہ میرا beauty box ضرور لائیں۔ lip stick ان کو choose کر دینا کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ مجھے کون سی suit کرتی ہے۔ میرے پاس lipstick اب finish ہو چکی ہے اور اس کے بغیر میں بڑا uneasy محسوس کرتی ہوں۔
آج کل ہر morning اور evening بس bore ہی گزرتی ہے۔ کوئی entertainment ہی نہیں ہے۔ servants تین دن کی leave پر گئے ہوئے ہیں اس لئے whole work مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ early in the morning اٹھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ آج بھی پورے ساڑھے نو بجے bed چھوڑ دیا تھا۔
okay اب میں نے اتنا long letter لکھ دیا ہے کہ تم تھکن feel کر رہے ہو گے۔
سب کو میری طرف سے wish کر دینا۔
اور اپنی اردو پر attention دینا۔
فقط!
your ever loving mother


:smile


ہمارے گھر عالمگیرین میگزین آتا تھا۔ جس میں کچھ سال پہلے یہ خط آٹھویں جماعت کے ایک طالبعلم نے لکھا تھا۔ آج ایک پرانی ڈائری کے صفحات پلٹتے ہوئے نظر پڑی تو یہاں لکھ رہی ہوں۔ افسوس کہ میں نے یہ letter اپنے پاس copy کرتے ہوئے writer کا نام note نہیں کیا تھا۔ :blush: :D

مکمل تحریر  »

Thursday, 5 February 2009

نصیب اپنا اپنا

پاکستان میں 'اباؤں" کی کافی ورائٹی پائی جاتی ہے۔ جن میں سے چند قابلِ ذکر ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کر کے اپنے سینوں پر فخر کا تمغہ سجایا کرتے ہیں۔ دوسرے جو اپنے جرائم کی بدلے میں ونی کے نام پر بیٹیوں کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ بیٹیاں ہوتی کس لئے ہیں بھلا۔  :quiet: لیکن اب کچھ عرصے سے انتہائی مشفق قسم کے ابا بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جو انتہائی حساس عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بیٹی کی محبت میں مغلوب ہو کر امتحان میں اس کے نمبر بڑھواتے ہیں اور دوہ بھی جن کی بیٹی کی سالگرہ پر اسمبلی میں مبارکباد کی قرارداد منظور کی جاتی ہے۔ اب بھی اگر لوگ کہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟  :daydream
قصہ یہ ہے کہ مورخہ تین فروری 2009 کو آصفہ بھٹو زرداری کی سالگرہ کے موقع پر سندھ اسمبلی میں باقاعدہ قراداد منظور کی گئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے مبارکباد کی قرارداد ایوان میں پیش کی جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اور یوں جب جب سندھ اسمبلی کی کاروائی کی تاریخ پڑھی جائے گی۔ آصفہ بھٹو زرداری کا نام بھی جگمگاتا دکھائی دے گا۔ :cn ویسے پاکستانی عوام کو مبارکباد۔ لگتا ہے شہنشائیت کا دور آ گیا ہے پاکستان میں۔ Long Live the King کا نعرہ لگانے کے لئے تیار ہو جائیں۔
آصفہ کی آپی شازیہ مری کو چاہئیے کہ لگے ہاتھوں امریکی صدر براک اوبامہ کی بیٹیوں کو ایک ای میل ہی کر دیں کہ ان کا نام تو صرف ان کے ابا کی حلف برادری کی تقریب میں لیا گیا۔ پاکستانی صدر کی صاحبزادی کی سالگرہ تک بھی اسمبلی میں منائی جاتی ہے۔ تو کس کے اباجان زیادہ بااختیار ہوئے؟  :party

مشرف انکل یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ قوم سے پوچھیں کیا فرق محسوس کیا ہے عوام نے آمریت اور جمہوریت میں؟ آمر کی اماں جی کا ذکر امر ہوا سکول کی نصابی کتب میں تو منتخب صدر کی دختر کا نام محفوظ ہوا اسمبلی کی کاروائی میں۔ کُرسی پائندہ باد!!۔

