Friday, 21 December 2007

ایک اور سال بیت گیا

کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
وقت اے دوست! بہرحال گزر جاتا ہے
لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

ایک اور سال ختم ہونے کو ہے۔ ابھی تو 2006 شروع ہوا تھا ۔۔۔پتہ بھی نہیں چلا اوراب  دسمبربھی جا رہا ہے۔۔۔سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ وہی حالات،وہی رویے، وہی باتیں۔۔۔ کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے جنرل پرویز مشرف کی وردی سے شیروانی میں تبدیلی۔۔۔آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔



۔۔ اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے
۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
۔۔ اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے :(
۔۔ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔۔خوبی تو ویسے ہی جنسِ ناپید ہے۔محدب عدسے سے بھی ڈھونڈے نہیں ملتی :oops:

مثبت نقطہء نظر سے دیکھوں تو۔۔



۔۔خوش آئند  تبدیلی لوگوں کااپنے حق کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہے۔۔اگرچہ ابھی لمبا سفر  درپیش ہے اور صعوبتیں بے شمار۔۔لیکن سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔۔  :)
۔۔اس سال جانو بچے ’فصیح صاحب ’ (میرے بھتیجے) نے اس دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ امید کی ایک نئی کرن ہم سب کے ہاتھ آ ئی۔ :)
۔۔آج میرا کم از کم دو لٹر خون بڑھا جب اماں نے کہا۔۔’مجھے تمہارے اندر پہلے کی نسبت زیادہ ٹھہراؤ اور تحمل نظر آ رہا ہے۔۔۔’یعنی میری اس سال کی اکلوتی کامیابی  :D

اگرچہ آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا ۔۔سانحہ ء لال مسجد سے لیکر آج جمعہ 21 دسمبربروزِ عید پشاور کی مسجد میں ہونے والے دردناک دھماکے تک۔۔سارا سال ہی پاکستانیوں کی آنکھیں برستی رہیں۔۔لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ سالِ نوکو ہم سب کے لئے مبارک ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔۔۔(آمین)



قمری اور عیسوی دونوں لحاظ سے نیا سال شروع ہونے میں چند دن رہ گئے ہیں۔۔میری طرف سے  آنے والے سال کے لئے نیک خواہشات۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)




اے خدا سالِ نو محبتوں کا سال ہو
محبت و خلوص ہو نفرتوں کے دیس میں
کسی کو کوئی دکھ نہ ملے دوستی کے بھیس میں
خوف و ڈر کے سامنے جراءتوں کی ڈھال ہو
اے خدا سالِ نو محبتوں کا سال ہو

مکمل تحریر  »

عیدالضحیٰ مبارک

 :)  سب کو عیدالضحیٰ مبارک..تھوڑی سی دیر ہو گئی۔۔۔آج تو عید کا دوسرا دن شروع پو گیا۔۔  



 


 


 

مکمل تحریر  »

Monday, 10 December 2007

عورت کہانی: مظلوم مرد؟؟

میری پچھلی تحریر کو بہت سے لوگوں نے 'عورت کی آزادی/مرد سے برابری' یا 'مرد پر بیجا تنقید'  نما تحریک سمجھا۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ان دنوں بلاگرز کی بحث 'مردوں کا عورت کو گھورنا' پر چل رہی ہے۔۔ اپنی گزشتہ تحریر پر بہت سے لوگوں کے تبصروں سے مجھے مختلف قسم کے خیالات اور آراء سے آگاہی ہوئی۔۔۔بحث کیونکہ کافی دلچسپ ہے اس لئے میں پہلے تو اپنے گزشتہ موضوع پر مزید کچھ کہنا چاہوں گی اور پھر اگلی تحریر 'گھورنا کیوں' پر بھی شاید کچھ لکھ سکوں۔۔۔



میں نے جو لکھا اس میں سوائے ناموں کی تبدیلی کے سب کچھ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔ ناپختگی اندازِ بیان کے باعث شاید میری تحریر سے ایسا تاثر ملتا ہےکہ میں ان سارے قصوں میں یا ایسے ہی دیگر قضیوں میں 'عورت' کے کردار کو نظر انداز کر کے سارا الزام 'مرد ' پر رکھ رہی ہوں ۔۔۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔ اگرچہ ان مخصوص واقعات میں اگرچہ میں 90 فیصد سے زیادہ مرد کو قصوروار سمجھتی ہوں کیونکہ ساس بہو کا اختلاف ایک طرف۔۔۔مرد کا اپنی ذمہ داری سے فرار ان مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔۔اور یہی میرا اصل موضوع تھا۔ ایک کو چھوڑ کر باقی تینوں کردار مشرق سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شادی کے بعد بیوی کی 'معاشی' کفالت مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔۔۔ جسے بہ احسن پورا کرنا اس کا فرض ہے۔۔۔
جہاں تک بات ہے کہ شادی کے بعد مرد بیوی اور ماں کے جھگڑوں میں پس جاتا ہے۔۔۔یقیناً اس میں کافی حد تک قصور عورتوں کا ہے۔۔کہ ماں بیٹے کو تقسیم ہوتا نہیں دیکھ سکتی اور بیوی مکمل طور پر اپنی اجارہ داری چاہتی ہے۔۔لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ۔۔۔اس کی وجہ کیا ہے؟

 woman in a men's world نے درست کہا کہ اس سارے جھگڑے کی بنیاد 'مرد' کا بطورِ شوہر اور بیٹا اپنے کردار میں توازن قائم نہ رکھ پانا ہے۔۔۔ انسان ہمیشہ سے رشتوں کے معاملے میں حساس ثابت ہوا ہے۔۔۔ مرد بھی اپنے تعلق اور رشتے کے بارے میں حساس ہوتا ہے لیکن اس حساسیت کی نوعیت اس لئے مختلف ہوتی ہے کیونکہ شادی کے بعد اس کے لئے توجہ اور محبت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔۔  ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں توجہ دینے والے ایک اور فرد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔اس کے برعکس ماں کو بیٹے کی اپنے لئے توجہ بٹتی نظر آتی ہے اور اس کا ردِعمل توجہ کے نئے مرکز یعنی بہو کے ساتھ اختلاف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔۔۔ بہو کی بات کریں تو وہ ایک پوری دنیا پیچھے چھوڑ کر آتی ہے ایسی صورت میں وہ اس ایک فرد میں اپنے پورے خاندان کا متبادل تلاش کرتی ہے اور اس کا اس معاملے میں حساس ہونا فطری ردِعمل ہے۔۔۔۔ اور ایسی ہی حساسیت مرد بھی دکھاتا ہے ۔۔۔ مردوں کی اکثریت بیوی کا میکے بہت زیادہ آنا جانا بلکہ میکے کا بہت ذکر کرنے سے بھی چڑتے ہیں۔۔۔ اور یہ بعینہ اسی جذبے کا اظہار ہے جو اس تکون میں دونوں عورتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔
سو چونکہ مذہب اور معاشرہ دونوں ہی مرد کو گھریلو زندگی میں 'مرکزی' حیثیت دیتے ہیں۔۔اس لئے ایک سربراہ کی حیثیت سے اس کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی جھگڑے کو سلجھانے کی بجائے خود اس کا فریق بن کر رہ جائے۔۔ بلکہ اس کو مسئلہ سلجھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔۔۔
بہت سے بچوں کی اپنے بہن بھائیوں سے بحث ہوتی ہے کہ والدین ان میں سے کس سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔اور بعض اوقات یہ بحث بہت سنجیدہ رخ بھی اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ایسی صورت میں والدین معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے بچوں کو اپنے الفاظ اور عمل دونوں سے باور کراتے ہیں کہ ان کے لئے سب بچوں کی اہمیت ایک سی ہے اور وہ سب سے ایک سا پیار کرتے ہیں۔۔۔ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ان کے لئے بہت اہم ہے۔۔۔ کچھ ایسی ہی صورتحال مرد کی ہے۔۔۔ جب تک وہ دونوں رشتوں کو متوازن نہیں رکھے گا جھگڑے بڑھتے رہیں گے۔۔۔
جہاں تک بات ہے عورت کی مرد سے برابری تو یہ بحث بہت پرانی بھی ہے اور شاید ہمیشہ جاری رہے گی۔۔۔ ایسی ہی ایک بحث محفل پر  یہاں  بھی ہو چکی ہے اس لئے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی ۔۔
میں مخالفت برائے مخالفت یا تنقید برائے تنقید کی عادی نہیں ہوں اور نہ ہی اس صنف سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ سب کہہ رہی ہوں۔۔۔ میں پھر کہوں گی کہ ایسے جھگڑوں میں دونوں میں سے کوئی بھی فریق زیادہ قصوروار ہو سکتا ہے لیکن کیونکہ قدرت نے اگر مرد کو عورت کا کفیل بنایا ہے تو مسائل کے حل میں اسے  اپنا کردار مثبت طریقے سے ادا کرنا چاہئیے ۔۔یہ کہنا کہ اگر عورت برابری کا مطالبہ یا دعویٰ کرتی ہے تو ایسے مسائل کا سامنا اس کا مقدر ہے۔۔۔ہر گز دانشمندانہ رویہ نہیں ہے۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی کہ اگر کوئی اس موضوع پر لکھے کہ ان کے خیال میں 'عورت کی ' آزادی اور مرد سے برابری' سے کیا مراد ہوتی ہے؟؟؟ اور این جی اوز اور نام نہاد سوشل ورکرز کے علاوہ عام زندگی میں وہ  کتنی ایسی خواتین کو جانتے ہیں جو 'آزادی' اور 'برابری' کی تعریف ان الفاظ میں کرتی ہیں جو مرد حضرات کے خیال میں 'بے جا آزادی اور بے راہ روی' کے عکاس ہیں۔۔