جاتے جاتے ایک اور قسم یاد آئی۔ مجبور اباؤں کی قسم۔ جن کی بیٹیوں کے سر پر چھت نہیں ہوتی، ان کی درسگاہیں جلا دی جاتی ہیں، اور جو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے چکر میں  بیٹیوں کی سالگرہ کی تاریخ بھی بُھول جاتے ہیں۔ ان اباؤں کے پاس اپنی بیٹیوں کو قسمت پر صبر و شکر کا سبق دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ ہر بیٹی فرح حمید ڈوگر یا آصفہ تو نہیں ہو سکتی۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, 4 February 2009

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام!

ماضی
تعلیمی ادارے: بے غرض اکتسابِ علم
استاد: فرض شناسی ، بے غرضی ، استغنا، قربانی ، نظم، کردار سازی
طلباء: احترام، شوق، لگن ، اخلاق


حال
تعلیمی ادارے: منعفت بخش کاروبار
استاد: مادیت پرستی ، نفع پسندی، فکرِ معاش ، فرائض سے روگردانی
طلباء: بغاوت، روایت شکنی، بے لحاظی ، بے ادبی، علم سے بیزاری

ادارے سرکاری ہوں یا پرائیویٹ ، معلمی پیشہ و کاروبار بن گئی ہے اور تعلیم محض کاغذی ڈگریوں میں اضافے کا ذریعہ۔

مکمل تحریر  »

Saturday, 31 January 2009

اردو تھیمز

ارادہ تھا کہ چند  تھیمز مکمل کر کے ایک ہی بار پوسٹ کروں گی لیکن مصروفیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لئے فی الوقت تین  ہی پوسٹ کر رہی ہوں۔

تھیم ۱:

اصل تھیم۔ (clean-bright-10)

اردو ورژن:


بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-clean-bright-10

تھیم ۲:
وُڈ تھیم میں نے اپنے بلاگ پر لگایا ہوا ہے۔ جہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا تھا وہ سائٹ  ان دنوں زیرِ مرمت ہے۔ اس لئے اصل تھیم کا لنک نہیں  مل رہا۔

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


urdu-wood_theme

تھیم ۳:
اصل تھیم۔ (mysimplified-11)

اردو ورژن:

بڑی تصویر دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔

اس تھیم کو اردواتے ہوئے سپینش زبان سے بھی اچھی خاصی واقفیت ہو گئی :D

Urdu-mysimplified-11

تینوں تین کالمی ، ویجٹس ریڈی تھیمز ہیں۔ اردو پیڈ بھی  شامل ہے۔ ایک دو چھوٹے چھوٹے اضافے بھی کئے ہیں۔:)

فائر فاکس پر تو سب ٹھیک دکھائی دے رہا ہے۔ انٹر نیٹ ایکسپلورر کی میرے ساتھ کوئی پرانی دشمنی ہے۔ کلین برائٹ کی سائڈ بار گڑ بڑ کر رہی تھی۔ دوبارہ نہیں دیکھ سکی کیونکہ میں نے  اپنے کمپیوٹر سے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو جلا وطن کر دیا ہے کچھ دنوں کے لئے۔

غلطیاں بھی بہت ہوں گی شاید۔ اس کے لئے پیشگی معذرت۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میں کام کروں اور کوئی غلطی نہ ہو :blush: روایت پسندی بھی کوئی چیز ہے آخر۔ اس لئے میرے حق میں دعا کریں  :)

سب سے اہم بات تو رہ گئی۔ ماوراء کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ جنہوں نے بنیادی نکات بتائے۔ پھر جہانزیب کا بہت شکریہ۔ ان کے ٹیوٹوریلز نے ایک مشکل کام آسان کر دیا۔۔ اس کے علاوہ ساجد اقبال کے اردو ٹیکنالوجی بلاگ سے بھی بھرپور استعفادہ حاصل کیا۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ :)
دیگر قارئین سے کہنا ہے کہ اگر کوئی تھیم قابلِ استعمال لگے تو وہ تھیم آپ کا ہوا :)

مکمل تحریر  »

Monday, 26 January 2009

پھر یادوں کی ہوا چلی!