مکمل تحریر  »

Thursday, 6 December 2007

عورت کہانی

مرد اور عورت کو جو کردار قدرت نے ودیعت کئے ہیں وہی ان کی اصل ہیں۔۔دونوں اپنی اپنی جگہ ایکدوسرے سے مختلف اور بہتر ہیں۔۔۔ اور زندگی کا حسن بھی اپنے مخصوص کردار میں رہ کر زندگی گزارنا ہے۔۔۔میں حقوقِ نسواں یا عورت مرد کی برابری کی علمبردار نہیں ہوں۔۔۔ لیکن روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے واقعات مشاہدے میں آتے ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ عورت کو مظلوم طبقہ کہنے والے کچھ غلط نہیں ہیں۔۔۔ کہیں نہ کہیں ناانصافی کا سرا مرد سے جا ملتا ہے۔۔



روزی سے میری پہلی ملاقات  لندن میں ہوئی تھی۔ ایک دن پہلے جب پہلی بار فون پر اس سے بات ہوئی تو اس کی آواز اور بڑوں کے سے انداز میں بات کرنے سے مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی بڑی خاتون ہیں لیکن اگلے ہی دن جب مقررہ جگہ اور وقت پر ایک نازک سی لڑکی میرے پاس آ کھڑی ہوئی تو مجھے انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی۔ روزی کا تعلق انڈیا کی ریاست یو-پی سے ہے۔۔۔ گزشتہ دو سالوں میں میرا روزی کے ساتھ مستقل رابطہ ہے چاہے ہم دونوں یہاں ہوں یا پاکستان/انڈیا میں۔
تین برس بیشتر روزی کی شادی ملائیشیا میں رہنے والے ایک ہندوستانی خاندان میں ہوئی ۔ اور کچھ ہی عرصے بعد مخصوص سسرالی جھگڑوں کا آغاز ہوا۔ اچھا خاصا کاروبار ہونے کے باوجود روزی کی ساس کو لگنے لگا کہ ان کے بیٹے کو کاروبار پھیلانے کے لئے اس رقم کی ضرورت ہے جو روزی کے والدین نے جہیز کے متبادل روزی کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائی تھی۔۔ رقم کاروبار میں لگا دی گئی۔ کچھ عرصے گزرا تو ان لوگوں کو لگا کہ کاروبار میں کچھ خاص فائدہ نہیں ہو رہا چنانچہ مزید رقم لگانی چاہئیے۔۔ جس کے لئے روزی کے والدین اپنی زمین میں سے اس کا حصہ الگ کریں۔ جب کہ روزی کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کو بھی اعتراض تھا کہ ابھی ان کی تین اور بیٹیوں کی تعلیم اور شادیاں باقی ہیں۔۔ چنانچہ اس بار انکار کیا گیا اور یوں روزی کے برے دنوں کا آغاز ہوا۔۔۔ اس سارے جھگڑے میں اس کے شوہر کا کردار خاموش تماشائی کا سا تھا۔۔ جھگڑا بڑھتا گیا اور ایک دن شوہر کی غیر موجودگی میں روزی کو انڈیا کا ٹکٹ ہاتھ میں تھما دیا گیا کہ واپس تب آنا جب تمھارے پاس رقم ہو۔ انڈیا واپس آنے کے بعد کوشش کے باوجود کوئی سمجھوتا نہ ہو سکا ۔۔ اور پھر روزی نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔۔ پچھلے اڑھائی سالوں سے وہ انگلینڈ میں ہے اور چھوٹی موٹی جاب کر کے زندگی گزار رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے قریبی دوستوں میں پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے جو ہر مشکل وقت میں اس کا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔۔۔ اس سارے عرصے میں اس کا رابطہ اپنے شوہر سے قائم ہے۔۔لیکن اس طرح کہ جب کبھی روزی نے اس کو فون کیا۔۔اس نے بات کر لی۔۔ لیکن ان سالوں میں ایک دفعہ بھی اس شخص نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تمھارا گزارا کیسے ہو رہا ہے؟
کچھ عرصہ پہلے میں اس سے پوچھا کہ تم وہیں رہتی۔۔اتنی مشکلیں تو نہ دیکھنا پڑتیں۔۔۔ والدین کو چھوڑ کر یہاں کیوں آ گئی ہو؟؟؟جواب میں اس کے چہرے کے چہرے پر ابھرنے والا کرب مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔اس نے کہا۔۔۔"میں کیا کرتی۔۔۔ انڈیا اور پاکستان میں اتنا فرق تو نہیں ہے۔۔تمہیں بھی معلوم ہی ہو گا کہ ہمارے معاشروں میں جب بیٹیاں اجڑ کر والدین کی دہلیز پر آتی ہیں تو پورے خاندان کو کس مشکل سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔ میری وجہ سے میری بہنوں کی زندگی متاثر ہو رہی تھی اور میں اس وقت کا انتظار نہیں کر سکتی تھی جب میری بہنیں مجھے الزام دینے لگیں۔۔۔۔۔۔ میں کیا کرتی۔۔نہ والدین کا گھر میرا۔۔نہ شوہر کا۔۔۔ "