استاد امانت علی خان کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ ان کے مداحوں میں ایک بہت بڑی پنکھی کا اضافہ ہوا ہے :smile

پھر یادوں کی ہوا چلی، پھر شام ہوئی!



موسم بدلا رُت گدرائی! (ظہیر کاشمیری)

مکمل تحریر  »

Saturday, 24 January 2009

پی ٹی وی۔ چین و سکون

ایک کے بعد ایک چینل بدلتے دل سخت بیزار ہو رہا تھا۔ کہیں خون خرابے اور مایوسی سے بھرپور خبریں تو کہیں پریشان کن تجزیے اور رپورٹیں۔ :-( پھر یوں لگا جیسے شدید دھوپ اور شور شرابے سےنکل کر کسی سکون بھرے ماحول میں آ گئی ہوں کیونکہ میں پہنچ چکی تھی پی ٹی وی پر :party 10-15 منٹ کی چیدہ چیدہ خبریں وہ بھی زیادہ تر عزت مآب صدر اور محترم وزیرِ اعظم صاحبان کی معمول کی مصروفیات کے بارے میں اور پھر وہی سدا بہار گانے اور ڈرامے۔ دنیا میں کچھ بھی ہو جائے پی ٹی وی پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے :drowsy

مکمل تحریر  »

Wednesday, 21 January 2009

شک ، سازش اور ہم

' یہ جو ہمارے فلاں رشتہ دار ہیں۔ آج کل بڑے اچھے بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے تو شک ہے کہ ہو نہ ہو یہ ہم سے کوئی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔'
'تمہارے سسرال والے بہت سازشی لگتے ہیں۔ بچ کر رہنا۔' :D
' یہ جو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس میں 100 فیصد امریکہ کا ہاتھ ہے۔'
' مسلمانوں میں نا اتفاقی اور مذہب سے دوری اصل میں کسی صیہونی سازش کا نتیجہ ہیں'
روز مرہ زندگی میں اکثر ایسے جملے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ خاندانی ، ملکی اور عالمی ہر سطح پر ایکدوسرے کے خلاف سازشیں ہوتی بھی ہیں اور ہم ان کا نشانہ بھی بنتے ہیں لیکن جہاں اپنا قصور ہووہاں بھی الزام عموماً دوسروں کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ کئی بار تو یوں لگتا ہے جیسے شک اور سازش کا ذکر کئے بغیر ہماری زندگیاں نامکمل رہ جائیں گی۔ :hmm:
اگر ان دو الفاظ کے استعال پر پابندی لگا دی جائے تو قوم کا کیا بنے گا جہاں ہر دوسرے واقعے کے ڈانڈے کسی نہ کسی سازش سے ملانا ایک معمول بن چکا ہے۔
ہم لوگ جو وقت دوسروں پر شک کرنے میں لگاتے ہیں وہ تو فراغت میں ہی ضائع ہو جائے گا۔ :cry:
بیچارے ہمارے وزیرِ اعظم تو پھر میڈیا سے بات ہی نہیں کر سکیں گے کیونکہ ان کے پاس سوائے یہ کہنے کہ 'ہم اپنی حکومت کو کسی سازش کا نشانہ نہیں بننے دیں گے' ، اور کچھ ہوتا ہی نہیں۔ :D
محترم صدر اور ہماری عوامی پارٹی کا بی بی نامہ بھی کتنا مختصر ہو جائے گا۔ :daydream
ٹی وی چینلز پر اپنی ہر گفتگو میں امریکی اور صیہونی سازشوں کا حوالہ دہنے والوں کا کیا بنے گا۔ ;)
اور سب سے بڑھ کر میرے 11 سالہ کزن کا کیا ہو گا جو اپنے بہن بھائیوں یا کزنز کو آپس میں کھسر پھسر کرتے دیکھ کر فوراً بیان جاری کر دیتا ہے کہ یقیناً اس کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ :ainko

مکمل تحریر  »

Tuesday, 20 January 2009

مشکل!