شیلا کا تعلق بھی یو-پی ہی سے ہے لیکن روزی کے برعکس ان کا تعلق نسبتاً کم متمول خاندان سے ہے۔۔۔شیلا دی سے میرا تعارف اپنی بھابھی کے ذریعے برمنگھم میں ہوا تھا جہاں دونوں ایک ایشین سوسائٹی کی ممبرز ہیں۔۔۔ اور یوں جب بھی وہاں جانا ہو میری واحد مصروفیت شیلا سے گپ شپ ہوتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ میری طرف سے صرف شپ ہوتی ہے کیونکہ شیلا دی بلا مبالغہ 200 الفاظ فی منٹ بولتی ہیں۔۔۔جن میں کہیں کوئی فل اسٹاپ یا کومہ نہیں ہوتا۔۔۔ :) اور ایسی ہی گپ شپ میں مجھے ان کی کہانی معلوم ہوئی۔۔۔ شیلا کو یہاں آئے تقریباً چار سال ہو چکے ہیں۔۔۔ انڈیا میں جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر ایک سرکاری محکمے میں کام کرتے تھے۔۔گھر کا نظام چلانے کے لئے شیلا کو بھی ملازمت کرنی پڑی۔۔۔کچھ عرصہ بعد ان کے شوہر نےساری جمع پونجی لگا کر انگلینڈ کا رخ کیا ۔۔کچھ ماہ بعد شیلا بھی یہاں آ گئیں۔۔۔ اور ایک بار پھر ویسے ہی ملازمت شروع کر دی۔۔۔ایک بار پھر ان کے شوہرِ نامدار کو محسوس ہوا کہ امریکہ ان کی منزل ہے۔۔جمع جتھا تو کچھ تھا نہیں سو شیلا نے اپنے والدین کے ذریعے کچھ انڈیا سے کچھ لوگوں سے قرض لیا اور یوں موصوف نے امریکہ کی راہ لی۔۔اور کافی مہینوں کے بعد پہلی بار رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ آتے ہی وہ کسی جرائم پیشہ گروپ کے ہاتھ چڑھ گیا اور انھوں نے سب کچھ لوٹ لیا۔۔۔ مزید کچھ مہینے گزرے اور معلوم ہوا کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔اور کمانا تو درکنار ان کے پاس علاج کے لئے بھی رقم نہیں ہے۔۔۔یوں پچھلے تین سال سے شیلا دی یہاں کام کر رہی ہیں اور بری بھلی اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔۔اگرچہ اب ان کو امریکہ میں اپنے شوہرِ نامدار کو خرچہ نہیں بھیجنا پڑتا لیکن جن یہاں آتے ہوئے اور آنے کے بعد جن لوگوں سے بڑی بڑی رقمیں ادھار لی تھیں وہ سب شیلا کو ہی واپس کرنی ہیں کہ جو شخص تین سال سے ان کو ایک پائی ذاتی خرچے کے لئے نہیں دے سکا اس سے کچھ کرنے کی توقع فضول ہے۔


اب باری آتی ہے پالین کی۔۔۔ پالا(پالین) کے ساتھ میری دوستی پہلی ہی ملاقات میں پکی ہو گئی تھی۔ حالانکہ وہ مجھ سے اتنی بڑی ہے کہ پاکستان میں ہوتی تو میں ادب کے مارے سلام کرنے سے آگے نہ جاتی لیکن یہاں تو ایسا نہیں ہے۔۔۔پالا سے بھی میں دو سال پہلے ملی تھی جب پہلی بار یہاں آنا ہوا تھا۔۔۔ اپنی باتوں اور سوچ کے انداز سے وہ مجھے کبھی بھی مغربی معاشرے کی نمائندہ نہیں لگی۔۔اور جب ایک بار میں نے اس سے یہ کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا "تمہیں ایسا اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ میری دادی ترکش تھیں۔۔۔اور میرا بچپن ان کے ساتھ ترکی میں ہی گزرا ہے۔۔۔مشرق بھی میری ذات کا حصہ ہے۔۔" پالا کے دو بچے ہیں اور وہ پچھلے سال تک وہ میٹروپولیس میں کام کر رہی تھی۔ اس کا شوہر کوکین لیتا تھا اور الکوحلک تھا۔۔ یہاں پر کہانی فرق ہے۔۔۔بجائے مزید مشکلوں کا شکار ہونے کے پالا نے اس کو اپنی زندگی سے نکال باہر کیا۔۔۔۔ اور اب وہ اپنے دونوں بچوں کی پرورش کر رہی ہے۔ لیکن اس کے احساسات اور مشکلیں بھی روزی اور شیلا دی جیسی ہی ہیں۔۔


آمنہ میری سہیلی کی کزن ہیں۔۔ ان کے والد اسلام آباد میں ایک اہم سرکاری عہدیدار ہیں۔۔۔تقریباً سات سال پہلے آمنہ کی شادی اپنے کزن سے ہوئی۔۔۔شادی کے بعد ان کےشوہر نے سول سروسز کا امتحان دیا اور ڈی ایم جی میں سیلیکٹ ہو گیا۔۔۔ بیٹے کے اکیڈمی جانے کے بعد آمنہ کے ساس اور سسر کو بیٹے کی شادی جلدی کرنے پر پچھتاوا ہونے لگا۔۔۔ حالانکہ دونوں گھرانوں کا شمار اسلام آباد کے متمول طبقے میں ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی انہیں لگا کہ سول سروسز میں جانے کے بعد ان کے بیٹے کی شادی کسی اعلیٰ بیوروکریٹ خاندان میں ہو سکتی تھی اور اس کے لئے مزید اوپر جانا بہت آسان ہو سکتا تھا۔۔۔یوں حالات خراب ہوتے چلے گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ آمنہ کو سسرال چھوڑ کر والدین کے گھر آنا پڑا۔۔کچھ دنوں بعد شوہر آ کر بیٹی کو ساتھ لے گیا۔۔۔ ڈپریشن کی شکار آمنہ کو والدین نے کچھ عرصہ کے لئے بڑی بہن کے پاس کینیڈا بھیج دیا۔۔جہاں انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا سے گریجویٹ آمنہ کو بہت اچھی نوکری مل گئی اور یوں آہستہ آہستہ اس کی زندگی معمول پر آ گئی لیکن پھر اچانک ان کے مجازی خدا کو نہ جانے کیاخیال آیا اور عین اس وقت جب آمنہ کی امیگریشن مکمل ہونے میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا تھا ان کو واپس آنے کا حکم دیا گیا۔۔۔ بہن کے منع کرنے کے باوجود وہ واپس آ گئیں کہ شاید ان کے شوہر کو زیادتی کا احساس ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ نئی بہو نے سوتیلی بیٹی کی پرورش اور جائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ یوں آمنہ ایک بٹے ہوئے گھر میں زندگی گزار رہی ہیں۔۔


کردار اور جگہ مختلف سہی لیکن چاروں کہانیاں ایک سی ہیں۔۔۔ معاشرہ کوئی بھی ہو۔۔۔ مذہب کچھ بھی ہو۔۔۔ طبقہ کوئی بھی ہو۔۔۔ خسارہ عموماً عورت کے حصے آتا ہے۔۔۔


ایسے جھگڑوں میں دونوں میں سے کوئی بھی فریق مظلوم ہو سکتا ہے۔۔کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کے مظلوم ہونے کا تناسب ہمیشہ سے زیادہ ہے۔۔۔ پڑھی لکھی ہے تو اس کی تعلیم کو بھی طعنہ بنا لیا جاتا ہے اور ان پڑھ ہے تو جاہل کا نام دے دیا جاتا ہے۔۔۔معاشرے اور خاندان میں مرد کو اگر افضل درجہ ملا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنے میں ناکام کیوں ثابت ہوتا ہے۔۔۔ یہ افضل درجہ اس کے عورت کی نسبت زیادہ باظرف ہونے کا متقاضی ہے۔۔ عورت ہر حال میں مرد کی ذمہ داری ہے اور اگر مرد اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کرے تو بہت سے جھگڑوں کا وجود آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔۔۔

مکمل تحریر  »

Tuesday, 27 November 2007

ترنم

 زی ٹی وی کے رئیلٹی شو سارےگاماپا 2007 میں اس دفعہ بہت اچھا گانے والا نیا ٹیلنٹ سامنے آیا۔ میں ویسے تو اتنی دیر ٹیلیویژن کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتی لیکن اس پروگرام میں جب پاکستان سے "امانت علی" اور انڈیا کی "پونم یادیو" کی پرفارمنس میں نے کبھی مس نہیں کی۔ دونوں اتنا میٹھا گاتے ہیں کہ سننے والا ایک ٹرانس میں چلا جاتا ہے۔


 ان دونوں نے اتنے سارے مہینوں میں ایک سے بڑھ کر ایک سے بڑھ کر ایک پرفارمنس دی۔۔۔ جن میں "تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں۔۔":امانت علی  اور " درد سے میرا دامن بھر دے یا اللہ" :پونم یادیو۔۔ سرِفہرست ہیں۔










پونم یادیو: درد سے "میرا دامن بھر دے یااللہ"۔۔





امانت علی: "تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں"۔۔



مکمل تحریر  »

Saturday, 24 November 2007

مشرف انکل۔۔بات سنیں!!!