زندگی میں سب سے مشکل کام زندگی سے محبت کرنا ہے۔
(لیو ٹالسٹائی)

مکمل تحریر  »

Wednesday, 14 January 2009

یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

Royal Military Academy Sandhurst (RMAS) برطانیہ کی ملٹری اکیڈمی ہے جہاں مقامی  فوجی افسروں کے علاوہ دنیا بھر سے تیس ممالک ہر سال اپنے بہترین افسروں کو ٹریننگ کے لئے بھیجتے ہیں۔ بہترین کارکردگی دکھانے پر    Queen's Medal ، Sword of Honour اور  Overseas Sword دیئے جاتے ہیں۔

اعزازی تلوار کورس کے بہترین افسر کو دی جاتی ہے۔ کوئین میڈل فوجی، عملی اور تعلیمی تینوں میدانوں میں بہترین کارگردگی دکھانے والے افسر کو ملتی ہے جبکہ اوور سیز سورڈ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی افسر کو دی جاتی ہے۔ Overseas Sword  کو پہلے Overseas Caneکہا جاتا تھا۔  یہ اعزاز حاصل کرنا کسی بھی کیڈٹ اور اس کے ملک کے لئے انتہائی فخر کی بات سمجھی جاتی ہے۔ پہلے دو انعام عموما برطانوی افسروں کو ہی دیے جاتے ہیں لیکن کبھی غیر ملکی افسر اپنی زبردست کارکردگی سے  انہیں بھی اپنے نام لگوا لیتے ہیں۔ پاکستانی کیڈٹس بھی اس ڈور میں کسی سےپیچھے نہیں ہیں۔ :smile

ماضی میں پاکستان آفیسرز  اکیڈمی میں بہترین کارکردگی دکھاتے چلے آئے ہیں۔ اور ان آفیسرز نے بعد میں پاکستان آرمی میں بھی خوب ترقی کی۔ چند نمایاں نام جنہوں نے Overseas Cane حاصل کیا:

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد ملک جنہوں نے Queen's Medal  بھی جیتا۔

جنرل آصف نواز جنجوعہ(مرحوم)  جو ۱۹۹۱۔ ۱۹۹۳ تک پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف رہے۔

اور جنرل علی قُلی خان (ریٹائرڈ) جنہوں نے پاک فوج میں بطور چیف آف جنرل سٹاف (۱۹۹۷۔۱۹۹۸) ، کمانڈر دس کور، راولپنڈی (۱۹۹۵ ) اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس (۱۹۹۳۔۹۵) خدمات سر انجام دیں۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ۱۹۶۲ میں اپنے کورس کے دوران اتوار کی پریڈ کو کمانڈ کیا اور اس موقع پر برٹش اکیڈمی میں  ’بلوچ رجمنٹ‘ کی دھن پر مارچ پاسٹ کیا گیا۔ :victry یہ وہی علی قُلی خان ہیں جنہیں سُپر سیڈ کر کے پرویز مشرف کو ۱۹۹۸ میں چیف آف آرمی سٹاف بنایا گیا تھا۔  :-( اس کے بعد جنرل علی قلی خان نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

اب بھی پاکستانی افسر اکیڈمی میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے مسلسل پاکستانی کیڈٹس اوور سیز سورڈ حاصل کر رہے ہیں۔ اپریل ۲۰۰۶ میں کیڈٹ احمد رضا خان نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ اپریل ۲۰۰۷ میں کیڈٹ عقبہ حدید ملک اور اپریل ۲۰۰۸ میں یہ اعزاز سید سیفی حسن نقوی کے حصے آیا۔

ان کیڈٹس نے صرف Overseas sword پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ:

احمد رضا خان  کو Defence & International Affairs, War Studies اور بہترین کارکردگی پر تین مزید میڈل دئیے گئے۔عقبہ حدید ملک کو بطور سمندر پار کیڈٹ ، بہترین کارکردگی پر  UAE Communication and Management Studies کا انعام بھی دیا گیا۔ اور سید سیفی حسن نقوی نے overseas cadet prizes for the best Journal, Defence and International Affairs, and War Studies بھی جیتے۔

احمد رضا اور برطانیہ کے پرنس ہیری نے ایک ہی سال ملٹری ٹریننگ مکمل کی۔ اور آج کی پوسٹ انہی کی وجہ سے لکھنا ممکن ہوئی۔  :D   شہزادہ ہنری چارلس (پرنس ہیری)  ، ملکہ برطانیہ کے دوسرے پوتے اور  اپنے ابا پرنس چارلس اور بھائی پرنس ولیم  کے بعد تیسرے نمبر پر تخت کے امیدوار ہیں۔ ہیری صاحب اکثر یہاں کے میڈیا خصوصا Tabloids  کو نت نئی کہانیاں بُننے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ تین سال قبل بنائی گئی ایک  ویڈیو کا میڈیا پر آنا ہے جس میں پرنس ہیری نے اپنے پاکستانی کورس میٹ ’کیڈٹ احمد رخا خان‘ پر کیمرہ فوکس کرتے ہوئے کہا!  "our little Paki friend" ۔  ویڈیو کے منظرِ عام پر  آنے کے بعد ہیری نے اپنی قوم اور پاکستان میں کیپٹن احمد رضا خان سے معذرت کی اور کہا کہ ان کے الفاظ کو نسل پرستی کے زمرے میں نہ لیا جائے۔ وہ تو صرف ایک دوستانہ مذاق تھا وغیرہ وغیرہ۔  خیر اس ویڈیو کے بارے میں شہزادے کی خبر میڈیا، عوام، سیاست دان اور کمانڈنگ آفیسر سبھی لے رہے ہیں، اس لئے میں چھوڑ دیتی ہوں :daydream ۔ لیکن کم از کم اسی بہانے مجھے یہ تو یاد آ گیا کہ میں نےکب سے پاکستانی کیڈٹس کی ہیٹ ٹرک کے بارے میں لکھنا تھا۔ :D

کون کہتا ہے کہ پاکستانی کچھ نہیں کر سکتے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی! :)
:pak


مکمل تحریر  »

Monday, 12 January 2009

بلاگز کی واپسی مبارک!

بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ محفل سے لاگ آؤٹ کرتے ہوئے میری نظر بدتمیز کی پوسٹ پر پڑی اور پٹ سے آنکھیں پوری کھل گئیں۔  خبر ہی اتنی خوشی کی ہے۔ اردو ٹیک ڈاٹ نیٹ کے گم شدہ بلاگز واپس آ گئے ہیں۔   :victry

میں نے جلدی سے منظر نامہ، شب اور صریرِ خامۂ وارث کھول کر دیکھے تو سب موجود ہیں۔ روشن روشن بلاگز :smile ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے چھٹیوں پر گئے ہمسائے واپس گھر آ گئے ہوں   اور بند دروازے کھل گئے ہیں۔ باقی بلاگز صبح دیکھوں گی۔ جتنی خوشی کھوئے بلاگز کے مالکان کو ہو رہی ہو گی ، ہم  بھی یقیناً اتنے ہی خوش ہیں۔ آپ سب کو بہت بہت مبارک ہو :flwr

کافی سارا ڈیٹا گم ہو گیا ہے لیکن پھر بھی پلیزلکھنا نہ چھوڑیں  :-(

مکمل تحریر  »

Saturday, 10 January 2009

اکثر شبِ تنہائی میں۔۔۔Oft in the stilly night!