اچھے مشرف انکل۔۔(اچھے کے ساتھ آپ کا نام مزے کا نہیں لگ رہا اس لیے۔۔۔)
صرف مشرف انکل!!

میرا ہمیشہ دل چاہتا تھا کہ میں آپ کو خط لکھوں لیکن پھر اتنے لوگ آپ کے نام خطوط اور وہ بھی کُھلے خطوط لکھنے لگے کہ میں نے یہ خیال ترک کریا لیکن اب پھر گھر، گھر سے باہر، ٹی وی، ریڈیو، اخبار۔۔غرض ہر جگہ آپ سی "مشہور" اور "مقبول" شخصیت کے بارے میں سن سن کر میری وہ خواہش دوبارہ عود آئی ہے۔۔


انکل برا نہیں مانئے گا لیکن جب آپ اچانک جہاز سے اتر کر اقتدار کی کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے تھے تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔۔کیونکہ باوردی لوگ تو اپنی صفوں میں ہردم تیار و ہوشیار کھڑے ہی اچھے لگتے ہیں نا۔۔کرسی پر بیٹھے ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہے ہیں اور ان میں دفاع ِوطن کی ہمت باقی نہیں رہی۔۔


لیکن پھر بھی میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے ذرا دیر کو ایوانِ اقتدار میں سستانے کے بعد تازہ دم ہو کر انکل دوبارہ اپنی صفوں میں لوٹ جائیں اور قوم کو ایک نڈر اور جری جرنیل(انکل پرویز الٰہی تو آپ کو انہی الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔۔) اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتا ہوا دکھائی دے۔۔لیکن ایسا ہوا نہیں۔۔(معلوم نہیں توقعات اکثر توقعات ہی کیوں رہتی ہیں؟؟)


خیر ۔۔ہاں یاد آیا انکل مجھے آپ سے پوچھنا تھا کہ ستمبر 11 کے بعد آپ نے بش چچا کی بات ایکدم کیوں مان لی؟؟؟ان کی بات تو ان کے گھر والے بھی اتنی جلدی نہیں مانتے۔۔ :daydream


ویسے انکل جب آپ آگرہ گئے تھے تو وہاں تاج محل کی سیر کے دوران آپ کتنے خوش ہونگے ناں۔۔جب آپ صہبا آنٹی کے ساتھ وہاں تصویریں بنوا رہے تھے تو آپ کو دل چاہا تو ہو گا کہ وہ لمحے امر ہو جائیں؟؟؟ ٹیلی ویژن پر براہِ راست آپ کو دیکھتے ہوئے میرا بھی یہی دل چاہ رہا تھا کہ کاش وقت رک جائے اور آپ بھی انہی لمحوں میں رہ جائیں ۔۔۔


انکل آپ کی وردی کے بارے میں اتنی بحث ہوتی رہی لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ قوم کو دکھتا کیوں نہیں کہ آپ وردی میں اتنے سمارٹ لگتے ہیں۔۔ اور آپ بھی بار بار وعدہ کرتے تھے کہ آپ جلدی وردی اتار دیں گے۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید آپ کو "شیروانی" بہت پسند ہے اور آپ ہر وقت ایک ہی یونیفارم پہننے سے اکتا گئے ہیں یہ تو کچھ عرصہ پہلے جب میں نے ایوانِ صدر کی اندورنی تصویریں دیکھیں تو مجھے پتہ چلا کہ آپ کو یہ جگہ کیوں اس قدر پسند ہے۔۔۔مگر انکل میں نے تو سنا ہے کہ ایک فوجی کو نرم و نازک بستر کانٹوں کی طرح چھبتا ہے۔۔(لگتا ہے ایسا صرف نسیم حجازی کے ناولوں کے سپاہیوں کو محسوس ہوتا ہے۔)

انکل جی ایک دفعہ ہمارے ایک جاننے والے، جو فوج میں تھے ، نے مجھے بتایا تھا کہ فوج میں ہر ماتحت اپنے افسر کے آرڈر کے جواب میں "یس سر" اور "آل رائٹ سر" کہتا ہے اور وہاں "no, if & but" کی گنجائش نہیں ہوتی۔۔۔اور کوئی افسر "یس" اور "آل رائٹ" کے علاوہ کچھ نہیں سن سکتا۔۔۔ انکل کیا آپ نے پاکستانی قوم کو بھی فوج سمجھ لیا ہے اور اسی لئے بطورِ آرمی چیف آپ پاکستانیوں سے اپنے ہر حکم کے جواب میں "آل رائٹ سر" سننا چاہتے ہیں؟؟؟


انکل پتہ ہے جب آپ سعودی عرب جاتے ہیں نا اور وہاں حرم کے دروازے آپ پر کھول دیے جاتے ہیں تو آپ کا 'پروٹوکول' دیکھ کر مجھے آپ پر کتنا "رشک" آتا ہے۔۔ ایک بات تو بتائیں انکل!!! جب آپ حرم کے اندر دعا مانگ رہے ہوتے ہیں یا حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں تو آپ کو دھیان کس طرف ہوتا ہے؟؟سیکیورٹی، ٹی وی کیمرہ یا دعا کی طرف؟؟؟ آپ ان سب کو کیسے مینج کر لیتے ہیں؟؟؟ آپ گریٹ ہیں انکل۔۔۔


انکل آپ بے نظیر آنٹی کے ساتھ ڈیل فائنل کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ دونوں کے خیالات اور دلچسپیاں کتنی ملتی جلتی ہیں۔۔دیکھیں نا۔۔آپ دونوں ہی "انتہا پسندی" کے خلاف ہیں۔۔اور آپ دونوں ہی دوسروں کی مدد کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں۔۔ بے نظیر آنٹی نے زردرای انکل اور ان کے دوستوں کی مدد کر کے قوم کوکتنا 'فائدہ' پہنچایا اور آپ نے بھی کتنے قابل جرنیلوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد عضو معطل بننے سے بچا لیا اور پتہ ہے انکل تقریباً تمام سول سیکٹرز میں ان جرنیلوں کی موجودگی سے عوام اور فوج میں قربت کا احساس کتنا بڑھ گیا ہے۔۔


آپ نے اچھا کیا انکل کہ افتخار چودھری اور دوسرے انکلز کو گھر بھیج دیا۔۔ویسے بھی پچھلے کتنے مہینوں سے ان لوگوں کو آرام کا ٹھیک موقع نہیں مل رہا تھا۔۔ایسے ہی بیمار ہو جاتے تو۔۔۔۔ لوگوں کو پتہ نہیں سمجھ کیوں نہیں‌ آتی ہے کہ آپ کو دوسروں کی کتنی فکر ہوتی ہے۔۔۔ ویسے بھی اس قدر امن و امان کے حالات میں عدلیہ کا کام ہی کیا رہ جاتا ہے۔۔۔ اور انکل کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ کچھ وکیل اور جج ایسے ہی قانون اور عدلیہ کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ کر 'قانون کے نفاذ' میں مصروف فوج اور پولیس کی توجہ بٹا دیتے ہیں۔


اور آپ کو تو سب کی ہی اتنی فکر رہتی ہے۔۔۔جن لوگوں کو ذرا سا بھی خطرہ ہو آپ اس کو ساری دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر رکھتے ہیں۔۔۔کوئی اور حکمران ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایسی حفاظت کر سکتا تھا کیا۔۔یہ آپ ہی ہیں جنھوں نے گزشتہ کتنے برسوں سے ان کو باوردی گارڈز حکومتی خرچے پر فراہم کئے ہوئے ہیں۔۔۔اور جن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہو آپ تو ان کے لئے اپنے دیرینہ دوست "چچا بش" سے بھی مدد لے لیتے ہیں جیسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔۔۔ان کو کتنی محفوظ جگہ پر آپ نے رکھا ہے کہ اتنے سالوں سے کوئی ان کا سراغ نہیں لگا سکا۔۔ اور آپ بھی تو ایسی کتنی ہی نیکیوں کو منظرِ عام پر لاتے ہی نہیں ہیں۔۔لگتا ہے آپ "نیکی کر دریا میں ڈال کے" کے قائل ہیں۔۔


اچھا انکل آج اتنا ہی لکھ پائی ہوں۔۔۔ایک تو آپ کی "شخصیت اور کارنامے" اتنے ہمہ جہت ہیں کہ ان کے بارے میں آپ سے بات کرتے ہوئے دل ہی نہیں بھرتا۔۔۔ ابھی تو کل بھی مجھے آپ سے اتنی ہی باتیں کرنی ہیں۔۔ شب بخیر انکل۔۔۔ اور ہاں۔۔۔خواب میں "عمران انکل" سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔


 


 


 


 

مکمل تحریر  »

Thursday, 22 November 2007

امن کے لئے

امن سے مختصر بات تو کبھی کبھار کہیں نہ کہیں ہوتی رہتی تھی لیکن کل کافی تفصیل سے مزیدار سی گپ شپ ہوئی کہ وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلا۔۔ :)
میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا۔۔امن بہت سویٹ اور زہین ہیں۔۔۔ اور میں نے اپنے بارے میں بھی یہی بات فرض کر لی ہے کیونکہ کل کی گفتگو کے دوران متعدد بار ہم نے اتفاق کیا کہ کہیں کہیں ہماری کچھ کچھ باتیں ملتی جلتی ہیں۔۔۔
محفل کے کچھ اراکین سے بالواسطہ(بذریعہ محفل) اور پھر بعد میں بلاواسطہ(بذریعہ م س ن) بات شروع ہوئی تو اتنے اچھے لوگوں سے مل کر بہت اچھا لگا۔۔۔میں کافی دنوں سے ان دوستوں کے بارے میں کچھ لکھنے کا سوچ رہی تھی مگرکیونکہ میرے اکثر پروگرام حکومتِ پاکستان کے عوامی فلاح و ترقیاتی منصوبہ جات کی طرح ہوتے ہیں اس لئے ان پر عمل درآمد ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن امن سے بات کے بعد مجھے اپنے اس اصول پر وقتی طور پر نظرِ ثانی کرنی پڑی کیونکہ معلوم نہیں امن کا کہنا ہے کہ مجھے لکھنا چاہیئے۔۔(اب ان کو کیا معلوم کہ نام بڑا درشن چھوٹے۔۔والا معاملہ ہے یہاں۔۔۔)
بہرحال میں اپنے اس پنج سالہ منصوبے کا آغاز کر رہی ہوں جس کو ابھی بہت عرصہ پائپ لائن میں رہنا تھا۔۔۔اس سلسلے کی پہلی پوسٹ امن کے لئے۔۔ :)کیونکہ ان کے جانے میں تھوڑے ہی دن رہ گئے ہیں تو میری مبارکباد اور نیک خواہشات توبروقت پہنچ جائیں کم از کم۔۔۔

امن دعائیں تو آپ کے لئے تب سے کر رہی ہوں جب سے ماوراء نے آپ کے پیا دیس جانے کی خوش خبری سنائی تھی اور جاری بھی رہیں گی انشاءاللہ۔۔۔
اللہ تعالیٰ آپ کی آنے والی زندگی کو بہت خوشگوار۔۔۔۔بہت خوبصورت۔۔۔اور بہت آسان بنائے۔۔اور آپ کے سارے اچھے خواب پورے ہوں۔۔(آمین)۔۔
بہت سا خوش رہیں کہ آپ کے خوشیوں کے ساتھ بہت سے لوگوں کی خوشی اور سکون وابستہ ہے یقیناً۔۔۔

مجھے شادی کے فنکشن میں مہندی کی تقریب بہت پسند ہے اس لئے میری طرف سے مہندی کا یہ گانا(تھوڑا جلدی ہی سہی :)) امن کے لئے۔۔


ویڈیو تھوڑی سی غیر متعلقہ ہے لیکن اس گانے کے بول اور سنگر دونوں میرے پسندیدہ ہیں۔۔اسلئے میں یہی ویڈیو پوسٹ کر رہی ہوں۔

مکمل تحریر  »

بلاگنگ فوبیا

بہت عرصہ پہلے جب پاکستان میں بلاگنگ کا وائرس نیا نیا پھیلا تھا تب سپائڈر میں اردو بلاگنگ اور بلاگرز کے بارے میں بہت سی پیش گوئیاں کی گئیں تھیں۔۔جو کہ اس وقت مجھے مبالغہ آرائیاں لگی تھیں لیکن اب ماشاءاللہ اردو بلاگزر کو دیکھ کر وہ سب کم لگتا ہے۔۔لیکن افسوس کہ میں تب سے اب تک کبھی بھی "متحرک بلاگرز" میں شامل نہیں رہی۔۔۔ بہت جوش و خروش سے شروع کئے گئے میرے کم از کم تین بلاگ یکے بعد دیگرے مجھے داغِ مفارقت دے چکے ہیں۔۔ہرچند کہ اس میں زیادہ ہاتھ میرا اپنا پے۔۔۔ موجودہ بلاگ کو شروع کروانے کا کریڈٹ محب علوی اور اس کے لئے فرنشڈ ٹھکانہ فراہم کرنے کا کریڈٹ  اردوٹیک کے 'قدیر احمد' اور 'بدتمیز' کو جاتا ہے۔۔۔:)  اگرچہ صحت اس بلاگ کی بھی کچھ قابلِ رشک نہیں ہے لیکن پھر بھی سانس تو لے ہی رہا ہے۔۔۔وجہ محفل کے دوست جو اکثر میری دل  جوئی کرتے ہوئے کچھ ایسا کہہ دیتے ہیں کہ مجھے شک ہونے لگتا ہے کہ میں بھی کچھ لکھ سکتی ہوں۔۔۔ لیکن لکھوں کیا۔۔۔میرے پاس بولنے کے لئے تو اتنا کچھ ہوتا ہے کہ اکثر باتیں سامعین کی کورذوقی کی وجہ سے ادھوری رہ جاتی ہیں۔۔لیکن لکھنے کی بات آئے تو بس۔۔۔۔ بس ہی ہو جاتی ہے۔۔


بلاگنگ کی عادت کے بارے میں تو میں پہلے ہی کہیں لکھ چکی ہوں کہ ایک دفعہ انسان اس وائرس کا شکار ہو جائے تو کوئی مدافعتی نظام اس کا توڑ نہیں کر سکتا۔۔اس وائرس کی ویکسین ابھی ایجاد نہیں ہوئی شاید۔۔۔ کل بلاگ کے بارے میں اتنا سوچا کہ کہیں انٹرنیٹ کے بارے میں پڑھی کچھ مزے کی باتیں یاد آ گئیں جو کچھ ردوبدل کے بعد 'باقاعدہ اور ایڈکٹڈ بلاگرز' پر بالکل صحیح فٹ آتی ہیں۔۔


آپ واقعی ایک مصدقہ بلاگر ہیں اگر۔۔


۔۔۔۔رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھنے کے بعد اپنی بلاگ ہٹس دیکھتے ہیں اور ان میں کمی یا اضافہ آپ کے بقیہ دن کے موڈ کا تعین کرتا ہو۔


 ۔۔۔۔رات سونے سےپہلے آخری اور صبح اٹھنے کے بعد پہلی سوچ بلاگ کے 'آج کے موضوع' کے بارے میں ہو۔



۔۔۔۔موسم تبدیل ہونے پر آپ اپنے نئے کپڑوں اوراور ان کے ڈیزائننگ
کے بجائے اپنے بلاگ کے نئے تھیم کی موسم سے مطابقت کے بارے میں زیادہ سوچیں۔

۔۔۔۔ آپ حقیقی زندگی میں دوستوں سے ملنے ملانے کی نسبت اپنے بلاگر دوستوں کے بلاگز پر باقاعدگی سے جانے کو زیادہ اہم گردانتے ہوں۔


۔۔۔۔ اور آپ کے گھر والوں کو کسی بھی قسم کی یاد دہانی کرانے کے لئے آپ کے بلاگ پر کمنٹ چھوڑنا پڑتا ہو۔۔۔(یہ کچھ زیادہ ہی مبالغہ  ہو گیا شاید۔۔۔)