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دلِ صد چاک پر

وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب

دل کا کنول جو روز و شب
رہتا شگفتہ تھا سو اب
اسکا یہ ابتر حال ہے
اک سبزۂ پا مال ہے
اک پھو ل کُملایا ہوا
ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا

روندا پڑا ہے خاک پر

یوں ہی شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی ناکامیاں
بیتے ہوئے دن رنج کے
بنتے ہیں شمعِ بےکسی
اور ڈالتے ہیں روشنی

ان حسرتوں کی قبر پر

جوآرزوئیں پہلے تھیں
پھر غم سے حسرت بن گئیں
غم دوستو ں کی فوت کا
ان کی جواناں موت کا

لے دیکھ شیشے میں مرے
ان حسرتوں کا خون ہے
جو گرد شِ ایام سے
جو قسمتِ ناکام سے
یا عیشِ غمِ انجام سے
مرگِ بتِ گلفام سے
خود میرے غم میں مر گئیں
کس طرح پاؤں میں حزیں

قابو دلِ بےصبر پر

جب آہ ان احباب کو
میں یاد کر اٹھتا ہوں جو
یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے
جس طرح طائر باغ کے
یا جیسے پھول اور پتیاں
گر جائیں سب قبل از خزاں

اور خشک رہ جائے شجر

اس وقت تنہائی مری
بن کر مجسم بےکسی
کر دیتی ہے پیشِ نظر
ہو حق سااک ویران گھر
ویراں جس کو چھوڑ کے
سب رہنے والے چل بسے
ٹو ٹے کواڑ اور کھڑ کیاں
چھت کے ٹپکنے کے نشاں
پرنالے ہیں روزن نہیں
یہ ہال ہے، آ نگن نہیں
پردے نہیں، چلمن نہیں
اک شمع تک روشن نہیں
میرے سوا جس میں کوئی
جھا نکے نہ بھولے سے کبھی
وہ خانۂ خالی ہے دل
پو چھے نہ جس کو دیو بھی

اجڑا ہوا ویران گھر

یوں ہی شب تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دل صد چاک پر

نادر کاکوروی (۱۸۵۷۔۱۹۱۲) کا یہ کلام ریشماں  نے بہت میٹھے انداز میں گایا ہے۔  جب بھی سنو بہت اچھا لگتا ہے۔

مجھے کچھ دن پہلے معلوم ہوا کہ یہ   ' Thomas Moore (1779-1852) ' کی نظم ' Oft in The Stilly'  کا ترجمہ ہے۔ یا  دوسرے الفاظ میں اس سے ماخوذ ہے۔

Thomas Moore نے یہ نظم غالباً ۱۸۱۵ میں لکھی تھی جسے Sir John Stevenson نے ۱۸۱۸ میں کمپوز کیا۔  (youtube link)

Oft in the stilly night



Oft in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Fond Memory brings the light
Of other days around me;
The smiles, the tears,
Of boyhood's years,
The words of love then spoken,
The eyes that shone
Now dimmed and gone,
The cheerful hearts now broken!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

When I remember all
The friends, so link'd together,
I've seen around me fall,
Like leaves in wintry weather;
I feel like one
Who treads alone
Some banquet-hall deserted,
Whose lights are fled,
Whose garland's dead,
And all but he departed!
Thus in the stilly night,
Ere Slumber's chain has bound me,
Sad Memory brings the light
Of other days around me.

اگر انگریزی میں یہ نظم اور اس کی موسیقی  ایک شاہ پارہ ہے تو  اسے اردو میں بھی ویسی ہی خوبصورتی سے ڈھالا گیا ہے۔ اور موسیقی دینے والوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یوں دونوں زبانوں میں ہی یہ کلام اور اس کی موسیقی شاہکار قرار پائے :)

مکمل تحریر  »