 ابھی میرے زرخیز ذہن میں مزید نادر خیالات آ رہے ہیں لیکن اس وقت کافی دیر ہو گئی اس لئے انہی پر اکتفا کرتے ہیں :)

مکمل تحریر  »

Saturday, 20 October 2007

ہمارے عوام دوست سیاستدان

خودغرض سیاست دان پاکستانی عوام کو جونک کی طرح چوس رہے ہیں۔۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لیکر اب تک اس طبقے نے سوائے ملک کو لوٹنے کے اور کچھ نہیں کیا۔۔کیا حق پہنچتا ہے ان لوگوں کو سینکڑوں قیمتی جانوں کو اپنی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کا۔ کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی جمہوریت کےلئے نام نہاد جدوجہد کے نام پر۔۔ پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن کے جلسے میں ہونے والے دھماکے نے کتنے گھروں کے چراغ گل کر دیے۔ لیکن ہو گا کیا کہ ان لاشوں پر سیاست چمکائی جائے گی۔ ہمارے یہاں سیاست کا مطلب "خودغرضی" اور "بےایمانی" ہے۔  عوام کو باور کرایا جائے گا کہ بی بی ان کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔چند دن گزریں گے اورمرنے والوں کو کوئی یاد بھی نہیں کرے گا ماسوا ان کے جن کے وہ پیارے تھے۔۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ معصوم عوام ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں۔ جو شخص اپنی جان بچانے اور کرپشن کی سزا سے بچنے کے لئے کئی سال خودساختہ جلاوطنی میں گزار دے وہ واقعی صرف عوام کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے  :roll: نہ جانے کیوں پاکستانی سیاست دانوں کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے یہ لطیفہ کیوں یاد آتا ہے۔۔
ایک جہاز ہوا میں ہچکولے کھانے لگا تومسافروں نے خوفزدہ ہو کر چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ اس پر پائلٹ کی آواز مائیک پر سنائی دی۔
وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ " خواتین و حضرات گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ آپ پوری طرح محفوظ ہیں۔اپنا دھیان بٹانے کے لئے کھڑکی سے باہر کا نظارہ کریں۔ آپ کو خوبصورت نیلا سمندر نظر آئے گا اور رنگ برنگی کشتیاں دکھائی دیں گی۔ ان میں لال رنگ کی کشتی پر نظر ڈالیں۔۔۔۔۔ میں اسی کشتی میں سے بول رہا ہوں۔

مکمل تحریر  »

Friday, 12 October 2007

I am Okay

In all the world, there is no one else exactly like me
Everything that comes out of me is authentically me
Because I alone chose it
I own everything about me
My body, my feelings, my mouth, my voice, all my actions
Whether they be to others or to myself
I own my fanatasies
My dreams, my hopes, my fears
I own all my triumphs and
Successes, all my failures and mistakes
Because I own all of
ME
I can become intimately acquainted with me
by so doing
I can love me and be friendly with me in all my parts
I know
There are aspects about myself that puzzle me
and other aspects that I do not know
but as long as I am Friendly and loving to myself
I can courageously
And hopefully look for solutions to the puzzles
And for ways to find out more about me
However I Look and sound, whatever I say and do, and whatever
I think and feel at a given moment in time is authentically
ME
If later some parts of how I sounded, thought and felt turn out to be unfitting
I can discard that which is
Unfitting
keep the rest
and invent something new for that
Which I discarded
I can see, hear, feel, think, say, and do
I have the tools to survive
to be close to others,
to be Productive to make sense and order out of the world of
People and things outside of me
I own me, and
therefore I can engineer me
I am me and
I AM OKAY

مکمل تحریر  »

Thursday, 11 October 2007

عید مبارک

اس دفعہ عید کا موقعہ دو انتہائی پیارے لوگوں کی ابدی جدائی کے دکھ کو سوا کر رہا ہے۔۔ابھی تو لوگ نانا جان کی وفات کا پرسہ دینے آ رہے تھے کہ میری جواں سال کزن جو میری بھابھی کی بہن بھی تھیں کی ناگہانی موت نے جیسے سب کے حواس مختل کر دیے ہیں۔۔لیکن مشیتِ ایزدی کے آگے کس کی چلی ہے۔۔۔موت برحق ہے۔۔ صبر تو آ جاتا ہے۔۔بس یہ ہے کہ جانے والوں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔
بہرحال عید کی نماز پڑھنا اور ایک دوسرے کو عید مبارک تو کہنا ہی ہے۔ کہ زندگی کسی کے جانے پر کب رکی ہے۔۔۔ جب تک سانس ہے دنیا کے کام ایسے ہی چلتے رہتے ہیں۔۔
پچھلی دفعہ یہاں تین عیدیں منائی گئیں تھیں جس کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی کو کافی خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا چنانچہ اس بار متفقہ طور پر یکم رمضان کا فیصلہ کیا گیا اور امید تھی کہ عید بھی ایک ہی دن منائی جائے گی لیکن افسوس کہ اس دفعہ بھی کچھ گڑبڑ ہو گئی۔۔ مڈ لینڈز والوں نے کل عید کا اعلان کر دیا ہے جبکہ لندن اور باقی علاقوں میں ہفتے کو عید منائی جائے گی۔۔ اب مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے گھر والے ایک جگہ اکٹھے تو ہیں نہیں۔۔ چنانچہ ایک دوسرے کو فون کیا جا رہا ہے کہ کیا خیال ہے عید کل ہے یا پرسوں( کم از کم خاندان میں تو ایک عید پر اتفاق ہونا چاہئے ناں):کیونکہ یوکے رویت ہلال کمیٹی کے مطابق آج دنیا بھر میں ایک دو جگہوں کے علاوہ کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہمارے ایک فیملی فرینڈ کا فون آیا (ان کی رہائش بھی مڈ لینڈز میں ہی ہے) ۔۔بیچارے کہنے لگے کیا بتاؤں ہمارے تو اپنے خاندان والے دو عیدیں منا رہے ہیں۔۔ کچھ لوگ کل اور کچھ پرسوں عید منائیں گے۔۔ ویسے اس قضیے کی وجہ سے پاکستان اور یہاں کی عید میں کچھ زیادہ فرق باقی نہیں رہا ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عید امتِ مسلمہ اور پاکستان کے لئے عیدِ سعید ثابت ہو اور رمضان کے بابرکت مہینے میں کی گئی عبادتوں اور دعاؤں کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔۔آمین


مکمل تحریر  »

Tuesday, 25 September 2007

جو ملے تھے راستے میں

مجھے کہیں آنا جانا ہو تو گھر سے نکلتے ہی میرا پسندیدہ مشغلہ آس پاس کے لوگوں کا مشاہدہ کرنا ہے۔۔ اگر کوئی ساتھ ہو تو ہماری بحث شروع ہو جاتی ہے کہ فلاں بندہ اس وقت کیا سوچ رہا ہو گا۔۔یا اپنے حلیے سے کیسا لگتا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔اگر تو میرا بھائی ساتھ ہو تو آخر میں ہم دونوں کی ایک نئی بحث شروع ہو جاتی ہے اور وجہ بحث کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔۔ :grin:
اور اگر میں اکیلی ہوں تو میں کسی ایک کے بارے میں ہی اندازہ لگاتی رہ جاتی ہوں اور سفر ختم بھی ہو جاتا ہے۔ :)کل بھی ایسا ہی ہوا۔۔میں لائبریری جا رہی تھی۔۔۔ کہ راستے میں کراسنگ پر ایک ٹین ایجر بچے کو بھاگتے دیکھا اور اس کے پیچھے ایک سیکوریٹی گارڈ بھی ٹریفک کی پروا کئے بغیر بھاگ رہا تھا۔۔سیکوریٹی گارڈ نے اس کو پکڑ لیا اور میں یہ سوچنے لگی اس نے کیا کیا ہوگا؟؟ اور کیوں کیا ہو گا؟؟یقیناً اس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہوں گے یا پھر یہ emotionally upset teenager گروپ میں سے ہو گا جس کے بارے میں برطانوی حکومت اور ذرائع ابلاغ اکثر پریشان ہوتے رہتے ہیں(میں نے دیکھا ہے کہ پریشان ہونا یہاں لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے) :grin: ۔۔۔ خیر یہ سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ میں تو لائبریری پہنچنے والی ہوں ۔۔چنانچہ میں نے پھر آگے پیچھے نظر دوڑائی تو ایک انکل اور آنٹی شاپنگ سنٹر کی طرف جا رہے تھے۔۔ میں نے سوچا لگتا ہے آج آنٹی نے اپنے مجازی خدا کی جیب خالی کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔۔لیکن وہ دونوں اتنے مزے سے گپ شپ کر رہے تھے کہ مجھے اپنے خیال کی خود ہی تردید کرنی پڑی۔۔اس لئے کہ میں نے دیکھا ہے کہ عموماً بیگمات کے ساتھ شاپنگ کرنا شوہران کے لئے کافی بورنگ کام ہوتا ہے۔۔ ہو سکتا ہے وہ شاپنگ کرنے نہیں جا رہے ہوں۔خیر آگے آئی تو دو پاکستانی خواتین نظر آئیں۔۔ دونوں شاپنگ کر کے واپس جا رہی تھیں اور اتنے سارے بیگز اٹھائے بمشکل چل رہی تھیں۔۔میں نے سوچا پاکستان میں تو یہ کبھی بھی اتنی دور سے اتنا سامان اٹھا کر پیدل واپس نہ جاتی ہونگی۔۔ خیر اگلی آدھی ملاقات ایک بہت ہی معمر خاتون سے ہوئی جو آہتسہ روی سے بس سٹاپ کی طرف جا رہی تھیں۔۔ ہمارے یہاں ان کے ہمعمر لوگوں کو گھر بٹھا دیا جاتا ہے کہ یہ عمر آرام کرنے کی ہے باہر کے کام گھر والے اپنے ذمے لے لیتے ہیں۔۔ یہ سوچتےسوچتے میں لائبریری پہنچ گئی اور وہاں داخل ہوتے میرا سامنا ایک hoodie طالبعلم سے ہوا۔ پھر میری ذہنی رو بہک گئی کہ اگر حجاب اور ہُڈ دونوں کا مقصد سر ڈھانپنا ہے تو اول الذکر کے بارے میں اس قدر جانبداری کا رویہ کیوں؟؟؟ ابھی میں اس سوال کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ میری باری آ گئی اور ہمیشہ کی طرح میری اس سوچ کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔۔

مکمل تحریر  »

Monday, 17 September 2007

میڈیلین میکین

برطانوی جوڑے جیری میکین اور کیٹ میکین کی تین سالہ بیٹی میڈلین میکین تین مئی 2007 کو پرتگال میں ان کے اپارٹمنٹ سے غائب ہوئی جہاں وہ اپنی چھٹیاں منا رہے تھے۔۔تب سے اب تک میڈلین کی گمشدگی اور اس کی تلاش کے لئے شروع کی گئی مہم بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکی ہے۔ گزشتہ ایک سو سینتیس (137) دنوں سے دینا بھر میں میڈیا اس کیس کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔۔اس دوران کیس نے بہت سے رخ اختیارکئے جس میں سے تازہ ترین میڈلین کے والدین کو شاملِ تفتیش کرنا ہے۔ پرتگال کی پولیس نے دونوں کو اس وقت مشتبہ قرار دیا جب ان کی کرائے پر لی گئی کار میں پولیس کو خون کے نشانات ملے۔ اس بارے میں مزید تفصیل نہیبں بتائی گئی لیکن میکین فیملی کو جو برطانیہ واپس آ چکی ہے، کو پابند کیا گیا ہے کہ پرتگال پولیس ان کو کسی بھی وقت طلب کر سکتی ہے۔۔
اللہ کرے کہ میڈلین زندہ ہو اور اس کے والدین بے قصور ثابت ہوں ورنہ اس رشتے سے بھی اعتبار اٹھنا شروع ہو جائے گا۔۔
میڈلین  کے بارے میں تو جلد ہی کچھ معلوم ہو جائے گا لیکن میں جب بھی اس بارے میں کچھ سنتی یا دیکھتی ہوں تو مجھے ان گنت پاکستانی ماؤں کے ان جگر گوشوں کا خیال آ جاتا ہے جن کو اغواء کرنے والے سرِ عام دندناتے پھرتے ہیں۔۔جن کی فریاد ساری قوم سنتی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں۔۔۔ کیا ان بچوں کی زندگیاں قیمتی نہیں ہیں؟؟یا بے حس حکمرانوں کے دور میں پیدا ہونا ان کا المیہ ہے؟؟

مکمل تحریر  »

Tuesday, 28 August 2007

ٹرین اور میں

سکول کے زمانے میں جب بھی کوئی مضمون لکھنا پڑتا تھا، موضوع خاص اہمیت کا حامل ہوتا تھا میرے لئے کہ من پسند موضوع ہوتا تو ذہن اور قلم دونوں خود بخود رواں ہو جاتے تھے۔ "میرا یادگار سفر" ایک ایسا مضمون تھا جو سکول سے لیکر کالج تک تقریبا ہر کلاس کے سلیبس میں شامل ہوتا تھا۔۔اور چونکہ مجھے ایسے کسی سفر کا تجربہ نہیں تھا تو ٹیچر گرامر کی کتاب سےپڑھنے کو کہہ دیتی تھیں۔۔مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ "شوق قواعدِ اردو" اور "شوق انگلش گرامر" دونوں میں ہمیشہ ریل گاڑی کے سفر کو ہی یادگار قرار دیا جاتا تھا۔۔میں جب بھی اس مضمون کو اپنی ذہنی لائبریری میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی تھی تو عقلی دلائل کے آگے بے بس ہو جاتی تھی کہ بی بی! تم نے کہاں ریل کا سفر کیا ہے؟۔۔جوابی دلیل ہوتی کہ بچپن میں کوئٹہ اور پنجاب کے درمیان سفر ریل گاڑی میں ہی کئے ہیں ناں۔۔کیا ہوا جو اماں کی گود میں کمبل میں لپٹے ہوئے کیے۔۔۔
میرا اماں سے ایک ہی گلہ ہوتا تھا کہ ہمارے بہت بچپن میں تو آپ نے بلوچستان اور پنجاب کو راولپنڈی اسلام آباد بنا رکھا تھا اور جب ہم نے ہوش سنبھالا تو مستقل پنجاب میں ہی ڈیرا ڈال لیا۔۔جواب ملتا۔۔"یہ بات اپنے والدِ محترم سے پوچھو۔۔۔کہ وہ اپنی پوسٹنگ کوئٹہ میں کیوں نہیں کروا لیتے۔۔"
ابا سے بھی اکثر پوچھا لیکن یہی جواب ملا ہمیشہ کہ بیٹا جی! اپنی پڑھائی مکمل کرو۔۔اسی لئے تو ہم نے مستقل پوسٹنگ اپنے شہر میں کروائی ہے۔۔(کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔۔)
قصہ مختصر کہ عمرِعزیز کے اتنے سارے(اب تو گنے بھی نہیں جاتے) سال گزرنے کے باوجود ہم ابھی تک اس شہر کو دیکھ نہیں پائے جہاں ہم نے آنکھ کھولی تھی اور اس دنیامیں تشریف لائے تھے۔۔ہم سے اچھے تو انکل مشرف ہوئے ناں جو سرحد پار اپنی جنم بھومی کا دیدار تو کر آئے۔۔
خیر واپس آتے ہیں ٹرین کے سفرپر۔۔۔۔معلوم نہیں کون سی قبولیت کی گھڑی تھی جب ہم نے کہا ہو گا کہ کاش ہم بہ نفسِ نفیس خود ٹرین کا سفر کریں اور پھر اس پر مضمون لکھ سکیں۔۔رحمتِ باری تعالیٰ جوش میں آئی اور اب یہ حالات ہیں کہ ہر دوسرے روز شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹرین کا سفر کرنا پڑتا ہے۔۔"واہ مالک! تُو بھی بے نیاز ہے۔۔"
اور مزے کی بات یہ ہے کہ بہت کم ایسا ہوا کہ کسی مسافر کو دوبارہ دیکھا ہو۔۔آسان الفاظ۔۔ میں ہر روز اتنے نئے چہرے نظر آتے ہیں کہ میں اکثر سوچتی ہوں۔۔اتنے لوگ کہاں جاتے ہوں گے؟؟ لیکن کیونکہ میری محدود سوچ کبھی بھی کسی سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ سکی چنانچہ بہت سے دوسرے سوالوں کی طرح یہ سوال بھی تشنہ رہ جاتا ہے۔۔

نتیجہ: زمانہءطالبعلمی میں کی گئی کوئی خواہش برسوں بعد بھی پوری ہو سکتی ہے اس لئے زیادہ پریکٹیکل سوچ رکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مکمل تحریر  »

ہوا سے باتیں

خیالوں میں گم وہ کھڑکی کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور سامنے پھیلے خوبصورت منظر پر نطریں جمائے اس کی سوچ نجانے کہاں کہاں بھٹکنے لگی۔۔اچانک کھڑکی زور سے بجی اور تیز ہوا کا ایک جھونکا اپنے ساتھ پانی کی بوچھاڑ لئے اند چلا آیا۔۔ہوا نے اس کا چہرہ چُھوتے ہوئے پوچھا۔۔“کیا سوچ رہی ہو؟“۔۔
“سوچ رہی ہوں۔۔انسان نے اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔۔ہواؤں، پانیوں، خلاؤں ہر جگہ تو اس کے قدم پہنچ چکے ہیں۔۔۔ اس نے کائنات کوتسخیر کر لیا ہے۔۔“
ہوا استہزائیہ انداز میں ہنسی اور گویا ہوئی۔۔“ہاں! کائنات کو مسخر کیے جا رہا ہے اور اس دُھن میں بھول گیا ہے کہ اس سے زیادہ اہم دلوں کو تسخیر کرنا ہے۔۔۔“
اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن تیزجھونکے نے جیسے اس کو روک دیا۔۔“ مجھے بتانے دو۔۔ابنِ آدم نے اشرف ولمخلوقات ہونے کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔۔
تم کس انسان کی بات کرتی ہو۔۔وہ جو خود کو اشرف المخلوقات گردانتا ہے مگر خود کو حیوانوں کے درجے سے بھی نیچے گرا دیتا ہے۔۔اپنی حساسیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور سنگدلی کی انتہا کو چُھو لیتا ہے۔۔انصاف کی رٹ لگاتا ہے اور خود ظلم و بربریت کی نت نئی داستانیں رقم کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔“
بے شمار چیخیں اس کی سماعتوں پر جیسے ہتھوڑے برسانے لگیں۔۔ اس نے اس شور سے بچنے کے لئے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔۔
“ابھی تو آغاز ہے اور تم ابھی سے ہی۔۔۔۔“ ہوا نے سرسراتے لہجے میں کہا۔۔۔“ابھی تو میں نے انسان کے قہر و غضب کی وہ داستانیں نہیں سنائیں جو قریہ قریہ گھومتے میری آنکھوں نے دیکھی ہیں۔۔۔ذرا سونگھو تو سہی۔۔مجھ میں بسی خون کی بساند تمھیں بہت کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔میرا گزر وہاں سے بھی ہوا ہے جہاں خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔۔اپنے ہی اپنوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔۔رنگ،نسل،مذہب،فرقے کو بنیاد بنا کر لاشوں کے انبار لگائے جارہے ہیں۔۔اس دور کا ہر انسان اپنی ذات میں چنگیز و ہلاکو خان بنا جا رہا ہے۔۔یہ ہے تمھاری خلافت؟؟۔۔۔“
ایک چھناکا ہوا اور کھڑکی کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔۔اُسے یوں لگا جیسے کانچ کے یہ ریزے اس کے جسم میں آن چبھے ہوں۔۔

درد سے بےحال ہوتے ہوئے اس نے سُنا۔۔۔ ہوا کہہ رہی تھی۔۔
“ بلند و بانگ دعوے نوعِ بشر کا خاصا ہیں۔۔ہاں وہی دعوے جو وقت کی بہتی لہروں کے سامنے محض ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔۔“ گرد کا ایک بگولہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں جیسے ریت بھرتی چلی گئی۔۔
“ابنِ آدم ہی ہے ناں جو کہتے نہیں تھکتا کہ وہ اپنی وجہ سے کسی کو دُکھی نہیں دیکھ سکتا اور یہ کہتے ہوئے اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کتنی آنکھیں اس کے اس جملے پر برس پڑتی ہیں۔۔ صاف گوئی کا دعوٰی کرتا ہے لیکن کتنے ہی دل اس کی حیلہ ساز فطرت کا شکار ہو کر ایسے بکھر بکھر جاتے ہیں۔۔“۔۔۔ امید ویاس کے صحرا میں بھٹکتی ان گنت آنکھیں سوال بن کر اس کے ذہن سے چپک سی گئیں۔
“نہیں۔۔۔بہت کچھ اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔زندگی کی مجبوریاں اسے ایسا بنا دیتی ہیں۔۔۔“ اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔۔
“کون سی مجبوریاں؟؟۔۔یہ خود ساختہ مجبوریاں ہیں۔۔اپنا دوش دوسروں کے سر رکھنا تم انسانوں کا ازلی شیوہ ہے۔۔واہ رے انسان۔۔نکالے گئے جنت سے اپنے کئے پر اور دوش دیا ابلیس کو۔۔دست و گریباں ہوئے خود اور الزام رکھا ابلیس کے سر۔۔اگر تم اتنے ہی کمزور تھے تو کیوں اٹھایا خلافت کا بوجھ؟؟؟۔۔مان لو۔۔انسان نفس کاغلام ہے۔۔مان لو آج کا انسان جھوٹ کی آبیاری کر رہا ہے۔۔مان لو۔۔انسان بلندیوں کی طرف پرواز کے بجائے پستیوں میں گر رہا ہے۔۔مان لو۔۔مان لو۔۔۔۔“
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پیچھے ہٹی۔۔ہوا نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ۔۔اور کھڑکی کے پٹ زوردار آواز کے ساتھ بند ہو گئے۔

مکمل تحریر  »

Sunday, 26 August 2007

وقت

منظر بدل گئے پسِ منظر بدل گئے


حالات اپنے شہر کے یکسر بدل گئے


سورج کے ڈوبنے پہ نہ حیراں ہوئے کبھی


اب سوچتے ہیں کتنے کیلنڈر بدل گئے

مکمل تحریر  »

بلاگنگ اور جاگنگ

نجانے کیوں بلاگنگ کا لفظ ذہن میں آتے ہی جاگنگ کا خیال کیوں آ جاتا ہے؟؟شاید ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں میں کچھ مماثلت ہے ضرور۔شاید دونوں ہی مستقل مزاجی اور باقاعدگی کے متقاضی ہیں۔ دونوں ہی کی عادت ہو جائے تو پھر، چھٹتی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ والا حساب ہو جاتا ہے۔جاگنگ جسمانی ورزش ہے تو بلاگنگ ذہنی۔ مجھے تو بظاہر ایک ہی فرق نظر آتا ہے کہ جاگنگ میں پیروں کی شامت آتی ہے اور بلاگنگ میں ہاتھوں کی :)
مجھے ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی چنداں شوق نہیں ہے۔۔جاگنگ کی بجائےمیں سست رفتاری سے واک کرنے کو ترجیح دیتی ہوں اور کچھ کہنے کی بجائے سننے کا شغل زیادہ پسند ہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طور دنیائے بلاگنگ میں قدم رنجہ فرما دیا۔امید ہے کہ خود تو اچھا برا جیسا بھی لکھا لیکن اس نگری میں آنے سے اچھے لکھاریوں کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقعہ ملتا رہے گا۔

مکمل تحریر  »